4

رشتوں کے رنگ

آج وہ اپنی پانچ ماہ کی حاملہ بیوی کو لے کر نئے گھر میں آگیا تھا۔ دو کمروں اور مطبخ پر مشتمل اس مکان کی نئی نئی تعمیر ہوئی تھی، یہ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی نئی بنائی ہوئی ایک چھوٹی سی کالونی تھی، جس میں کل ۶۴ گھر تھے۔ قرعہ اندازی میں اس کا نام آگیا تھا۔ اور راتوں رات وہ اپنے والدین کے گھر سے کپڑے لتّے اور مختصر سامان لے کر یہا ںآگیا۔
’’کیسا ہے گھر؟‘‘ اپنی بیوی سے اس نے پوچھا۔ ’’اچھا ہے؟‘‘ مختصر جواب تھا اس کی بیوی کا۔ وہ جانتا تھا کہ سیدھی سادی اس کی بیوی تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود سسرال سے علیحدگی پر اس سے نالاں ہے۔ وہ کہتی تھی کہ ساس، ماں کے برابر ہوتی ہے۔ ماں سے ناراضی اور باپ کی دل دکھائی اللہ کی ناراضی ہے۔ اوریہ کہ شرعی حدود کے اندر رہ کر ماں باپ کا ہر حکم ماننا اولاد پر فرض ہے۔ وہ اس کی ہر دلیل ہر تاویل پر چپ ہوجاتا۔ بحث نہیں کرتا، کیونکہ وہ قرآن و حدیث کے ہی حوالے دیا کرتی۔ بچپن سے ہی اس کی تربیت یوں ہوئی تھی کہ ہر قدم پر اللہ اور اس کے رسولﷺ کے احکام سامنے رکھے جائیں۔ وہ ہر مسئلے کا حل قرآن میں ڈھونڈتی۔ حدیثوں میں کھنگالتی۔
کبھی اُسے غصہ آجاتا تو کہتا: ’’کچھ بھی ہو زلیخا، ہمیں اجتہاد کا موقع بھی دیا گیا ہے۔ کوئی ایسا حل ڈھونڈنا چاہیے، جس سے طرفین کا دل کم دکھے۔
اب یہ اجتہاد والی بات زلیخا کی سمجھ سے بالاتر تھی۔ اور یوں اسے گھر بدلنے والی بات ماننی ہی پڑی تھی۔ پچھلی رات دونوں نے جاگ کر گزاری تھی۔ زلیخا نے ہر حربہ آزمالیا۔ ہر داؤ لگایا لیکن شوہر کے آگے ایک نہ چلی، محسن جما رہا کہ صبح گھر بدلنا ہے اور اگر وہ آنا نہیں چاہتی تو رہ جائے۔ یہیں ہفتے میں دو یا تین بار آکر اسے دیکھ جائے گا۔ زلیخا تڑپ کر اٹھی اور سامان باندھنے لگی تھی۔ دس ماہ کی بیاہی کون جنم جلی شوہرسے الگ رہنا چاہے گی۔ وہ بھی اس وقت جب کہ کوکھ میںبچہ ہاتھ پیر بنا رہا ہو۔ تین گھنٹوں میں سارا سامان باندھ کر فجر کی اذان سے پہلے وہ گھر چھوڑ چکے تھے۔ زلیخا نے ساس سسر کو جگا کر اطلاع دینے کو کہا۔ لیکن محسن نے کچھ ایسی نظروں سے گھورا کہ اس کے ہاتھ پیر پھول گئے۔ اور اس نے چپ چاپ برقعے کی اوڑھنی سر پر ڈال لی۔ آنسوؤں کو اندر ہی دبایا کہ کیا پتہ آنسوؤں کو دیکھ کر محسن اس کا گلا ہی نہ دبا دے۔ ہاں اوڑھنی سر پر پڑتے ہی آنسوؤں کو باہر آنے کا موقع مل گیا تھا، اور وہ چپکے چپکے رولی تھی۔
