4

مومن

ایک مرتبہ حضورﷺ نے صحابہ سے فرمایا کہ ’’کون ہے جو مجھ سے ان کلمات کو لے اور ان پر عمل کرے یا ایسے شخص تک پہنچائے جو اس پر عمل کرسکے تو حضرت ابوہریرہؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں۔ پھر آپؐ نے ان کا ہاتھ پکڑلیا اور فرمایا:

 (1) اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں سے بچو، نہایت عبادت گزار بن جاؤگے۔

(2) اللہ نے تمہاری قسمت میں جو کچھ رکھا ہے اس پر راضی رہو۔ تم حد درجہ امیر ہوجاؤگے۔

(3) پڑوسی سے اچھا سلوک کرو مومن ہوجاؤ گے۔

(4) جو اپنے لیے پسند کرو وہی دوسروں کے لیے پسند کرو مسلم ہوجاؤگے۔

(5) زیادہ نہ ہنسو کیوں کہ زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کردیتا ہے۔‘‘

دیکھئے رسولؐ کی تعلیم کا انداز کتنا پیارا ہے۔ سب سے پہلے آپؐ نے سوال کیا کہ کون ان باتوں کو سیکھ کر ان پر عمل کرے گا اور پھر فرمایا کہ ان کو دوسروں تک پہنچانا بھی ہے۔ ایسا اس وجہ سے ہے کہ بھلائیاں سمٹ کر نہ رہ جائیں اور پورا معاشرہ بھلائی کا رنگ اختیار کرلے۔ پھر آپؐ نے ان کا ہاتھ پکڑ کر ان باتوں کی تعلیم دی تاکہ ان پر ان باتوں کی اہمیت واضح ہوجائے، اور ذہن سے کبھی بھی اوجھل نہ ہوسکیں۔

جب تک انسان کو حرام و حلال کی تمیز نہ ہو اور وہ حرام سے بچنے کی کوشش نہ کرے، اس وقت تک حقیقی متقی نہیں ہوسکتا۔ مومن کو ہر وقت اور ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کی رضا کا خیال ہونا چاہیے۔ عبادت گزار بندہ بننے کے لیے صرف نماز و روزہ ہی کافی نہیں ہے بلکہ ہر منکر سے پرہیز ضروری ہے۔ اللہ کا سچا اطاعت گزار اور وفادار اور حقیقت میں عبادت گزار بندہ وہی ہے جو اس کے حرام کردہ سے بچے۔ سچی بندگی تو یہی ہے۔ اگر ہمارا شعور اتنا پختہ اور عمل اتنا نپا تلا ہو تو پوری زندگی عبادت بن جاتی ہے۔ دوسرے کلمے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ حقیقی مالداری اور بے نیازی آدمی کو اس وقت حاصل ہوتی ہے جب وہ اللہ کی تقسیم پر راضی ہوکر شکوہ شکایت اور حرص و لالچ سے دور رہتا ہے۔ وہ یہ سمجھ لیتا ہے کہ جو کچھ مجھے ملا ہے وہی درست ہے اور جو کچھ نہیں ملا ہے اس کے نہ ملنے میں ہی خیر ہے۔

اسے کہتے ہیں اللہ کی رضا پر راضی اور اس کی تقسیم پر مطمئن رہنا اوریہ اس کوہر چیز سے بے نیاز بنادیتا ہے اور اس کے دل کو ایسی بے نیازی و فراخی حاصل ہوتی ہے کہ اس کا نفس حرص و ہوس اور حسد جیسے تمام رذائل سے پاک ہوجاتا ہے۔ اس کا دل شکر ادا کرتا ہے اور اسے سکون و اطمینان نصیب ہوتا ہے۔

تیسرے کلمے سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان کا اہم تقاضا یہ ہے کہ ہمارا سلوک پڑوسیوں سے اچھا ہو۔ پڑوسی سے بھی ایک رشتہ ہے۔ جس کےحقوق کو ادا کرنے کی آپؐ نے بار بار تاکید کی ہے۔ چوتھی بات یہ ہے کہ مسلمان اپنے لیے جو کچھ پسند کرتا ہے وہی دوسروں کے لیے بھی پسند کرتا ہے۔ انسان کبھی اپنے لیے برائی پسند نہیں کرتا کیونکہ وہ اپنا خیرخواہ ہوتا ہے۔ عدل و انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ ہم دوسروں کے بھی خیرخواہ ہوں۔ اگر حضور اکرم ﷺ کی تعلیم کو عملی زندگی میں اختیار کرلیا جائے تو ہمارے درمیان محبت والفت پیدا ہوجائے گی اور آپس کے کتنے ہی جھگڑے ختم ہوجائیں گے۔ خامیاں ہر شخص میں ہوتی ہیں لیکن اس بات کو کوئی گوارا نہیں کرتا کہ اس کی خامیوں کو دوسروں کے سامنے بیان کیا جائے۔ پھر دوسروں کی برائیاں بیان کرکے ہم غیبت کے مرتکب ہوتے ہیں اور آپسی تعلق کو نقصان پہنچاتے ہیں۔اس لیے قرآن پاک میں طعنہ دینے، عیب جوئی کرنے اور تجسس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔

پانچویں بات نہایت بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔ زیادہ ہنسے سے دل پر غفلت طاری ہوجاتی ہے۔ لہو و لعب انسان کو اللہ سے دور کردیتا ہے، سنجیدگی ختم ہوجاتی ہے، دل اپنی بہترین صلاحیتیں کھودیتا ہے اور اللہ کی عظمت اور بزرگی کا احساس جاتا رہتا ہے۔ مومن کا دل تو حساس ہوتا ہے، اسلام توتفکر و تدبر کی تعلیم دیتا ہے نیز ذکروفکر ہماری نجات کا ذریعہ ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ آدمی خشک مزاج بن جائے۔ خوش طبعی تو بہت اچھی چیز ہے۔ آپؐ نے ہنسے سے منع نہیں فرمایا بلکہ زیادہ ہنسنے اور قہقہہ لگا کر ہنسنے، کسی کا مذاق اڑانے اور کسی کی دل آزاری کرنے اور فضو ل وقت ضائع کرنے سے منع فرمایا، کیونکہ یہ اہلِ ایمان کی زندگی کے عملی مطلوب رویوں سے میل نہیں کھاتا۔

شیئر کیجیے
Default image
پیکر سعادت معزؔ، وارنگل

تبصرہ کیجیے