6

شکنتلا

دیکھتے دیکھتے سورج بھی غروب ہوگیا۔ درخت اور جھاڑیاں اندھیرے میں ڈوب گئیں۔ جھینگروں کے ٹرّانے اور کتوں کے بھونکنے کے سوا کوئی آواز نہ آتی تھی۔ گہرا سنّاٹا چھاگیا۔ ایک ایک کرکے سب آدمی چلے گئے تھے۔ اتنے بڑے باغ میں صرف شنکر ہی تن تنہا ایک بینج پر بیٹھا رہ گیا تھا۔ اس کا دل اب بھی یہاں سے جانے کو نہ چاہتا تھا۔ مگر جب کمپنی باغ کے چوکیدار نے اسے گھور کر دیکھا تو بادلِ ناخواستہ اسے اٹھنا ہی پڑا۔ دونوں جیبوں میں ہاتھ ڈالے، دھیرے دھیرے چلتا وہ باغ سے باہر نکل گیا۔
اب وہ کہاں جائے؟ یہی سوچتے ہوئے وہ چلتا چلا گیا۔ اس کے قدم گھر کی جانب بڑھ رہے تھے، مگر دل میں ہلچل مچی ہوئی تھی۔ گھر کے دروازے پر پہنچ کر وہ رک گیا۔ وہ دروازنہ کھٹکھٹائے یا نہیں؟ اسی کشمکش کے عالم میں کافی دیر گذر گئی۔ مگر جب کئی آدمی گلی سے ہوکر گذرے، جن میں سے ایک آدھ نے کھنکارا بھی، تو مجبوراً اسے یہ فیصلہ کرنا ہی پڑا کہ دروازہ کھٹکھٹایا جائے۔ اور جب وہ کھلے تو اسے اندر جانا ہوگا۔ آخر اس نے دل کو کڑا کرکے دروازہ کی کنڈی ہلائی۔ دروازہ کھل گیا۔ سامنے اس کی بیوی شکنتلا کھڑی تھی، اس کا چہرہ تمتمایا ہوا تھا۔ دونوں کی نظریں چار ہوئیں۔ شنکر کے ماتھے پر پسینہ تھا۔ اور شکنتلا کی نگاہوں میں سوالات کا جمگھٹا۔ جن میں سے ایک سوال کا جواب بھی شنکر کے پاس نہ تھا۔ اس کی نگاہیں کچھ دیر شنکر کے چہرہ کو پڑھنے کی کوشش کرتی رہیں اور پھر جھُک گئیں۔ جیسے تھک کر گر پڑی ہوں۔ شنکر بھاری بھاری قدم اٹھاتا گھر کے اندر داخل ہوگیا۔ پیچھے شکنتلا نے دروازہ کے پٹ بند کیے۔
’’بڑی کرخت آواز نکالنے لگے ہیں یہ دروازے بھی، ان کی چولوں میں تیل دینے کی ضرورت ہے۔‘‘ شنکر نے سوچا۔ شکنتلا اس کے لیے کھانا پروسنے رسوئی میں جاچکی تھی۔ شنکر نے منھ ہاتھ دھویا، کپڑے تبدیل کیے اور پھر کمرہ میں بچھے ہوئے چوبی تخت پر بیٹھ گیا۔ شکنتلا تھال میں بھوجن لیے آئی اور شنکر کے سامنے رکھ دیا۔ شنکر کھانا کھانے لگا۔ شکنگتلا پاس بیٹھ کر پنکھا کرنے لگی۔ دونوں چپ تھے، نہ نظریں ملیں، نہ کوئی بات چیت ہوئی۔ آج بھات اور بینگن کی بھاجی بنی تھی، جو شنکر کو بہت مرغوب تھی۔ مگر نہ جانے کیا بات تھی کہ نوالہ حلق سے اترتا ہی نہ تھا۔ اس نے برائے نام دو چار لقمے زہر مار کیے اور پھر پانی کا گلاس منہ کو لگالیا۔ پانی غٹاغٹ چڑھا کر اس نے ایک لمبی ڈکار لی اور پھر اٹھ کھڑا ہوا۔ شکنتلا اس کو دیکھتی رہ گئی۔ مگر یہ نہیں کہا کہ اور کھاؤ۔ برتن سمیٹ وہ رسوئی میں چلی گئی۔ شنکر نے محسوس کیا کہ وہ روٹھی ہوئی ہے۔