محسن کو اپنے والدین سے شکایتیں ہی شکایتیں تھیں۔ وہ شکایتوں کے پلندے یوں کھولتا کہ بچپن ہی سے اس کے والدماجد نے جو خود سر، ضدی اور جھٹ خفا ہونے والی شخصیت تھے، اپنے باپ سے ملنے والے کاروبار کو اپنے بھائیوں کے ساتھ مل کر چھ مہینوں میں ختم کرڈالا۔ اور چاروں بھائی ایک سال میں شہر کے کنگالوںمیں شمار ہونے لگے تھے۔ اپنے تجربے اور بچی ساکھ کے سہارے محسن کے والد نے کچھ پیر جمائے اور اس حد تک کامیاب ہوئے کہ پانچ بچوں کا جینا چل جاتا۔ محسن کا کہنا تھا کہ دادا محترم کا کاروبار ٹھپ نہ ہوا ہوتا، اگر اس کے والد ظہیر صاحب کا غصہ آڑے نہ آتا۔ ہوا یہ کہ ان کے ایک بھائی نے مشترکہ کاروبار میں اپنا حصہ مانگا اور انھوں نے فوراً ہی اس کا حصہ الگ کرڈالا تھا۔ چند روز بعد دوسرے بھائی نے ہاتھ پیر نکالے اور ظہیر صاحب نے اس کا حصہ بھی دے دیا۔ اور ساتھ میں اس بھائی کا حصہ بھی جس نے حصہ نہیں مانگا تھا۔ جمے جمائے کاروبار سے ایک بڑی رقم نکال لو تو فرق پڑتا ہے۔ سال دو سال اسے سنبھلنے میں لگ ہی جاتے ہیں۔ پہلے بھائی کا حصہ الگ کرنے کے بعد دوسرے اور تیسرے اور چوتھے بھائی اور ان کی ہٹ نے ایک بار کاروبار کو اپنے محور سے ہٹایا تو اپنی گردش ہی بھول گیا۔ جو بھائی اپنے حصے لے کر الگ ہوئے تھے انھیں ناتجربہ کاری اور موقع پرستوں کی بھیڑ نے عین سڑک پر لاکھڑا کیا۔ ادھر ظہیر صاحب بھی اپنے لڑکھڑاتے قدموں کو جما نہ سکے۔ بڑے بھائی ہونے کے ناطے ان کا فرض یہ تھا کہ کم عقل اور چھوٹے بھائیوں کو سمجھاتے، اور سب کی آن اور اَنا قائم رکھتے۔ اب صرف غصے کی بنیاد پر کوئی سولی نہیں چڑھ جائے گا کہ چھوٹے بھائی نے ایسا کہا تھا۔
اور اس کے بعد ظہیر صاحب جو بکھرے تو پچپن سال کے ہونے کو آئے خود کو سمیٹ نہ سکے تھے۔ ادھر اُن کی بیوی جس نے اپنی شادی کے پہلے چند سال رانیوں اور ملکاؤں جیسی زندگی گزاری تھی، جس کی ہر خواہش ہونٹوں پر آنے سے پہلے پوری ہوجاتی تھی۔ گھر میں سات آٹھ نوکرانیاں رہتی تھیں، سب چھوٹا تواس کے دماغ نے بھی جسم کاساتھ چھوڑ دیا۔ وہ چڑچڑی رہنے لگیں۔ شوہر کو بھی کاٹ کھانے کو دوڑتیں۔ بچوں کو بھی، رشتے داروں کو بھی، غیروں کو بھی، اپنوں کو بھی۔
رشتے داروں نے آنا چھوڑا۔ غیروں نے کان پکڑے، بچے والدین سے سہمے سہمے رہنے لگے۔ گھر میں سناٹا ہوتا، سب اسکولوں سے آتے اور اپنی جگہ لے لیتے۔ نہ کسی سے کچھ کہنا نہ سننا۔ اس ماحول میں محسن نے سانسیں لیں۔ بڑا ہوا، گریجویشن کیا۔ پھر بھی باہر کی دنیا میں گھل مل نہ سکا۔ جو خاموشی اس کی گھٹی میں پڑگئی تھی، اس نے اسے باہر کی دنیا میں بھی اپنی زبان بند رکھنے پر مجبور کیا۔
