2

وٹامن یعنی حیاتین

اس صدی کے آغاز تک یہ سمجھا جاتا رہا ہے کہ پروٹین، چکنائی اور شکر جن کی تفصیل غذا کے باب میں دی جاچکی ہے، ہماری تندرسی کے لیے بالکل کافی ہے۔ مختلف طریقوں سے ان کے جوہر کشید کیے گئے۔ ان کو انسانوں اور تجرباتی چوہوں ہر آزمایا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی صحت گرگئی ہے۔ تو سائنسدانوں کو یہ فکر لاحق ہوئی کہ کوئی اور چیز بھی ہے جس کی انسانی جسم کو ضرورت ہے۔ لہٰذا کچی سبزیوں، سوکھی سبزیوں، ابلی سبزیوں اور گھی میں تلی سبزیوں پر تجربے کیے گئے تو ثابت ہوا کہ کچی اور ابلی ہوئی سبزیوں کے نتائج سوکھی ہوئی اور گھی میں تلی ہوئی سبزیوں سے بہتر رہے۔ اسی طرح گوشت اور مختلف اناجوں پر تجربے کیے گئے تو وٹامن کی تھیوری وجود میں آئی اور مزید تحقیقات اور تجربات کے بعد ان کے خواص اور اوصاف و اقسام کا تعین ہوا جو درج ذیل ہیں:
وٹامن اے، وٹامن بی، وٹامن سی، وٹامن ڈی، وٹامن ای، وٹامن جی!!
وٹامن اے:
جسم میں جہاں جہا ںچربی زیادہ ہے وہاں یہ وٹامن جمع رہتی ہے۔ بچپن میں اس وقت جب کہ بچے کا جسم بڑھ رہا ہوتا ہے اس کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے اس کی غیر موجودگی کے اثرات بھی خصوصاً اسی عمر میں ظاہر ہوتے ہیں۔ البتہ اس کا نہ ہونا، کچھ دیر تک تو کسی خاص بیماری کو ظاہر نہیں کرتا لیکن بعد میں ہڈیوں کا ٹیڑھا پن وغیرہ علامات نظر آنے لگتی ہیں۔
یہ وٹامن عام طور پر ہری سبزیوں، گاجر، بندگوبھی، ٹماٹر، ہرے پتوں والی سبزیوں اور تازہ پھلوں میں پائی جاتی ہے۔ پودے سورج کی روشنی میں اپنی خوراک سے یہ وٹامن بناتے ہیں۔ یہ کاڈ مچھلی کے جگر کے تیل میں، سمندر کی کائی، دودھ، دہی، پنیر، مکھن، انڈے کی زردی، گیہوں، مکئی اور پھلوں میں پائے جاتے ہیں۔
یہ وٹامن کاڈ مچھلی میں اس واسطے پائے جاتے ہیں کہ یہ مچھلی چھوٹی چھوٹی مچھلیوں کو کھاتی ہے۔ جو کہ ہری کائی اور سمندر کے اندر ہری گھاس پر گزارا کرتی ہیں، جو جانور ہری گھاس پر گزارا کرتے ہیںیہ ان کے دودھ مکھن میں پائی جاتی ہے۔ اصل بات پھر وہی آجاتی ہے کہ یہ ہری سزیوں میں پائی جاتی ہے اور ان کے کھانے والے کافی وٹامن اے حاصل کرتے ہیں۔ سوکھے چارہ اور بھوسہ پر پلنے والے جانوروں کے دودھ میں اس کی مقدار بہت کم ہوتی ہے۔ وٹامن اے ۱۰۰ درجہ کی حرارت سہہ سکتے ہیں۔ ۱۰۰ درجہ کی حرارت میں زائل ہوجاتے ہیں۔ گویا پانی میں ابالنے سے یہ قائم رہتے ہیں مگر سبزی وغیرہ کو گھی میں بھوننے سے بالکل تباہ ہوجاتے ہیں۔
وٹامن اے چربی تیل اور گھی میں حل ہوجاتے ہیں جب کہ وہ کچی اور ٹھنڈی حالت میں ہوں۔ سوڈا وغیرہ کھاری چیز کے اثر سے زائل ہوجاتے ہیں سبزیوں کو خشک کرنے پر بھی یہ وٹامن زائل ہوجاتے ہیں۔
اس وٹامن کی موجودگی سے بچوں کا جسم نشوونما پاتا ہے۔ خاص کر ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں اور بڑھتی ہیں۔ خون میں بیماریوں سے مدافعت کرنے کی قوت پیدا کرتا ہے۔ اس کی موجودگی آنکھوں کی صحت کا باعث ہوتی ہے۔
اس وٹامن کی غیر موجوگی سے رکٹ کا مرض پیدا ہوتا ہے جس کی نمایاں علامات حسبِ ذیل ہیں۔ یہ بیماری بچوں کو ہوجاتی ہے، بچوں میں ہڈی کی پیدائش کے لیے مواد تو موجود ہوتا ہے جسے وہ اپنی عام خوراک میں سے حاصل کرتے ہیں، لیکن اس وٹامن کی کمی سے ہڈیاں پوری طرح نشو ونمانہیں پاتیں۔ وہ ڈھیلی اور نرم رہتی ہیں۔ اس لیے ذرا سا بھی بوجھ پڑنے سے ہڈیاں ٹیڑھی ہوجاتی ہیں تالو کی ہڈی بدستور نرم رہتی ہے۔
