3

اللہ کا شکر

ہمارا اور اس ساری کائنات اور کائنات کی ہر چیز کو پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ اسی نے ہمیں پیدا کیا، بہترین جسم دیا، دیکھنے کے لیے آنکھیں دیں، سننے کے لیے کان دئیے، بولنے کے لیے زبان دی، سوچنے و غور وفکر کرنے کے لیے دماغ دیا۔ چاہنے والے ماں باپ ، محبت کرنے والے بھائی بہن اور زندگی میں سرور بھردینے والی اولاد دی جو ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو اتنی نعمتیں عطا کی ہیں کہ اگر ہم میں ان کا صحیح احساس پیدا ہوجائے تو ہمارے جسم کا بال بال شکر گزار ہوجائے۔ مگر چونکہ یہ نعمتیں ہمیں بکثرت ملی ہوئی ہیں اس لیے منعم حقیقی کے انعامات کا احساس ہی نہیں ہوتا۔

انسان سے تعلق رکھنے والی جن صفات کو اللہ تعالیٰ نے بہت ہی زیادہ پسند فرمایا ہے ان میں ’’شکر‘‘ بہت اہم ہے اور یہ تمام بھلائیوں کی جان ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے : ’’اگر تم شکر کی روش اختیار کرو تو میں تمہیں اور زیادہ نعمتوں سے نوازوں گا۔‘‘

دوسری جگہ فرمایا: ’’اور (وہ وقت یاد کرو) جب تمہارے رب نے خبردار کردیا تھا کہ اگر شکر گزار بنوگے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا۔ اور اگر کفران نعمت کرو گے تو میری سزا بہت سخت ہے۔‘‘ (ابراہیم :۷)

ہم پر اپنے رب کا شکر واجب ہے۔ انسان زندگی میں دو ہی رویے اختیار کرسکتا ہے۔ ایک رویہ تو وہ ہے جسے ہم شکر گزاری سے تعبیر کرسکتے ہیں اور دوسرا رویہ کفر اور احسان فراموشی کا ہے۔ شکر درحقیقت کفر کے مقابل کا لفظ ہے اسی لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ’’مجھے یاد کرو میں تمھیں یاد رکھوں گا اور میرا شکر ادا کرو، کفران نعمت نہ کرو۔‘‘ (البقرہ: ۱۵۲)

سورئہ نحل میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’وہی ہے جس نے سمندر کو مسخر کررکھا ہے تاکہ تم اس سے تروتازہ گوشت لے کر کھاؤ اور اس سے زینت کی وہ چیزیں نکالوں جو تم پہنا کرتے ہو۔ تم دیکھتے ہو کہ کشتی سمندر کا سینہ چیرتی ہوئی چلتی ہے یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو اور اس کے شکر گزار بنو۔‘‘

شکر صرف زبان سے ہی ادا نہیں ہوتا بلکہ شکر کی تکمیل اس وقت ہوتی ہے جب بندہ اپنے آپ کو خدا کی بندگی کے حوالے کردے۔ زندگی میں اس کے احکام کی پیروی کرے اس کی نافرمانی سے بچتا رہے اور مالک کی دکھائی ہوئی راہ پر گامزن ہو۔ بندے سے شکر کا مطالبہ اپنے اسی وسیع مفہوم میں کیا گیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

’’ ہم نے انسان کو راہ دکھائی اب چاہے وہ شکر گزار ہوجائے چاہے ناشکری کا راستہ اپنائے۔‘‘ (الدھر:۳)

سورئہ لقمان میں فرمایا: ’’کہ شکر کرتے رہو اللہ کا اور جو کوئی شکر کرے گا (اللہ کا) تو شکر کرے گا اپنے ہی فائدے کے لیے اور جو کوئی ناشکری کرے گا تو اللہ بے نیاز اور خوبیوں والا ہے۔‘‘ (لقمان:۱۲)

