5

بچوں کی تربیت اور ماں

کہتے ہیں کہ بچہ کی پہلی درس گاہ ماں کی آغوش ہے اور یہ بالکل صحیح بھی ہے۔ کیونکہ بچہ کی تعلیم و تربیت دراصل ماں کی گود سے ہی شروع ہوتی ہے۔ اسکول میں اس کاداخلہ چار پانچ سال کی عمر میں ہوتا ہے، مگر زندگی کے ابتدائی تین چار سال جو سیکھنے کے لیے بہت اہمیت رکھتے ہیں گھر میں ماں کے قریب رہ کر ہی گزرتے ہیں۔ تجربات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ بچہ عمر کے ابتدائی تین سال میں جتنا سیکھتا ہے اتنا زندگی میں کبھی نہیں سیکھتا، اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ بچہ کی شخصیت کی بنیاد اسکول میں داخلے سے قبل ہی پڑجاتی ہے۔ اور اس بنیاد کو ڈالنے والی ہوتی ہے ’’ماں‘‘۔ یوں تو مشترکہ خاندان میں بچہ کے ارد گرد اور بھی افراد ہوتے ہیں مگر بچہ کا زیادہ تر وقت صبح سے شام تک ماں کے ساتھ ہی گزرتا ہے۔ وہ اسے اپنے ہر کام میں خواہ کھانا ہو یا کھیلنا ، سونا ہو یا پڑھنا شریک رکھنا چاہتا ہے۔ اس لیے ماں کو ہی بچہ کو تعلیم دینے کا موقع زیادہ ملتا ہے اور وہ ان سب کاموں کے ذریعہ جانے انجانے بچہ کو بہت کچھ سکھاتی رہتی ہے۔ وہ بچہ کو وقت پر دودھ پلاکر یا کھانا کھلا کر اس کو پابندی وقت کی تعلیم دیتی ہے۔ روزانہ نہلا دھلا کر صاف کپڑے پہنا کر وقت سے سلاکر تندرسی کے اصولوں پر عمل کرنے کی تعلیم دیتی ہے۔ اس کے علاوہ بچوں میں نظم و ضبط کی بنیاد ڈالتی ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ جو مائیں بچوں کا کام وقت مقررہ پر نہیں کرتیں۔ ان کے بچے بہت پریشان کرتے ہیں۔ زیادہ تر روتے رہتے ہیں، ضدی اور نٹ کھٹ بن جاتے ہیں۔ مگر صحیح طریقے سے جن بچوں کی پرورش ہوتی ہے وہ کم ہی پریشانی کا باعث بنتے ہیں۔ وقت پر سوتے ہیں، وقت سے اٹھتے ہیں اور خوش و خرم نظر آتے ہیں۔
بچہ جب بولنا سیکھتا ہے تو ماں اس کو اچھی باتیں بتاکر بولنے کی مشق کراتی ہے اگر وہ کہیں سے کوئی گندی بات سیکھ لیتا ہے تو وہ اس بات کی کوشش کرتی ہے کہ بچہ اس کو نہ دہرائے۔ غلط باتیں اس کی زبان پر نہ چڑھنے پائیں۔ ایک سمجھ دار ماں بچہ کو سلاتے وقت ایسی کہانیاں سناتی ہے جن سے بچہ کچھ سبق حاصل کرے۔ وہ انھیں کہانیوں کے ذریعہ بچوں کو بڑوں کا ادب و احترام کرنا سکھاتی ہے۔ اتحاد و اتفاق، سچائی، ایمانداری، وفاداری، فرمانبرداری، ہمت و حوصلہ، صبرو شکر، بہادری اور جوانمردی کا درس دیتی ہے۔
یوں تو بچوں کی تعلیم و تربیت والدین پر منحصر ہے مگر باپ چونکہ روزی کمانے کے چکر میں زیادہ وقت گھر کے باہر گزارتا ہے اس لیے بچوں کی تعلیم کا زیادہ انحصار ماں پر ہی ہوتا ہے۔ اب تو عورتوں نے بھی مردوں کے دوش بدوش چلنے کے لیے اور معاشی حالات کو سدھارنے کے لیے گھر سے باہر قدم نکال لیا ہے اور وہ بھی اسکول اور آفس وغیرہ میں نوکریاں کرنے لگی ہیں۔ اور مردوں کی طرح گھر سے باہر رہنے لگی ہیں۔ اس لیے ان کو بھی بچوں کے قریب رہنے کا موقع کم ملتا ہے مگر سمجھ دار اور پڑھی لکھی مائیں اپنی ذمہ داریوں کو اچھی طرح سمجھتی ہیں اور کم وقت میں بھی وہ بھی بچوں کی تعلیم کی طرف سے غافل نہیں ہوتی ہیں جتنا وقت ان بچوں کے ساتھ گزارنے کو ملتا ہے اس میں وہ بچوں کو بہت کچھ سکھا دیتی ہیں۔ تاکہ ان کی گھر سے غیر حاضری کی وجہ سے بچوں پر برا اثر نہ پڑے۔ اگر وہ ایک باورچی خانہ کا کام دیکھتی ہیں تو دوسرے طرف بچہ کو بٹھا کر اس کا ہوم ورک کراتی اور اس کی مدد کرتی ہیں۔ ٹائم ٹیبل کے حساب سے اس کی کتابیں تیار کرواتی ہیں، روزانہ کا کام کرنے کی تلقین کرتی ہیں۔ صاف ستھرے کپڑے پہناکر ٹھیک وقت سے تیار کرکے اسکول بھیجتی ہیں۔ اس طرح بچہ وقت پر خوش اسلوبی سے کام کرنے کا عادی بنتا جاتا ہے۔
ماں کی تعلیم کا اثر بچوں پر زیادہ اس لیے بھی ہوتا ہے کہ ماں بچہ کو ہربات پیار سے سمجھاتی ہے، ڈانٹ پھٹکار نہیں کرتی۔ وہ یہی کوشش کرتی ہے کہ بچہ پیار سے سیکھ لے اس کے لیے ماں کو بہت صبرو ضبط کی ضرورت ہوتی ہے چونکہ عورت میں صبرو ضبط کا مادہ زیادہ ہوتا ہے، اس وجہ سے بچہ بھی ماں سے زیادہ مانوس ہوتااور اس کی بات کو آسانی سے سمجھتا اور سیکھتا ہے۔ باپ کا رعب اس پر زیادہ غالب رہتا ہے اس وجہ سے ہر بچہ کو باپ سے اتنی بے تکلفی بھی نہیں ہوتی ہے جتنی ماں سے ہوتی ہے وہ اپنے دل کی بات ماں سے آسانی سے بتادیتا ہے۔ ماں کو اپنا زیادہ ہمدرد اور غمگسار سمجھتا ہے اسی وجہ سے پڑھائی کے سلسلے میں اور کچھ سیکھنے کے لیے وہ ماں سے زیادہ مدد حاصل کرتا ہے۔
چونکہ بچوں کی تعلیم میں ماں کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔ اس لیے ماں کا تعلیم یافتہ ہونا بہت ضروری ہے۔ ایک تعلیم یافتہ ماں بچہ کی تعلیم و تربیت جس سلیقہ سے کرسکتی ہے، جاہل ماں تو ہرگز نہیں کرسکتی ہے۔ کیونکہ جاہل ماں کو بہت سی باتوں کی واقفیت خود ہی نہیں ہوتی ہے تو وہ بچوں کو کیا بتاسکتی ہے۔ بچہ کی فطرت ہوتی ہے ہر چیز کو جاننے کی۔ اسی لیے وہ کیا ہے؟ کیوں ہے؟ کیسا ہے؟ غرض یہ کہ طرح طرح کے سوالات ہر وقت کرتا رہتا ہے اب اگر ماں سمجھ دار اور پڑھی لکھی ہے تو وہ بچوں کے سوالات کے معقول جواب دیتی رہتی ہے۔ لیکن جاہل اور ان پڑھ ماں بچوں کے ایک دو سوالوں کے جواب دینے کے بجائے اس کو ڈانٹ کر خاموش کردیتی ہے۔ بچہ کے تجسس کو بیکار کی بکواس سے تعبیر کرتی ہے۔ اس طرح بچہ کی ہمت ٹوٹ جاتی ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ شاید میں اس طرح کے سوالات کرنے میں غلطی پر ہوں اور پھر اگر کسی چیز کے بارے میں وہ کچھ دریافت کرنا چاہتا ہے تو اس کو ہچکچاہٹ ہوتی ہے۔
آج کے بچے کل کے جوان ہوتے ہیں اور انھیں جوانوں پر کسی قوم یا ملک کی ترقی کا دارومدار ہوتا ہے۔ اس لیے بچوں کی صحیح تعلیم و تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر بچوں کو صحیح تعلیم نہ ملی تو وہ بڑھ کر ملک و قوم کی تباہی کا باعث بن جاتے ہیں۔ لہٰذا بچوں کی تعلیم و تربیت سے لاپرواہی برتنا اپنے ملک و ملت کی تباہی لانا ہے۔