جسم کے نظام اعصاب اور اعضائے رئیسہ کو اس کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ یہ عام طور پر گیہوں، مکی، چاول، دالوں اور خاص کر ان کے چھلکوں میں پایا جاتا ہے۔ حیاتین اے دہی، لسی، پنیر، بادام، پستہ اور ناریل میں بھی کافی مقدا میں پائے جاتے ہیں۔
اگر اناج کے چھلکے اتار دئے جائیں، وٹامن اے، کی خاصی مقدار چھلکوں میں رہ جاتی ہے۔ دالوں، چاولوں اور سبزیوں کو زیادہ دھونے سے بھی ان کی خاصی مقدار زائل ہوجاتی ہے۔
وٹامن بی:
نظام اعصاب اور اعضائے رئیسہ کی نشوو نما کے لیے بہت ضروری وٹامن ہیں۔ یہ پانی میں حل ہوجاتے ہیں۔ ۱۲۰ درجہ فارن ہیٹ کو برداشت کرسکتے ہیں۔ اس سے زیادہ حرارت سے زائل ہوجاتے ہیں۔
کھاری چیز کی ملاوٹ سے حرارت کے بغیر ہی زائل ہوجاتے ہیں۔ ان حیاتین کی موجودگی اعصاب اور دماغی قوت کے لیے ضروری ہے۔ یہ بیماری ان لوگوں میں عام طور پر دیکھی جاتی ہے جو ہمیشہ دھلے ہوئے یا مشین کے ذریعہ چھلکے اترے چاول زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ بظاہر اس بیماری کی کوئی علامت ظاہر نہیں ہوتی لیکن اندر ہی اندر اعصاب اور اعضائے رئیسہ کمزور ہوتے جاتے ہیں۔ بھوک کم ہوجاتی رہے، کام کرنے کی طاقت نہیں رہتی۔ دل کی کمزوری کی وجہ سے ہاتھ پاؤں سوجھ جاتے ہیں۔
وٹامن سی:
یہ اکثر ہری اور کچی سبزیوں مثلاً شلغم، گاجر، آڑو، سیب، کیلا اور خاص کر ترش پھلوں مثلاً لیمو، مالٹا، نارنگی، سنگترے اور ٹماٹر وغیرہ میں پائے جاتے ہیں۔ دودھ اور گوشت میں بھی اس کی قلیل مقدار ہوتی ہے۔
یہ وٹامن گھی، تیل اور چربی میں حل ہوجاتے ہیں۔ ۸۰ درجہ فارن ہیٹ سے زیادہ حرارت میں زائل ہوجاتے ہیں۔ کھاری چیز یعنی سوڈا وغیرہ کی ملاوٹ سے تو بغیر حرارت کے بھی ضائع ہوجاتے ہیں۔ ان کی غیر موجودگی عام طور پر ماسخورہ پیدا کرتی ہے۔ یہ بیماری عام طور پر ان لوگوں کی بھی ہوجاتی ہے جو خشک پھلوں اور خشک سبزیوں پر گزارہ کرتے ہیں۔ اس مرض میں مسوڑھے پھول جاتے ہیں۔ ان میں سے خون آنے لگ جاتا ہے۔
وٹامن ڈی:
ہڈیوں اور دانتوں کی مضبوطی میں اس وٹامن کا کافی ہاتھ ہے۔ اس کا وٹامن اے کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ یہ وٹامن پائے بھی اس غذا میں جاتے ہیں جس میں وٹامن اے پائے جاتے ہیں۔ جب کہ گیہوں، مکئی، گاجر ٹماٹر اور سبزیوں میں اس کی مقدار کم ہوتی ہے۔ دودھ، انڈے، پنیر اور کلیجی میں زیادہ پائے جاتے ہیں۔ مچھلی کا تیل اور سورج کی روشنی اس کے بہترین ذرائع ہیں۔ اگر سورج کے سامنے بیٹھ کر جسم پر تیل کی مالش کی جائے تو یہ وٹامن جسم کے اندر پیدا ہوکر جسم کو بیحد توانائی دیتے ہیں۔
وٹامن ای:
اس وٹامن کے بارے میں پوری تحقیق نہیں ہوئی۔ البتہ اتنا معلوم ہوا ہے کہ اس کی موجودگی تندرستی و توانائی کے لیے نہایت ضروری ہے۔ یہ وٹامن عام طور پرگیہوں کے چھلکوں دودھ اور انڈوں وغیر ہ میں پایا جاتا ہے۔ اناجوں اور دالوں میں بھی اس کی خفیف سی مقدار ہوتی ہے۔
وٹامن جی:
اس کا نام وٹامن بی -۲ بھی ہے۔ یہ وٹامن جانوروں کی کلیجی اور خمیر میں زیادہ پایا جاتا ہے۔ دودھ، انڈے، مچھلی اور گوشت میں بھی پایا جاتا ہے۔ خون کی کمی اینمیا اور یرقان میں اس کا استعمال بہت صحت بخش ثابت ہوتا ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
افضال احمد