4

بچے نماز نہیں پڑھتے

یہ شکایت خواتین کی طرف سے بڑی عام ہے کہ ان کے بچے نماز نہیں پڑھتے، وہ لاکھ تبلیغ کرتی ہیں مگر خاک اثر نہیں۔ آخر تھک ہار کر خاموش ہوجاتی ہیں کہ پانچوں وقت ڈنڈا لے کر ہر بچے سے نماز کون پڑھوائے۔ اگر اس کام کی طرف متوجہ رہیں تو باقی سب کام چوپٹ۔ یہ مسئلہ کہ نیک سے نیک اور دیندار سے دیندار خواتین کے بچے بھی نماز نہیں پڑھتے اور اگر پڑھتے ہیں تو بالکل اسی طرح جیسے ایک بوجھ ہو جو سر سے جلد از جلد پٹخ دیا جائے واقعی قابلِ غور ہے۔ جہاں تک میں نے سوچا ہے یہی نظر آیا ہے کہ بچے ہوں یا بڑے ان کے اندر خدا اور آخرت کا یقین اور آنحضور ﷺ کی سچی محبت بٹھائے بغیر نماز کی تلقین اپنا اثر دکھاہی نہیں سکتی اگر کوئی اثر ہوتا ہے تو وقتی۔ جونہی دباؤ ہٹا نماز بھی رخصت ہوگئی۔ میرے خیال میں جن نیک دل خواتین کو یہ فکر لاحق ہو کہ ان کے بچے نیک نمازی بن جائیں، وہ ان کو سب سے پہلے خدا کی صفات سمجھائیں۔ اس کے بعد اس کی ہدایت کا ذریعہ حضرت محمد ﷺ کے ساتھ محبت پیدا کرائیں۔ اور آخرت کا خوف دلاتی رہیں۔ جنت اور دوزخ کے وہ نظارے بار باربیان کیے جائیں جو قرآن میں مذکور ہیں۔ تبلیغ نماز کی بجائے کلمہ طیبہ سے شروع ہونی چاہیے۔ کلمہ طیبہ کا مطلب بتاتے وقت بچوں اور بڑوں سب کے ذہن نشین یہ بھی کراتے رہنا چاہیے کہ اسلام ایک پوری مشین ہے۔ اس کا ایک پرزہ بھی کم ہو تو یہ کام نہیں کرتی اور اگر تم اس مشین کا کوئی ایک پرزہ بھی الگ سنبھالنا چاہو اور اس سے کوئی فائدہ اٹھانا چاہو تو یہ ہرگز تمہارے کسی کام نہیں آئے گا۔ مثلاً سینے کی مشین کی سوئی کتنی ضروری ہے؟ لیکن اسی سوئی کو پوری مشین سے الگ کرکے سنبھالو، تو کتنے دن سنبھالو گے؟ یا تو اس سوئی کو پھینک دو گے یا گم کردوگے یا کسی ایسے شخص کو دے دو گے جس کے پا س مشین ہو یا پھر خود پوری مشین خرید لوگے جس میں یہ سوئی فٹ ہوکر کام دے سکے۔ یہ نماز بھی ہماری اسلامی مشین کی سوئی ہے یہ الگ کوئی کام نہیں دیتی۔
اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ بچوں کو نماز کی تلقین نہ کی جائے۔ یا اس کی اہمیت نہ بتائی جائے بلکہ ضرورت اس کی ہے کہ جس خدا کے ڈر سے ان کو ہر معاملہ میں سچے مسلمان بنانے کی کوشش کیجیے اور ان کو اسلام کے پورے احکام سے بھی آگاہ کرتی جائیے۔ مگر یہ کام بچوں کی عمر اور استطاعت کو ملحوظ رکھ کر لیا جائے۔ ایسا نہ ہو کہ تین سال کے بچے کو غسل اور وضو کے مسائل بتائے جائیں اور چار سال کی لڑکی کو نکاح اور طلاق کے مسائل سمجھانے شروع کردئے جائیں۔
صبح کے وقت بچے اسکول جانے کی افراتفری میں ہوتے ہیں اور مائیں ان کو تیار کرنے میں مصروف ہوتی ہیں رات کو اگر دس منٹ روزانہ اسلامی عقائد کو مضبوط بنانے کی باقاعدہ تیاری کے ساتھ کوشش کی جائے تو یہ انشاء اللہ اپنا پھل لائے گی۔ اور آپ کے بچے نہ صرف یہ کہ نماز نہیں چھوڑیں گے بلکہ ان کے لیے تمام فرائض اسلامی کو بجالانا آسان ہوجائے گا اور چھوڑنا مشکل۔ اور آپ کی وہ تمام شکایات ایک ساتھ دور ہوجائیں گی جو آپ الگ الگ دور کرنا چاہتی ہیں مگر آپ کو خود بھی یہ احتیاط کرنی پڑے گی کہ آپ کی زبان و عمل سے کوئی چیز خلاف اسلام واقع نہ ہو۔ ورنہ یہ سارا اہتمام بیکار رہے گا۔

شیئر کیجیے
Default image
صفیہ سلطان