3

معیار

معیارِ زندگی، معیارِ عقل، معیار تعلیم، سیکڑوں الفاظ کے پہلے لفظ’’معیار‘‘ استعمال کیا جاتا ہے۔ اور اس کو ہر حالت میں اپنے سامنے رکھا جاتا ہے۔ قوم کے اتنے نوجوان بیکار، بے روزگار پھر رہے ہیں۔ اس لیے نہیں کہ انھیں کوئی کام نہیں مل رہا ہے۔ بلکہ صرف اس لیے کہ وہ جس معیار کا کام پسند کرتے ہیں، انھیں وہ نہیں مل رہا۔ اور وہ اپنے معیار کو چھوڑنے سے مرجانا بہتر سمجھتے ہیں۔ بیکاری کی وجہ سے گھروالوں کے جوتے اور باہر والوں کے طعن تشنیع سب کچھ گوارا کرسکتے ہیں۔ لیکن نہیں گوارا کرسکتے تو اپنے پسندیدہ معیار سے گھٹیا کام۔ ان میں سے اگر کوئی نوجوان کہیں مزدوری کرلے، کسی اسٹیشن پر قلی ہوجائے یا پھیری لگا کر روزی کمانے لگے تو اس کے بھائی بند اس کے پیشہ کو یوں چھپاتے ہیں جیسے کسی عیب کو چھپایا جاتا ہے کیونکہ اس کے معیار سے فروتر پیشہ نے اس کے خاندان کو داغ لگادیا۔
جو لوگ برسرِ روزگار ہیں، وہ اپنے معیارِ زندگی یعنی کھانے پینے اور میل ملاقات کے ایک خاص اسٹنڈرڈ کو برقرار رکھنے کی خاطر بڑی بڑی مشقتیں اٹھاتے ہیں۔ یہ شبینہ کلاسیں، یہ دفتروں کے اوور ٹائم اور یہ نائٹ ڈیوٹیاں اسی چیز کی علامت ہیں کہ کچھ لوگ اپنا آرام اور اپنی نیند حرام کرکے بھی اچھا کھانا پہننا پسند کرتے ہیں۔ بھلا جو شخص گوشت کھانے کا عادی ہے وہ دال کیسے کھانے لگے؟ اور جو شخص عمدہ اور بڑھیا لباس پہن چکا ہو وہ معمولی لباس میں لوگوں کے سامنے کیے آئے؟ اور جس گھر میں چار چار نوکر کام کرنے کو رہ چکے ہوں، اس گھر کے افراد اپنے ہاتھ سے کس طرح کام کریں؟ خود کام کرنے سے خواہ جسم کو کوئی تکلیف نہ پہنچے لیکن وقار ضرور زخمی ہوتا ہے، کہ پہلے اتنے نوکر تھے اور اب خود کام کرنا پڑا۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اپنا معیار زندگی برقرار رکھنے کی خاطر حد سے زیادہ محنت کرتے، یا پھر قرض لینا شروع کردیتے ہیں اور یہ ان کی صحت، ان کا اطمینان اور بسا اوقات ان کا ایمان بھی برباد کردیتا ہے۔
جو لوگ کچھ دلیر قسم کے ہیں اور اپنا معیارِ زندگی بحال رکھنا چاہتے ہیں وہ چوری، ڈاکہ، رشوت، غبن ہر قسم کے جرم کا ارتکاب کر گذرتے ہیں اور بسا اوقات اس کی سزا جیل اور جرمانہ وغیرہ کی صورت میں پاتے ہیں۔ لیکن اپنا معیارِ رہن سہن نہیں بدل سکتے۔ بالفاظ دیگر وہ جان پر کھیل سکتے ہیں لیکن اپنا معیار زندگی نہیں بدل سکتے۔
