4

ام المومنین حضرت اُمِّ حبیبہؓ

’’اے نبی! تو ان لوگوں کو جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں، ان لوگوں سے محبت کرتے ہوئے نہ دیکھے گا جو اللہ اور اس کے رسولؐ کے مخالف ہوں، چاہے وہ ان کے باپ ہوں یا ان کے بیٹے ہوں یا ان کے بھائی ہوں یا ان کے رشتے دار۔‘‘
یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان جمادیا ہے اور اپنے فیضان خاص سے ان کی مدد فرمائی ہے اور ان کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اس سے راضی ہوئے۔ یہ اللہ کے گروہ والے لوگ ہیں، سن لو، اللہ کے گروہ والے ہی فلاح پانے والے ہیں۔‘‘ (سورئہ مجادلہ ،آیت:۶۲)
جب میں سورئہ مجادلہ کی آخری آیت پڑھتا ہوں جس کا ترجمہ اوپر درج کیا گیا ہے تو ایک ایک کرکے وہ تمام بزرگ یاد آنے لگے ہیں جنھوں نے اسلام قبول کیا اور پھر اپنے اسلام پر چٹان کی طرح جمے رہے۔ ان بزرگوں میں سارے جہاں کے مسلمانوں کی ماں حضرت ام حبیبہؓ کا نام نامی نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ ہماری ان پیاری ماں کی پوری زندگی سورئہ مجادلہ کی بائیسویں آیت کی زندہ تعبیر نظر آتی ہے۔ ام المومنین نے واقعی اسلام کے مقابلے میں نہ اپنے کافر باپ کی پرواہ کی نہ بھائیوں کی، نہ شوہر کی۔ نیچے ہم اپنی پیاری ماں کے مختصر حالات بیان کرتے ہیں۔ ان سے ہماری بات کی پوری پوری تائید ہوتی ہے۔
ام المومنین حضرت ام حبیبہؓ کا حال بیان کرنے سے پہلے ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ ان کے خاندان کا تعارف کرادیں تاکہ یہ سطریں پڑھنے والا اچھی طرح سمجھ لے کہ ام المومنین کس عالی مرتبت خاندان سے تعلق رکھتی تھیں اور اس خاندان کا عرب میں کیا مقام تھا؟ اور پھر جب وہ مسلمان ہوئیں تو کیسی غریب الوطنی کی زندگی سے سابقہ پڑا؟ پھولوں کی سیج چھوڑ کر کانٹوں میں کس طرح ثابت قدمی سے اپنے ایمان کو لیے پہاڑ کی طرح اڑی رہیں۔
سارے عرب میں قریش کا خاندان تمام خاندانوں میں معزز مانا جاتا تھا۔ اس خاندان کو اللہ نے بڑی برکت دی۔ آگے چل کر اس کی مختلف نسلیں پھیلیں۔ ان ساری نسلوں میں بنوہاشم اور بنو امیہ سب سے زیادہ مشہور ہوئے۔ بنو امیہ میں ایک نامور گزرا ہے جس نے اپنے زمانے میں سارے قریش کی سرداری حاصل کرلی تھی۔ یہ تھا مشہور بہادر حرب بن امیہ جو عرب کی مشہور لڑائی (جنگ فجار) میں قریش کا سپہ سالار اعظم تھا۔ اسی مشہور و معروف جرنیل کا ایک بیٹا تھا۔ باپ کی طرح بہادر ، باپ جیسا مدبر اور اسے باپ کی طرح قریش کی سرداری حاصل تھی۔ یہ نامور بیٹا تھا ’’ابوسفیان‘‘۔ ابوسفیان قریش کے وہ مشہور سردار ہوئے جو اپنے کفر کے زمانے میں اسلام کی راہ کے سب سے بڑے پتھر بنے رہے۔ کفر و اسلام کی ایک مشہور لڑائی جو احد کے میدان میں ہوئی اور جس میں مسلمانوں کو بہت زیادہ جانی نقصان برداشت کرنا پڑا اس لڑائی میں کفار قریش کے عظیم لشکر کے سالار اعظم ابوسفیان ہی تھے۔ اس سے ابوسفیان کے عالی مرتبت ہونے کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ام المومنین حضرت ام حبیبہؓ اسی عالی مرتبت باپ کی بیٹی تھیں۔ باپ بھی رئیس اعظم، دادا بھی رئیس اعظم، خاندان بھی ایسا جس کی سارے عرب میں دھوم پھر یہ کہ حضرت ام حبیبہؓ کی شادی ایسے خاندان میں ہوئی جو بنو امیہ کی ٹکّر کا تھا۔ وہ خاندان عرب میں ’’بنو اسد‘‘ کے نام سے مشہور تھا۔ بنو اسد کے مشہور فرزند عبیداللہ بن حجش سے آپ کی شادی ہوئی جو حرب بن امیہ کا حلیف تھا۔