والدین سے اختلاف کی پہلی وجہ یہی تھی کہ انھوں نے دوستوں، رشتے داروں سے الگ رکھا اور ایک بے زبان جانور بناکر چھوڑا۔
محسن نے گریجویشن کے بعد ایک مقامی ٹینری میں ملازمت کرلی۔ شام کے پانچ بجے کے بعد بھی وہ کام کرتا رہتا۔ کبھی دس گیارہ بجے رات تک۔ گھر جاکے کرنا بھی کیا تھا۔ دیواریں تکنا یا دروازوں دریچوں سے آنکھ مچولی کھیلنا، رات گئے وہ گھر جاتا، کھانا کھالیتا، سوجاتا اور صبح اپنے کام پر واپس۔ دوست اس نے کبھی بنائے نہ تھے یا بنے نہیں تھے۔ اس کی لگن، محنت اور سادہ صفت دیکھ کر ٹینری کے مالک نے کمپنی کے خرچ پر اسے اٹلی بھیج دیا۔ جہاں اس نے دو سال فوٹ ویئر ٹیکنالوجی کا کورس کیا۔ اس کے واپس آنے تک ایک شو یونٹ شروع ہوچکی تھی۔
اٹلی سے واپسی پر اسے چیف ٹیکنیشین کا عہدہ دیا گیا اور تنخواہ پانچ ہزار سے بیس ہزار کردی گئی اور محسن کے والدین کے دن پھرگئے۔ ماں اور باپ دونوں انگڑائیاں لے کر اٹھے۔ دونوں نے اپنے بیٹے پر حق جتانا شروع کردیا۔ باپ کا حکم ہوا کہ محسن تنخواہ اس کے ہاتھ میں دے۔ بھولے بھالے محسن نے یہی کیا۔ لیکن جب سلیقے کے کپڑوں اور جیب خرچ کے لیے بھی اسے تکلیف ہونے لگی تو اس نے ہر ماہ پانچ ہزار روپے روک لیے۔ اس پر ماں اور باپ دونوں نے وہ اودھم مچایا کہ اس کے ہوش ہی گم ہوگئے۔
’’چھنالوں پر خرچہ کرے گا کیا؟‘‘ اس کی ماں بولی تھیں۔
محسن ٹوپی اوڑھ کر سیدھا مسجد پہنچ گیا۔
ظہیر صاحب نے پھر یہ بھی کیا کہ سیدھے شو یونٹ پہنچ گئے اور کہنے لگے کہ محسن کی تنخواہ اس کے حوالے نہ کی جائے۔ وہ خود آکر لے جائیں گے۔ لیکن انھیں کھرا جواب ملا کہ وہ یہاں آنے کی زحمت نہ کریں کمپنی اپنے اصولوں کی پابند ہے۔
چند دن گزرے تو محسن نے شادی کی بات چھیڑدی، لیکن اس کے والدین پیسے بنانے والی اس مشین کو اتنی جلدی کسی اور کے حوالے کرنے پر راضی نہ تھے۔ پورے چارسال انھوں نے اس مشین سے فائدہ اٹھایا اور دنیا والوں کی زبان بند کرنے کو بتیس سال کی عمر میں اس کی شادی کی۔
نکاح کے دوسرے مہینے سے محسن نے مزید پانچ ہزار روپے اپنے پاس رکھ لیے۔ نکاح کے بعد کمپنی نے اس کی تنخواہ میں مزید پانچ ہزار کا اضافہ کیا تھا۔ اور شادی کے موقع پر اسے بطور تحفہ ستر ہزار روپئے کمپنی سے ملے تھے۔ محسن نے تنخواہ میں اضافے اور تحفے والی بات والدین سے چھپائے رکھی، لیکن ایسی باتیں کہاں چھپتی ہیں، اس کے ماں باپ نے آسمان کے ساتھ سورج اور ستاروں کو بھی سر پر اٹھا لیا۔