شنکر اپنے کمرہ میں آرام کرسی پر نیم دراز سگریٹ پی رہا تھا۔ سگریٹ ختم ہوگیا۔ اس نے ایش ٹرے میں راکھ جھاڑ دی اور دروازہ کو تکنے لگا۔ شکنتلا ابھی تک رسوئی گھر میں ہی تھی۔ وہ اٹھ کھڑا ہوا اور اس کی طرف چلا۔
شکنتلا رسوئی گھر میں بیٹھی برتن صاف کررہی تھی، اسے پتہ بھی نیہ چلاکہ شنکر دبے قدموں چل کر اس کے پیچھے آکھڑا ہوا ہے۔ وہ اس وقت چونکی جب شنکر نے اس کی ٹھوڑی کو تھام کر اس کا چہرہ اپنی جانب گھمایا۔
’’ارے!‘‘ شنکر چونک پڑا۔ ’’تم رو رہی ہو؟‘‘ وہ شکنتلا کی خوبصورت آنکھوں میں تیرتے ہوئے آنسوؤں کو دیکھ کر بیتاب ہوگیا۔ ’’میں پاگل ہوجاؤں گا شکنتلا۔‘‘
’’میں کب روتی ہوں‘‘ شکنتلا جھوٹ موٹ مسکرانے لگی۔ کیسی پھیکی مسکراہٹ۔ شکنتلا کی بھر پور اور جاندار مخصوص مسکراہٹ سے کس قدر مختلف‘‘ پیاز کاٹے تھے، اس کی وجہ سے آنکھوں سے گندہ پانی نکل رہا ہے۔ یہ تو۔‘‘ وہ ساڑی کے پلو سے آنکھیں صاف کرتے ہوئے بولی۔
’’کیا میں بچہ ہوں جو اتنا بھی نہیں سمجھتا۔‘‘ شنکر اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا۔ ’’مجھے معلوم ہے کہ تمہارے دل کو سخت تکلیف پہنچی ہے۔ تم امید کررہی تھیں کہ آج ضرور تمہارے لیے نیکلس لاؤں گا۔ مگر …… مگر کیا کروں شکنتلا۔ میری تقدیر ہی خراب ہے۔ جہاں جہاں سے آس تھی سب جگہ کوشش کرکے دیکھ لی۔‘‘ اس نے ایک ٹھنڈی سانس لی۔ ’’جگدیش سے بڑی امید تھی مگر اس نے بھی آج ٹکا سا جواب دے دیا۔ کہا کرتا تھا کہ تمہارے لیے جان بھی حاضر ہے۔، جب چاہو آزمالینا، ہونہہ…… فریبی!…… مکار!…… یہ وہی تو ہے جسے میں نے ایک وقت دیوالیہ ہونے سے بچالیا تھا۔ دنیا بڑی مطلبی ہے شکنتلا۔ یہاں ہر آدمی کے دو روپ ہیں… ایک باہر کا ایک اندر کا…‘‘ اس کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ تھی۔ ’’مگر میں کسی کو کیا دوش دوں میں خود ہی بڑا ابھاگی ہوں۔‘‘ وہ بہت زیادہ سنجیدہ نظر آرہا تھا۔
’’ایسا کیوں سوچتے ہیں آپ!‘‘ شکنتلا نے خود کو سنبھال لیا تھا ’’میں خوش ہوں، آپ جیسا پریم کرنے والا پتی پاکر میں نے سب کچھ پالیا ہے۔ اب مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں۔‘‘ اس کی خوبصورت آنکھوں میں وہی پہلی سے چمک اور ہونٹوں پر وہی بھر پور اور جاندار مسکراہٹ تھی۔ یہ بات یہیں پر ختم ہوگئی مگر شنکر کے دل میں چھپا ہوا کانٹا برابر کھٹک دیتا رہا۔ وہ اچھی طرح سمجھ رہا تھا کہ شکنتلا محض اس کو خوش کرنے کی خاطر باہر سے پرسکون اور مطمئن نظر آرہی ہے۔ ورنہ اس کے اندر اب بھی بہت سے جوالا مکھی سلگ رہے ہیں۔ اس رات شنکر سو بھی نہ سکا۔ اس نے سوچ بچار کے تانوں بانوں میں الجھ کر وہ ساری رات آنکھوں میں کاٹ دی۔
