5

پتھر دلوں کی عید!

کلکتہ سے دور ایک چھوٹا سا گاؤں تھا۔ یہاں کی زمین کافی زرخیز تھی، زمین کیا تھا ، بس سونا۔ غلہ وافر مقدار میں اگتا، ہرے بھرے کھیت ہر وقت لہلاتے رہتے، پرندے ہر وقت چہچہاتے اور کوئل کی غم میں ڈوبی ہوئی آواز فضا میں موسیقی پیدا کرتی تھی۔ جھرنوں کا ترنم گاؤں کو ایک لازوال حسن کی دولت بخش رہا تھا۔ بالکل ایسا معلوم ہوتا جیسے جنت کا ایک گوشہ زمین پر لاکر رکھ دیا گیا ہو۔
تین چار نیم کے درختوں کے درمیان ایک بانس کی بنی ہوئی جھونپڑی تھی۔ بانس کی دیواروں پر چکنی مٹی کا لیپ اگر چہ سادہ تھا لیکن اس کی خوبصورتی میں اضافہ کررہا تھا۔ پورا آنگن صاف ستھرا تھا، کمرے کی دیواروں پر سفیدی خوبصورتی سے کی گئی تھی۔ مکان میں ترتیب اور سلیقہ جگہ جگہ صاحب خانہ کی شائستگی اور نفاست کا پتہ دے رہا تھا۔
امداد کے والدین بالکل غریب تو نہ تھے مگر متوسط بھی نہیں تھے۔ البتہ جب کھیتی امداد کے ہاتھ میںآئی تو وہ اسے جوا، شراب کی عادت اور کاہلی کی وجہ سے کھوبیٹھا اب تو ان کے پاس ایک جھونپڑی کے علاوہ کچھ نہ تھا۔ کفالت کا ذریعہ تو صرف وہ زمین ہی تھی جو اس کی بری عادتوں کی نذر ہوچکی تھی لیکن اس کے باوجود وہ دکھی نہ تھے۔ حنفیہ جوانی ہی سے اپنے شوہر کی عادت اور آوارگی کو برداشت کرنا سیکھ چکی تھی۔ وہ کسی نہ کسی طرح کھانا ضرور تیار کرلیتی۔ بھلا مُٹھی بھر چاول کے لیے بھی کوئی منع کرتا ہے؟ اور ان کی جھونپڑی کے پیچھے جو تالاب تھا، اس کی مچھلی- بس غریبوں کو اور کیا چاہیے…… حنفیہ پڑوس میں سے چاول مانگ لاتی اور اسے دینے سے کوئی انکار بھی نہ کرتا اور حنفیہ بھی وہ احسان اپنے اوپر نہ رکھتی وہ پڑوسنوں کے کام میں ان کا ہاتھ بٹاتی۔
امداد کی تو پوری زندگی ہی شراب میں گزرچکی تھی۔ اسے گھر بات کی قطعاً پرواہ نہ تھی اس کے اندر کچھ خوبیاں بھی تھیں لیکن اس کی آوارگی کی وجہ سے پروان نہ چڑھ سکیں اور وہ اس کی شخصیت میں دب کر رہ گئیں۔ وہ اپنا وقت زیادہ تر مَے خانے میں گزارتا اور کافی رات گئے گھر آکر چلاتا۔
’’حنیفہ‘‘
’’جی‘‘ اندر سے فوراً جواب ملتا۔
اندر آکر پوچھتا ’’کیا ابھی تک جاگ رہی تھی تو؟‘‘
حنیفہ سر جھکا کر کہتی ’’جی‘‘
وہ اکثر امداد پر بری عادات کے مضر اثرات واضح کرتی۔ اسے رسول اکرم ﷺ کی احادیث سناتی۔ وہ اکثر ندامت اور خفت کے ملے جلے جذبات کے ساتھ کہتا ’’حنفیہ میں تمہیں کتنا دکھ دیتا ہوں خدا مجھ سے شراب نوشی چھڑادے تو تمہارے تمام دکھ دور کردوں گا۔‘‘
حنیفہ صرف اتنا کہتی : ’’انشاء اللہ سب اچھا ہوجائے گا۔‘‘
اس طرح ان دونوں کی زندگی گزررہی تھی۔ امداد کو یہ پتہ بھی نہ چلا کہ حنیفہ اس کا پیٹ بھرنے کے لیے کیا کیا تکلیفیں اٹھاتی ہے۔
