6

دعا کیجیے!

عیدالاضحی عظیم الشان ایثار و قربانی کی علامت ہے جسے زبردست ایمانی جوش اور ولوولوں کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ عیدالفطر کے بعد ہی سے گہما گہمی شروع ہوجاتی ہے اور جانوروں کے خریدوفروخت کا معاملہ بقرعید کے آخری دن تک چلتا رہتا ہے۔ اور قربانی کرتے ہوئے ہر مسلم کے ذہن و فکر میں وہ عظیم الشان واقعہ ضرور رچا بسا ہوتا ہے جس کے اعتراف میں اللہ نے حضرت ابراہیم ؑ کی عزت افزائی کرتے ہوئے خلیل اللہ کے لقب سے نوازا اور اس عظم الشان جذبہ کی پاسداری کے لیے اسے سنت قرار دیا۔
ملی تاریخ عظیم قربانیوں سے عبارت ہے۔ نبی کریمﷺ کے مٹھی بھر جانثاروں سے لے کر انفرادی اور اجتماعی قربانی کی ایک شاندار روایت ہنوز قائم ہے۔ اور یہ اس لیے ہے کہ غالباً قربانی پیش کرنے والی عظیم ہستیوں نے حضرت ابراہیم ؑ کے جذبہ کو پوری طرح فکری اور ذہنی سطح پر قبول کیا اور اپنی جوانیاں، مال و دولت اور قیمتی جان کار خیر کی نذر کی ہے۔ مگر غور کیجیے تو محسوس ہوتا ہے کہ براہیمی فلسفہ کا ایک پہلو اس قدر تابناک اور رشک آمیز ہے وہیں اس کا دوسرا پہلو نہایت تاریک اور افسوسناک حد تک ہماری اجتماعی بے حسی کا پتہ دیتی ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ کی عظیم قربانی اور جذبہ کا اعتراف ’’خلیل اللہ‘‘ کے لقب سے کیا گیا اور اسے سنت قرار دیا گیا مگر ہماری ملی تاریخ میں شاذ و نادر ہی ایسا رویہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ ہم اپنے ہیرو کو ایسا خراج عقیدت پیش کرپائے ہوں۔ جیسا کہ قرآن ہمیں سکھاتا ہے۔
پچھلے دنوں عیدالاضحی پر میں اپنے گاؤں میں تھا، پہلی بار شعوری طور پر میں نے محسوس کیا کہ میرا گاؤں اب وہ گاؤں نہیں رہا جہاں لوگ موٹر سائیکل کو دیکھنے سڑک تک چلے آتے تھے، پولیس کو دیکھ کر اچھے اچھوں کی سانسیں حلق میں اٹک کر رہ جاتی تھیں بلکہ ماضی کے برعکس خود گاؤں میں اچھی خاصی موٹر سائیکلیں دوڑ رہی ہیں اور شہری زندگی کی آہستہ رو آمد گاؤں پن کو قدرے ختم کیے دے رہی ہے۔ اچھا محسوس ہوا کہ لوگ جاگ رہے ہیں اور پچھڑاپن گاؤں سے رخصت ہورہا ہے۔ مگر چند واقعات نے مجھے چونکا دیا۔ مولوی نعیم صاحب جو میرے استاد بھی رہے ہیں ان کا انتقال دو تین سال قبل ہوچکا ہے۔ ایک اچھے بھلے اور خلیق انسان تھے۔ تنگ دستی میں جیسے تیسے تعلیم حاصل کی اور بعد میں اڑیسہ مدرسہ بورڈ میںاستاد مقرر ہوئے۔ اپنے محدود وسائل میں انھوں نے اپنوں کی بڑی امداد کی اور بطور خاص آس پڑوس کے بچوں میں تعلیمی لہر تیز کرنے میں ان کا بڑا رول رہا۔ گاؤں سے بچوں کو لے جانا اور ان پر پدرانہ نظر رکھنا ان کا خاص مشغلہ تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ خود ان کا اپنا ایک یتیم چچا زاد بھائی اچھا بھلا حافظ اور قاری ہوا اور دوسرے لوگوں کو خاطر خواہ فیض پہنچا۔ تعلیم کی اہمیت سے وہ واقف تھے اور جیتے جی انھوں نے جو بے مثال قربانی دی وہ بلاشہ نمونہ کی زندگی ہے۔ آخر اللہ نے اس چشمہ کو بند کرنے کا فیصلہ کرلیا اور آنا فاناً وہ اپنی تمام تر تعلیمی جدوجہد چھوڑ کر چلے گئے۔ ان کی اس عظیم قربانی کا صلہ یہ دیا گیا کہ خود ان کے زیر تعلیم بچے پر کسی نے توجہ نہ دی اور بالکل معمولی اخراجات نہ مل پانے پر بچہ کا تعلیمی سلسلہ ختم ہوگیا۔ دوسرے کون فکر کرتے، وہ لوگ بھی حوصلہ نہیں جٹا پائے جو مولوی صاحب ہی کے طفیل پڑھے لکھے کہلاتے پھرتے ہیں۔ مجھے گاؤں پن کے ختم ہونے کا ہی احساس نہیں ہوا بلکہ گاؤں کے ’’جاگتے ماحول‘‘ میںموت کا سناٹا محسوس ہوا۔
ہماری ملی تاریخ میں ہیرو کی کمی نہیں ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی مضبوط اور آہنی دیواروں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ اسے بلندی اور مضبوطی دینے والا ہاتھ کتنا مضبوط اور مستحکم رہا ہوگا۔ عظیم سرسید! ہم جیسے لاکھوں دلوں کی دھڑکن، ایسا سلسلہ قائم کیا جو تا قیامت تاریکی سے لڑتا رہے گا، مگر ملت نے اس محسن کی قربانیوں کا صلہ جس طرح دیا وہ جگر سوز ہے۔
مولانا الطاف حسین حالیؔ نے ’’حیات جاوید‘‘ میں سرسید کی زندگی کے آخری دو تین دنوں کے بارے میں صرف یہ لکھا ہے کہ ۲۴؍مارچ ۱۸۹۰ء؁ کو سرسید کو احتباس بول کا عارضہ لاحق ہوا… ۲۶؍کی شام کو علامات ظاہر ہونے لگیں۔ ۲۷؍ مارچ کی صبح سے نہایت سخت درد سر لاحق ہوا، اسی دن شام کو شدید لرزے کے ساتھ بخار ہوا اور تین گھنٹے کے کرب اور بے چینی کے بعد رات کے دس بجے حاجی اسماعیل خاں کی کوٹھی میں۔ جہاں مرنے سے دس دن پہلے وہ اپنے بیٹے سید محمود کی کوٹھی سے اٹھ گئے تھے وفات پائی۔
مگر میر ولایت حسین نے ’’میری آپ بیتی یا ایم اے او کالج کی کہانی‘‘ میں جن حیرتناک حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے وہ رونگٹے کھڑا کردینے والا ہے۔
میر ولایت کے بقول: ’’سرسید کی وفات کے دوسرے دن، دو تین بجے کے قریب میں نے سید عبدالباقی سے کہا کہ کچھ رقم اپنی جیب میں لیے چلو تاکہ تجہیز و تکفین کا کچھ بندوبست نہ ہوا تو ہم کردیں۔ ظہور وارڈ سے نکلے ہی تھے کہ مولوی زین العابدین صاحب ملے، انھوں نے مجھ سے کہا کہ سید صاحب کا نوکر عظیم میرے پاس آیا تھا اور تجہیز و تکفین کے لیے روپیہ مانگتا تھا۔ میرے پاس تو کچھ نہیں میں نے اس کو نواب محسن الملک کے پاس بھیج دیا ہے تم وہاں جاؤ اور اگر نواب محسن الملک کے یہاں سے عظیم کو کچھ مل گیا تو خیر، ورنہ تم کچھ بندوبست کردینا۔‘‘
…………
معاشرے کی بہتری کے لیے جن لوگوں نے اپنی زندگیوں کو داؤ پر لگادیا ان کی شہادتوں کی کتنی تعظیم کی گئی؟ اور ان کے ساتھ کیا بیتی! تاریخ میں ایک قدم اور پیچھے چلیں تو پتہ چلتا ہے کہ یہ قصہ کوئی آج کا نہیں آٹھویں صدی کے آغاز میں طارق بن زیاد (فاتح اندلس) ، موسیٰ بن نصیر (فاتح افریقہ)، قتیبہ بن مسلم (فاتح وسطی ایشیا و روسی ترکستان) اور محمد بن قاسم (فاتح سندھ) کے ساتھ کیا کیا گیا۔ یہ چاروں ہیرو کس قدر عبرتناک انداز میں دنیا سے رخصت ہوئے۔ ان سے ایک قدم اورپیچھے جائیے تو وہ زمانہ آتا ہے جسے ہم اپنی تاریخ کا سنہری دور گردانتے ہیں لیکن اس میں بھی چار میں سے تین خلفاء جو رسول پاک ﷺ کے عزیزترین دوستوں میں سے تھے ان کے ساتھ کیا ہوا ہے۔
اصل مسئلہ ہمارے قومی اور ملی رویوں کا ہے، کیا ہم میں زندگی باقی ہے؟ وہ وقت کب آئے گا جب ہم اپنے ہیرو کی عزت ان کی زندگیوں ہی میں کرنا سیکھیں گے؟ دعا کیجیے کہ ہمارے آسمانوں پر وہ سورج طلوع ہو جب ہم اپنے آپ پر فخر کرنا سیکھیں گے اور اپنے ہیروز کی خدمات کا اعتراف اس طرح کریں گے جس طرح اللہ نے ابراہیمؑ کو ’’خلیل اللہ‘‘ کہہ کر کیا۔

شیئر کیجیے
Default image
امتیاز عالم فلاحی