’’شکنتلا‘‘ …وہ سوچ رہا تھا …یہ چھوٹے چھوٹے ہاتھ پاؤں اور چھریرے بدن کی نازک اندام لڑکی جسے کسی محل میں رانی بن کر رہنا تھا۔ سنگ مر مر کے ستونوں والے محل میں۔ جہاں باندیاں اور خادمائیں ہاتھ باندھے کھڑی رہتی ہیں۔ مگر یہ شاہزادی راستہ بھول کر ایک کلرک کے گھر آگئی۔ ایک ایسا گھر جہاں بہت سے میلے کپڑوں کا ڈھیر ،ڈھیر سے جھوٹے برتنوں کا انبار، دھواں دینے والے چولہے، کھٹمل بھری چارپائیاں اور مہینہ ختم ہونے سے پہلے ہی منہ چڑانا شروع کردینے والے آٹے، دال، چاول کے کنستر اس کے چاروں طرف بکھرے ہوئے ہیں۔ مگر کیسی صابرہ، کیسی قانع اور کس قدر خوش مزاج ہے یہ شاہزادی کہ ہنس ہنس کر برتن مانجھا کرتی ہے، کپڑے دھویا کرتی ہے ، اور چولہے پھونکا کرتی ہے۔ اس کے ہونٹوں کی یہ بھر پور اور جاندار مسکراہٹ!
’’شکنتلا‘‘ … وہ سوچتا رہا… یہ چینی کی گڑیا… جسے اگر حریری ملبوسات میں لپیٹا جاتا اور طلائی زیورات سے بنایا سنوارا جاتا تو ایک ایسی تصویر ہوتی جسے قدرت کا حسن کار ہاتھوں کا شاہکار کہا جاسکے۔ مگر اسے زمانہ کی ستم ظریفی کہیے یا ہونی شدنی بات… کہ آج اس کا صندلی جسم ایک موٹی سفید کھدر کی ساڑی میں لپٹا ہوا ہے۔ اس کی مرمریں سفید گردن خالی ہے، اور لوچدار کلائیاں طلائی چوڑیوں اور کنگنوں سے نا آشنا… اس پر ستم بالائے ستم یہ کہ وہ حساس بھی ہے، اور احساس دلانے والوں کی کوئی کمی بھی نہیں… اس کا گھر چہار اطراف سے ایسے گھروں سے گھرا ہوا ہے جہاں بڑی بڑی تنخواہیں پانے والے سرکاری ملازم، بڑے بڑے تاجر اور کاروباری رہتے بستے ہیں۔ جن کی بیویاں سنہری بارڈر والی بنارسی ساڑیاں باندھتی اور سونے میں لال پیلی رہا کرتی ہیں۔ یہ عورتیں جب کبھی یکجا ہوتی ہیں تو موضوعِ گفتگو ہمیشہ ایک ہی ہوتا ہے …… یعنی کپڑے اور گہنے……
’’تم نے یہ ساڑی کہاں سے خریدی تھی پاربتی؟‘‘
’’مجھے تو انھوں نے لاکر دی تھی پچھلی دیوالی پر۔‘‘
’’یہ بلاوز کا کپڑا کس بھاؤ لیا جمنا؟‘‘
’’بھاؤ تاؤ جانے میری بلا۔ نہ انھوں نے بتایا نہ میں نے پوچھا۔‘‘
’’یہ ٹوپس تو بہت ہی اچھے ہیں۔ کیا ابھی بنوائے ہیں کوشلیا؟‘‘
’’ابھی ہفتہ بھر ہوا جبھی تو بن کر آئے ہیں۔‘‘
’’یہ آرسی کنگن دیکھوں تمہارا۔ بملا؟‘‘
’’شوق سے دیکھو مگر نظر نہ لگادینا۔‘‘ اور ایسی ہر محفل میں شکنتلا ایک جانب چپ چاپ کھڑی ٹکر ٹکر ایک ایک کا منہ تکتی اور خود کو دوسروں کی نظر سے بچا کر رکھنے کی کوشش کیا کرتی۔ یہ کھدر کی ساڑی، یہ بد رنگ بلاؤز، یہ خالی گردن، یہ کانچ کی چوڑیاں، اگر کوئی ٹوک دے تو؟ وہ ایسی مجلسوں سے دور دور رہنے کی کوشش کرتی۔ مگر جب رہنا بسنا ایک ہی جگہ کا ہو تو یہ آنکھ مچولی کیسی اور کب تک؟ ایسا ہو ہی جاتا کہ وہ بچ کر نکلی جارہی ہے کہ گھیر لی گئی۔
