2

حضرت ام سلیمؓ ایک مثالی ماں

 

آپ نے حضرت انسؓ کا نام سنا ہوگا۔ آپ ایک مشہور صحابی تھے جو دس سال کی عمر سے آنحضرت ؐ کی خدمت میں رہے۔ آپ کی والدہ امِ سلیمؓ ایک بے مثال ماں تھیں۔ آپ کی دلی خواہش تھی کہ وہ آنحضرتؐ کی خدمت میں رہے۔ آپ کو دل سے اس بات کی لگن تھی کہ آپ کا بیٹا آخرت میں کامیاب ہو اور ایسی زندگی بسر کرے جو اسلام کا نمونہ ہو۔ ام سلیمؓ ہجرت سے تقریباً ۳۰ سال پہلے پیدا ہوئی تھیں۔ آپ کا نکاح اسی قبیلے کے ایک شخص مالک کے ساتھ ہوا۔
جب آنحضرتؐ نے اللہ کے دین کی دعوت دینا شروع کی تو اس کے کچھ دن بعد اس دعوت کا چرچا مدینے میں ہونے لگا۔ مدینے کے لوگ ہر سال حج کے لیے جایا کرتے تھے۔ ان لوگوں نے حضورﷺ کو دیکھا۔ آپؐ کی باتیں سنیں اور ان میں سے کچھ لوگ ایمان لے آئے۔ ان لوگوں نے مدینے جاکر اسلام کی دعوت پہنچائی۔ اسی زمانے میں حضرت ام سلیمؓ نے بھی آنحضرت ؐ کے حالات سنے، قرآن کی آیتیں سنیں اور ان کے دل نے گواہی دی کہ یہی دین سچا ہے، اور وہ حضورؐ کے مدینے تشریف لانے سے پہلے ہی مسلمان ہوگئیں۔
اسی وقت سے آپ نے اپنے پیارے بیٹے حضرت انسؓ کو اسلامی باتیں سکھانا شروع کردیں۔ ابھی آپ چھوٹے ہی سے تھے کہ آپ کی والدہ نے آپ کو کلمہ سکھانا شروع کردیا۔ ان کے شوہر مالکؔ یہ دیکھ کر سخت ناراض ہوئے اور بولے ’’ایک تو تُو نے خود باپ دادا کا دین چھوڑا، اور اب یہ چاہتی ہے کہ بچہ بھی بے دین ہوجائے۔‘‘ یہ سن کر ام سلیمؓ بولیں ’’یہ تو معصوم اور نادان بچہ ہی ہے، میں تو یہ چاہتی ہوں کہ تم سے بھی خدا کے دین کی وحدانیت اور اس کے رسولؐ کی سچائی منوالوں۔‘‘
یہ کتنی ہمت اور بہادری کا جواب تھا۔ حضرت ام سلیمؓ ان عورتوں میں سے نہ تھیں جو اپنے شوہروں کی خاطر اللہ کو ناخوش کرلیتی ہیں۔ ان کی نظر میں دین کی اہمیت سب سے زیادہ تھی۔ابھی ام سلیمؓ کے شوہر مالک نے اسلام قبول نہیں کیا تھا کہ اتفاقاً وہ کسی سفر میں اپنے کسی دشمن کے ہاتھوں قتل کردئے گئے۔
حضرت ام سلیمؓ کو اپنے بیٹے انسؓ سے بڑی محبت تھی اور انھوں نے فیصلہ کرلیا کہ دوسرا نکاح نہیں کروں گی۔ بہت سے لوگوں نے آپ سے نکاح کی خواہش کی، تو آپ نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ جب تک میرا انسؓ ہوشیار نہ ہوجائے میں دوسرا نکاح نہیں کریں گی۔ ہوسکتا ہے کہ سوتیلا باپ میرے بچے کو تکلیف پہنچائے۔
جب حضرت انسؓ دس برس کے ہوگئے تو آپ انھیں آنحضرتؐ کی خدمت میں لے گئیں اور جاکر کہا ’’میں نے بڑی محبت سے بچے کو پالا ہے۔ اب میری دلی تمنا ہے کہ آپ اس کو اپنی خدمت میں لے لیں۔‘‘ آنحضرت نے ان کی یہ بات قبول کرلی اور حضرت انسؓ حضور ﷺکی خدمت میں رہنے لگے۔ حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ میری ماں نے میری بہترین تربیت کا حق ادا کردیا۔
ایک بار حضورﷺ ام سلیمؓ کے گھر تشریف لے گئے۔ نفل نماز پڑھی، اور سلام پھیرنے کے بعد ام سلیمؓ کے گھرانے کے لیے دعا فرمائی۔ ام سلیم ؓ نے عرض کیا کہ انسؓ کے لیے بہترین دعا فرمائیے۔ سچ ہے بہترین ماں وہی ہے جو اپنے بچے کی نیکی اور آخرت کی کامیابی کی فکر سب سے زیادہ کرتی ہو۔
جب حضرت ام سلیمؓ حضرت انسؓ کو حضور کی خدمت میں دے چکیں تو قبیلے کے ایک معزز آدمی طلحہ کی طرف سے نکاح کا پیغام پہنچا۔ ام سلیمؓ نے جواب میں کہلا بھیجا کہ میں تو اللہ پر ایمان لاچکی ہوں، یہ کیسے ممکن ہے کہ میں اس شخص کے ساتھ زندگی بسر کروں جو کہ ابھی تک لکڑی اور پتھر کے بتوں کو پوجتا ہے۔ حضرت ام سلیمؓ نے اس پیغام کے جواب کے ساتھ ساتھ اسلام کی دعوت کچھ ایسے انداز میں بیان کی کہ ابوطلحہ غور کرنے پر مجبور ہوگئے۔ ابو طلحہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے لگے اور رفتہ رفتہ اسلام کی سچائی ان کے دل میں گھر کر گئی۔ اب طلحہ مسلمان ہوگئے۔ ام سلیمؓ کو بھی اس بات سے بڑی خوشی ہوئی کہ ان کے رغبت دلانے پر ابوطلحہؓ نے اسلام قبول کرلیا اور نکاح کے لیے راضی ہوگئیں۔ باوجود اس کے کہ ابوطلحہؓ کھاتے پیتے (خوش حال) شخص تھے، اور ام سلیمؓ غربت کے ساتھ زندگی بسر کررہی تھیں۔ آپ بلا مہر نکاح کے لیے راضی ہوگئیں۔ ابو طلحہؓ کا ’’اسلام‘‘ اس نکاح کا مہر قرار پایا۔
