3

صالح انقلاب اور خواتین

مرد خادمان اسلام اس ملک میں جس گراں بہا فرض کو انجام دینے کے لیے کھڑے ہورہے ہیں، اس میں اسلام کا مطالبہ خواتین سے بھی اتنا ہی زور دار ہے، جتنا مردوں سے ہے۔ اس دین پر ایمان لانے، اس کے اصولوں کو عملاً اختیار کرنے، اسے غلبہ دینے اور اسے اجتماعی زندگی میں نافذ کرنے کے پورے پروگرام میں عورتیں مردوں کے ساتھ برابر کی شریک ہیں۔ پھر غیر اسلامی افکار و اعمال کا جو تسلط ہر طرف پھیلا ہوا ہے اور اجتماعی زندگی کے نظام میں کفر کے اثرات جس بری طرح گھس گئے ہیں اس کو سامنے رکھتے ہوئے ہم لوگ اس کے محتاج ہیں کہ ایک ایک مرد ایک ایک عورت اور ایک ایک بچہ اسلامی انقلاب کو مکمل کرنے کی جدوجہد میں شریک ہو۔ ہمیں ہر اس فرد ملت کا تعاون درکار ہے جو اسلام کو اپنے لیے واحد مسلک حیات مانتا ہو۔ اور اس کے آگے سرتسلیم خم کرتے ہوئے کسی چون و چرا سے کام نہ لے۔ چاہے وہ مرد ہو یا عورت!
عورتیں بالعموم ایسی کسی دعوت پر یہ سوچ کے رہ جاتی ہیں کہ ہم سے کیا ہوسکتا ہے جب کہ ہماری کائنات توے، چولہے، کروشیا اور سوئی دھاگے تک محدود ہے۔ حالانکہ یہ کسر نفسی امر واقعہ کے بالکل خلاف ہے۔ عورتیں آج تک نظام اجتماعی کی تشکیل و تعمیر میں گہرا حصہ لیتی رہی ہیں اور آج بھی لے رہی ہیں۔ آپ یقین کریں کہ کل تک جو نظام یہاں رائج تھا اور جسے بدلنے کے لیے آج ہم تیاری کررہے ہیں اس کو چلانے میں آپ خواتین اگر دل و دماغ سے شریک نہ ہوتیں تو اس کا نفاذ و استحکام ممکن ہی نہ تھا۔ یہ آپ ہی تھیں جنھوں نے اس کو قائم کرنے کا اور استحکام پکڑنے کا موقع دیا، موقع ہی نہیں دیا بلکہ اس کے ان مطالبات کو ذوق و شوق سے پورا کیا جو اس نے آپ کے سامنے رکھے تھے۔
یہ تو آپ جانتی ہیں کہ ہر نظام کی ایک فطرت ہوتی ہے اور اپنی اس فطرت کے مطابق وہ ایک خاص طرز کے کارکن چاہتا ہے، اس کے پیش نظر ایک خاص طرز کی سیرت اور ایک خاص نمونے کا اخلاق ہوتا ہے اور وہ ایک خاص نوعیت کے جذبات و رجحانات اپنے چلانے والوں میں دیکھنا چاہتا ہے۔ چنانچہ یہ انگریزی نظام باطل جس کے نیچے ہم نے اس ملک میں کئی قرن گزارے ہیں اور جو اپنی ساری تفصیلات کے ساتھ اب تک ہمارے سروں پر مسلط ہے۔ صرف اتنا فرق واقع ہوا ہے کہ پہلے انگریز اس کی پاسبانی کرتے تھے اور اب یہ کام خود ہمارے گھر کے انگریزوں نے سنبھالا ہے۔ اس نے اپنی فطرت کے مطابق جب کارکنوں کی ایک فوج بھرتی کرنا چاہی تو اس کی نگاہیں آپ کی طرف اٹھیں۔ اس وجہ سے کہ ہر عورت کسی نہ کسی خاندان کے کارخانہ انسان سازی کی انچارج ہوتی ہے یا انچارج بننے والی ہوتی ہے۔ اور سوسائٹی کو جس قسم کے آدمی مطلوب ہوتے ہیں وہ اس قسم کے انسان کو تعمیر کرنے کے لیے گھر کی فضا کو ایک خاص انداز میں مرتب کرتی ہے۔ اور پھر پوری توجہ گوشہ پوست کے ایک ایک مجسمے کے اندر وہ ذہنیت اور اخلاق تعمیر کرتی ہے جس کا مطالبہ رائج الوقت نظام کرتا ہے۔
