BOOST

عمل اور قنوطیت

 

وہ بھی ایک غمگین دین تھا اور میں اس دن بھی اداس تھا۔ میرے ذہن پر بے نام سی اداسی تھی جس کی وجہ سے میرے ساز ہستی سے غمگین نغمہ ابلنے لگتا۔ میں سوچتا ہوں کہ کیا اس کے تار صرف دردناک چیخیں اور کربناک کراہیں ہی پیدا کرنے پر قادر ہیں۔ کیا اس کے تاروں کا ارتعاش کوئی ایسا طرب آمیز نغمہ نہیں پیدا کرسکتا جس سے روح کو سکون اور چین نصیب ہو۔ نہ معلوم یہ بے نام اداسی مجھ پر کیوں طاری ہوجاتی ہے۔ میں اس کی تہہ تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہوپاتا۔
اس دن بھی میں اپنے دماغ کی گہرائیوں میں ڈوب کر اس کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کررہا تھا۔ یہی سوال میرے دل و دماغ میں طوفان برپا کیے ہوئے تھا کہ میں زندگی کیسے گزاروں؟ زندگی کو کیا سمجھوں؟ کیا زندگی کو مجموعہ تکالیف سمجھ کر بھاگ لوں یا اس پر فتح پانے کے لیے اٹھ کھڑا ہوں۔ میں سوچتا رہا اور الجھتا رہا۔ جب دماغ کی رگیں چٹخنے لگیں تو اٹھا اور ایک طرف چل پڑا۔
عمل، کوشش، ناکامی، محرومی، ناامیدی، آرزو، امیدیں اور تمنائیں۔ دماغ ان سب خیالات کی آماجگاہ بنا ہوا تھا میں چلتا رہا، اور سوچتا رہا، سوچتا رہا اور چلتا رہا۔
اوہ میں کہاں نکل آیا۔ یہ ایک سرسبز وادی تھی مست ہوائیں جھوم جھوم کر تازگی کا پیغام پہنچارہی تھیں۔ میری نظر اچانک ایک پھول پر پڑی اور وہ بالکل سرخ تھا خون کی طرح سرخ۔ پھولوں کے حسین جھرمٹ میں وہ ایک شہزادے کی طرح سرتانے کھڑا تھا۔ میری آنکھیں خوشی سے چمک اٹھیں۔ میں نے سوچا میں اس سے اپنے سوال کا جواب حاصل کرنے کی کوشش کروں گا۔ میں آگے بڑھا۔ میں نے کہا ’’پھولوں کے شہزادے تو اتنا خوش کیوں ہے؟‘‘ پھول مجھے دیکھتا رہا۔ اچانک ہوا کا شوخ جھونکا آیا اور پھول زور زور سے جھومنے لگا۔ مجھے ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے وہ زبان حال سے کہہ رہا ہو ’’نادان ہنسوں نہیں توکیا کروں، زندگی ہنسنے اور مسکرانے ہی کا تو نام ہے۔‘‘
’’میری طرف دیکھ! زندگی کیا ہے۔ کسی خوشنما خواب کی طرح حسین، کسی شاعر کے رنگین تخیل کا عکس، اس لیے ہنس اور مسکرا کہ یہی زندگی کا حاصل ہے۔‘‘ میرے لبوں پر ایک تلخ تبسم آگیا۔ میں نے کہا۔
’’لیکن کیا تیرا یہ حسین خواب جلد ہی نہیں ٹوٹ جائے گا۔ کیا تیری رعنائی اور دلکشی ہمیشہ ایسی ہی رہے گی۔ نہیں! ہرگز نہیں!! پھر کیوں اپنی موہوم ہستی پر ناز کرتا ہے۔ دنیا فانی اور بے ثبات ہے۔ یہاں کسی کو ثبات اور قرار نہیں۔ پھر تو کیوں اپنے انجام سے آنکھیں بند کرکے عارضی مسکراہٹوں میں گم ہے۔ حقیقت اور تیرا انجام تیرے سامنے ہے۔ نادان زندگی ایک خواب نہیں…یہ ایک المیہ ہے… ایک سلگتی ہوئی آگ ہے جہاں روز آرزوؤں کے جسم جلتے ہیں، ایک قید خانہ جہاں تمنائیں قید کی جاتی ہیں اور تکالیف برداشت کرنی پڑتی ہیں، ایک بلبلا جو لمحوں میں پھوٹ جاتا ہے اور ایک سفر جو اچانک ختم ہوسکتا ہے۔‘‘ پھول ہنسا اور کہا ’’ٹھیک ہے۔ دنیا کی ہر چیز فانی ہے اور سب کا انجام فنا ہی ہے۔ لیکن جب دنیا تکالیف کا مجموعہ ہے اور ہم یہاں رہنے پر مجبور ہیں تو پھر کیوں نے ان مصیبتوں اور تکالیف کا مضحکہ اڑائیں۔ کیوں ہم ان لمحوں کو رو رو کر ضائع کریں جو ہم کو میسر ہیں۔‘‘
میں متاثر ہونے لگا۔ لیکن پھر خیال آیا کہ کیا عارضی سکون ہم کو ابدی سکون دے سکتا ہے۔ کیا ہمارے بلند قہقہے ان سسکیوں پر غالب آجائیں گے جو ہمارے قہقہوں کے پس منظر میں اسی طرح سنائی دیتے ہیں۔ جیسے خوشی کے شادیانوں کے پس پشت ہلکی ہلکی درد بھری غم انگیز موسیقی۔
پھول شاید میرے تاثرات بھانپ گیا…… مسکرایا اور کہا ’’تو پھر مرجاؤ نادان! دنیا میں کمزور تو زندہ رہ سکتا ہے۔ لیکن کم ہمت اور بزدل مایوسی کی موت مرجاتا ہے۔ جو دنیا کی تکالیف کا مردانہ وار مقابلہ نہیں کرسکتے ان کو مرہی جانا چاہیے۔ مجھے دیکھ کہ میری کیا ہستی ہے۔ ایک حقیر پھول ہی تو ہوں۔ پھر تو تو اشرف المخلوقات ہے ۔ تجھے تو عمل کی قوت بخشی گئی ہے۔ عمل سے تو اپنے انجام کو بہتر بناسکتا ہے۔ اور دنیا میں کامیابی سے ہمکنار ہوسکتا ہے۔ دنیا دارالعمل ہے عمل سے ہر چیز فتح کی جاسکتی ہے۔
آج مجھ پر یہ راز کھلا کہ جہد مسلسل اور عمل پیہم سے ہمیں اپنی مایوسیوں پر فتح پانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ مجھے جیسے ایک اطمینان سا ہوگیا۔ میں نے سوچا آبشاروں سے گرتے ہوئے پانی کی ترنم ریز موسیقی اور پرعظمت پہاڑ بل کھاتے ہوئے دریا یہ سب انسان ہی کے لیے تخلیق کئے گئے ہیں۔ ہمیں ان سے لطف اندوز ہونا چاہیے۔ ہماری زندگی میں تکالیف بھی ہیں اور قدرت کے تحفہ بھی۔ یقینا ہماری زندگی ایک لازوال حسن سے اور ایک پائیدار معصومیت سے آراستہ ہے اور یہی اس کی روح ہے اور ہمیں اسی کو پانے کی جستجو کرنی چاہیے۔ زندگی سے فرار ممکن نہیں ہے بلکہ ہمیں اس کے اندر کی روح کو حاصل کرنا چاہیے۔ یہ دنیا رہنے کے لائق ہے۔ ہمیں زندگی سے فرار کی کوشش نہیں کرنی چاہیے بلکہ عمل کرکے ایک نئی دنیا اپنے لیے خود پیدا کرنی چاہیے۔ مجھے اپنی منزل سامنے دکھائی دے رہی ہے غم کے بادل چھٹ چکے تھے اور امید کی نئی کرن اپنی زندگی بخش چمک اور حرارت کے ساتھ نظر آرہی تھی۔ میرا تصور مستقبل کی راہوں پر سبک خرامی سے آگے بڑھ رہا تھا پھر میں…… اپنے مستقبل کے خوش آئند تصورات میں گم ہوگیا۔

شیئر کیجیے
Default image
انیس العارفین

تبصرہ کیجیے