اور آخر کا زندگی کی وہ شام بھی آپہنچی جب شباب و حسن کے نقوش بڑھاپے کی جھرّیوں میں ایسے معدوم ہوجاتے ہیں جیسے سورج کی روشنی کو رات کی تاریکی اپنے اندر ڈھانپ لیتی ہے۔
حنیفہ ’’ساری زندگی یونہی گزرگئی۔‘‘ ایک دن شام کے جھٹ پٹے میں امداد نے حنیفہ سے کہا۔
نیم کے درختوں پر ایک سایہ دار شاخ پر کبوتروں کا گھونسلہ تھا۔ حنیفہ کھانا کھاکر اس درخت کے نیچے چند بچے ہوئے دانے ڈالتی اور پانی بھی رکھ دیتی۔ کبوتر روزانہ اس سے اپنا پیٹ بھرتے وہ دانہ جگ جاتے اور پانی پی جاتے۔ حنفیہ کو بھی انھیں دیکھے بغیر چین نہیں آتا تھا۔ کبوتر اس سے بالکل ہل گئے تھے وہ اس سے ذرا بھی نہ ڈرتے۔ دوپہر کو وہ ڈالی پر بیٹھ کر غٹرغوں… غٹرغوں کرتے حنفیہ بھی نیچے چھاؤں میں کچھ بچھا کر بیٹھ جاتی اور کبھی کبھی وہ ان سے باتیں بھی کرتی۔
’’اچھا ذرا یہ بتاؤ کہ ہم کبھی سکھی بھی ہوں گے؟‘‘ وہ ان سے پوچھتی۔
’’غٹرغوں… غٹرغوں‘‘
اچھا اچھا ’’اللہ ہمارے یہاں کوئی اولاد بھی دے گا یا نہیں۔‘‘
’’غٹرغوں… غٹرغوں‘‘
حنیفہ دل ہی دل میں مسکرادیتی اور برسوں سے خالی پڑے ہوئے مرغیو ںکے ڈربے کی طرف دیکھتی اور کہتی
’’ہم جب خوش ہوں گے تو یہاں پر مرغیاں رکھیں گے۔ اہا ہا…ہا…ہا۔‘‘
’’غٹرغوں… غٹرغوں‘‘
’’تم ہنستے ہو ‘‘ وہ چڑ کر کہتی۔
’’غٹرغوں… غٹرغوں‘‘
اور وہ ہنس پڑتی۔
دوسری عالم گیر جنگ کی لپیٹ میں بنگال بھی بالآخر آہی گیا اور یہ جنگ کوئی قدیم طرز کی جنگ تو نہ تھی۔ بلکہ یہ تو بیسویں صدی کی جدید جنگ تھی۔ اس جنگ کے مہیب سائے تمام دنیا پر منڈلارہے تھے اور اس سے ہر شخص متاثر تھا چاہے وہ جنگ سے کتنی ہی نفرت کیوں نہ کرتا ہو اور پھر جنگ کے موقعہ پر سرمایہ داروں کو تو سنہری موقع مل جاتا ہے۔ وہ تو ویسے ہی غریبوں کے خون کے پیاسے ہوتے ہیں اور جنگ کے دنوں میں ان کی یہ پیاس اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ تمام چیزوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں۔ بنگال بھی گرانی کی زد سے محفوظ نہ رہ سکا۔ آخر ظالم سرمایہ دار بنگال کو اس سے کیوں محفوظ رکھتے؟ لوگ کھانے کے بعد بچے ہوئے چاول پھینک دیا کرتے تھے، اب ان میں بھی بچت ہونے لگی۔
بنگال کی لہلہاتی سرزمین کا اناج سرمایہ داروں کے تہہ خانوں میں پہنچ چکا تھا۔
حنیفہ کو اب تک جو تھوڑا بہت چاول مل جایا کرتا تھا وہ بھی اب نہیں ملتا تھا۔ بے حد دکھ پہنچا۔ کیا اللہ تعالیٰ مٹھی بھر چاول نہیں دے گا؟ یا رحیم! اس کے دل سے آہ نکلی…… اور کچھ دنوں کے بعد تو وہ کبوتر بھی چلے گئے کیا ان کو بھی اناج کی کمی محسوس ہوئی ہوگی؟ اب حنیفہ جب بھی سایہ دار درخت کے نیچے بیٹھتی تو اسے غٹرغوں کرنے والے کبوتر نہ دِکھتے۔ غم کی ایک دھند سی ان کے ذہن پر چھاگئی اور اس کی آنکھیں چھلک پڑیں۔