سو انگریزی نظام باطل نے آتے ہی یہ واضح کرنا شروع کیا کہ اس کی منڈی میں قیمت صرف ان لوگوں کو حاصل ہوگی جو پیٹ کے بندے بن کے آئیں، جو اپنے اصولوں کے احترام سے دستکش ہوکر اپنے اندر ابن الوقتی پیدا کریں، جو اخلاقی مقاصد کی جگہ جسم کی آسائشوں اور لذتوں کو اپنا منتہا بنائیں، جو خدا کی رضا اور بندوں کی خدمت کی جگہ عہدوں اور تنخواہوں کا ذوق لے کے آگے بڑھیں، جن میں انگریزی تہذیب کے لیے مرعوبیت موجود ہو، جن میں یورپین فلسفہ کے لیے جذبہ تقلید کارفرما ہو، جن میں ایجاد کے بجائے نقالی کا مادہ زیادہ ہو، جن کا اپنا دماغ کچھ نہ سوچ سکے بلکہ ان کے دماغ میں باہر سے لاکے جن افکار و عزائم کے بیج ڈالیں جائیں، وہ پھل پھول سکیں، جو کوئی اپنی مستقل قومی فطرت نہ رکھتے ہوں بلکہ ان کو جس سانچے میں ڈھالا جائے ڈھل سکیں۔ اس مطالبہ پر جس طرح مردوں نے اپنے آپ کو بدلنا شروع کیا اسی طرح آپ عورتوں نے نئی نسلوں کی تیاری کے کارخانوں میں اپنے پروگرام تبدیل کرلیے۔ آپ نے زمانے کا رخ بدلتا دیکھ کر فوراً خاندانی فضا کوبدل دیا۔ آپ نے اپنے بچوں کو خدا پرستی کے بجائے اپنے دودھ میں دنیا پرستی کو گھول گھول کر پلانا شروع کیا۔ آپ نے آخرت کے تصور کی جگہ نفع پرستی کا ذوق لوریوں میں حل کرکر کے دلوں میں اتارنے کی مہم کا آغاز کیا۔
آپ نے اپنے بچوں کو عیاشی کے منتہا کی طرف بڑھنے کے لیے مادی عزائم دئیے، آپ نے انھیں زمانے سے لڑنے کی جگہ زمانے سے ساز باز کرنے کے گر سکھائے، آپ نے اسلامی اخلاق کی جگہ ان کے اندر اس گدلے کریکٹر کی تعمیر شروع کی جس کے نمونے ہمارے معاشرہ کی فضا میں ہر طرف بکثرت پھیلے ہوئے ہیں۔ پھر آپ اپنے بچوں کی ابتدائی تربیت کردینے کے بعد پورے ذوق و شوق سے انھیں اس نئے نظام تعلیم کے حوالے کرنے لگیں جو ان کی نوک پلک درست کرکے اس مشین میں فٹ ہونے کے بالکل قابل بنادے جو ملک میں نصب ہوچکی تھی۔ یوں جب آپ نے بچوں کی تربیت کرنے میں وقت کے مطالبات کو ملحوظ رکھا اور ایک کافرانہ نظام کی مشین سے عملی تعاون کیا جو اس ملک میں نصب ہوچکی تھی، تو اس ملک میں اس نظام کے لیے قائم ہونا ممکن ہوا۔ اس نے جس وضع قطع کے پرزے مانگے، آپ نے گھروں کی بھٹیوں میں ڈھال کے دئیے، وہ جس طرز کے وزیر، گورنر، ڈپٹی کمشنر، تحصیلدار، جج، وکیل، کارخانہ دار، انجینئر، صناع، تاجر، پروفیسر، ادیب، اخبار نویس، مزدور، کسان وغیرہ مختلف پرزے چاہتا تھا، آپ نے اس طرز کے پرزوں کو اپنے اپنے کارخانوں میں وہ ابتدائی شکل اپنے ہاتھوں سے دی جس کے بعد نوک پلک بنانے کاکام دشوار نہیں رہ جاتا۔ آپ کے تعاون کے بغیر نظام باطل کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ یہ یہاں جڑیں چھوڑے ، اور اس ملک کی فضا میں سود خوری، زراندوزی، جوابازی، زنا کاری، شراب خوری، بے غیرتی، خود فروشی،رشوت اندوزی اور مقدمہ بازی وغیرہ کی وبائیں پھیلاسکے۔ یہ سارا بگاڑ جو ہمارے ہاں پھیلا اور پھلا پھولا ہے، اس میں مردوں کے ساتھ آپ برابر کی شریک رہی ہیں، اور اگر آپ نے مطلوبہ نمونے کے افراد بنانے سے انکار کردیا ہوتا تو یہ ممکن نہ تھا کہ یہ نظام چند روزہ بھی یہاں چل سکتا۔
اپنی کارگذاری کی اس تاریخ کو اگر آپ اپنی نگاہوں کے سامنے رکھیں تو آپ خود اندازہ کرسکتی ہیں کہ عورت کی زندگی صرف کھانا پکانے، بنائی سلائی کا کام کرنے اور گھر کے سامانوں کی جھاڑ پونچھ ہی کے لیے وقف نہیں ہے۔ بلکہ وہ انسان سازی کے کارخانوں کی انچارج ہے اور اگر وہ اپنے اس منصب کو پہچان لے تو آج جس اسلامی انقلاب کے علمبردار بن کے ہم لوگ اٹھے ہیں اس کی رفتار کو وہ حد درجہ تیز کرسکتی ہے۔ اگر کوئی مرد تحریک اسلامی کا خادم بنتا ہے تو وہ صرف اپنی ذات ہی کو اپنے ساتھ لاتا ہے، لیکن جب کوئی عورت اس انقلاب میں حصہ دار بنتی ہے تو وہ اپنی ذات کو بھی ساتھ لاتی ہے اور اس کی ذات کے ساتھ انسان سازی کا ایک پورا کارخانہ بھی اس تحریک کے قبضے میں آجاتا ہے اور جتنے پیچ پرزہ اس کارخانے سے تیار ہوکر نکلتے ہیں وہ کسی غیر اسلامی مشین میں استعمال ہونے کی جگہ اسلام کی کل ہی میں نصب ہونے کے قابل ہوتے ہیں۔
آپ تمثیل کے انداز میں یوں سمجھئے کہ آپ کی سلائی مشین کا جب کوئی پرزہ ناکارہ ہوجاتا ہے تو بازار سے آپ دوسرا منگالیتی ہیں اور سلائی مشینوں کے یہ پرزے اسی وقت تک مل سکتے ہیں جب تک کہ دنیا میں کچھ کارخانے ایسے ہیں جو سلائی کی مشینوں کے پرزے بناتے ہیں۔ لیکن فرض کرلیجیے کہ یہ کارخانے اپنی جگہ طے کرلیں کہ ہمیں اب سے سلائی مشینوں کے پرزے نہیں بنانے ہیں بلکہ سائیکل کے پرزے بنانے ہیں تو یقینا چند روز میں بازار سے سلائی مشینوں کے پرزے غائب ہوجائیں گے اور سلائی مشینوں کے بننے اور مرمت کرنے کا سلسلہ ختم ہوجائے گا۔ پھر کسی قیمت پر یہ ممکن نہ ہوگا کہ سلائی مشینوں کے پرزے بازار میں خریدے جاسکیں۔ بلکہ جس قیمت پر بھی ملیں صرف سائیکل ہی کے پرزے ملیں گے۔ اسی طرح آپ عورتیں اگر اپنی جگہ یہ طے کرلیں کہ اب سے آپ کو غیر اسلامی اخلاق پیدا نہیں کرنا ہے تو نظام باطل عہدے اور روپے لے لے کر بازار میں گھومے گا، اور اپنے کام کا کوئی کارکن نہ پائے گا۔ بلکہ پوری معاشرت کی منڈی صرف اسلامی نظام کے کارکنوں سے پٹی پڑی ہوگی۔