’’اری تم ہو شکنتلاؔ؟ … کہاں رہتی ہو نظر ہی نہیں پڑتیں؟‘‘
’’جی جی جی … بس یہیں……‘‘
’’ارے یہ تمہارے ہاتھ ننگے ہیں… یہ اچھا شگون نہیں … سہاگن کی کلائیاں تو بھری رہنی چاہئیں۔ کنگن کیوں نہیں بنوالیتیں؟‘‘
’’ہاں…… ہاں…… بننے کو گئے ہیں بہن۔‘‘ شکنتلا ہڑ بڑا کر یہ کہہ دیتی۔
’’اور یہ سفید ساڑی؟ … ابھی تو جوان ہو خیر سے‘‘ کوئی ملنے والی طنز کربیٹھتی۔
’’مجھے سفید رنگ ہی بھلا لگتا ہے بہن‘‘ شکنتلا سے اور کوئی جواب نہ بن پڑتا۔
’’تم جانو بہن… مگر دیوداسی لگتی ہو بالکل۔ جیسے کسی مندر کی پجارن۔‘‘ ایک قہقہہ بلند ہوتا۔
’’گردن بھی تو خالی ہے بیچاری کی۔ چہ چہ چہ ایک نیکلس ہی ڈال لیا ہوتا۔‘‘ ایک اور آواز سنائی دیتی، اور شکنتلا اس قدر کچی ہوجاتی کہ سوائے ہوں ہاس کے اور کچھ نہ کہہ سکتی آنہ بہانہ کرکے وہاں سے ٹل جاتی۔ پیچھے ایسی سرگوشیاں سنائی دیتیں جس سے یہ معلوم کرنا مشکل نہ ہوتا کہ اس کا اور اس کی غربت کا مضحکہ اُڑایا جارہا ہے۔ جب شکنتلا گھر پہنچتی تو پسینہ میں شرابور ہوتی اور آنکھوں میں آنس مچل رہے ہوتے۔ وہ بستر پر دھپ سے گر جاتی اور تکیہ میں منہ دے کر بسورنے لگتی۔ شنکر کو سامنے پاکر وہ پھوٹ پڑتی۔ ’’کسی کے زخم کو کریدنے میں لوگوں کو کیا مزا آتا ہے، ہم غریب ہیں تو اپنے گھر کے، اگر گردن خالی اور کلائیاں ننگی ہیں تو ہماری۔ اگر ساڑی کھدر کی ہے تو اپنی، اس سے کسی کو کیا؟ وہ کون ہوتی ہیں ہمیں ٹوکنے اور کچوکے لگانے والی۔ کیا کسی کو ذلیل کرکے کچھ مل جاتا ہے انھیں؟ کیا دل خوش کرنے کو کوئی دوسری بات نہیں جڑتی انھیں؟ ہائے رام میں کیا کروں؟‘‘ اور وہ سسکنے لگتی۔ شنکر کے بیحد اصرار پر جب وہ ماجرا بیان کرتی تو شنکر کو یوں لگتا کہ جیسے کسی نے اس کے منہ پر زور دار طمانچہ دے مارا ہو۔ وہ اداس ہوجاتا۔ ’’میرے گھر آکر تمہاری تقدیر پھوٹ گئی شکنتلا۔‘‘ وہ روہانسا ہوکر کہتا ’’میں آج تک تمہیں کوئی خوشی نہیں دے سکا … میں … میں کتنا ابھاگی ہوں!‘‘ اس پر شکنتلا اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیتی۔ ’’ایسا کیوں سوچتے ہیں آپ۔ آپ جیسا پریم کرنے والا پتی پاکر میں نے سب کچھ پالیا۔ اب مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں۔‘‘ اس کے ہونٹوں پر بھر پور اور جاندار مسکراہٹ پاکر شنکر کے دل کا بوجھ ذرا ہلکا ہوجاتا۔ مگر وہ پھر سوچتا۔ کیسا ظلم ہے یہ ؟ شکنتلا کے پاس ایک بھی اچھی ساڑی نہیں۔ اس کی کلائیوں میں کنگن نہیں۔ اس کی سفید گردن خالی ہے۔ اور کچھ نہیں تم کم سے کم ایک ہلکا سے نیکلس ہی ہوتا۔ اور یہ نیکلس شکنتلا کی زندگی کی سب سے بڑی تمنا اور شنکر کی شب و روز کی کوششوں کا حاصل بن کر رہ گیا تھا۔ مگر یہ تمنا اور یہ کوششیں ہنوز تشنہ کام تھیں۔ شنکر اپنی سی تمام کوششیں کرچکا تھا۔ اس نے دفتر سے کچھ رقم پیشگی لینے کی سرتوڑ کوشش کی، دوستوں سے قرض لینا چاہا مگر سب بے سود-جگدیش- اس کا لنگوٹیہ یار جس پر شنکر کے بڑے احسانات تھے، مگر امید کا یہ آخری چراغ بھی بجھ گیا، اس نے صاف جواب دے دیا کہ میرے پاس دینے کو کچھ نہیں۔ یہی وہ دوست تھا جو کہتا تھا کہ تمہارے لیے جان بھی حاضر ہے شنکر۔ جب چاہو آزمالینا… ہونہہ… فریبی… مکار… دنیا میں ہر آدمی کے دو روپ ہوتے ہیں۔ ایک باہر کاایک اندر کا۔ اور اسی سوچ بچار کے تانے بانے میں الجھ کر شنکر نے وہ ساری رات کاٹ دی۔ صبح دفتر جاتے وقت شنکر نے جب شکنتلا کے چہرہ پر الوداعی نگاہ ڈالی، تو وہاں بڑی مایوسی اور ناامیدی پائی۔ شنکر مرجھاسا گیا۔ جاتے جاتے اس نے شکنتلا سے کہا ’’میں آج شام کو ضرور تمہارے نیکلس لاؤں گا۔‘‘ اور اس پر شکنتلا حسب معمول مسکرادی، اس کی آج کی مسکراہٹ میں کس قدر گہرا طنز پوشیدہ تھا، جیسے کہہ رہی ہو ’’ایسے ایسے وعدے تو تم ایک ہزار اور ایک کرچکے ہو۔ اچھا جاؤ خدا حافظ۔ چلو آج بھی آزمالیں گے۔ شام کونسی دور ہے۔‘‘
شام کونسی دور ہے! وقت گذرتے دیر نہیں لگتی۔ دھوپ پھیکی پڑی اور شام آئی۔ جب سائے گہرے ہونے لگیں، اور چڑیوں اور پنکھ پکھیروؤں کے غول بسیرے کے لیے اپنے اپنے ٹھکانوں کی طرف جاتے ہوئے نظر آئیں تو سمجھو کہ شام ہوگئی۔ اور آج بھی شام ہوہی گئی۔
شکنتلا کام کاج سے فارغ ہوکر اور اشنان کرکے بال سکھانے کے لیے کھڑکی میں آکھڑی ہوئی تھی اور نیچے سڑک پر آنے جانے والوں کو دیکھ رہی تھی کہ اسے ایک موٹر رکشا تیزی سے اسی جانب آتا نظر آیا جو تین منزلہ بلڈنگ کے نیچے کے دروازہ پر آکر ٹھہر گیا۔ رکشا میں سے شنکر اترا، اس نے رکشا والے کو پیسے دئیے، اور بھاگتاہوا زینے پر چڑھنے لگا۔ یہ آج جلدی آگئے، خیر تو ہے؟ شکنتلا سوچنے لگی۔ دروازہ زور سے پیٹا جارہا تھا۔ شکنتلا نے لپک کر دروازے کے پٹ کھول دئیے۔ یہ شنکر تھا۔ مگر کچھ گھبرایا ہوا۔ اس کا سانس پھول رہا تھا۔ اور ماتھے پر پسینہ کی بوندیں چمک رہی تھیں، اندر آکر اس نے دروازہ بند کردیا اور شکنتلا کا ہاتھ پکڑ کر اسے کھینچتا ہوا کمرہ میں لے آیا۔’’کیا بات ہے؟‘‘ شکنتلا حیرانی سے اسے تک رہی تھی۔
’’تم یہاں بیٹھو میرے سامنے!‘‘ شنکر نے شکنتلا کو دھکا دیکر صوفہ پر گرادیا۔ اور بغل میں تھمے ہوئے بنڈل کو نکال کر سامنے میز پر رکھ دیا۔ یہ اخبار کے کاغذ میں لپٹا ہوا تھا۔ ’’کیا لے آئے ہو یہ؟‘‘ شکنتلا ابھی تک سٹپٹائی ہوئی تھی۔
شنکر نے جلدی جلدی کاغذ اتارا، اندر سے ایک مخملی بکس برآمد ہوا۔ اسے کھول کر جب اس نے شکنتلا کے سامنے کیا تو وہ چیخ مار کر گزوں اوپر اچھل پڑی۔ ایک خوبصورت سونے کا نیکلس مخملی بکس میں رکھا ہوا تھا۔
’’ہائے رام‘‘ وہ خوشی سے دیوانی ہوکر ناچنے لگی۔’’اتنا اچھا نیکلس؟ کس کا ہے یہ؟‘‘
’’تمہارا ہی تو ہے شکنتلا‘‘ شنکر نے جواب دیا۔ اور پھر ہار اس کی گردن میں ڈال دیا ’’ذرا شیشہ تو دیکھو‘‘ وہ ٹکٹکی باندھ کر اسے تک رہا تھا ’’سچ کہتا ہوں اپنے کو دیکھ کر غش کھاجاؤگی۔‘‘
’’ہٹئے بھی!‘‘ وہ شرما گئی ’’مگر کس قدر شاندار ہے یہ – اُف؟‘‘ وہ آئینہ کے سامنے کھڑی ہوکر دیکھنے لگی۔ سفید گردن میں پڑا ہوا موتیوں کا ہار جھلملا جھلملا کر نظروں کو خیرہ کررہا تھا۔ ’’کتنے کا مول لیا ہے؟‘‘ وہ پوچھ بیٹھی۔
’’آٹھ ہزار کا ہے!‘‘ شنکر نے بڑے اطمینان کے ساتھ جواب دیا۔ اور آرام کرسی پر دراز ہوکر سگریٹ پینے لگا۔
’’آٹھ ہزار کا؟؟‘‘ اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ ’’اری میّا! اتنا مہنگا؟‘‘ اس کی مارے خوشی کے چیخ نکل گئی۔ ’’آپ بھی کتنے اچھے ہیں؟‘‘ اس نے شنکر کی گردن میں باہیں ڈال دیں۔ اور شنکر نے سرور میں آکر آنکھیں میچ لیں۔
’’مگر؟؟‘‘ وہ ایکا ایک چونکی ’’اتنے روپے کہاں سے آئے؟‘‘ اس غیر متوقع سوال پر شنکر چونک پڑا۔ مگر اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ وہ اپنے ناخن دانتوں سے کاٹنے لگا۔
’’اتنے روپے کا انتظام کہاں سے ہوا شنکر؟‘‘ اس کی آواز میں سخت استعجاب تھا۔ ’’کیا جگدیش نے دئیے ہیں؟‘‘ وہ پوچھ رہی تھی۔
’’نہیں!‘‘ شنکر نے جواب دیا ’’میںنے چوری کیے ہیں‘‘ وہ ہونٹوں کو بھینچتے ہوئے بولا۔
’’چوری؟‘‘ وہ اچھل پڑی۔ ’’چوری کی ہے آپ نے؟‘‘ اسے یقین نہ آرہا تھا۔ ’’آپ نے؟‘‘ وہ بار بار پوچھ رہی تھی۔
’’آپ نے؟‘‘ ’’آپ نے؟‘‘ … ’’مگر کیوں؟‘‘
’’اور کوئی دوسرا چارہ جو نہ تھا… میں نے محنت مزدوری کی…میں نے بھیک مانگی … میں نے قرض چاہا… مگر اتنی بڑی دنیا میں کوئی ایسا نہ ملا جو میری مدد کرتا… آخر میں نے چوری کی … اپنی محبوب بیوی کو ایک چھوٹی سی خوشی دینے کے لیے۔ خوشی حاصل کرنا ہر ایک کا پیدائشی حق ہے۔ یہ حق اگر ہم کو مانگنے سے نہیں ملتا تو پھر ہم اسے دوسروں کے ہاتھوں سے چھیننے پر مجبور ہیں۔ میں نے کوئی گناہ نہیں کیا… کوئی غلطی نہیں کی… اپنا حق لیا ہے … اپنا حق! … اپنا حق!‘‘ وہ کہے جارہا تھا، اور پھر اس نے اپنے سر کو دونوں ہاتھوں میں تھام لیا۔
شکنتلا بت کی طرح گم سم بنی اس کے سامنے کھڑی تھی۔ یوں لگ رہا تھا جیسے کسی نے اس کی جان سلب کرلی ہو۔
’’مگر چوری کرنا پاپ ہے ، مہا پاپ‘‘ وہ شنکر کے قریب بیٹھتے ہوئے آہستہ سے بولی۔
’’پاپ؟… ہونہہ‘‘ وہ حقارت سے مسکرایا ’’پاپ کوئی چیز نہیں پگلی!‘‘ غریبوں اور لاچاروں کو لوٹنے کھسوٹنے اور برباد کرنے کے لیے دھنوانوں نے پاپ اور پن جیسے نام گھڑلیے ہیں۔ ایک کام اگر وہ کریں تو پن ہے۔ وہی اگر ہم کرتے ہیں پاپ۔ ہونہہ دنیا کا سب سے بڑا دھوکہ! بڑے آدمی خود ساری زندگی چوری کرتے ہیں۔ بڑے بڑے ڈاکے مارتے ہیں۔ پھر بھی وہ اچھے کے اچھے رہتے ہیں۔ موٹروں میں گھومتے ہیں، عیش کرتے ہیں، عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ مگر ہم غریب اگر اپنا حق بھی لیں تو چور کہلاتے ہیں۔ غریبوں کا خون چوسنا اور دولت بٹور بٹور کر تجوریاں بھرنا، کیا یہ چوری نہیں؟ یہ سب سے بڑی چوری ہے! یہ سب چور ہیں … بڑی بڑی کوٹھیوں والے …موٹروں والے … بیویوں کو سنہری ساڑیاں بندھوانے والے … سب چور ہیں… سب چور ہیں۔‘‘ اس نے ایک قہقہہ لگایا اور پھر ایک دم چپ ہوگیا۔
’’یہ آپ کو کیا ہوگیا ہے… آج آپ کیسی باتیں کررہے ہیں؟‘‘ شکنتلا سخت گھبراگئی۔ ’’آپ تو کہا کرتے تھے کہ ہر آدمی اپنے کیے دھرے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ آپ تو کہا کرتے تھے کہ اگر کوئی برا کام بہت سے آدمی مل کر کرنے لگ جائیں تو وہ اس لیے اچھا نہیں ہوجاتا کہ بہت سے آدمی اسے کررہے ہیں … آپ تو کہا کرتے تھے کہ چاہے کچھ ہوجائے برا برا ہی رہتا ہے اور اچھا چھا ہی ہوگا۔ آپ تو کہا کرتے تھے کہ انسان کے اندر ایک ایسی چیز موجود ہے جو اسے برا کام کرنے پر لعن طعن کرتی ہے اور اچھا کام کرنے پر سچی خوشی دیتی ہے۔ آپ تو کہا کرتے تھے کہ ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں اس کا ہمیں ایک دن جواب دینا ہوگا۔ آپ تو کہا کرتے تھے کہ …… ‘‘ شکنتلا کہے جارہی تھی کہ شنکر چیخ پڑا۔ ’’بس بس شکنتلا … اور کچھ مت کہو‘‘ اس کے چہرہ سے وحشت برس رہی تھی۔ ’’میں یہ سب کچھ ضرور کہتا تھا مگر حالات نے بتایا کہ یہ غلط تھا ۔ یہ سب پنڈتوں کی من گھڑت باتیں ہیں اور کچھ نہیں۔ میں نے رات رات بھر جاگ کر ان باتوں پر سوچا ہے اور اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہاں مانگے سے کچھ نہیں ملتا … چھیننا پڑتا ہے … اگر ہم چھین سکتے ہیں تو زندہ رہنے کے حقدار ہیں ورنہ نہیں … ‘‘ شنکر یہ سب کچھ کہہ رہا تھا مگر یوں لگتا تھا کہ وہ سخت اذیت میں مبتلا ہو۔ وہ دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کو تھامے ہوئے تھا۔
’’ایسا نہ کہیے‘‘ شکنتلا نے اس کا سر دباتے ہوئے کہا ’’میں آپ کے دل کی بات کو خوب سمجھتی ہوں۔ مجھے معلوم ہے کہ آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ آپ کے دل کی آواز نہیں اور ایسا کہتے ہوئے آپ کو تکلیف ہوتی ہے۔ حد سے بڑھی ہوئی مایوسی نے آپ سے پاپ کا ایک کام کرادیا ہے، جسے کرلینے کے بعد اب آپ پاپ کو پاپ کہنے پر راضی نہیں۔ دنیا کی بے وفائی اور زندگی میں قدم قدم پر ملنے والی ناکامیوں نے آپ کا دل توڑ دیا ہے۔ آپ کے وشواس کو ڈانواڈول کردیا ہے، جس کے بعد اب آپ کو دنیا کی کسی بھی چیز پر یقین نہیں رہا ہے۔ مگر یہ کوئی صحیح طریقے نہیں ہے بچارنے کا۔ یہ آپ کے تھکے ہوئے دماغ اور چورا چور ہوجانے والی امنگوں کی آواز ہے۔ آپ کی آواز نہیں، آپ کے من کی آواز نہیں۔‘‘ شکنتلا کہے جارہی تھی ’’میری بات مانئے، یہ ہار آپ نے جہاں سے بھی چوری کیا ہے۔ وہاں واپس چھوڑ آئیے، میں اسے ایک منٹ بھی گلے میں پہننے کو تیار نہیں۔ یہ میرے لیے سانپ بچھوؤں سے بھری پٹاری ہے۔ جائیے جائیے۔ ‘‘ اور شنکر کو تذبذب کی حالت میں پاکر وہ پھر گویا ہوئی ’’کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس ہار کی صورت میں آپ میرے لیے خوشی خرید کر لائے ہیں؟ نہیں … کبھی نہیں … یہ چوری کا ہار مجھے خوشی نہیں دے سکتا۔ سانپ بچھوؤں کو گلے میں لپیٹ کر کون خوش ہوگا؟ میری اصلی خوشی تو آپ پیں۔ آپ کی سچی محبت ہے۔ آپ نے آج جو کام کیا ہے اس سے مجھے آپ کی بے پناہ محبت اور اتھاہ پریم کا پورا پتہ مل گیا ہے۔ اور یہی میرے لیے بہت بڑی خوشی کی بات ہے۔ میں آپ کے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں۔ پرماتما کے لیے اسے جلد واپس پھینک آئیے۔ یہ جہاں سے آیا تھا وہیں پہنچا دیجئے۔ اگر بھگوان نہ کرے، یہ چوری کھل گئی اور پولیس میں رپورٹ ہوگئی تو آپ کی خیر نہیں۔ وہ آپ کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈال کر لے جائیں گے۔ آپ یہ ہار نہیں لائے ہیں ہتھکڑیاں لے آئے ہیں۔ ان ہتھکڑیوں کو میرے گلے سے نکال لیجئے۔ میں آپ کے پاؤں پڑتی ہوں۔ منت کرتی ہوں۔ کیا آپ میری بنتی نہیں سنیں گے؟‘‘ اور اتنا کہہ کر اس نے وہ ہار اسی مخملی ڈبہ میں بند کرکے شنکر کے ہاتھوں میں دے دیا۔ ’’جائیے، جلدی جائیے، دیر نہ کیجیے۔‘‘ اس نے شنکر باہر کی طرف دھکیلتے ہوئے کہا ’’جائیے نا! یہ کہہ کر اس نے شنکر کو دروازہ کے باہر دھکا دے دیا، اور پھر اتنے زور سے دروازہ بند کیا کہ شنکر کو دل میں سوچنا پڑا کہ ’’بڑی کرخت آواز نکالنے لگے ہیں یہ دروازے بھی۔ ان کی چولوں میں تیل دینے کی ضرورت ہے۔‘‘

شیئر کیجیے
Default image
رفیع الدین منیرؔ