اس نکاح کے بعد ام سلیمؓ کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا اس کا نام عمیرؔ رکھا گیا۔ یہ بڑا پیارا بچہ تھا۔ حضور ؐ بھی اس کی شوخیوں سے بے اختیار مسکرا دیتے تھے۔ اللہ کا کرنا ایک بار ایسا ہوا کہ ابوطلحہؓ کہیں باہر گئے ہوئے تھے۔ بچہ سخت بیمار ہوا۔ مرض نے شدت اختیار کرلی اور بچے کا انتقال ہوگیا۔ اس کے تھوڑی دیر بعد معلوم ہوا کہ ابو طلحہؓ واپس آگئے ہیں۔ ام سلیمؓ نے سوچا اگر آتے ہیں اس پیارے بچے کی موت کا حال معلوم ہوا تو وہ نہایت بے چین ہوں گے، نہ کچھ کھاسکیں گے اور نہ کچھ آرام کرسکیں گے یہ سوچ کر ام سلیمؓ نے گھر والوں کو منع کردیا کہ کوئی شخص بچے کی موت کا ذکر نہ کرے۔ انھوں نے بچے کے جنازے کو ایک کوٹھڑی میں رکھ دیا۔ اور نہایت خوشی خوشی ابوطلحہؓ کا خیر مقدم کیا۔ ان کے کھانے اور آرام کا انتظام کیا۔ ابوطلحہؓ نے بچے کو جب پوچھا تو یہ کہہ کر ٹال دیا کہ آپ ضروریات سے فارغ ہولیں تو اسے خود دیکھ لیجے گا۔ ابوطلحہؓ سمجھے کہ سورہا ہوگا۔ ام سلیمؓ کو خوش خوش دیکھ کر سمجھے سب خیریت ہی ہوگی۔ ام سلیمؓ نے شوہر کے آگے کھانا رکھا، اور نہایت اطمینان کے ساتھ ادھر ادھر کی بات چیت کرنے کے بعد کہا ’’اچھا تو یہ بتائیے کہ اگر کوئی شخص ہمارے پاس کوئی امانت رکھے، اور بعد میں اسے واپس لے لے تو کیا ہمیں رنجیدہ اور غمگین ہونا چاہیے؟‘‘ ابو طلحہؓ نے کہا ’’نہیں تو، یہ تو بڑی حماقت ہوگی؟‘‘ اس پر ام سلیمؓ نے بڑی سنجیدگی سے کہا ’’عمیر بھی اللہ کی امانت تھا، اس نے اسے واپس لے لیا ہے، اب صبر کرو۔‘‘ یہ سننا تھاکہ ابو طلحہؓ دنگ رہ گئے اور یہ دیکھ کر بچے کی ماں نے اس غم کو کس بہادری سے برداشت کیا فوراً بول اٹھے ’’اچھا ام سلیمؓ کیا تم صبر میں مجھ سے بڑھنا چاہتی ہو، خدا کی قسم ایسا نہ ہوگا۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔ (ہم سب اللہ کی امانت ہیں اور ہمیں اس کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔)‘‘ اس کے بعد حضرت طلحہؓ اطمینان سے اٹھے اور اپنے ہاتھوں بچے کو دفن کیا۔
احد کی لڑائی میں حضرت امِ سلیمؓ اپنے شوہر کے ساتھ شریک تھیں۔ انھوں نے پیاسوں کو پانی پلانے اور زخمیوں کی مرہم پٹی کا کام اپنے ذمہ لے رکھا تھا۔ اسی طرح حنین کی لڑائی میں شریک تھیں اور کمر سے خنجر بھی باندھ رکھا تھا۔ ابو طلحہؓ نے آنحضرت ﷺ کو متوجہ کرتے ہوئے کہا ’’دیکھئے ام سلیمؓ بھی جنگ کرنے آئی ہیں۔ ‘‘ام سلیمؓ بولیں ’’یا رسول اللہ! میں نے یہ خنجر اس لیے باندھ رکھا ہے کہ اگر کوئی کافر میرے نزدیک آئے تو میں یہ خنجر اس کے پیٹ میں گھونپ دوں۔‘‘
ام سلیمؓ نے حضرت عثمان ؓکی خلافت کے زمانے میں انتقال فرمایا ہے۔ ان کی زندگی کے واقعات میں ہمارے لیے بڑا سبق ہے۔ خاص طور پر اپنی اولاد کو اللہ کی مرضی کے مطابق تربیت کرنا، بچوں کی موت پر صبر کرنا، اور دین کی خاطر جان جوکھم میں ڈالنا، تو ایسی باتیں ہیں جو ہم میں سے ہر مرد عورت کو اپنے سامنے رکھنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان جیسے نیک لوگوں کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور آخرت میں ان کا قرب نصیب کرے۔ (آمین)

شیئر کیجیے
Default image
عبدالملک