5

غذا نقصان دہ بھی ہوسکتی ہے!

 

عموماً لوگوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ خوراک کے ڈبوں اور ٹن پر جو ہدایات ہوتی ہیں، وہ مغربی نظریہ ہے۔ مگر جیسے جیسے ہمارے معاشرے میں ان اشیاء کے استعمال کا رجحان بڑھ رہا ہے تو ضروری ہے کہ ڈبوں پر درج ان ہدایات کی اہمیت کو جان لیا جائے۔ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کھانے پینے کی اشیاء کی پیکنگ پر درج ہدایات کو پڑھ کر آپ جان سکتے ہیں کہ اس میں کیا چیزیں شامل کی گئی ہیں اور ان میں سے کون سی اشیاء آپ کی صحت کے لیے مضر اور کون سی مفید ہیں۔ ڈبوں پر لگے لیبل کے ذریعہ آپ ایسی ایسی اشیاء منتخب کرسکتے ہیں، جن میں نمک، چکنائی، اور کولیسٹرول کی مقدار کم ہو اور جن میں مناسب حرارے پائے جاتے ہوں۔ اس کے علاوہ یہ ہدایات خوراک میں موجود لمحیات، حیاتین اور نشاستہ وغیرہ کی مقدار کے بارے میں بھی آگاہ کرتی ہیں۔ اس لیے لیبل پر درج ہدایات ضرور پڑھیں۔
نمک کے لیے آپ ایسی خوراک کو ترجیح دیں، جس پر نمک کے بغیر درج ہو یا پھر، کم نمک اور ہلکا نمک وغیرہ درج ہو۔ اس کے لیے آپ کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ آپ دن بھر میں نمک کی کتنی مقدار استعمال کرسکتے ہیں تاکہ آپ موازنہ کرسکیں۔ یاد رہے کہ ایک فرد دن بھر میں چھ گرام نمک سے زیادہ استعمال نہیں کرسکتا۔ تاہم، اگر وہ ہائی بلڈ پریشر کا مریض ہے تو یہ مقدار اور بھی کم ہونی چاہیے۔ اسی طرح کھانے میں چکنائی کم سے کم استعمال کرنی چاہیے جس کے لیے ایسی اشیاء کا انتخاب کریں، جن پر کم چکنائی، ہلکی چکنائی وغیرہ درج ہو۔ یہ بھی ذہن نشین کرلیں کہ ایک فرد (ایک دن میں) کولیسٹرول کی مقدار ۳۰۰ گرام سے زیادہ نہیں لے سکتا۔ اسی طرح دن بھر میں حاصل کیے جانے والے حراروں میں چکنائی کا تناسب دس فیصد سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے اور دل کے مریضوں کے لیے یہ مقدار یقینی طور پر مزید کم ہونی چاہیے۔
ڈبوں پر درج تمام معلومات افراد اور عمر کے تناسب سے ہوتی ہیں۔ اسے ری کمنڈڈ ڈیلی الاؤنس (RDA) کہا جاتا ہے۔ ایسے کھانے، جن میں کیلشیم موجود ہوتا ہے، ایک ہزار ملی گرام آر ڈی اے ، ان بڑوں کے لیے ہوتا ہے، جن کی عمر پچاس سال سے کم ہو اور ۱۲۰۰ ملی گرام، ان بڑوں کے لیے ہوتا ہے جن کی عمر پچاس سال سے زیادہ ہو۔ اسی طرح حیاتین B-12کی آر ڈی اے ۴ء۲ مائیکروگرام یومیہ ہے۔ اسی طرح چکنائی کی مقدار بڑوں کے لیے چارسو مائیکروگرام، جب کہ حاملہ خواتین کے لیے ۶۰۰ مائیکروگرام درج ہوتی ہے۔
یہ ہدایات پڑھ کر آپ باآسانی جان سکتے ہیں کہ فلاں چیز کی تیاری میں کون کون سی اشیاء شامل کی گئی ہیں۔ بعض افراد کو مختلف اشیاء سے الرجی بھی ہوتی ہے۔ لہٰذا ان ہدایات کے ذریعہ وہ خبردار ہوجاتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ کچھ افراد کو مخصوص بیماریوں مثلاً ذیابیطیس وغیرہ کی وجہ سے بھی چند چیزوں سے پرہیز مقصود ہوتا ہے۔ ان کے لیے بھی لیبل کو پڑھنا بے حد ضروری ہے۔ اس لیے اگر آپ بھی کھانے پینے کی ایسی اشیاء پر جو کہ ڈبوں، پیکٹوں اور ٹین میں بند ہوتی ہیں، درج ہدایات پڑھ کر استعمال کریں تو کسی بھی مرض کے بڑھنے یا الرجی وغیرہ سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

شیئر کیجیے
Default image
ماخوذ

تبصرہ کیجیے