پس اگر آپ عورتیں اسلام کے نظام زندگی کو خوب اچھی طرح سمجھ کر ایمان لائیں اور اسے اجتماعی طور پر غالب کرنے کے پروگرام میں ہم مردوں کی شریک کار بننا چاہیں تو آپ کے کرنے کا بڑا کام یہ ہے کہ نئی نسلوں کی تعمیرجدید پر پوری پوری توجہ صرف کرنے کا فیصلہ کریں۔ پھر آپ کو ہر طرف سے اپنی توجہات کو سمیٹ کر پوری طرح اس اسکیم پر مرتکز کردینا چاہیے کہ خدا پر ایمان رکھنے والے، قرآن کے پورے پروگرام کو سمجھنے والے، دنیا کے بجائے آخرت پر نگاہیں جمانے والے، نبی ﷺ اور آپ کے صحابہؓ کے نمونے کا اخلاق رکھنے والے اور عہدوں اور تنخواہوں کے بجائے خدا کی رضا کو مقصود بنانے والے سپاہیوں کی ایک بڑی فوج تیار ہوجائے اور یہ فوج آگے بڑھ کر نظام باطل کے ایک ایک مورچے پر قبضہ کرلے، اس مقصد کے لیے آپ کو اپنے آپ کو بدلنا ہوگا، اپنے گھر کی فضا اور خاندان کے ماحول کو تبدیل کرنا ہوگا، اور اپنے مردوں کو آہستہ آہستہ اس پر آمادہ کرنا ہوگا کہ وہ آپ کے پروگرام کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالیں۔
آپ دن بھر کی زندگی میں محلہ والوں اور عزیزوں سے میل جول اور لین دین کرنے میں خدا تعالیٰ کی فرض کردہ عبادات کو انجام دینے میں، زندگی کی مختلف تقریبات کو منانے میں پوری طرح یہ کوشش کریں کہ اسلام کی آیات صاف صاف ابھر آئیں، بچے ان آیات کو دیکھیں، ان پر غور کریں، ان سے اثر لیں، ان کی پیروی کری اور ان کی صاف ستھری فطرت ان آیات کے سانچے میں آغاز ہی سے ڈھل جائے۔ آپ کے گھروں میں نماز کے مناظر کو ابھر آنا چاہیے، قرآن کی تلاوت کی صدائیں گونجنی چاہئیں، اسلامی شعائر کو فروغ پانا چاہیے، نبی ﷺ کے خلق عظیم کے مظاہر کو معاملات میں مسلسل ظہور پذیر ہونا چاہیے۔ اس طرح کا ماحول اگر آپ نے اپنے گھروں میںپیدا کرلیا اور اس کی پاسبانی اور کارپردازی کی ذمہ داری یکسوئی سے سنبھال لی تو بڑی تیز رفتاری سے اسلامی نشاۃ ثانیہ کی تحریک کو کارکن ملنے شروع ہوجائیں گے اور باطل کو کسی قیمت پر اپنے لیے پرزے فراہم کرنا ممکن نہ رہے گا۔ یوں اگر آپ نے ہمارے ساتھ تعاون کیا تو اسلامی انقلاب کے برپا ہونے میں بہت بڑی تیزیٔ رفتار نمودار ہوجائے گی۔ ورنہ اگر ہمیں تنہا یہ کام کرنا پڑا اور آپ نے ساری ذمہ داریاں ہم مردوں کے سر چھوڑ دیں۔ تو یقینا اس کا اندیشہ ہے کہ ہمارے کام میں کئی سال کی دیر واقع ہوجائے یا خدانخواستہ ہم بالکل ہی ناکام رہ جائیں۔

شیئر کیجیے
Default image
نعیم صدیقی ؒ

تبصرہ کیجیے