ایک رات حنیفہ نے امداد سے کہا: ’’اب تو سب کچھ بک گیا کل کھانے کا کیا ہوگا؟‘‘
’’کھانے کے لیے کچھ نہیں؟‘‘ اترتے ہوئے نشہ میں امداد بولا۔
چند لمحات کے لیے ماحول پر ایک خاموشی طاری ہوگئی۔
’’ایک بات کہوں؟‘‘ حنیفہ نے سکوت توڑا۔
’’ہاں، کہو‘‘
’’میرا دل اب اس جگہ نہیں لگتا۔‘‘ اسے اس کے کبوتر یاد آ رہے تھے۔
’’اچھا‘‘
’’یہ جگہ چھوڑ کر ہم کہیں اور جائیں تو؟‘‘
’’لیکن کہاں‘‘
’’کہاں؟‘‘ ہاں … غریب آخر جا بھی کہاں سکتا ہے؟
پھر خاموشی چھاگئی۔
’’ارے یہاں‘‘ امداد کچھ وقفہ کے بعد کہا ’’کیوں نہ کلکتہ چلیں۔‘‘ یہ کہتے ہوئے اس کی آنکھوں میں ایک غیر معمولی چمک پیدا ہوگئی۔
’’اچھا‘‘ حنیفہ نے سرجھکاکر جواب دیا۔
ایک بار پھر سکوت چھاگیا۔
’’لیکن‘‘ ……… حنیفہ کے ذہن کے ایک گوشہ سے سوال ابھرا۔
’’لیکن کیا‘‘ امداد نے کہا۔
’’وہاں کھائیں گے کیا؟‘‘
’’کیوں؟ میں کام کروں گا، پیسے آئیں گے اور ہم چین سے زندگی بسر کریں گے۔‘‘
حنیفہ نے آسمان کی طرف دیکھا اور ایک گہری سانس لی۔
امداد اور حنیفہ امید کے بڑے بڑے قلعے تعمیر کررہے تھے۔ انھیں امید تھی کہ ہم چین کی زندگی بسر کریں گے۔ امداد کو یقین تھا کہ کلکتہ جیسے بڑے شہر میں ایک آدمی کو نوکری تو ضرور مل جائے گی۔ انھیں توقع تھی کہ آئندہ رمضان اور عید مزہ سے گزرے گی۔
مگر ……… انھیں کیا خبر کہ
کلکتہ کے عالیشان مکانات غریبوں کے لیے نہ تھے …… کلکتہ میں تاجروں کا جمع کیا ہوا اناج کا ذخیرہ غریبوں کے لیے نہ تھا۔
کلکتہ کے ہزاروں ہوٹل، دولت کے بغیر یتیم لوگوں کے لیے تو نہ تھے…… اور کلکتہ میں ایک شرابی جواری اور کاہل آدمی کے لیے تو کوئی کام بھی نہ تھا۔
’’یا اللہ‘‘ شام کو بھوک سے نڈھال امداد آتے ہی بولا ’’کھانا تیار ہے؟‘‘
حنیفہ چپ رہی
’’کیوں؟‘‘
’’کچھ نہیں‘‘
’’کیا کچھ بھی نہیں‘‘
’’چاول نہیں ہیں، روپے نہیں ہیں‘‘ حنیفہ کی آواز بھرائی ہوئی تھی۔
اچھا کہہ کر اس نے پانی پی لیا۔
بغیر مکان کے کلکتہ میں رہنا آسان بات نہ تھی اور امداد حنیفہ کے پاس تو کچھ بھی نہ تھا۔ چاول ۳۵ تا ۴۰ روپے من! ایک سیر چاول ایک دن کے لیے بھی ایک روپیہ چاہیے اور ……… ان کے پاس تو روپیہ نہ تھا ’’کیا کریں؟‘‘ حنیفہ نے جواب دیا۔
حنیفہ …… وہ چیخا۔ ’’مانگنا ذلت اور رسوائی ہے۔ ایسی حیات سے تو موت ہی بہتر ہے۔ ایک مدت کے بعد اس کے اندر سویاہوا انسان جاگ اٹھا۔
ایک دن اور فاقہ سے گزرا۔ امداد کہیں سے زمین پر پڑتے ہوئے چاول کے دانے لے آیا اور دونوں نے اسے کھاکر جہنم کی آگ بجھائی۔
×-×-×-×-×-×
حنیفہ ’’اب تو برداشت نہیں ہوتا۔ ماہ رمضان ہے۔ افطار کے لیے کچھ تو چاہیے؟‘‘
’’یہاں‘‘
’’تو؟‘‘
حنیفہ کیا جواب دیتی؟
’’اچھا کسی تاجر کی دوکان سے چوری کروں؟ پھر کھانے کی فکر نہیں ہوگی‘‘ امداد بولا۔
’’ارے یہ کیا کہہ رہے ہو امداد؟ رمضان کے مقدس مہینے میں چوری؟ اگر اللہ کی یہی مرضی ہے کہ ہم زندگی فاقہ سے ہی قربان کردیں تو ہم سر تسلیم خم کرتے ہیں۔ لیکن مذہب اور سچائی کا راستہ ہرگز نہیں چھوڑیں گے۔‘‘ …… حنیفہ نے جواب دیا۔
’’اچھا‘‘
اور اس نے مغرب کی نماز کی تیاری کی۔
رات کے وقت دونوں ہوٹل کے عقبی دروازہ کی طرف گئے شاید کچھ جھوٹا کھانا مل جائے، لیکن ایسا کھانا تو کوڑے کرکٹ میں مل جاتا ہے۔ اور اگر روڈ پر بھی پھینکا جاتا تو باہر کھڑے ہوئی بھکاری اس پر کتے کی طرح ٹوٹ پڑتے۔
’’چلو حنیفہ واپس چلو‘‘ تمام بھکاری بھوک سے مررہے ہیں انھیں لوٹ لینے دو۔
امداد اس منظر کے تصور سے ہی کانپ گیا۔
دونوں خاموشی سے آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے ہوئے ایک طرف چلے۔ ہوٹل سے باہر موٹے تازے آدمی چمکتی ہوئی کاروں سے اترتے ہوئے ہوٹل میں داخل ہوتے۔ بعض ڈکار لیتے ہوئے باہر نکلتے۔ تمام بھکاریوں کی حسرت بھری نگاہیں ان کی طرف اٹھ جاتیں لیکن…… وہ ان بھکاریوں کو اپنے کتوں سے زیادہ اہمیت نہ دیتے…… اور اگر ان کی گفتگو میں ان کا ذکر کسی طرح نکل آتا تو وہ اس سے ایسے گریز کرتے جیسے انھیں کسی نے موٹی گالی دی ہو۔
’’ان لوگوں کو کھانے کے لیے کہاں سے ملتا ہے؟‘‘ حنیفہ تعجب سے ان کی طرف دیکھ رہی تھی۔
’’ان کے پاس دولت ہے، یہ سرمایہ دار ہیں غریبوں کے خون سے چوسا ہوا سرمایہ ان کے پاس جمع ہے۔ انھیں ہم جیسے غریبوں سے کوئی واسطہ نہیں، کوئی بھوکا مرے تو مرے ان کی بلا سے۔‘‘ امداد نے جواب دیا۔
حنیفہ نے ایک ٹھنڈی سانس لی اور اس کی آنکھیں پرنم ہوگئیں۔
ہوٹل کے باہر ہی ایک شخص شرابی کی طرح لڑکھڑاتا جارہا تھا۔ دونوں اس کی جانب رکھ رہے تھے۔ اچانک اسے قے ہوئی اور وہ فٹ پاتھ پر گرگیا…… اسے تھوڑی دیر میں لوگ اٹھا کر لے گئے۔
ایک بھکاری اس کی قے کے آدھے کچے اور آدھے پکے چاول کے دانے اٹھارہا تھا۔ دونوں اس کی طرف گئے۔
ان دونوں کو آتا دیکھ کر ایک بھکاری نے آنکھیں نکالیں اور کہا ’’یہ میرا حصہ ہے، میں تمھیں نہیں دوں گا۔‘‘
’’نہیں نہیں ہم نہیں لیں گے لیکن تم اسے کیا کروگے؟‘‘
’’کیوں؟ دھوکے کھاؤں گا… کتنا دردناک تھا یہ منظر…… یا رحیم‘‘ حنیفہ کہہ اٹھی۔
اور دونوں دکھی دل لے کر وہاں سے چل دئیے۔
اب تو دونوں میں قوت بھی ختم ہوچکی تھی۔ پانی سے آخر کہاں تک گزارا ہوسکتا ہے۔ ان کے لیے دن کو بھی روزہ اور رات کو بھی روزہ تھا۔
آخررمضان عید کا آفتاب بھی طلوع ہوا۔ چمکتی کاریں دوڑ رہی تھیں۔ بے شمار لوگ ململ کے کرتے، گرم یا ساٹن کی شیروانی پہنے دوست برادروں کو عید مبارک کہہ رہے تھے۔ ایسا معلوم ہورہا تھا گویا پورا کلکتہ خوشیاں منا رہا تھا۔
لیکن دو انسان بھوکے پیاسے بیٹھے تھے۔ دونوں کے جسم پر چمڑی کے علاوہ کچھ بھی نہیں بچا تھا۔ دونوں میں چلنے کی بھی قوت نہ تھی۔ دونوں باغ کے ایک کونے میں گر گئے اور خوشیاں مناتے ہوئے لوگوں کو حسرت بھی نگاہوں سے دیکھنے لگے۔
’’حنیفہ‘‘
’’جی‘‘
’’آج تو عید ہے۔‘‘
’’ہاں‘‘
’’اللہ تعالیٰ کو ہماری ایسی ہی عید منظور ہوگی۔‘‘
’’ان لوگوں کے پاس اتنی دولت ہے ہمارے پاس کیوں نہیں۔‘‘ حنیفہ نے کہا۔
’’ہم غریب ہیں‘‘
لیکن دنیا میں تو کثیر دولت ہے۔ بہترین قسم کے کھانے ہیں۔ پھر بھی ہم ……؟ اس کا گلا رندھ گیا اور وہ روپڑی۔
’’حنیفہ میری حنیفہ‘‘ امداد نے کہا ’’اللہ کی جو مرضی‘‘
’’یا اللہ ! کیا ہم غریبوں کی آواز تم نہیں سنوگے؟‘‘ اور ٹوٹے ہوئے دلوں سے آہ نکلی۔
شام ڈھل رہی تھی۔ سورج کی آخری کرنیں الوداع کہہ رہی تھیں۔ دونوں میں ہاتھ ہلانے کی قوت باقی نہ تھی۔ پورے شہر میں رونق تھی، سینما، تھیڑوں کی بتیاں جگمگارہی تھیں اور سینکڑوں لوگ نہایت جوش و خروش سے ان تھیٹروں کی جانب رواں تھے۔
لیکن یہاں جوشِ زندگی اور شوخی ان سے کب کی رخصت ہوچکی تھی۔ دونوں ایک دوسرے کو تک رہے تھے۔ دونوں اپنی آنکھوں کے سامنے موت کو کھیلتا ہوا دیکھ رہے تھے۔
’’مغرب ہوگئی‘‘ امداد بڑی مشکل سے بولا۔
’’جی؟‘‘ حنیفہ کے ہونٹوں میں جنبش ہوئی۔
رفتہ رفتہ تارکی کے سیاہ بادل کلکتہ پر چھانے لگے دونوں بار بار بے ہوش ہوتے اور ہوش میں آتے۔
’’حنیفہ‘‘ امداد کی آنکھوں میں درد کے سائے تیررہے تھے۔
’’جی‘‘
’’غم نہ کرو۔ اللہ کی یہی مرضی ہوگی۔‘‘ خدا……! حنیفہ …… خدا …… حافظ ……‘‘ امداد بے جان ہوچکا تھا …… دور کسی مسجد سے ’’اللہ اکبر‘‘ کی پرسوز آواز فضا میں گونج رہی تھی۔
’’سنا؟‘‘ حنیفہ کی آواز مدھم ہوچکی تھی لیکن کوئی جواب نہ ملا۔
’’سنا؟‘‘ اس نے زور سے بولنے کی کوشش کی اور اس کی آنکھوں کے سامنے تاریکی چھاگئی اور …… وہ بھی بے جان ہوگئی……۔
اذان کی آواز ابھی تک فضا میں گونج رہی تھی…… حی علی الفلاح… حی علی الفلاح۔ آؤ بھلائی کی طرف آؤ بھلائی کی طرف۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے یہ آواز سوئی ہوئی انسانیت کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر بیدار کررہی ہو! (ماخوذ)

شیئر کیجیے
Default image
ماخوذ