یہ معیار اپنی شان، سب سے زیادہ رشتہ ناطہ اور شادی بیاہ کے موقع پر دیکھا جاتا ہے۔ دو طرفہ یہی خواہش نظر آتی ہے کہ خاندان ہو تو معیاری، شکل وصورت ہو تو معیاری، تعلیم و تربیت ہو تو معیاری، رہن سہن ہو تو معیاری، الغرض اتنے معیار جمع کرلیے جاتے ہیں کہ ان کی موجودگی میں کوئی بات طے ہونی بیحد مشکل ہوجاتی ہے۔ لڑکے لڑکیاں بوڑھے ہوجائیں تو کوئی حرج نہیں، بیمار ہوجائیں تو کچھ پرواہ نہیں اور بد کردار ہوتے ہیں تو ہوا کریں، لیکن اس معیار کو کسی طرح نظر انداز نہیں کیا جاسکتا جو ان کے سرپرستوں یا انھوں نے خود مقر کرلیا ہے۔
افسوس کہ آج کل کا انسان جو عام معاملات میں ہر وقت ’’معیار معیار‘‘ کا ڈھول پیٹتا ہے، اس کے لیے طرح طرح کی قربانیاں دیتا اور محنت مشقت اٹھاتا ہے، طعن و تشنیع گوارا کرتا ہے، حتی کے سزا بھی پاتا ہے وہی انسان ایمان و اخلاق کی دنیا میں بالکل مختلف نظر آتا ہے۔ یہاں اس کے ہاتھ میں کوئی پیمانہ نہیں جس پر اپنے آپ کو جانچ پرکھ سکے، کہ وہ کہاں سے کہاس پہنچا؟ … وہ چند پیسوں کی خاطر جھوٹ بول سکتا ہے، دھوکہ دے سکتا ہے، وعدہ بھُلا سکتا ہے، حتی کہ چوری کرسکتا ہے، دوسروں کا حق مار سکتا ہے اور پھر بھی اپنے تئیں عزت دار سمجھتا ہے۔
مرد تو خیر مرد ٹھہرے۔ زیادہ افسوس خواتین پر ہے جو اینٹ پتھر اور روئی ریشم پر تو جان دے رہی ہیں، لیکن اخلاق جو انسان کی سب سے قیمتی چیز ہے اس کی نہ صرف یہ کہ وہ حفاظت نہیں کررہی ہیں بلکہ اس کو خود اپنے ہاتھوں لٹارہی ہیں، برباد کررہی ہیں، اور زیادہ صحیح تو یہ ہے کہ انھوں نے ایمان و اخلاق کی جڑوں پر کلہاڑا چلا دیا ہے۔ اب وہ اپنی شرم و حیا کو قائم رکھنے کے لیے نہیں بلکہ اس کو خیرباد کہنے کے لیے ’’جہاد‘‘ کررہی ہیں۔ اس ایمان و اخلاق کی دنیا میں ان کو یاد ہی نہیں رہا کہ یہاں بھی کسی خوبصورتی،کسی حسن، کسی آرائش اور کسی نفاست کی ضرورت ہے یا اس کی کوئی قدروقیمت موجود ہے۔
اصل معیار یہی، معیارِ ایمان و اخلاق تھا جس کو برقرار رکھنے کی خاطر حضرت خنساء رضی اللہ عنہا نے چاروں بیٹے شہید کراکر کلمۂ شکر ادا کیا۔ یہی معیارِ اخلاق تھا جس کو بحال رکھنے کی خاطر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے باوجود انتہائی تنگدستی کے محتاج سائل کو خالی ہاتھ لوٹانا پسند نہ کیا۔ اور اپنی چادر گروی رکھ کر اس کو کھلانے پلانے کا انتظام کردیا۔ افسوس کے آج ادنیٰ اور بالکل ادنیٰ چیزوں کی خاطر اس اعلیٰ معیار کی پرواہ نہیں کی جارہی۔

 

شیئر کیجیے
Default image
حمیدہ امۃ الوحید