رسول اللہ ﷺ خود اللہ تعالیٰ کے انتہائی شکر گزار بندے تھے اور آپ ؐنے اپنی امت کے لیے بھی اسی شئے کو پسند کیا کہ وہ شکر گزار بنے رہیں۔ رسول کریم ﷺ اس کثرت سے نوافل پڑھتے کہ پائے مبارک پر ورم آجاتا اور اس قدر گریہ وزاری کرتے کہ روتے روتے داڑھی بھیگ جاتی۔ ایک مرتبہ حضرت عائشہؓ نے عرض کیا ’’یا رسول اللہﷺ! آپؐ کے تو اگلے پچھلے سب گناہ معاف ہوگئے ہیں پھر اس قدر گریہ وزاری کیوں فرماتے ہیں؟‘‘ آپ ؐ نے جواب دیا ’’اے عائشہؓ! کیا میں خدا کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔‘‘ (بخاری)

حضور ﷺ کا باوجود بخشش ہوجانے کے یہ حال تھا، پھر ہمیں تو اور بھی زیادہ اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ ہم اللہ تعالیٰ کا جتنا زیادہ شکر ادا کرتے رہیں گے اللہ تعالیٰ اتنا ہی زیادہ نعمتوں سے نوازتا رہے گا۔ پھر اللہ کے پیارے رسول ﷺ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ شکر ادا کرنے سے گناہ بھی معاف کیے جاتے ہیں۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص کھانا کھائے اور پھر یہ کہے: شکر ہے اللہ کا جس نے مجھے یہ کھانا کھلایا بغیر میری اپنی تدبیر اور طاقت کے۔ تو اس کے جو گناہ پہلے ہوچکے ہیں وہ معاف ہوجائیں گے۔‘‘ (ابوداؤد)

ایک شخص کھانا کھاکر یہ کہتا ہے کہ اللہ میرے منعم و محسن نے مجھے کھانا بخشا، اس میں میری اپنی تدبیر اور جسمانی طاقت کا کیا دخل۔ میرے پاس جو کچھ ہے وہ سب پروردگار ہی کا بخشا ہوا ہے۔ اگر وہ مجھے کھانا نہ دیتا تو میں کہاں سے کھاتا۔ وہی شکر کے لائق ہے۔ جو شخص اٹھتے بیٹھتے کھاتے پیتے ہر دم اپنے پالنہار کو یاد رکھے گا وہ کبھی اس کی نافرمانی کرنے کی جرأت نہیں کرے گا۔ اگر کبھی غلطی اور گناہ ہو بھی جائیں گے تو وہ فوراً اپنے رحیم و کریم آقا سے معافی مانگ لے گا۔

ایک سچا مومن ہر لمحہ اپنے رب کو یاد کرتا رہتا ہے۔ کبھی خدا کی یاد سے اس کا دل غافل نہیںہوتا۔ وہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا رہتا ہے۔ سرور کونین ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’مومن کی حالت بھی عجیب ہوتی ہے وہ جس حال میں بھی ہوتا ہے اس سے خیر اور بھلائی ہی سمیٹتا ہے اور یہ خوش نصیبی مومن کے سوا کسی کو حاصل نہیں ہے۔ اگر وہ تنگدستی بیماری اور دکھ کی حالت میں ہوتا ہے تو صبر کرتا ہے اور جب وہ کشادگی کی حالت میں ہوتا ہے تو شکر کرتا ہے اور یہ دونوں حالتیں اس کے لیے بھلائی کا سبب بنتی ہیں۔‘‘

جذبہ شکر انسان کس طرح اپنے اندر پیدا کرے اس کے لیے بھی آپ نے رہنمائی فرمائی۔ ارشادفر مایا: ’’وہ لوگ جو تم سے مال و دولت اور دنیاوی جاہ و مرتبہ میںکم ہیں ان کی طرف دیکھو تو (تمہارے اندر شکر کا جذبہ پیدا ہوگا) اور ان لوگوں کی طرف نہ دیکھو جو تم سے مال و دولت میں اور دنیاوی سازو سامان میں بڑھے ہوئے ہیں تاکہ جو نعمتیں تمہیں اس وقت ملی ہوئی ہیں وہ تمہاری نگاہ میں حقیر نہ ہوں (ورنہ خدا کی ناشکری کا جذبہ ابھرے گا)‘‘ (مسلم)

شیئر کیجیے
Default image
ساجدہ فرزانہ صادق

تبصرہ کیجیے