ماں کہہ رہی تھیں: ’’سمجھتا کیا ہے؟ نومہینے تجھے پیٹ میں جو رکھا تھا، لاکھوں روپے بھی اس کا بدل نہیں ہیں۔‘‘
’’اس رنڈی کے پیچھے دیوانہ ہورہا ہے۔ سب اسی کا کھیل ہے۔‘‘
محسن جو اٹلی میں ر ہ کر دنیا خوب سمجھ چکا تھا، بیوی کے سامنے ماں باپ کا یہ ہلّڑ برداشت نہ کرسکا اور زندگی میں پہلی بار اس نے منہ کھولا تو ایسا کہ عالم دنگ رہ گیا۔
’’پیٹ میں رکھا تو مجھ پر کون سا احسان کیا، کرتوت آپ دونوں کے تھے۔‘‘
’’اگر میری بیوی رنڈی ہے تو …‘‘ محسن نے زبان روک لی تھی۔
ظہیر صاحب کو ایسے جوابات کی توقع کہاں تھی۔ پاس پڑا جوتا اٹھایا اور تڑاتڑ محسن کے سر پر مارتے گئے۔ اس کی بیوی کے سامنے ہی۔ محسن جو غصے میں ہوش کھوبیٹھا تھا، سمجھ گیا کہ کتنی بڑی بات اس نے ماں کی شان میں کہی۔ ویسے اس کا جی تو چاہا کہ مارتے باپ کا ہاتھ روک لے لیکن… ابھی ماں کو اس نے جو سنائی تھی اس کے ملال نے ایسا کرنے سے باز رکھا۔ چپ چاپ کمرے میں واپس آیا اور بیوی کے سینے سے سرلگا کر بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔
’’زلیخا! یہ اذیت میں بیس سالوں سے سہتا آرہا ہوں۔ دونوں میرا گلا گھونٹتے نہیں، مجھے سسکا سسکا کر مارتے ہیں۔ اب تک یہ اذیتیں میں نے اکیلے سہی ہیں۔ سوچتا ہوں، تمہاری آمد کے بعد ان کی حرکتیں کم ہوجائیں گی، لیکن میں کیا کروں… گلا دبا دو تم میرا، پھر وہ زلیخا کے دو نوں ہاتھ اپنی گرن کے گرد کس کر انھیں دبانے لگا۔
زلیخا آہستگی سے اپنے ہاتھوں کو محسن کی گردن سے ہٹاتی ہوئی دھیرے دھیرے اُس کی پیٹھ کے گرد لے گئی، اور اسے بھینچ لیا۔
’’صبر کیجیے! کتنا بڑا درجہ ہے صابروں کا۔‘‘ وہ اتنا ہی کہہ سکی تھی۔ کیونکہ جو ذہنی اذیت اسے بھی اپنے شوہر کو جوتے سے مارکھاتے دیکھ کر ہوئی تھی اس نے اس کی آواز بھرا دی تھی۔
اس وقت محسن نے فیصلہ کیا کہ اسے علیحدہ ہوجانا ہے۔ ورنہ گھٹ گھٹ کر مرجائے گا۔ اب ان کی باتوں کے جوابات دے کر خود کو گنہگار بنانا نہیں چاہتا تھا۔
انہی دنوں سرکاری اپارٹمنٹس کی تعمیر ہورہی تھی۔ اس نے بھی خریداروں کی فیس جمع کرکے رجسٹریشن کرایا تھا اور اللہ کا کرنا کہ اس نام بھی آگیا تو وہ وہاں آگیا تھا۔ دوسری شام ہی محسن کے والدین نئے گھر میں آندھی اور طوفان کی شکل میں وارد ہوئے۔ لیکن محسن کے چہرے کی کرختگی اور بدلی آنکھوں کے رنگ نے ظہیر صاحب کو چونکا دیا۔ وہ سنبھل گئے پر محسن کی اماں ہذیان بکتی گئیں۔ اب کی انھوں نے بہو پر سارا غصہ اتارا۔
