2

غذا میں سلاد کا استعمال

متوازن کھانا لحمیات (پروٹین)، نشاستہ (کاربوہائڈریٹس) چکنائی، حیاتین اور معدنی نمکوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ لحمیات دودھ،دہی اور گوشت سے پورے کئے جاتے ہیں۔ آٹے اور دالوں میں بھی کچھ پروٹین ہوتی ہے۔ نشاستہ گندم کے آٹے، چاول اور آلو وغیرہ سے پورا کیا جاتا ہے۔ چکنائی کے لیے اب تھوڑی سی مقدار دودھ دہی سے اور زیادہ مقدار تیل سے پوری کی جاتی ہے۔ حیاتین اور معدنی نمکوں کا ماخد پھل اور سبزیاں ہیں۔
حیاتین (ج) ایک انتہائی ضروری حیاتین ہے جو کھانا پکانے سے ضائع ہوجاتی ہے۔ دوسری حیاتین بھی پکنے کے عمل سے کم ہوجاتی ہیں، اس لیے سلاد کی اہمیت بڑھی کہ اس میں زیادہ تر سبزیاں کچی استعمال ہوتی ہیں۔
سلاد کے فوائد
کچی سبزیوں میں چوں کہ حیاتین اور معدنی نمکوں کی مقدار مناسب ہوتی ہے ، اس لیے اس سے زیادہ فائدہ حاصل ہوتا ہے۔
سبزیوں سے وزن بڑھتا نہیں۔
دسترخوان پر سلاد کی ڈش کھانے کے مزے میں اضافہ کرتی ہے۔
پکی ہوئی غذا میں تغذئیے کی جو کمی رہ جاتی ہے وہ سلاد سے پوری ہوجاتی ہے اور توازن قائم ہوجاتا ہے۔
کچی سبزیوں سے ریشہ (فائبر)حاصل ہوتا ہے۔
سلاد کے لیے سبزیاں
(۱) متوازن غذا کی سب سے ضروری بات یہ ہے کہ اس میں سبز پتوں والی سبزیوں ضرور شامل ہونی چاہئیں اور روزانہ شامل ہونی چاہئیں۔ سبز پتوں والی سبزیاں میں حیاتین (ب) مرکب کی تقریباً سب نہیں تو زیادہ تر حیاتین شامل ہوتی ہیں۔ اس قسم میں مندرجہ ذیل سبزیاں شامل ہیں:
پالک، سرسوں کی نرم کونپلیں، شلغم اور چقندر کے نرم پتے، سلاد کے پتے اور بندگوبھی۔
دوسری قسم مسالے دار ہری سبزیوں کی ہے۔ اس گروپ میں ہری سونف (جب دستیاب ہو) سویا، دھنیا، پودینہ، سبز مرچیں، شملہ مرچیں، پیاز، لہسن (ہری لہسن نہ ہو تو چند جوئے لہسن کی پوتھی سے نکال کر ضرور رکھے جائیں)۔
تیسری قسم لیموں اور کھٹے پر مشتمل ہے۔ اگر یہ نہ ہوں تو گریپ فروٹ بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔
چوتھی قسم سبزیوں پر مشتمل ہے:
پھول گوبھی، چقندر، شلغم، آلو، اروی کو ابال کر استعمال کریں۔ ٹماٹر، کھیرا، ککڑی، گاجر مٹر، دھوکر کاٹ کر کھا ئے جاسکتے ہیں۔
بعض سبزیوں کے اہم فوائد
آلو: جس طرح انڈا غذائیت سے بھرپور ہوتا ہے، اس طرح آلو بھی تغذیے سے بھرپور ہے۔ اسے ’’غریب انڈا‘‘ کہا جاتا ہے۔
بندگوبھی : حیاتین اور نمکیات کے علاوہ اس کا رس معدے کے السر کو مفید ہے۔
پالک: اس میں حیاتین الف خاصی مقدار میں ہوتی ہے۔
پودینہ: پیٹ کی تکلیفوں کے لیے مفید ہے۔ ریاح کو توڑتا ہے۔
پیاز: خون کی رگوں کو کھولتی ہے۔ جراثیم کو مارتی ہے۔
نیازبو: پیشاب کی جلن، گلے کی خراش دور کرنے کے علاوہ ریاح کو خارج کرتی ہے۔
ٹماٹر: جو حیثیت پھلوں میں سیب کو حاصل ہے وہ ٹماٹر کو سبزیوں میں حاصل ہے۔ اس میں حیاتین (ج) بھی ہوتی ہے۔ خون کی کمی کو دور کرتا ہے۔
چقندر: جدید تحقیق کے مطابق تقریباً ۲ پونڈ کچا چقندر روزانہ استعمال کرنے سے سرطان کا خطرہ دور ہوجاتا ہے۔
دھنیا: سلاد کو خوشبودار بناتا ہے۔ معدے کو طاقت دیتا ہے۔ تبخیر کو روکتا ہے۔
سونف: بینائی کے لیے مفید ہے۔

 

شیئر کیجیے
Default image
منیرہ خان