ایسے رئیس اعظم ابن رئیس ابن رئیس کی بیٹی اور اسی کے ٹکر کے خاندان کی بہو، کس نازو نعم سے رہ رہی ہوگی۔ اگر ہم کہیں کہ وہ وقت پھولوں سے کھیلتی ہوگی تو بے جا نہ ہوگا۔ لیکن عین اس وقت جب رئیس بنتِ رئیس طرح طرح کی نعمتوں کے مزے لوٹ رہی تھی ایک آواز مکے کی گلیوں میں گونجی۔ ’’اللہ کے سوا کوئی دوسرا معبود نہیں، اور محمد ﷺ اس کے رسول ہیں۔‘‘ تو یہی پھولوں سے کھیلنے والی ام حبیبہؓ آواز سننے کے ساتھ پکارنے والے کی طرف بڑھیں اور جب اس پکارنے والے سیدنا محمد رسول اللہﷺ کو دیکھا تو پکارا اٹھیں: اشہد أن لا الہ الا اللہ واشہد ان محمد عبدہ و رسولہ۔ اور پھر جب واپس ہوئیں تو اپنے شوہر عبیداللہ بن حجش کو بھی اسلام کے قدموں میں لاگرایا۔
جس وقت حضرت ام حبیبہؓ مسلمان ہوئیں ’وہ‘ وہ زمانہ تھا جب قریش مکہ اسلام کا نام سننا گوارا نہ کرسکتے تھے۔ مسلمان ہونے والوں پر ایسے مظالم توڑ رہے تھے کہ ان کا ذکر ہی دل کو ہلادینے کے لیے کافی ہے۔ قریش کے’’غیرت مندوں‘‘ میں ایک عجیب و غریب غیرت یہ دیکھی گئی کہ اگر کسی بڑے خاندان کا کوئی فرد مسلمان ہوجاتا تھا تو اس خاندان کی ہم چشموں میں ناک کٹ جاتی تھی، اس خاندان کے لوگ اپنوں میں وقار قائم رکھنے کے لیے اس طرح کی کوشش کرتے کہ اپنے خاندان کے مسلمان ہوجانے والے فرد کو کسی نہ کسی طرح اپنے دین میں پھر واپس لے آئیں اور واپس لانے کے لیے انھیں’’اپنے آدمی‘‘ پر وہ مظالم ڈھانا پڑتے جن کے دیکھنے کے لیے بڑے دل گردے کی ضرورت ہوتی تھی۔ کوئی تو اپنے خاندان کے مسلمان ہوجانے والے فرد کو کھال میں بند کرکے عرب کی ریت پر ڈال دیتا، کوئی اندھیری کوٹھری میں بند کرکے دھواں پہنچاتا اور کوئی قید و بند اور مار دھاڑ سے کام لیتا۔ مدعا یہ ہوتا تھا کہ کسی نہ کسی طرح مجبور کرکے اسلام سے منحرف کردیں۔ حضرت ام حبیبہؓ بھی اسی آزمائش کی بھٹی میں تپائی گئیں مگر ان کا ایمان تھا کہ کوئی مضبوط چٹان جو آگ کی بڑی گرمی سے بھی نہ پگھل سکا۔
نبی کریم ﷺ یہ سارے مظالم دیکھتے تھے اور خدا سے دعا کیا کرتے تھے کہ ان غریبوں کو کہیں جائے پناہ مل جائے۔ آخر آپؐ نے مشورہ دیا کہ جو مسلمان چاہیں حبش کی طرف ہجرت کرجائیں۔ حضورؐ کے اس اشارے پر جو بہت سے لوگ حبش کی طرف چل کھڑے ہوئے ان میں حضرت ام حبیبہؓ اور ان کے شوہر عبیداللہ بھی تھے۔ اگر وہ چاہتیں تو زبان سے ذرا کہہ دیتیں کہ حاشا و کلا مجھے اسلام سے کوئی سروکار نہیں، تو پھر ام حبیبہؓ پھر وہی ام حبیبہؓ ہوتیں جو کبھی سارے خاندان کی پیاری تھیں، مگر نہیں، انھوں نے اسلام کے لیے ماں باپ، خاندان، وطن ، آرام و عیش سب کو ٹھکرادیا اور غریب الوطنی کی زندگی اختیار کرلی۔ ہم نے بڑی شرح و بسط سے اپنی ان پیاری ماں کا حال پڑھا ہے۔ ہمیں بخدا کوئی کہیں ایسا لفظ ان کی سوانح میں نہ ملا جس سے لفظ شکوہ کا احتمال ہوتا ہو۔ ہم نے تو یہ پڑھا ہے کہ حبش پہنچ کر جب شوہر نے مرتد ہوکر عیسائی دھرم اختیار کرلیا تو بھی جبینِ مبارک پر ذار سا بھی اضطراب نہ آیا، اور آپ نے اس غریب الوطنی میں شوہر پر بھی لات ماردی اور راضی برضا ہوکر وہیں زندگی کے بظاہر’’اندھیرے دن‘‘ گزارنے لگیں۔ اس غریب الوطنی میں جب کہ لوگ پکارنے لگتے ہیں کہ ؎
بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاؤں ہوتی ہے
ہائے کیا چیز غریب الوطنی ہوتی ہے
