6

ہم نفس(۳)

آوارئہ غربت ہوں ٹھکانہ نہیں ملتا
ناوک ہوں مجھے کوئی نشانہ نہیں ملتا!
ماہ گل کھڑکی کے سامنے کھڑی تھی جس میں لوہے کی سلاخیں لگی ہوئی تھیں۔ وہ باہر دیکھ رہی تھی۔ بادام کے درخت کے پاس ایک بڑے پتھر پر کرنل بیٹھا تھا۔ بادام کے شگوفوں کی ابریشمی پتیاں آہستہ آہستہ یوں گر رہی تھیں جیسے برف گر تی ہو۔ کوہ ہندوکش کی چوٹیوں پر برف چمک رہی تھی۔ ماہ گل کی طرف اس کی پیٹھ تھی۔ تازہ کٹے ہوئے بالوں کے سرے سونے کی تاروں کی طرح چمک رہے تھے۔ یہ کیسا عجیب شخص ہے؟ آخر یہ کیا چاہتا ہے؟ یہ دوسرے روسی کافروں سے اتنا مختلف کیوں ہے؟ کیا اس نے کوئی جھوٹا لبادہ اوڑھا ہوا ہے۔ یا مجھ پر کوئی نفسیاتی حربہ آزما رہا ہے؟ مگر اس کی بھلا کیا ضرورت ہے؟ کئی کئی دن غائب رہتا ہے پھر اچانک آجاتا ہے۔ نہ اب پوچھ گچھ کرتا ہے نہ کوئی دبائو ڈال رہا ہے۔ بلکہ یوں لگتا ہے جیسے مجھے زندہ رہنے کا حوصلہ دے رہا ہو۔ بڑا ہی پراسرار شخص ہے۔ اس کے بارے میں جو داستانیں میں نے سنی ہیں ان کا ہیرو تو یہ قطعی نہیں لگتا۔ پھر وہ اپنے ساتھیوں کے بارے میں سوچنے لگی۔ نہ جانے وہ کہاں ہوں گے۔ کیا کر رہے ہوں گے۔ میں یہاں بیکار میں ضائع ہورہی ہوں۔ پتہ نہیں میرے گھر والو ںپر کیا گزر رہی ہوگی۔ ضروروہ بھی گرفتار کرلئے گئے ہوں گے۔ والد اور بھائی تو مجاہدین کے ساتھ ہیں ۔ مگر والدہ اور چھوٹے بھائی تو گھر پر ہی تھے۔ اس کی آنکھیں خشک تھیں مگر دل ہولے ہولے جیسے سسکیاں بھر رہا تھا۔ اس کی گرفت سلاخوں پر سخت ہوگئی کاش مجھ میں اتنی طاقت ہوتی کہ میں اپنی سرزمین کو ان ناپاک روسیوں کے منحوس قدموں سے محفوظ رکھ سکتی۔ ان سب کو اٹھاکر ان پہاڑوں کے اُس پار پھینک سکتی۔ آخر ہمارا جرم کیا ہے۔ یہ کیوں ہمارے دین اور ہماری نسلوں کو ملیا میٹ کرنے پر تل گئے ہیں۔ ہماری تمام مسلمان ریاستوں کو بھی ہڑپ کرکے ان کی پیاس نہیں بجھی۔ آخر یہ سرخ دیو اور کتنے ملکوں کو نگلے گا۔ اس کا غصہ سامنے بیٹھے ہوئے بے نیاز سے شخص پر اترنے لگا۔ کاش میرے پاس خنجر ہوتا تو میں اس شاندار چوڑے چکلے شخص کی بوٹیاں کرڈالتی۔ یہ بھی اسی طاقت کا گماشتہ ہے۔ ماہ گل کی آنکھوں میں نفرت، غصہ اور آنسو تھے۔ عین اسی وقت اس نے مڑ کر ماہ گل کی طرف دیکھا۔ اس کی عقاب جیسی تیز نگاہیں جیسے سیدھی اس کے ذہن کی گہرائیوں میں اترگئیں اور وہاں بپا ہونے والے طوفان سے باخبر ہوگئیں۔ ماہ گل کو لگا جیسے اس نے اس کی چوری پکڑ لی ہو۔ اس کا چہرہ ایکدم سرخ ہوگیا۔
’’کیا دیکھ رہی ہو۔ بلکہ کیا سوچ رہی ہو‘‘؟
’’کچھ نہیں‘‘۔
’’ان سلاخوں کو توڑنے کا طریقہ سوچ رہی ہو، باہر آنا چاہتی ہو یا مجھ سے چھٹکارا حاصل کرنے کا منصوبہ بن رہا ہے‘‘۔
ماہ گل نے بات ٹالتے ہوئے کہا’’ایک بات بتائیے آپ ہماری زبان اہل زبان کی طرح کیسے بول لیتے ہیں‘‘۔
’’میں تو اور بھی کئی زبانیں اہل زبان کی طرح بول لیتا ہوں‘‘۔
’’خاصی تربیت کی گئی ہوگی آپ کی یہاں بھیجنے سے پہلے۔ کہیں آپ رسوائے زمانہ کے۔جی۔ بی۔ کے ایجنٹ تو نہیں؟‘‘
’’سوال کرنے کا استحقاق تو صرف میرا ہے۔ ہاں اگر تم مجھے گرفتار کرلیتیں تو پھر بات دوسری تھی‘‘۔
’’میں گرفتار کرتی تو کوئی سوال نہ کرتی‘‘۔
’’پھر کیا کرتیں؟‘‘
’’بس سیدھے سینے میں گولی اتار دیتی‘‘۔
’’تب ہی تو کہتے ہیں کہ عورتیں ناقص العقل ہوتی ہیں۔ عقل سے زیادہ جذبات کے اشاروں پر چلتی ہیں۔ یعنی معلومات حاصل کرنے کا موقع ملتا اور تم اسے گنوا دیتیں‘‘۔
’’چلئے معلومات حاصل کرنے کے فوراً بعد ختم کردیتی‘‘۔
کرنل ہنسا۔ ’’معلومات حاصل کرنا اتنا ہی تو آسان ہے نا۔ کے ۔ جی ۔بی کے جاسوس کو توڑنا اتنا سہل نہیں۔ ابھی تم لوگ اتنے ترقی یافتہ نہیں ہوئے۔ ویسے بھی ٹوٹنے سے پہلے وہ اپنی زندگی کا خاتمہ خود کرلیتے ہیں۔‘‘۔
’’توگویا آپ نے یہ اعتراف کرلیا کہ آپ کے۔ جی ۔ بی کے ایجنٹ ہیں‘‘۔
’’ہرگز نہیں۔ میں نے ایسا کوئی اعتراف نہیں کیا۔ میں نے تو تمہیں ایک حقیقت بتائی ہے‘‘۔
’’آپ لوگ جاسوسوں سے رازاگلوانے کے لئے کون سے ترقی یافتہ ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں؟‘‘
’’پھر سوال‘‘
’’یہ کوئی راز تو نہیں ہے۔ آخر باقی سارے آپ جیسے ترقی یافتہ ممالک بھی جانتے ہی ہوں گے۔ ہم دراصل ’’ترقی یافتہ نہیں ہیں صرف بہادر لوگ ہیں۔ ہم ظلم وتشدد اور اذیت دینا نہیں جانتے۔ سیدھا لڑتے ہیں۔ خود شہید ہوجاتے ہیں اور دشمن کو واصل جہنم کردیتے ہیں۔ یہ آپ جیسے ترقی یافتہ لوگوں کو ہی زیب دیتا ہے کہ آپ جب نشانہ بناتے ہیں تو نہ بوڑھوں کو دیکھتے ہیں نہ بچوں کو۔ یہاں تک کہ بے زبان جانور ، معصوم پھول پودے اور درخت بھی آپ کے ستم سے بچ نہیں سکتے۔ انہیں بھی تم لوگ اجاڑ اور جلاکر خاکسترکردیتے ہو۔‘‘
’’جنگ میں سب کچھ جائز ہے۔‘‘
’’ظاہر ہے جو لوگ اپنے ہم وطنوں اور ہم زبانوں پر ظلم کرنے سے نہیں چوکتے۔ وہ دوسروں پر کیا رحم کریں گے۔ رحم نام کی چیز تو خیر تم لوگوں میں ہے ہی نہیں۔ جب منے منے بچوں کے ہاتھ میں کھلونا بم پکڑاتے ہو تو کیا تمہیں اپنے بچے یاد نہیں آتے۔ کیا تم نے سسکتے ہوئے وہ بچے نہیں دیکھے جن کے جسموں کے مختلف حصے بموں نے اڑا دیئے۔ کیا تمہارے دیس میں اولاد نہیں ہوتی؟ مائیں نہیں ہوتیں؟ کیا تمہارے کان ان کی معصوم ہنسی سے آشنا نہیں ہیں؟ تم لوگوں نے بچوں کی ہنسی چھین کر ان کے لبوں کو فریادیں اور آہیں دے دی ہیں۔ ان کی آنکھوں سے مستقبل کے خواب چھین کر آنسو بھر دیئے ہیں۔ ان کی بینائی چھین کر ان کو اندھیروں میں بھٹکنے کے لئے چھوڑ دیا ہے۔ تم نے ہماری آئندہ نسلوں کو معذور اور لنگڑا کردیا ہے۔ تم کیوں اتنے ظالم اور اتنے جابر ہو؟ مجھے بھی مارد و۔ ماردو مجھے‘‘۔
ماہ گل سلاخوں سے سر ٹکرا رہی تھی۔ اس کی پیشانی پر خون چھلک آیا ۔ کرنل کھڑکی کے پاس آگیا۔ اس نے سلاخوں پر اپنے ہاتھ رکھ دیئے۔
’’ہوش میں آئو لڑکی۔ یوں سرٹکرانے سے سلاخیں نہیں ٹوٹتیں۔ تم زخمی ہوجائوگی‘‘۔
’’آخر تم چاہتے کیا ہو۔ یا مجھے آزاد کردو یا قتل کردو‘‘۔
’’میں نے اپنی زندگی کے تجربات سے یہ سیکھا ہے کہ انسان دراصل بنیادی طور پر درندہ ہے۔ اگر وہ کسی کو پھاڑ نہ کھائے تو اس سے طاقتور اسے پھاڑ کھائیں گے۔ اگر آج طاقت تمہیں مل جائے تو تم بھی روسیوں سے کم نہیںنہیں ہوئوگے۔یہی ظلم وجورتم بھی کرو گے پوری تاریخ اٹھاکر دیکھ لو۔ ہر طاقتور نے کمزور کے ساتھ یہی سلوک کیا ہے‘‘۔
’’ہم ایسا نہیں کریں گے؟‘‘
’’تم بھی ایسا کروگی۔ ابھی تم نے کہا تھا کہ مجھے گولی مار دیتیں۔ تم کہتی ہو کہ تم تاریخ کی طالب علم رہی ہو۔ کیا تم نہیں جانتیں کہ یہودی ہزاروں سال تک ظلم کی چکی میں پستے رہے اور جیسے ہی انہیں ذرا سر اٹھانے کا موقع ملا تو انہوں نے فلسطینیوں کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ ابھی تو صابرہ اور شتیلا اور جنین کے کیمپوں کا خون بھی خشک نہیں ہوا۔ دونوں عظیم جنگوں میں کیا ہوا۔ کیا ناگاساکی اور ہیروشیما پر ایٹم بم گرانے والے ہم تھے؟ نازیوں نے جو ظلم توڑے کیا وہ روسی تھے۔ ہر انسان کے اندر ایک درندہ چھپا ہوتا ہے‘‘۔
’’مگر درندے تو اپنی نوع کو چیرتے پھاڑتے نہیں‘‘۔
’’انسان کو اپنی بقا عزیز ہے اور وہ اسی کے تحفظ کے لئے درندہ بنتا ہے۔ ہر بڑی مچھلی چھوٹی مچھلی کو نگل جاتی ہے یہ کلیہ ہے سروائیول کا ۔ ورنہ یہ ساری چھوٹی مچھلیاں مل کر بڑی مچھلی کا تیاپانچہ کردیں۔‘‘
’’اسی لئے تم ہمیں نگلنا چاہتے ہو۔ مگر میں یہ بتا دوں کہ ہم مسلمان ایسے نہیں ہیں‘‘۔
’’عراق ایران میں لڑنے والے کون ہیں؟ کیا وہ مسلمان نہیں۔‘‘
’’آپ تو کم از کم مختلف ہیں۔ آپ نے بھی تاریخ پڑھی ہے۔ آپ کیوں اس استبداد اور بہمیت میں حصے دار بن رہے ہیں۔‘‘
’’تم یہ کیسے کہہ سکتی ہو کہ میں ان سے مختلف ہوں۔ میں بھی اسی مشینری کاایک پرزہ ہوں۔‘‘
’’بس میراوجدان کہتا ہے کہ آپ مختلف ہیں‘‘۔
’’میں کوئی سیاستداں نہیں ہوں۔ ایک سپاہی ہوں۔ میرا کام ہے احکامات کی تعمیل کرنا۔ میں ان باتوں پر غور نہیں کرتا اور نہ مقصد وقصد کی چھان بین میں وقت ضائع کرتا ہوں۔ ہمیں کہا گیا ہے کہ اس ملک کی حفاظت کرو۔ باغیوں سے۔ سو ہم کر رہے ہیں‘‘۔
’’کیا ہم باغی ہیں۔ اگر یہ ملک آپ کاہوتا تو ہم ضرور باغی ہوتے۔ مگر یہ تو ہمارا اپنا وطن ہے۔ ہم کس کے خلاف بغاوت کر رہے ہیں۔ اپنی سرزمین کو غیروں کے تسلط سے آزاد کرانا بغاوت نہیں یہ تو حریت پسندی ہے۔ ‘‘
’’تمہارے اپنے افغانوں ہی کی تو حکومت ہے۔ تم اس کو قبول کیوں نہیں کرلیتے‘‘۔
’’مار آستین ہیں۔ وہ ہمارے نہیں ہیں ۔ وہ آپ کی کٹھ پتلیاں ہیں۔‘‘
’’میں بڑی مشکل سے غصہ ضبط کرتا ہوں۔ آج تک کسی کی مجال نہ تھی کہ میرے سامنے اونچی آواز سے بول سکے۔ دل چاہتا ہے کہ تمہیں واقعی درندوں کے حوالے کردوں‘‘۔
’’کیوں آپ کیا کم ہیں ۔ لیجئے میں نے سرجھکادیا۔ آپ قلم کردیں‘‘۔
’’یہی تو حیرانی ہے کہ اب تک یہ سرشانوں پر اور زبان منھ میں باقی کیسے ہے۔ بات کیا ہے۔ کیا میںبزدل ہوتا جارہا ہوں۔ کسی ذہنی دبائو یا اضمحلال کا شکار ہوگیا ہوں۔ تمہیں دیکھ کر مجھے کچھ یاد آنے لگتا ہے۔ صدیوں پہلے کا کوئی دھندلاسا خواب۔ اگر میں آواگون کا قائل ہوتا تو شاید میں سوچتا کہ پچھلے کسی جنم میں میرا تمہارا کوئی رشتہ، کوئی تعلق رہا ہے جو میرے اٹھنے والے بازو کو شل کردیتا ہے، میرے غصے کی آگ کو ٹھنڈا کردیتا ہے۔ میں یہ معمہ حل کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔
وہ وہیں ٹہلنے لگا’’باغیوں کی کوئی خبر سنائیے میں تو دنیا سے بالکل ہی کٹ کر رہ گئی ہوں۔‘‘
’’تمہارے حق میں تو اچھی خبر یں ہیں۔ تفصیل سن کر کیا کروں گی۔ گوریلا جنگ میں تو ظاہر ہے کہ ان کا پلہ ہی بھاری رہتا ہے۔ روبرو لڑیںتب پتہ چلے۔ بہرحال میرے علاقے میں تو فی الحال امن ہے۔ اب سردی ختم ہورہی ہے۔ لہٰذا لڑائی میں تیزی آئے گی۔ ہم تمہارے ساتھیوں کو گرفتار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘‘۔
’’میرے گھر تک تو پہنچ ہی گئے ہوں گے آپ کے جاسوسی کتے۔‘‘
’’تمہارا باپ اور بھائی تو نہیں مل سکا۔ ماں اور چھوٹے بھائیوں کو پکڑ لائے تھے۔ انہیں تمہاری اور تمہارے بھائی کی سرگرمیوں کا کوئی علم نہ تھا۔ لہٰذا میں نے انہیں چھوڑ دینے کا حکم دے دیا۔ خواہ مخواہ باندھے رکھنے سے کیا فائدہ۔ اور ویسے بھی ان کی نگرانی کرکے ہم تمہارے باپ اور بھائی پر زیادہ آسانی کے ساتھ ہاتھ ڈال سکتے ہیں۔ کیوں میں نے ٹھیک کیا نا۔‘‘
’’روسیاہ روسیوں پر خدا کی لعنت ہو۔‘‘ ماہ گل نے منھ پھیر کر کہا۔
(۴)
جن لوگوں میں رہتا ہوں ان میں سے نہیں ہوں
ہوں کون؟ مجھے اپنا زمانہ نہیں ملتا وہ کسی مہم پر گیا ہوا تھا اور کافی دنوں بعد لوٹا تھا۔ جیسے ہی وہ ڈھلا ن چڑھ کر اوپر آیا ٹھٹھک کر رہ گیا۔ ماہ گل شاید غسل کرکے نکلی تھی۔ کیونکہ پشت پر اس کے برائون بال کھلے ہوئے تھے۔ وہ سیاہ افغانی فراک اور پاجامے میں تھی۔ چادر اس کے شانوں پر پڑی تھی ۔ کرنل کو دیکھ کر وہ چونک سی پڑی۔ ایک رنگ سا اس کے چہرے پر بکھر گیا۔ اس نے جلدی سے چادر سر پر کھینچ لی۔ کرنل کی پیشانی پر بل دیکھ کر وہ کچھ سہم سی گئی۔
’’تم یوں آزاد بیٹھی ہو۔‘‘ کرنل نے ناگواری سے کہا۔’’ساشا‘‘ اس نے اردلی کو آواز دی۔
’’ساشا کو کچھ نہ کہئے گا۔ میں نے ہی اس کی خوشامد کی تھی۔ میں نے تو قول دیا تھا کہ بھاگنے کی کوشش نہیں کروں گی‘‘۔
’’اور اس بے وقوف نے تم پر یقین کرلیا۔ ایک عورت کے قول پر ۔‘‘
’’کیوں کیا عورتیں قول کی پکی نہیں ہوتیں۔ میں مسلمان ہوں۔ مسلمان اپنی بات کے سچے ہوتے ہیں۔‘‘
’’اس نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی۔ اس غفلت کی سزا اسے ضرور ملنی چاہئے۔ ‘‘
’’سزا مجھے دیں۔ میں نے ضمانت دی تھی۔ آج جمعہ تھا۔ میں باہر نکل کر نماز پڑھنا چاہتی تھی۔ ویسے بھی آپ کے سنتری بڑے چوکس ہیں۔ وہ مجھ جیسی کمزور سی لڑکی کو کہاں بھاگنے دے سکتے ہیں۔
ایک کمزور سی بلی ماہ گل کی ٹانگوںسے لپٹنے لگی۔ ساشا بھی ڈرا سہما سرجھکائے کھڑا تھا۔
’’ ہم نے یہ بلی پال لی ہے۔ ’’ماہ گل نے بلی کو گود میں اٹھائے ہوئے بتایا۔
’’ہم کون؟‘‘
’’میں ساشا اورآپ، اور کون!‘‘
’’میں درمیان میں کہاں سے آگیا۔‘‘
’’آپ کو ترس نہیں آتا۔ بے چاری بلی پر۔ دیکھئے فاقے کرکر کے کتنی کمزور ہوگئی ہے۔ انسانوں کے لئے خوراک نہیں رہی تو جانوروں کو بھلا کہاں سے ملے‘‘۔
’’سر! چوہے بہت ہوگئے تھے سو میں نے سوچا…‘‘
’’بس زیادہ بک بک کرنے کی ضرورت نہیں۔ چل کر میرے لئے غسل کا پانی تیار کرو‘‘۔ کرنل نے خشک لہجے میں بات ٹال دی۔ ساشا جلدی سے اندر چلا گیا۔
’’تم میری نرمی کا ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہو۔ ساشا کو بھی اپنی چکنی چپڑی باتوں کے جال میں پھانس لیا ہے شاید‘‘۔
’’آپ میری توہین کر رہے ہیں‘‘۔
’’تمہاری توہین! تم ہو کون؟ میری آقا۔ علاقے کی حاکم؟‘‘
’’توہین کیا صرف بڑے آدمیوں کی ہوتی ہے۔ بحیثیت انسان میری کوئی عزت نہیں۔ میں نے ساشا سے کوئی چکنی چپڑی بات نہیں کی۔ وہ پیچھے اپنی ایک بیٹی اور بیٹا چھوڑ کر آیا ہے، ان کے لئے اداس ہوتا ہے۔ نیچے جاکر کسی سے بات نہیںکرسکتا کیونکہ میری نگرانی پر آپ اسے لگاگئے ہیں۔ بے چارہ دوچار باتیں مجھ سے کرلیتا ہے تو کیا ہوا۔آخر ہم دونوں انسان بھی تو ہیں۔‘‘
’’ساشا سے باتیں کر کر کے تمہاری زبان بھی خوب کھل گئی ہے۔ اگر تم بھاگ جاتیں تو جانتی ہو کیا ہوتا۔ ہم دونوں کا کورٹ مارشل ہوجاتا۔ میری نرمی کی وجہ سے سپاہی شک زدہ ہوتے جارہے ہیں۔
’’لوگوں کا کیا ہے۔ جتنی زبانیں ہوتی ہیں اتنی باتیں بھی ہوتی ہیں۔ ‘‘ ماہ گل نے بات بدلی۔ اس کا لہجہ سپاٹ تھا۔
’’آپ اتنے دن کہاں رہے۔ آپ کی مہم کیسی رہی؟ ‘‘ اس نے بات جاری رکھی۔
’’ہم نے باغیوں کی ایک چوکی کا صفایا کردیا۔ ایک اہم علاقہ بھی ان سے چھین لیا ہے‘‘۔
’’خدا غارت کرے۔ ’’ماہ گل زیر لب بڑبڑائی۔ اس کا چہرہ تاریک ہوگیا۔
’’کسے غارت کرے۔ مجھے؟ اب کیا تم میری توہین نہیں کر رہیں‘‘۔
’’صفایا کرنے والوں کو غارت کرے‘‘ ماہ گل اسی لہجے میں بولی۔ بلی کو اتار کر اس نے پیٹھ پھیر لی۔ وہ اپنے آنسو چھپانا چاہ رہی تھی۔
’’سر! پانی تیار ہے غسل کرلیں تو کھانا لگائوں۔‘‘ ساشا نے آکر کہا۔
کرنل جب نہاکر باہر آیا تو ماہ گل گھاس پر نماز پڑھ رہی تھی۔ شبنمی آنسوئوں کی لڑیاں اس کے رخساروں پر ٹوٹ رہی تھیں۔ وہ برآمدے کے ستون سے ٹیک لگاکر اسے نماز پڑھتے دیکھتا رہا۔ ماہ گل نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے۔ یہ منظر اس نے پہلے بھی دیکھا تھا۔ یوں ہی رخساروں پر بہتے ہوئے آنسو یوں ہی آسمان کی طرف اٹھایا ہوا ہاتھوں کا کاسہ۔ جیسے کوئی شخص ٹرانس میںہو یا نیند میں چل رہا ہو ۔ وہ ماہ گل کی طرف بڑھا اور اس کے قریب گھاس پر بیٹھ گیا۔ اس کے چہرے پر عجیب سی معصومیت تھی۔ ماہ گل نے منھ پھیر کر اس کی طرف دیکھا۔ کرنل نے اپنے گریبان کے دو بٹن کھول دیئے اور آگے جھکا۔ ماہ گل قدرے حیران ہوئی۔ پھر جیسے سمجھ گئی۔ وہ جھجکی مگر پھر اس نے گریبان میں پھونک ماردی۔ ’’اللہ آپ کو صراط مستقیم دکھائے‘‘۔
وہ چند لمحے مبہوت سا ماہ گل کو دیکھتا رہا۔ جیسے پہلی مرتبہ دیکھ رہا ہو۔ اور پھر وہ گھاس پر سیدھا لیٹ گیا۔ اپنے دونوں ہاتھوں کا تکیہ بناکر ایسی سمندروں جیسی گہری سبز آنکھوں میں اس نے پہلے بھی جھانکا تھا۔ نتھری نتھری ، روشن روشن جیسے کوئی معبد ہو جہاں دیئے جل رہے ہوں۔ وہ بھی زندگی کا ایک موڑ تھا۔ اس کے دل میں ایک دردانگیز اضطراب جاگ اٹھا۔ نیلگوں آسمان پر بادل اپنے بادباں کھولے آہستہ آہستہ تیر رہے تھے۔ درخت پتوں سے ڈھک گئے تھے۔ پہاڑی علاقہ ہونے کے باوجود ہلکی ہلکی خوشگوار سی گرمی تھی۔ وہ جیسے خود اپنے آپ سے بولا۔
’’میری ماں بھی اسی طرح میرے گریبان میں پھونک مارتی تھی‘‘
’’آپ کی ماں؟ ‘‘ ماہ گل نے حیرت سے پوچھا۔
’’ہاں میری ماں ہی تو تھی او ر کون ہوسکتی ہے۔ سبز آنکھوں والی کچھ کچھ تم سے ملتی جلتی۔ جب سے تمہیں دیکھا تھا میں یہی یاد کرنے کی کوشش کررہاتھا کہ تم سے ملتی جلتی وہ کون ہستی تھی۔ وقت نے اس کے نقوش دھندلا دیئے تھے۔ مگر آج تمہیں یوںعبادت کرتے دیکھ کر وہ ایک دم یوں سامنے آگئی جیسے کل کی بات ہو۔ جب وہ مٹی سے بنی ہوئی جھونپڑی کی تنہائی میں چھپ کر یوں ہاتھ اٹھاکر روتی تھی۔ یا پھر جنگل میں جب لکڑی کے ٹکڑے جمع کرتی تھی تو گھاس پر اسی طرح سجدہ ریز ہوجایا کرتی تھی۔ مجھے اپنے بازوئوں میں بھینچ کر پیار کرتی۔ اس کے آنسوئوں سے میرا چہرہ بھیگ جاتا اور میرے منھ میں نمکین آنسوئوں کا ذائقہ کھل جاتا۔ وہ مجھ پر نہ جانے کیا پڑھ پڑھ کر پھونکا کرتی تھی۔
’’تو کیا آپ کی ماں مسلمان تھیں۔ آپ روسی نہیں ہیں؟ ‘‘ ماہ گل نے بے تاب ہوکر پوچھا۔
’’میرا باپ کا کیشیا کا تھا اور ماں تاتاری تھی مگر میں خود کو روسی ہی سمجھتا ہوں۔ میں پارٹی کا رکن ہوں۔ اچھاچھوڑو ان باتوں کو یہ میرا ماضی ہے۔ اس کو بھول جانا ہی چاہئے۔ ہمیں اس زمانے کی فکر کرنی چاہئے جس میں ہم رہ رہے ہیں؟ بس رہے ہیں۔ ساشا کھانا لائو بھئی۔
’’ماہ گل کو جیسے چپ سی لگ گئی تھی۔ اس انکشاف نے اسے دم بخود کردیا تھا۔ وہ اپنی سوچوں میں غلطاں تھی۔ ساشا نے برآمدے میں کھانا لگا دیا۔
’’کیا سوچ رہی ہو‘‘۔ کرنل اٹھتے ہوئے بولا۔
’’کچھ نہیں‘‘ ماہ گل نے ایک طویل سانس کھینچا۔
’’آئو، آج میرے ساتھ ہی کھانا کھائو۔‘‘
ماہ گل نے افغانی نان کے ٹکڑے پر مکھن رکھ کر اسی سے کھانا شروع کردیا۔
’’آپ کی والدہ اب کہاں ہیں؟‘‘
’’ہوں گی کہیں سائبیریا کی کسی برفانی قبر میں۔‘‘ کرنل نے بظاہر لاپروائی سے جواب دیا۔ ’’سائبریا کی برفانی قبر میں؟ مگر کیوں؟‘‘
’’اس لئے کہ اسٹالین نے جب تطہیر کا عمل شروع کیا تھا تو تمام تاتاریوں کو سائبیریا بھیج دیا تھا۔ اس وقت تو میری والدہ کسی طرح بچ گئی تھیں ۔ شاید اس لئے کہ میرے والد تاتاری نہ تھے۔ مگر وہ روسی بھی نہ تھے۔ وہ ترکی النسل تھے۔ اس لئے ان کو جلاوطنی کا ویزا دیا گیا۔ یعنی ان کے پاس پاسپورٹ نہ تھا۔ وہ اپنے ملک میںآزاد گھوم پھر نہیں سکتے تھے۔‘‘
’’یعنی اپنے ہی ملک میں بھی گھونے پھرنے کے لئے پاسپورٹ چاہئے تھا۔‘‘ ماہ گل حیران رہ گئی۔
’’ہاں جو روسی النسل تھے یا جس سے حکومت خفا ہوجائے اس کا پاسپورٹ ضبط کرلیا جاتا تھا اوراسے ایگزائیل ویزا دے دیا جاتا تھا۔ میری ماں چونکہ اپنے عقیدے سے دستبردار نہیں ہوئیں لہٰذا وہ انقلاب دشمن قرار دے دی گئیں۔ اسی لئے میرے والد بھی مشکوک ہی رہے۔ حالانکہ ماں کو سائبیریا بھیج دیا گیا تھا۔ چنانچہ ان کو بھی وسطی روس کے کسی اجتماعی کاشتکاری کے فارم پر بھیج دیا جہاں کوئی اور ان کاآشنا، ہم زبان یا ہم وطن نہ ہو۔‘‘
اس کے باوجود آپ کو کوئی ملال نہیں۔ کوئی پچھتاوا نہیں‘‘۔
’’ایک بلند مقصد کے حصول کے لئے بہرحال قربانیاں تو دینی پڑتی ہیں۔ ایک غریب مزدور کی حالت سدھارنے اور سرمایہ داری کے چنگل سے نکالنے کے لئے یہ سب کچھ کرنا پڑتا ہے ۔ اس میں یقینا کوئی بہتری ہوگی۔‘‘
ماہ گل کرنل کی بے حسی پر ناخوش تھی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ اسے کیونکر سمجھائے۔ ’’عجیب شش و پنج میں ہوں کہ مجھے کیا کرنا چاہئے۔‘‘ کرنل نیپکن سے ہاتھ پونچھتے ہوئے بولا۔ ماہ گل نے استفہامیہ نظریں اٹھائیں۔ لگتا تھا کائنات نے اپنی ساری ہریالی اور شادابی ان آنکھوں میں بھردی تھی۔
’’اپنے والدین کے انجام سے عبرت پکڑنی چاہئے‘‘۔
’’پگلی ہو تم۔ میں تمہارے بارے میں کہہ رہا ہوں‘‘۔
’’مجھے چھوڑ دیجئے۔‘‘
’’وہ پھر پکڑ لیں گے۔ ظاہر ہے کہ تم نچلی تو بیٹھوگی نہیں۔‘‘
’’یہ بھی ٹھیک ہے۔ مگر پھر یہ تو ہونا ہی ہے۔ ہم ہونی کو تو نہیں روک سکتے۔ ‘‘
’’مگر اس بار میں نہیں ہوں گا وہاں۔‘‘
’’ظاہر ہے‘‘
’’تمہیں اندازہ ہے کہ وہ تمہارے ساتھ کیا سلوک کریں گے‘‘۔
’’جو میری دوسری افغان بہنوں کے ساتھ کیا ہے۔ میں ان سے الگ اور ارفع تو نہیں ہوں۔ راہ حق پر چلنے والوں کے ساتھ ازل سے ایسا ہوتا آرہا ہے اور پھر ابھی تو آپ نے کہا ہے کہ بڑے مقاصد کے لئے قربانیاں تو دینی پڑتی ہیں۔ ‘‘
’’تم بھی میری ماں کی طرح ضدی ہو۔ کیا تمہارا دل نہیں چاہتا کہ لوگوں کے حالات بدل جائیں۔ غربت مٹ جائے ۔ ہر ایک کے ساتھ انصاف ہو۔ اسے اس کا حق پورا پورا ملے۔‘‘
’’کیا آپ کی ماں کے ساتھ انصاف ہوا۔ انہیں ان کا حق ملا۔ وہ کس جرم کی سزا میں سائبیریا بھیجی گئیں۔ کیا وہ انقلاب دشمنوں کے ساتھ مل کر کوئی بغاوت کر رہی تھیں۔ کیا تاتاری ہونا اتنا بڑا گناہ تھا کہ ان کو انسانیت کے زمرے سے ہی خارج کردیاگیا۔ بہرحال ہمیں آپ کے اس انقلاب سے کوئی دلچسپی نہیں جس نے انسانوں کو زار کی آمریت سے نکال کر کمیونسٹ پارٹی کے پنجہ استبداد میں پھنسا دیا۔ واقعی یہ سرخ انقلاب ہے جس نے سر زمین روس کو خود اس کے باشندوں کے لہو سے سرخ کردیا ہے جہاں ہر چیز پر پابندی ہے۔ خوف کا آسیب ہر انسان کا پیچھا کرتا رہتا ہے۔ دراصل یہ انقلاب کسان اور مزدور کی حالت سدھارنے کے لئے نہیں تھا بلکہ سب کو غریب اور پسماندہ بنانے کے لئے تھا۔ غریبوں کے اندر خوشحال لوگوں کے خلاف نفرت اور انتقام کی آگ بھر کر سب کچھ جلا ڈالا۔ ساری قدریں، محبتیں، سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں۔ اظہار کی آزادی، عقل ودانش ہر چیز چھین لی۔ انسان کو انسان نہیں روبوٹ بنا دیا۔ مساوات کا سارا چکر جھوٹا ہے۔ کیا آپ کی اور ساشا کی تنخواہ ایک سی ہے۔ کیا آپ اور وہ مساوی ہیں؟ ‘‘
’’تم واقعی بہت منھ پھٹ اور گستاخ ہو۔‘‘
’’سچی بات اچھی نہیں لگتی تو اس منھ کو ہمیشہ کے لئے بند کردیں۔ یہی تو آپ لوگوں کی ریت ہے۔ دوسروں کے حوالے کیوں کرتے ہیں۔‘‘
’’میں کر رہا ہوں دوسروں کے حوالے ۔ میں تو تمہیں ایک خوشیوں بھری پرسکون زندگی کی طرف بلا رہا ہوں۔‘‘
’’موت کے بعد سکون ہی سکون ہوگا۔ زندگی تو حرکت، اضطراب اور آزمائش کا نام ہے۔‘‘
’’تم سے بحث فضول ہے۔ عورت کی عقل اس کی گدی میں ہوتی ہے۔ نظر بھی کوتاہ ہوتی ہے۔ میں تو چاہتا تھا کہ تمہارے پاس آسائشیںہوں۔ اونچی سوسائٹی میں گھومو پھرو، عیش کرو۔ تمہارے جیسا حسن کم ہی کسی کو نصیب ہوتا ہے۔ اس کو ریشم اور قیمتی زیورات سے آراستہ کیا جائے تو عشاق کے ٹھٹھ لگ جائیں۔ یہ جوانی اور حسن، آگ اور خون کی نذر کیوں کرتی ہو۔‘‘
’’یہ مقام یہ سب کچھ مجھے کیسے مل سکتا ہے؟‘‘
’’تم مجاہدین کا ساتھ چھوڑ دو۔ ہمارے راستے سے ہٹ جائو۔‘‘
’’راستے سے ہٹانا تو بہت آسان ہے اور میں کوئی اتنی عظیم اور کارآمد ہستی بھی نہیں ہوں کہ جس کے بغیر مجاہدین کا کام نہ چل سکے۔ یا آپ اتنی بھاری قیمت دے کر خریدیں۔‘‘
’’تم کو میں دکھوں سے بچانا چاہتا ہوں ‘‘ کرنل کے لہجے میں شدت تھی۔
’’آپ چاہتے ہیں کہ جو غلطی آپ کی ماں نے کی وہ میں نہ کروں۔ جن سہولتوں سے وہ محروم رہی میں نہ رہوں۔‘‘
’’ہاں‘‘ وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ اس کا چہرہ انگارے کی طرح دہکنے لگا۔