چونکہ بچوں کی تعلیم کی زیادہ تر ذمہ داری ماں پر ہوتی ہے اس لیے ماں کو بہت سمجھداری سے کام لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ بچے اپنے بڑوں اور خاص طور سے اپنی ماں کی نقل و حرکت بات چیت اور طریقوں پر نظر رکھتے ہیں۔ اس لیے ماں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ زندگی کے ہر شعبہ میں بچوں کے سامنے اچھا نمونہ پیش کرے۔ اگر ماں بچہ کو زبانی طور پر اچھی اچھی باتوں کی تعلیم دیتی ہے مگر اس کا عمل اس کے برعکس ہے، تو بچہ یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ صحیح کیا ہے، وہ جو ماں کہتی ہے یا وہ جو ماں کرتی ہے۔ مثال کے طور پر ماں بچے سے کہتی ہے کہ چوری کرنا بری بات ہے مگر بچہ کے سامنے وہ اس کے پاپا کے پرس سے چھپا کر روپیہ نکال لیتی ہے۔ یا وہ کہتی ہے کہ جھوٹ نہ بولنا چاہیے مگر خود معمولی معمولی باتوں پر جھوٹ بول دیتی ہے تو بچہ ان سب باتوں کو نظر انداز نہیں کرتا وہ بہت غور کرتا ہے اور یہی چھوٹی باتیں اس کے لیے دماغ میں گھر کرلیتی ہیں اس لیے ماں کو بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنے بچہ کو صحیح تعلیم دے سکے۔ دنیا میں جو بڑے بڑے لوگ گزرے ہیں ان کی ترقی کا راز ان کی ماؤں کی اعلیٰ تعلیم و تربیت میںہی مضمر ہے۔
ہر چیز کے دو رخ ہوا کرتے ہیں ایک روشن اور دوسرا تاریک اس طرح تعلیم نسواں نے جہاں عورتوں میں اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو زیادہ خوش اسلوبی سے انجام دینے کا احساس پیدا کیا وہیں کچھ عورتیں اپنے فرائض کی انجام دہی سے کوتاہی بھی برتنے لگیں۔ تعلیم حاصل کرکے گھر سے باہر قدم نکال کر گھر کی ذمہ داریوں کو اچھی طرح نہیں سنبھالتی ہیں بچوں کی طرف سے ان کی تعلیم کی طرف سے غافل ہوجاتی ہیں۔ بہانہ یہ ہوتا ہے کہ فرصت نہیں ملتی۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بچے ماں کے قرب اور پیار کو ترس جاتے ہیں، وہ طرح طرح کی غلط حرکتیں کرنے لگتے ہیں تاکہ لوگ ان کی طرف متوجہ ہوں پھر ان غلط حرکتوں کی وجہ سے ان کو ڈانٹ پڑتی ہے سزا دی جاتی ہے جس سے وہ ضدی اور باغی ہوجاتے ہیں۔
میں تو یہ کہوں گی کے موجودہ دور میں نوجوانوں، جوانوں میں جو ضبط و نظم کی کمی دکھائی دیتی ہے اس کا ایک بڑا سبب یہ بھی ہے کہ چند تعلیم یافتہ مائیں بچوں کی تعلیم کی طرف سے لاپرواہی ہی برتتی ہیں۔ اسکول کالج یا یونیورسٹی میں سب ہی طلباء بدنظمی، توڑ پھوڑ اور لڑائی جھگڑا پسند نہیں کرتے۔ چند گنے چنے بچے ایسے ہوتے ہیں اور یہ انھیں تعلیم یافتہ ماؤں کی دین ہیں۔ جو گھر سے باہر قدم نکال کر بچوں کی تعلیم و تربیت کی طرف سے آنکھیں پھیرلیتی ہیں۔

شیئر کیجیے
Default image
جمال عائشہ

تبصرہ کیجیے