BOOST

فرانس میں حجاب پر پابندی

فرانس میں مسلم خواتین و طالبات کے اسکولوں، تقریبات اور سرکاری مقامات پر اسکارف اوڑھنے پر پابندی کے لیے باقاعدہ قانون بناکر پارلیامنٹ سے منظوری حاصل کی گئی۔ اور اس طرح فرانسیسی حکومت نے اپنی تنگ نظری، دقیانوسیت، نام نہاد سیکولرزم اور مسلم دشمنی اور اسلامی تہذیب و ثقافت سے نفرت کا علی الاعلان اظہار کردیا۔
اکیسویں صدی کے ’مہذب‘ تعلیم یافتہ اور حقوق و آزادی کے دلفریب نعروں اور عملی جدوجہد کے دور میں بھی جیک شیراک حکومت کا سیکولرزم اس بات کو گوارہ نہ کرسکا کہ فرانس جیسی عظیم و جمہوری سلطنت میں ایک اقلیتی فرقہ اپنی مذہبی و شخصی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے اپنی پسند کا لباس پہنے۔ ملک کی ایک مذہبی اکائی جس کی آبادی پچاس لاکھ اور کل آبادی میں اس کا تناسب ۸ فیصد ہے لازماً اس قانون سے مضطرب ہوگی اور اپنی سماجی زندگی میں مختلف النوع دشواریوں کا سامنے کرے گی۔
مسلم خواتین کے اسکارف اوڑھنے کا مسئلہ اس وقت خاصا گرم ہوگیا تھا جب تقریباً دو سال پہلے محض اسکارف اوڑھنے اور اس پر سختی سے کاربند رہنے کے سبب دو طالبات کو اسکول سے نکال دیا گیا تھا۔ اور پوری دنیا میں ا س واقعہ پر فرانس کی مذمت کی گئی تھی۔ اب جب کہ فرانسیسی حکومت نے اس پر مکمل پابندی کی غرض سے قانون بنادیا ہے، وہ ساری دنیا کے سیکولر، باشعور اور کھلا ذہن رکھنے والے افراد کے درمیان ہدف تنقید بنی ہوئی ہے۔ اس دنیا کا خیال ہے کہ شیراک حکومت کا یہ اقدام نہ صرف مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں کھلی مداخلت ہے بلکہ شہریوں کی شخصی اور مذہبی آزادی پربھی براہ راست حملہ ہے۔ ۱۰؍دسمبر ۱۹۴۸ء؁ کو اقوام عالم نے حقوق انسانی کا جو عالمی منشور طے کیا تھا اس کی دفعہ ۱۸ اس بات کو واضح کرتی ہے، جس میں درج ہے کہ ’’ہر انسان کو آزادیٔ فکر، آزادیٔ ضمیر اور آزادیٔ مذہب کا پورا حق حاصل ہے۔ اس حق میں مذہب اور عقیدے کو تبدیل کرنے اور اجتماعی یا انفرادی طور پر خاموشی کے ساتھ یا علی الاعلان اپنے عقیدے کی تبلیغ اور اس پر عمل کرنے کی آزادی بھی شامل ہے۔‘‘
حقوق انسانی کے عالمی منشور کی یہ دفعہ کوئی ایسی چیز نہیں جس کا علم مذکورہ حکومت کو نہ ہو یا جس کی تفہیم و تشریح میں کوئی اختلاف یا غموض ہو۔ یہ اپنے معانی و مفاہیم اور روح کے اعتبار سے واضح ہے مگر بھر بھی عالم مغرب کے بیشتر ممالک خوب جانتے بوجھتے ہوئے نہ صرف اس کی مخالفت پر کمربستہ ہیں بلکہ اس کے مبلغ بنے ہوئے ہیں۔ اور اس مہم میں فرانس، برطانیہ اور بلجیم کی حکومتیں فعال رول ادا کررہی ہیں جہاں آئے دن مسلم طبقہ کو اپنے مذہبی رسوم و رواج اور شعائر کی پابندی میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ تماشہ یہ ہے کہ اس کے پیچھے جو دلائل دئیے جا رہے ہیں وہ اس قدر مضحکہ خیز ہیں کہ خود قانون بنانے والے ’’پڑھے لکھے اور روشن دماغ لوگ‘‘ کسی دوسرے معاملہ میں ان کی مضبوطی کو قبول نہیں کرسکتے۔ وہ مغربی دنیا جو اپنی کھلے ذہن وفکر، آزادیٔ فکر و مذہب، اپنے سیکولر مزاج اور مذہبی رواداری کے لیے جانی جاتی تھی آخر کیوں تنگ نظر، سیکولرزم کی دشمن اور مذہبی افکار و اعمال پر پابندی کی داعی ہوگئی؟ اگر اس کے پیچھے کار فرما عوامل کی تلاش کی جائے تو کئی اہم چیزیںہمارے سامنے آتی ہیں۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس وقت پوری دنیا میں اسلامی تہذیب و ثقافت اور مسلمانوں کا نظام معاشرت عریاں مغربی تہذیب کے نشانہ پر ہے اور وہ پوری طرح اسے مٹانے اور ختم کرنے کے لیے کمربستہ ہوگئی ہے— اور— اس کے لیے وہ ہر قسم کے اوچھے ہتھکنڈے اپنانے پر تلی ہوئی ہے۔ معاملہ چاہے مسلم دنیا کی سیاسی خود مختاری اور آزادی کا ہو یا ان کے مذہبی و معاشرتی معاملات ہوں، ان پر شدید حملے ہورہے ہیں اور یہ بھی اسی مہم کا ایک حصہ ہے جو مسلمانوں کو ہر طرح مغلوب اور ذہنی اعتبار سے شکست خوردہ کرنے کے لیے جاری ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ امت مسلمہ ہر جگہ اس شکست خوردگی کے احساس میں یا تو مبتلا ہوگئی ہے یا اسے کیا جانے کی تیاری ہے۔ اور اس کا سبب مغربی معاشرہ کی ٹوٹ پھوٹ اور اندرونی خلفشار اور ناکامی کو چھپانے کی کوششیں بھی ہیں جس کے نتیجہ میں مسلم تہذیب و ثقافت اس ٹوٹتے بکھرتے سماج میں مقبول ہوتی نظر آرہی ہے۔ اس کا واضح ثبوت خود مغربی معاشرہ میں اسلام اور اسکی تہذیب کی بڑھتی مقبولیت ہے جس کا مرکز اس وقت یوروپی دنیا بنی ہوئی ہے۔ اس کے سامنے یہ ایک بڑا چیلنج ہے کہ اپنی بکھرتی معاشرت کے سامنے سے کس طرح نئے متبادل کو آنے سے روکا جائے۔
اس کے پس پردہ ایک اور بات بھی ہے اور وہ خود اس امت کی کمزوریاں، مغلوبیت اور اپنے مذہب کے سلسلے میں غفلت و لاپرواہی ہے۔ اس لیے کہ زندہ قومیں بڑی چاق و چوبند اور فعال ہوتی ہیں۔ ان کے اندر وہ طاقت ہوتی ہے کہ کوئی ٹکرانے کی جرأت نہیں کرپاتا جیسا کہ ہماری تاریخ بتاتی ہے۔ مگر ہمارے جرم ضعیفی نے جگہ جگہ ہمیں مرگ مفاجات کے کگار پر لاکھڑا کیا ہے۔ اس نے ہماری آواز کا اثر، ہمارے ہاتھوں کی قوت اور ذہن و دماغ کی زرخیزیوں کو متاثر کردیا ہے۔
امریکہ مسلم دنیا پر یورشوں کی تاریخ مرتب کررہا ہے تو فرانس نے ان کی تہذیب و ثقافت، مذہبی و شخصی آزادی اور ان کے داخلی معاشرتی نظام پر حملہ کرکے ایک نئی شروعات کی ہے جس کی اتباع کے لیے دیگر مغربی ممالک بھی تیار کھڑے ہیں اور عین ممکن ہے کہ اس مہم میں مغربی ممالک کے علاوہ باقی دنیا یا اس کے کچھ ممالک اور بھی شریک ہوجائیں۔ مگر یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ وقتی طور پر تو امت مسلمہ کے اندر پریشانی و اضطراب پیدا ہوسکتا ہے مگر پوری دنیا پر، خاص طور پر یوروپی دنیا پر، اس کے دور رس نتائج مرتب ہوں گے۔ کیونکہ ہماری رائے میں فرانس کے اس اقدام نے حجاب کے چلن کو جو خواتین کی عزت و عصمت اور ان کے وقار کا ضامن ہے، عالمی سطح پر اشو بنادیا ہے اور اب اسلام (بہ حیثیت کل) سے ہٹ کر اس کی چھوٹی چھوٹی چیزیں بھی عالمی سطح پر موضوع گفتگو بناکر ان کی افادیت اور اہمیت کو واضح کرنے کا بہترین موقع فراہم کیا ہے۔ اور اب نئے امکانات کے دروازے وا ہوگئے ہیں۔ مغربی دنیا شاید اس چیز سے ناواقف ہے کہ جس طرح ۱۱؍ستمبر نے عالمی سطح پر اسلام کے لیے امکانات کے دروازے کھول دئیے اور وہ مغرب میں سب سے زیادہ تیز رفتارپھیلنے مذہب بن گیا اسی طرح فرانس کے اس اقدام کے بعد خواتین کے درمیان اسلام کی مقبولیت میں زبردست تیزی آئے گی۔