’’میں چھوٹاسا تھا۔ مجھے تفصیلات تو یاد نہیں مگر غربت کا مزہ یاد ہے۔ میرے آباء واجداد کوئی بڑے زمیندار یا ارسٹو کریٹ تو نہیں تھے، ان کا غربت، بھوک، افلاس اور گندگی کے ساتھ چولی دامن کا ساتھ تھا۔ یہ انقلاب نہ آتا تو میں بھی شاید دریائے وولگا اور دریائے کاما کے اندر چلنے والی کشتیوں میں کچن بوائے ہوتا یا سامان چڑھااتار رہا ہوتا ۔ میرے دادا کاکیشیا کے برف پوش پہاڑوں سے اسی لئے تو اتر کر استرا خان آئے تھے کہ اب وہ مزید بھوک برداشت نہیں کرسکتے تھے۔ یہاں وولگا کا گدلا پانی کیسپئن کے نیلے پانی سے ملتا ہے مگر اسے گدلا کرنے کی بجائے خود بھی شفاف اور نیلا ہوجاتا ہے۔ مگر ان کی غربت کا پانی گدلا ہی رہا۔ وہ بدل نہ سکا۔ البتہ صدیوں کی بھوک اور محرومی کو برداشت کرتے کرتے وہ صبر کی دولت سے مالا مال ہوگئے تھے۔ انھوں نے مقدر کا لکھا سمجھ کر اپنے دکھوں سے سمجھوتہ کرلیا تھا۔ شاید ان کو احساس ہی نہ تھا کہ زندگی میں ظلم، نفرت اور بدصورتی کے علاوہ کچھ اور بھی ہوتا ہے۔ میرا دادا شاید پہلا شخص تھا جس نے خوشحال زندگی کا خواب دیکھنے کی کوشش کی تھی ۔ وہ استرا خان سے ایک صنعتی شہر نزہنی نوگارڈ (Novgorod) میں آگئے۔ یہ شہر دو دریائوں اوکااور وولگا کے سنگم پر واقع ہے۔ یہاں پر تاتاریوں کا ایک محلہ تھا۔ ہم عقیدہ ہونے کی بنا پر دادا بھی اس محلے میں رہنے لگے۔ وہیں جہازوں کے ایک کارخانے میں مزدور بھرتی ہوگئے۔ ۱۹۰۵ء میں انھوں نے بالشویکوں کے ساتھ مل کر انقلاب میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ کیونکہ وہ زار کے عہد کی غربت، جہالت اور ظلم کے خلاف تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ تمام معاشرتی برائیوں کی جڑ غربت ہے۔ بہرحال بالشویکوں کی شکست کے ساتھ ہی ان کی زندگی بھی خطرات میں گھر گئی اور نومبر۱۹۱۷ء کے انقلاب کے بعد جب والد بہت چھوٹے تھے وہ اچانک غائب ہوگئے اور پھر کبھی لوٹ کر نہ آئے ۔ والد کی پرورش ان کی ماں نے کی۔‘‘
’’مگر آپ کی ماں کو کس جرم میں سائبیریا بھیجا گیا۔ اور والد کو کیوں ڈی پورٹ کیا۔‘‘
’’یہ تو بعد میں آنے والوں نے کیا۔ جنھوں نے انقلاب کو دل سے قبول نہ کیا ہو آخر ان کا انجام کیا ہونا چاہئے تھا۔ اور دوسرے یہ کہ روسی تاتاریوں سے شدید نفرت کرتے تھے۔ وہ تو یہاں تک کہتے تھے کہ تاتاریوں کی روح اتنی کالی اور بدصورت ہوتی ہے کہ جب وہ ان کے حلق سے نکلتی ہے تو لگتا ہے کہ کولتار نکل رہا ہے۔ مگر میں یہ بات نہیں مانتا۔ میری ماں کی روح ہرگز ایسی نہیں ہوسکتی۔ وہ تو ایسی تھی جیسے برگ گل پر پڑی ہوئی شبنم ہو یا جیسے نیلگوں پانیوں پر بکھری ہوئی چاندنی ہو یا دنیا بھر کے پھولوں سے خوشبو چرا کر لانے والا ہوا کا معطر جھونکا ہو جو آج بھی میرے نہاں خانۂ دل میں، میرے مشام جاں میں، میرے لہو کی گردش میں، میری سماعت وبصارت میں، میری قوت شامہ میں اور میری تمام حسیات میں موجود ہے۔ اس کا لمس میرے پورے وجود میں میرے بازوئوں میں اور میری انگلیوں کی پوروں میں زندہ ہے۔ اس کا بوسہ آج بھی میری پیشانی پر ثبت ہے۔ یہ ممتا کا داغ مٹ ہی نہ سکا آہ، میں کہاں بھٹک گیا۔‘‘
ماہ گل سحر زدہ بیٹھی تھی۔
’’میں نے اتنی باتیں کبھی نہیں کیں۔ پتہ نہیںیہ میرے اندرکون بول رہا ہے۔ ‘‘
وہ خاموشی سے اٹھا اور پہاڑ کی ڈھلان سے نیچے اتر گیا۔ ماہ گل اسے دیکھتی ہی رہی۔ یہاں تک کہ وہ نگاہوں سے اوجھل ہوگیا۔
(جاری)

شیئر کیجیے
Default image
سلمیٰ یاسمین نجمی

تبصرہ کیجیے