6

نیٖم

کڑاکے کی ٹھنڈ پڑ رہی تھی اورمیں صبح کو ناشتہ سے فارغ ہوکر کھلی ہوئی دھوپ میں چوکی پر لپیٹ کر دھوپ کا مزہ لے رہا تھا۔ نیم غنودگی کا عالم تھا اور طرح طرح کے خیالات دماغ میں آتے چلے جارہے تھے۔غالبؔ کی یاد آرہی تھی کہ شاید اسی موقع کے لیے انھوں نے کہا ہوگا ؎
دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن
بیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے
اور سوچ رہا تھا کہ میں اس معاملے میں کتنا خوش نصیب ہوں کہ جس کی حسرت کرتے بیچارے غالبؔ داغِ مفارقت دے گئے اس لذت سے کتنی آسانی سے لطف اندوز ہورہا ہوں ؎
لیٹے ہوئے ہیں دھوپ میں چادر ڈھکے ہوئے
پھر خیال آیا کہ واقعی دھوپ اور سورج کی روشنی خدا کی کتنی بڑی نعمت ہے اور کتنی آسانی سے مفت مل جاتی ہے! حالانکہ یہی نعمت کلفت میں بدل جاتی ہے موسمِ گرما کی تپتی دھوپ میں۔ جب کہ مغربی اور ٹھنڈے ممالک کے لیے یہ سالوں بھر نعمت رہتی ہے اور یہ نعمت وہاں میسر بھی کم ہی آتی ہے کیوں کہ شاذونادر ہی وہاں آسمان صاف ہوتا ہے۔ اس لیے وہاں کے ادب اور شاعری میں سورج کی روشنی ایک ناز و نخرے والی محبوبہ کی حیثیت رکھتی ہے جس کے بارے میں کتنی ہی نازک خیالیاں اور موشگافیاں کی گئی ہیں۔ یہاں تک کہ محبوبہ کے لیے بھی اگر کسی نادر تشبیہ کی ضرورت ہوتی ہے تو وہاں سورج کی روشنی، گرمی، دھوپ وغیرہ کہا جاتا ہے جیسے ایک مقبول گیت ہے ’’یو آر دی سن شائن آف مائی لائف‘‘ (تم تو میری زندگی کی دھوپ ہو)۔
معاً ہمیں خیال آیا کہ جس حالت میں ہم پڑے ہوئے ہیں اس کو کیا کہتے ہیں؟ جواب ملا نیم غنودگی۔ تو نہ جانے کیوں ہمارا دماغ لفظ نیم پر مرکوز ہوگیا اور اس کے مختلف پہلوؤں پر غور کرنے لگا۔ احساس ہوا کہ اس میں بہت جامعیت اور وسعت ہے جیسا کہ نیم غنودگی، نیم جاں، نیم شب، نیم حکیم، نیم ملاّ، نیم رضا، نیم روز وغیرہ۔ پھر خیال آیا کہ اسی نام کا ایک ہمہ صفت درخت بھی ہے جس کی افادیت کے چرچے آج کل بڑے زور وشور سے ہورہے ہیں یہاں تک کہ دنیا کے ’’بزعم خود آقا‘‘ اسے پیٹنٹ کرنے تک کی بات کررہے ہیں۔ حالانکہ پہلے بھی اس کی افادیت کم نہیں تھی لیکن کیونکہ پہلے میڈیا اتنا طاقتور نہیں تھا اس لیے یہ چرچے کا موضوع نہیں بنا۔ آج میڈیا نے اس کو پوری دنیا میں مشتہر کردیا ہے۔ پہلے اس کا سب سے بڑا استعمال تھا اس کا داتوں یعنی مسواک جو کہ دانتوں کی ہر بیماری کا دافع مانا جاتا تھا۔پھر اس کی پتیاں جن کو چبانے سے ہر مرض دور ہوجاتا تھا۔ پھر اس کا سایہ جس کے نیچے برابر رہنے سے آدمی چست تندرست اور شگفتہ رہتا تھا۔ لیکن فی زمانہ اس میں کئی اضافے ہوچکے ہیں جیسے اس سے صابن بنانا، کیڑے مارنے کی دوا بنانا وغیرہ۔
اللہ کا کرشمہ دیکھئے کہ اس کڑوی کسیلی چیز میں کیا زبردست افادیت رکھ دی! اوائل عمری میں ہمیں یاد آتا ہے کہ صبح ہی صبح ریلوے اسٹیشنوں یا پانی کی جہاز پر یہ صدا طبلِ جنگ کی طرح ہر چہار سو بلند ہوتی۔ دتون لے لو، دتون لے لو کی صدا بلند ہوتی اور لوگ آنکھ ملتے ہوئے اس صدائے داتون پر لبیک کہتے نیم کے دَتون کی طرف لپکتے اور آناً فاناً بیچنے والے کا اسٹاک ختم ہوجاتا۔ یہاں نیم کے داتون پر یہ مقولہ صادق آتا تھا ’’اُڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہوگئے۔‘‘ ادھر نیم کے پیڑ نے ہاتھ پاؤں نکالا نہیں کہ بھائی لوگ ہاتھ دھوکے پیچھے پڑگئے اور داتون توڑ توڑ کر بیچارے کو لنڈ منڈ کردیا۔ اکثر نیم کے پیڑوں کا یہی حال ہوتا ہے، قسمت ہی سے کوئی پودا بچ بچاکر جوانی کی سرحدوں میں پہنچ پاتا ہے۔
نیم ہونا بھی کیا بری شے ہے
جس نے ڈالی بری نظر ڈالی
آگے چل کر تو ہر وہ چیز بری تصور کی جانے لگی جس کے ساتھ بھی نیم جڑا ہو۔ اب دیکھئے نا نیم کی اس سے زیادہ بے عزتی کیا ہوگی اچھے خاصے طبیب اور بھلے ملاَّجی محض نیم کا لفظ جڑجانے کے سبب خطرناک قرار پاگئے۔ خدا بھلا کرے اس ادیب کا جس نے یہ کہاوت بنادی۔ ’’نیم حکیم خطرئہ جان، نیم ملاَّ خطرئہ ایمان‘‘

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر قمر الزماں

تبصرہ کیجیے