آج کی لڑکیاں جوان ہوتے ہی اس بات کا فیصلہ کرتی ہیںکہ شادی کے بعد جتنی جلدی ہوسکے شوہر کو بھگا لے جائیں گی۔
جان لو، بیٹے کی جدائی ماں کا کلیجہ پیس ڈالتی ہے۔ باپ کا دل مار دیتی ہے۔ تم بھی تڑپوگی زلیخا۔ تمہارے بیٹے بھی اپنی بیویوں کے ساتھ بھاگیں گے۔
’’تم روؤگی، اکیلی رہوگی۔‘‘
’’تمہیں گیارہ لڑکے ہوں گے اور سب اپنی جووؤں کے ساتھ الگ ہوں گے۔‘‘
تب… محسن بھی نہیں ہوگا دنیا میں۔ تم بوڑھی بنی مجھے یاد کروگی۔ لٹکے ہاتھ پیر اور لٹکے چمڑے کے ساتھ۔ زلیخا کانپتی ہوئی ساس کے کوسنے سنتی رہی تھی۔ اس کی زبان گنگ ہوچکی تھی اور جب ساس کی زبان چلتی ہی رہی تو وہ کھڑی نہ رہ سکی۔ دھم سے فرش پر بیٹھ گئی اور دھائیں دھائیں رونے لگی۔ محسن نے بیوی کو دیکھا۔ شوہر کو بیوی کے آنسو کب برداشت ہوتے ہیں۔ اس نے چپ چاپ ماں کا ہاتھ پکڑا۔ اسے کھینچتا ہوا گھر سے باہر لایا اور سرد آواز میں بولا۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ ایسا کروں جو مجھے نہیں کرنا چاہیے، یہاں سے چلی جاؤ ماں۔‘‘
ظہیر صاحب پیچھے پیچھے آرہے تھے۔ انھوں نے محسن کو دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں خون تھا۔ انھوں نے بیوی کا ہاتھ تھاما اور وہاں سے چل دئیے۔
اس واقعے کے بعد زلیخا مسلسل تین دن تک روتی رہی تھی۔ محسن اسے تسلیاں دیتا رہا پر اس کی آنسوؤں کی جھڑی لگی رہی۔ ہچکیوں کے درمیان بولتی۔
’’اماں مجھے کچھ کہتیں، لاکھ کوستیں، میں سن لیتی، سہہ لیتی، لیکن میری اولاد کو انھوں نے گالیاں دیں۔ یہ انھوں نے اچھا نہیں کیا۔‘‘
محسن نے کہا: ’’صرف ایک بار کے کوسنوں سے تم اکھڑ گئیں زلیخا۔ اتنے سالوں سے میں نے کیا کیا نہ سنا، کیسی حالت رہی ہوگی میری۔ نہ کہیں جاسکتا،نہ کسی سے کچھ کہہ سکتا، اکیلا میں سنتا رہا۔ دل پتھر کا کرلیا۔ دماغ کے کل پرزوں کو جام کردیا تھا۔ کیونکہ مجھے جینا تھا، زندہ رہنا تھا۔‘‘
’’تم نہیں جانتیں زلیخا! جب میں ٹینری میں ملازم تھا تو چار ہزار روپے کی تنخواہ ساری کی ساری اُن کے حوالے کرتا تھا۔ تب بھی وہ مجھے اپنے رشتے داروں میں بدنام کرتی تھیں کہ ایک روپیہ نہیں دیتا۔ جب شو یونٹ میں بیس ہزار روپے تنخواہ ہوئی تو کہتی پھرتی ہیں کہ صرف ایک ہزار روپے دیتا ہوں، جب کہ ساری ہی رقم حوالے کرنے کے پندرہ سولہ دنوں بعد بھی یہ خبر نہ لیتیں کہ مجھے آنے جانے کے لیے کرایا تو درکار ہوگا۔ رہن میں کوئی زیور رکھا ہوا ہوتا۔ مجھے یہ چھڑانا ہوتا۔ کسی بھی طور، ورنہ کچھ بھی سننے کو تیار رہنا ہوتا۔
چند دن گزرتے کسی رشتہ دار کاخط آتا کہ دوسال قبل والد محترم نے تین ہزار روپے جو قرض لیے تھے وہ اب تک لوٹائے نہیں ہیں۔ یہ خط میرے ہاتھوں میں تھما دیا جاتا۔ بغیر کسی پیش لفظ کے اور غیرت کا مارا میں تھوڑا تھوڑا کرکے یہ رقم قرض دار کو بھیجتا۔
یہ ہیں زلیخا میرے ماں باپ۔ کبھی خیال ہوتا کہ شاید میں ان کا بیٹا نہیں ہوں، تکلیفیں ہر گھر میں ہوتی ہیں، سب کو مل بیٹھ کر انہیں دور کرنا ہوتا ہے نا؟ لیکن ان کا یہ طور ، ان کا طریقہ۔ پتہ نہیں اپنی ہی اولاد سے انھیں اتنا بغض کیوں ہے۔ ایک سوال زلیخا۔ جس کا جواب شاید مجھے کبھی نہیں ملے گا۔ بس ایک بات سے تھوڑی تسلّی ہوئی کہ میری نانی بھی ہو بہو میری ماں کی طرح تھیں۔ صورت میں بھی سیرت میں بھی۔ نانا بیچارے اللہ والے تھے۔ جلد ہی اللہ کے پاس چلے گئے۔ لیکن ہمارے والدِ محترم۔ دنیا دیکھی ہے نا انھوں نے۔ پس بیوی کی ہاں میں ہاں ملاتے رہتے ہیں۔
کتنی ہی آزمائشیں ہیں زلیخا! شاید اس طرح میری آزمائش ہورہی ہے۔
للّٰہ زلیخا، آج جو ٹارچر تم پر میری ماں نے کیا ہے اس کے لیے میں شرم سار ہوں۔ میں معافی مانگتا ہوں۔ انشاء اللہ آج کے بعد ایسا کوئی موقع نہیں آئے گا۔ ہم اطمینان سے رہیں گے۔ پرسکون زندگی گزاریں گے زلیخا۔ میں، تم اور یہ بچہ جو چند مہینوں بعد ہمارے ساتھ ہوگا۔‘‘
زلیخا اپنے شوہر کی جانب دیکھتی رہی۔ جس کے چہرے سے معصومیت ٹپکے جارہی تھی۔ انگ انگ سے پاکیزگی پھوٹی جارہی تھی۔ اتنی تفصیلات سے وہ واقف نہ تھی۔ جو ابھی محسن نے سنائیں۔ وہ اپنا دکھ بھول گئی۔ اپنا سر اس نے محسن کے شانے سے ٹکا دیا۔ اور دھیرے سے بولی:
’’ایسا ہی ہوگا! آپ معافی مت مانگئے۔ مجھے بھی ان کی باتوں کا برا نہیں ماننا چاہیے۔‘‘
محسن نے شکر گزار نظروں سے زلیخا کو دیکھا اور اس کی پیشانی چوم لی۔
ایک خوبصورت لڑکا زلیخا کو پیدا ہوا۔ محسن نے اپنے ماں باپ کو اطلاع نہیں کی۔ نام رکھنے کا موقع آیا۔ زلیخا نے کئی نام چنے: ابراہیم، یوسف، اسحاق، یعقوب، حنیف، ملک نصیر، منیر، انور، کمال، غنی، رحیم، بشیر، سلیم، سمیع، مسعود، عمران، ثنا۔ لیکن کئی دنوں کے غوروفکر کے بعد محسن نے چار ناموں کا انتخاب کیا: ’’قدیر، بشیر، منیر، بصیر۔‘‘
زلیخا نے احتجاج کیا کہ’’ ان ناموں میں کوئی چارم نہیں ہے۔‘‘لیکن محسن نے کہا کہ’’ ان ہی میں سے کوئی ایک رکھا جائے۔‘‘’’پر کیوں؟‘‘ زلیخا متحیر تھی۔
’’ظہیر کے وزن میں یہی نام آرہے ہیں۔‘‘ دھیرے سے محسن نے کہا۔ اور زلیخا منہ کھولے اسے دیکھتی رہ گئی۔

شیئر کیجیے
Default image
شبیب احمد کاف

تبصرہ کیجیے