6

عیدالاضحی کی قربانی اور اس کی اہمیت

 

حدثنا ابراہیم بن موسی الرازی، ثنا عیسیٰ، ثنا محمد بن اسحاق عن یزید بن ابی حبیب، عن ابی عیاش، عن جابر بن عبداللّٰہ، قال: ذبح النبی ﷺ یوم الذبح کبشین اقرنین املحین موجئین فلما وجہہما قال: إنی وجہت وجہی للذی فطر السمٰوٰت والارض علی ملۃ ابراہیم حنیفا وما انا من المشرکین، ان صلاتی و نسکی و محیای و مماتی للّٰہ رب العالمین، لا شریک لہ، وبذٰلک امرت وانا من المسلمین اللّٰہم منک ولک عن محمد وامتہ باسم اللّٰہ واللّٰہ اکبر ثم ذبح۔
’’جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے قربانی کے دن دو چتکبرے سینگوں والے خصی مینڈھے ذبح کیے، جب آپ نے ان کو رو بہ قبلہ لٹالیا تو کہا: میں نے اپنا رخ اس ذاتِ گرامی کی طرف کیا، جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ میں ملتِ ابراہیم پر قائم ہوں، جو یک سو تھا۔ میں مشرکین میں سے نہیں ہوں۔ بلاشبہہ میری نماز، میری قربانی اور میرا جینااور مرنا سب اللہ رب العالمین کے لیے ہے، جس کا کوئی شریک و ساجھی نہیں۔ اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں سرِاطاعت جھکا دینے والوں میں سے ہوں۔ یا اللہ! یہ قربانی تیرا ہی مال ہے اور تیرے ہی لیے حاضر ہے۔ اے اللہ! محمد اور ان کی امت سے اسے قبول فرما۔ اللہ کے نام کے ساتھ اور اللہ سب سے بڑا ہے (اللہ اکبر پڑھ کر) اس کو ذبح کیا۔‘‘ (ترجمہ حدیثِ مذکورہ)

شیئر کیجیے
Default image
ماخوذ