غور کرنے کا مقام ہے کہ اس غریب الوطنی میں ایک چھاؤں (شوہر کے روپ میں) تھی وہ بھی نہ رہی۔
اب سونا تپ کر کھرا ہوچکا تھا، آخر اللہ کی رحمت جوش میں آئی اور حضرت ام حبیبہؓ کو اسی دنیا میں وہ اعزاز حاصل ہوا جس سے بڑھ کر دوسرا اعزاز ہوہی نہیں سکتا۔ عمر مبارک تقریباً ۳۷ سال کی ہوچکی تھی۔ یہاں جناب نبی کریم ﷺ مکے سے ہجرت فرماکر مدینے تشریف لے جاچکے تھے۔ آپ نے ام حبیبہؓ کا حال سنا تو حضرت عمرو بن امیہ ضمیریؓ کو پیغام نکاح دے کر حبش روانہ کیا۔ وہاں شاہ حبش مہاجر مسلمانوں سے مل کر حلقہ بگوش اسلام ہوچکا تھا۔ عمرو بن امیہ ضمیریؓ اس کے پا س پہنچے اور پیغام نکاح دیا۔ شاہِ حبش نے اپنی لونڈی ابرہہ کے ذریعہ پیام نکاح حضرت ام حبیبہؓ تک پہنچایا۔ آپ نے قبول فرمالیا۔ حضورؓ کی طرف سے شاہ حبش وکیل بنا اور حضرت ام حبیبہؓ کی طرف سے خالد بن سعید ؓ وکیل مقرر ہوئے نکاح ہوگیا اور پھر ام المومنین بن کر حضرت ام حبیبہؓ ایک جہاز پر سوار ہوئیں اور اس وقت مدینے پہنچیں جب نبی کریم ﷺ خیبر کی مہم پر تھے۔
ام المومنین حضرت ام حبیبہؓ اپنے اسلام میں اس درجہ یکسوتھیں کہ اپنے عزیز و قریب کافر تک کی پروا نہ کرتی تھیں کچھ دنوں کے بعد کافر باپ، کون؟ قریش کا رئیس اعظم ابوسفیان کسی غرض سے مدینہ آیا۔ بیٹی کو دیکھنے ان کے گھر گیا۔ گھر جاکر چاہا کہ نبی ﷺ کے بستر مبارک پر بیٹھے کہ حضرت ام حبیبہؓ نے بستر الٹ دیا، باپ سخت ناراض ہوا۔ بولا ’’میرے مقابلے میں تجھ کو بچھونا اتنا عزیز ہے؟‘‘ جواب دیا ’’یہ بستر خدا کے رسول کاہے، تو شرک میں مبتلا ہے، میں خدا کے رسول کے بستر کو تیرے ناپاک قدموں سے گندہ نہیں کرسکتی۔‘‘
یہ جواب سن کر باپ کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ تھا غیور آدمی! بولا ’’میرے بعد بہت سی خرابیوں میں مبتلا ہوگئی ہے۔‘‘ یہ سب سنا پھر بھی ام المومنین نرم نہ ہوئیں، اور ابوسفیان کو زمین پر بیٹھنا پڑا۔
اس کے بعد ام المومنینؓ کے بہت سے واقعات تاریخوں میں محفوظ ہیں۔ ان سب کا لب لباب یہ ہے کہ ہر وقت رسولؐ خدا کے اشارے اور کنائے پر نگاہ رکھتی تھیں اور جو بات پاجاتیں اس پر سختی اور پابندی سے عمل کرتی تھیں۔ ایک بار حضورؐ سے سناکہ جو شخص بارہ رکعت نفل روزانہ پڑھے اس کے لیے جنت میں ایسا اور ایسا گھر بنایا جائے گا۔ پس اسی دن سے معمول بنالیا اور عمر بھر روزانہ بارہ رکعت نفل کی پابند ہوگئیں۔
۷۳ برس کی عمر میں انتقال فرمایا۔ انتقال کے وقت ام المومنین حضرت عائشہؓ صدیقہ کو بلایا اور کہا ’’ہم دونوں حضورؐ کی بیویاںرہیں، بہ تقاضائے بشریت سوکن ہونے کی بنا پر مجھ سے کوئی لغزش ہوگئی ہو تو معاف کردیجیے، اور میرے لیے دعائے مغفرت کیجیے۔‘‘ حضرت عائشہ ؓ نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو بولیں ’’آپ نے مجھے خوش کردیا۔ اللہ آپ کو خوش کرے۔‘‘
آپ کی سوانح میں لکھا ہے کہ آپ بڑی فاضل اور تمام انسانی اوصاف میں کامل تھیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے حضور نبی کریم ﷺ سے کیا کچھ نہ استفادہ کیا ہوگا۔ بہت سی احادیث آپ سے مروی ہیں۔ آپ سے روایت کرنے والوں میں بڑے بڑے صحابہ اور بزرگ لوگ شامل ہیں۔ اللہ ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنی پیاری ماں کے نقشِ قدم پر چلیں اور اس پر ثابت رہیں۔ آمین!

شیئر کیجیے
Default image
مائل خیرآبادی