6

ضرورت مندوں کی امداد کی فضیلت

رسول اللہ ﷺ کے پاس آکر ایک ضرورت مند نے جب امداد کی درخوست کی تو آپؐ نے اس سے پوچھا: ’’تمہارے پاس کوئی قیمتی چیز ہے۔ اس نے کہا: یہ چادر ہے جو میں اوڑھے ہوئے ہوں۔ آپؐ نے اسی وقت اُس چادر کو نیلام کردیا اور اس کی قیمت اسے دے کر حاجت مند کوبازار سےکلہاڑی خریدنے اور جنگل جاکر لکڑیاں کاٹ کر بازار میں بیچنے کاحکم فرمایا۔ یعنی آپؐ نے ہاتھ پاؤں سلامت ہوتے ہوئے یا کچھ سرمایہ ہوتے ہوئے دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانے کو معیوب قرار دیا۔ بلکہ ایک حدیث میں مانگنے کو پیشہ بنانے والوں کی بڑی بھیانک مثال دی کہ حشر کے روز ان کے چہروں پر گوشت نہیں ہوگا، یعنی وہ ڈھانچوں کی شکل میں اٹھائے جائیں گے۔

مذکورہ عبارت میں دو باتیں اہم ہیں: ایک تو غربت کے خاتمے کے لیے سماج کے باشعور لوگوں کا انداز فکر اور طریق کار جو رسول پاکؐ کے عمل سے ہمارے سامنے آتا ہے۔

دوسرا بھیک مانگنے کے سلسلے میں فرد کے لیے ہدایت کہ سب سے اعلیٰ بات یہ ہے کہ مومن کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلائے اور اپنی محنت و جہد اور رب کی رزاقیت پر یقین رکھے۔ جو لوگ ایسا نہیں کرتے اور غیر ضروری طور پر بھیک مانگتے ہیں وہ عذابِ الٰہی کے حقدار ہیں۔

اس اپروچ کے باوجود اسلام اعتدال کی راہ دکھاتا اور میانہ روی کی تعلیم دیتا ہے۔ وہ معاشرے کے مالداروں سے توقع رکھتا ہے کہ وہ اپنی کمائی اور آمدنی میں غریبوں کا بھی حق رکھیں۔ متقین کی صفات میں ایمان اور اقامتِ صلوٰۃ کے بعد تیسری صفت یہ بیان کی گئی کہ ’’اس رزق میں سے جو ہم نے انہیں دیا ہے وہ خرچ کرتے ہیں۔‘‘(البقرۃ:3)  نیز فرمایا کہ’’ایسا نہ ہو کہ دولت تمہارے مالداروں میں ہی گردش کرتی رہے۔‘‘ (الحشر :7) زکوٰۃ کے بارے میں فرمانِ رسولؐ ہے : توخذ من اغنیائہم وتردا الی فقرائہم۔(یہ معاشرہ کے مالداروں سے لیا جائے گا اور غریبوں پر خرچ کیا جائے گا۔) یہ اسلامی معاشی نظام کا پالیسی ساز اصول ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ایسا معاشی نظام وضع کیا جائے کہ جس سے دولت کا بہاؤ امراء کی طرف سے فقراء کی طرف ہو، تاکہ وہ بھوکے، ننگے اور افلاس کے مارے نہ رہیں۔ امیر امیر تر اور غریب غریب تر نہ رہے۔ ایک معتدل معاشرہ وجود میں آئے جہاں سب کی بنیادی حاجتیں پوری ہوری ہوتی رہیں۔

یہی وجہ ہے کہ قرآن و حدیث میں بیواؤں، یتامیٰ اور مساکین کی امداد اور خبر گیری کرنے کی بڑی فضیلت آئی ہے۔ سورۃ الدہر میں ارشادِ ربانی ہے: ’’یہ نیک لوگ وہ ہوں گے جو (دنیا میں) نذر پوری کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں، جس کی آفت ہر طرف پھیلی ہوئی ہوگی اور اللہ کی محبت میں مسکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں (اور کہتے ہیں) ہم تمہیں صرف اللہ کی خاطر کھلا رہے ہیں، ہم تم سے نہ کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ۔ ہمیںتو اس دن کے عذاب کا خوف لاحق ہے جو سخت مصیبت کا انتہائی طویل دن ہوگا۔ پس اللہ تعالیٰ انہیں اس دن کے شر سے بچالے گا اور انہیں تازگی اور سرور بخشے گا۔‘‘

یہ کتنی بڑی فضیلت ہے کہ یتامیٰ، بیواؤں اور مساکین کی امداد کی بدولت انسان حشر کے دن سختی اور آفت و شر سے بچ جائے گا۔ سبحان اللہ!

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میں اور وہ شخص جو کسی رشتہ دار یا غیر رشتہ دار یتیم کی کفالت کرے گا جنت میں اس طرح ہوں گے۔ پھر آپؐ نے شہادت کی انگلی اور بیچ کی انگلی کو اٹھا کر دکھایا اور دونوں کے درمیان تھوڑا سافاصلہ رکھا۔‘‘ (رواہ بخاری) سبحان اللہ!

رسول اللہ ﷺ کی صحبت کے شرف سے بڑھ کر بھی کوئی فضیلت ہوسکتی ہے؟

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’بیوہ اور مسکین کی مدد کے لیے دوڑ دھوپ کرنے والا ایسا ہے جیسے جہاد فی سبیل اللہ میں دوڑ دھوپ کرنے والا (اور حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں) کبھی خیال ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ ’’وہ ایسا ہے جیسے وہ شخص جو نماز میں کھڑا رہے اور آرام نہ کرے اور جو پے در پے روزے رکھے اور کبھی روزہ نہ چھوڑے۔‘‘ (بخاری و مسلم)

یعنی بیوہ، یتیم اور مسکین کی خبر گیری کرنے والا مجاہد فی سبیل اللہ اور صائم الدہر اور ہر وقت نماز پڑھنے والے کی مانند ہے۔ سبحان اللہ! کتنی بڑی فضیلت ہے؟ اور جو بیوہ، مسکین کی امداد سے غفلت برتیں ان کے بارے میں کیا وعید ہے؟ سورۃ الماعون کا آغاز ہی یوں ہوتا ہے: ’’کیا تو نے (اسے بھی) دیکھا جو روزِ جزا کو جھٹلاتا ہے۔ یہی وہ ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے۔ مسکین کو کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا۔‘‘ یعنی یتیم اور مسکین کی خبر گیری نہ کرنا روزِ جزا کو جھٹلانے کے مترادف ہے۔

سورۃ المدثر میں ہے کہ جب اہلِ جنت اہلِ دوزخ سے پوچھیں گے کہ تمہیں کس چیز نے دوزخ میں ڈالا تو وہ جواب دیں گے: ’’ہم نمازی نہ تھے اور مسکینوں کو کھانا نہیں کھلاتے تھے اور بحث کرنے والوں (منکرین) کا ساتھ دے کر بحث مباحثوں میں مشغول رہا کرتے تھے اور روزِ جزا کو جھٹلاتے تھے۔ یہاں تک کہ ہمیں موت آگئی۔‘‘ زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم بھی موت سے پہلے یتامیٰ، مساکین اور بیواؤں کی خبر گیری کریں۔ سورئہ بنی اسرائیل میں فرمانِ الٰہی ہے: ’’اور رشتہ دار کو اس کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو اس کا حق دو۔‘‘ (بنی اسرائیل: 26) یعنی ہماری کمائیوں میں ان سب کا حق ہے جو ہمیں ادا کرنا ہے۔ عبادت حقوق اللہ ہیں اور رشتہ داروں، مساکین، یتامیٰ، بیواؤں اور مسافروں کی خبر گیری کرنا حقوق العباد ہیں۔ جب ہم حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد بھی ادا کریں گے، تبھی ہماری نجات ممکن ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر خالد محمود

تبصرہ کیجیے