تیزی سے بدلتے حالات اور اسلام سے متعلق روز افزوں اٹھنے والے سوالات ہمیں مکی دور کی طرف لے جاتے ہیں جہاں اللہ کے رسول کی دعوت کے بعد مکہ کے ہر فرد کی زبان پر محمد اور اس کا نیا دین ہوتا تھا۔ اور یہ آپ کے مشن کی زبردست کامیابی تھی کہ اسلام ہر خاص و عام کے درمیان گفتگو کا موضوع بن گیا۔
مگر اس واقعہ نے جہا ںہمارے سامنے امکانات کے نئے دروازے کھولے ہیں وہیں کسی نہ کسی حد تک ہمارے لیے وقتی دشواریوں اور نئے چیلنجز کو لاکھڑا کیا ہے۔ اور وہ یہ کہ ہم اس نئی صورتحال سے نبرد آزما ہونے کے لیے کیا طریقہ کار اپناتے ہیں اور تنگ حالات میں کس طرح اپنی تہذیب و ثقافت کی حفاظت کرتے ہیں۔ نیز ان حالات سے پیدا ہونے والے مواقع کو کس طرح اسلام اور اس کے معاشرتی نظام کی تفہیم و تشریح کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
یہ واضح حقیقت ہے کہ فرانس کا واقعہ خود مسلم معاشرہ کے لیے بھی ایک تازیانہ ثابت ہوا ہے اور ہورہا ہے جہاں مسلم خواتین و طالبات اس بات پر غوروفکر کررہی ہیں کہ آخر اس میں کیا خوبیاں ہیں جو خواتین کی عفت اور ان کے وقار کی ضامن ثابت ہوتی ہیں۔ حالیہ دنوں میں انٹرنیٹ پر ہونے والے اوپنین پولس اور طالبات کے انٹرویوز یہ بتاتے ہیں کہ خود مسلم معاشرہ کی ہزاروں طالبات کو اس واقعہ نے حجاب پہنادیا اور وہ اس حقیقت کی طرف لوٹ آئیں جس سے مغربی دنیا دور کرنا چاہتی ہے۔
مغرب کی عریاں تہذیب اس وقت طاقت و غلبہ کہ نشہ میں ہے اور اس کا رنگ دنیا کے ہر حصہ میں نظر آرہا ہے۔ ایسے میں ہماری خواتین و طالبات کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی تہذیب و ثقافت، اسلام کے نظام معاشرت اور اس کے ذریعہ فراہم کردہ ہدایات کو اچھی طرح سمجھیں اور برائیوں کے اس طوفان سے خود کو بہ خوبی و بہ حفاظت نکال کر دنیا کے سامنے واضح کردیں کہ یہی خواتین کے وقار کا ضامن ہے اور یہی ان کو تحفظ اور عظمت عطا کرسکتا ہے۔ مردو زن کی مساوات کا نعرہ لگانے والی مغرب کی عریاں تہذیب عورتوں کو نہ تو برابری کا درجہ دے سکی اور نہ اس کے عزت و وقار کو بلند کرسکی۔ اس کے برخلاف اس نے اسے جنس بازار بناکر مکارمردوں کی ہوس کا نشانہ بنادیا۔ چنانچہ ہم امت کی خواتین و طالبات کو دعوت دیں گے وہ اسلام کے نظام معاشرت کا مطالعہ مغربی تہذیب کی ناکامیوں کے تناظر میں کرتے ہوئے صالح طرز زندگی اختیا رکریں۔ حالات مشکل ضرور ہیں مگر آپ کے حق میں تبدیل ہونے والے ہیں ؎
دل و نظر کا سفینہ سنبھال کر لے جا
مہ و ستارہ ہیں بحروجود میں گرداب

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی