6

بدلتی نگاہیں

’’پانی … پانی‘‘ ثمینہ نے اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے چلا کر کہا۔ لیکن اس کی آواز ہسپتال کے سکوت کو چیرتی ہوئی دیواروں سے ٹکرا کر لوٹ آئی۔ اس کو زور سے کھانسی اٹھی، اور اس نے جھک کر تازہ خون کی ایک اور قے کردی۔ اتنا بہت سا خون دیکھ کر اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور نڈھال ہوکر ایک طرف کروٹ لے لی۔ اس کی آنکھوں کے سامنے وہ دن آگئے جب وہ پانچ سال کی ایک چھوٹی سی بچی تھی۔ اس کے والد سیٹھ قاسم شہر کے مشہور سودا گر تھے۔ دولت ان کے قدم چومتی تھی۔ اس کی امی اسے کتنا پیار کرتی تھیں۔ اور ابا؟ وہ تو جب تک اسے دیکھ نہ لیں چین ہی نہیں آتا تھا۔ کیونکہ بڑی دعاؤں اور منتوں کے بعد صرف وہی اکیلی اپنے گھر کا چراغ تھی۔ ہر کوئی اس پر محبت کی نظر ڈالتا، پھوپھی پھوپھا دونوں اس پر جان چھڑکتے تھے۔ اور یہ اختر! جو اب اس سے اس قدر گھن کھاتا ہے اس وقت کس قدر خوشامد کرتا تھا۔ اس کو معلوم نہ تھا کہ دنیا میں کہیں رنج اور غم بھی ہوتے ہیں۔ اس کی دنیا تو صرف اس کا گھر تھا۔ جہاں وہ دن بھر کھیلتی تھی وہ اب اختر کی شکایت کررہی ہے۔
’’دیکھئے پھوپھی جان یہ اختر بھائی مجھے بے بی جلیبی کہہ رہے ہیں۔‘‘ اور پھوپھی جان بغیر اختر سے پوچھ گچھ کئے ڈانٹنا شروع کردیتی تھیں۔ اب اختر لاکھ اپنے کو بے قصور کہے لیکن وہ ایک نہ سنتیں، سب بچے اس سے ڈرتے اور اس سے مرعوب رہتے تھے۔ وہ کہتی:
’’دیکھئے اختر بھائی میں پھوپھی جان سے آپ کی شکایت کردوں گی نہیں تو آپ ہم کو کنول کے پھول توڑ کر دیجیے۔‘‘اور اختر چون و چرا کیے بغیر پھول توڑنے کے لیے چلا جاتا۔
وہ بھی کیا زمانہ تھا ہر طرف مسرت ہی مسرت تھی۔ پھر اچانک ایک انقلاب آیا، زمانے نے پلٹا کھایا اور اس کے والد کو نہ جانے کس طرح کاروبار میں خسارہ اٹھانا پڑا۔ بہت دنوں تک کسی کو معلوم نہ ہوا اور وقت اسی عیش و عشرت سے گذرتا رہا۔ لیکن کہاں تک؟ کچھ عرصہ بعد والد اس صدمہ کی تاب نہ لاکر دنیا سے چل بسے۔ والد کے انتقال کے چھ ماہ بعد والدہ کا بھی انتقال ہوگیا۔ اب صرف کنبے میں ایک پھوپھی رہ گئی تھیں۔ سچ ہے زمانہ کی گردش کسی کو چین نہیں لینے دیتی۔
ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں
سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں
پھوپھی نے اس کے والد کی تمام بچی پونجی اپنے قبضہ میں کی اور اس کو اپنے گھر لے آئیں۔ گھر آنے کے کچھ دن بعد تک تو سب نے اس کے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا لیکن کچھ عرصہ بعد ان کے روئیے میں تبدیلی آنی شروع ہوئی۔ گھر کے دونوں نوکر علیحدہ کردئے گئے اور تمام کام اس کے اوپر ڈال دیا گیا۔ اس کے علاوہ اس کو طرح طرح کے خطابات سے نوازا جانے لگا۔ منحوس، سبز قدم، اما باوا دونوں کو کھاگئی۔ تمام دن کام کرنے کے بعد اس کو بچا کھچا کھانے کو دے دیا جاتا۔ کوثر اور رضیہ باجی کے پرانے کپڑے اس کو پہننے کو ملتے۔ دن بھر کے کام اور صلواتوں کے بعد جب وہ رات کو اپنے بستر پر لیٹتی تو اس کی ہڈیاں درد کرنے لگتیں۔ اور اختر؟ وہ تو اس پر نوکروں کی طرح حکم چلاتا تھا۔
’’دیکھو شنو! میرا یہ رومال اور بنیائن شام کو دھلا ہوا ملے۔‘‘ وہ بھی اب کوئی بچی نہ تھی، تیرہ سال کی ہوچکی تھی تمام باتوں کو سمجھتی تھی۔ اور جلتی اور روتی رہتی تھی۔ رفتہ رفتہ وہ ان باتوں کی عادی ہوگئی ؎
مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پر کہ آساں ہوگئیں
دو سال گذرنے پر کوئی اس کو پہچان نہیں سکتا تھا کہ یہ وہی ثمینہ ہے وہ صرف ہڈیوں کا ایک ڈھانچا رہ گئی تھی۔ اس کی طبیعت گری گری رہنے لگی۔ رات کو جب وہ اپنے بستر پر لیٹتی تو اس کے جسم کا جوڑ جوڑ دکھتا، لیکن وہ صبروشکر سے سب کچھ برداشت کرتی رہتی اور پھر ایک دن وہ باورچی خانہ میں کام کررہی تھی کہ اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا آگیا اور وہ چکرا کر گرگئی۔ جب اس کی آنکھ کھلی تو اس نے اپنے آپ کو اسی ہسپتال میں اسی بستر پر لیٹا ہوا پایا۔ اس کو معلوم ہوا کہ اسے ٹی۔بی۔ ہوگئی ہے۔ اس کی پھوپھی اس دن سے آج تک دوبارہ اسے دیکھنے نہیں آئیں۔ اس کے لبوں سے بے اختیار ایک آہ نکل گئی۔ اس نے اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری لکڑی کی مانندسخت ہوگئے تھے۔ اس کی زبان میں کانٹے پڑ رہے تھے۔ بے چارگی کے ان لمحوں میں اسے اپنی ماں یاد آگئی اور وہ پکار اٹھی ’’امی تم کہاں ہو دیکھو آج تمہاری لاڈلی کو کوئی پانی دینے والا بھی نہیں۔‘‘ اور اس کو ایسا محسوس ہوا جیسے اس کی ماں اس کے سامنے کھڑی اس کو اشارہ سے بلا رہی ہے۔ اس نے اپنے چاروں طرف نظر دوڑائی۔ اسے یوں لگا جیسے تمام لوگ بستروں پر کفن پہنے سورہے ہوں۔ اب اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا آنے لگا اور وہ بے چینی سے ہاتھ پاؤں پٹخنے لگی کچھ دیر بعد وہ اپنی ماں سے جاملی اور موت نے اسے دنیا کی تمام تکلیفوں سے آزاد کردیا۔

شیئر کیجیے
Default image
نجمہ امین