5

انمول ہیرا

’’صرف پچاس روپئے‘‘۔ نوجوان نے کہنا شروع کیا۔ ’’تمہاری قیمت تو اس انمول ہیرے سے بھی زیادہ ہے جسے دنیا کی بڑی سے بڑی قیمت بھی نہیں خرید سکتی، تم چاند اور ستاروں سے بھی زیادہ قیمتی ہو۔ تم چمکتا ہوا ستارہ اور دمکتا ہوا ہیرا ہو، تم قوم کی ماں ہو، قوم کی بہن ہو، تم وزیر اعظم اور گورنر جنرل کی ماں ہو، تم عورت ہو، سماج نے تمہیں ٹھکرادیا ہے، تمہاری عصمت کو سربازار لٹوایا ہے۔ جانتی ہو اس ذلیل زندگی کا انجام؟ اٹھوں اور اپنی آزادی کا پرچم لہراتے ہوئے عورت کے صحیح مقام کو پالو، جھاڑ دو وہ دھول جو سماج نے تمہاری زندگی پر ڈال رکھی ہے، نوچ لو منہ ان ناقدر اور عیاش مردوں کا جو چند سکوں کے عوض تمہاری آزادی اور حسن کو لوٹتے رہتے ہیں۔ راکھ کردو ان کٹنیوں کو جو تم جیسی شریف بیٹیوں کو گھروں سے اغوا کرکے سربازار لے آتی ہیں۔
’’ٹھہرئیے!‘‘ سلطانہ کسی قدر چیختی ہوئی بولی اور نوجوان خاموش ہوگیا۔ ’’آپ یہاں اس لیے نہیں آئے ہیں کہ مجھے سماج کے خلاف بھڑکائیں، اس غرض سے نہیں آئے ہیں کہ بجھتی ہوئی چنگاری کو ہوا دیں، آپ نے روپئے دئیے ہیں، اپنی محنت کی کمائی کا مجھے کچھ حصہ دیا ہے،آپ کو پورا حق ہے کہ اپنے دئے ہوئے روپیوں کا معاوضہ وصول کریں آپ خریدار ہیں جسے صرف سودا چاہیے، سودا‘‘۔
’’میں یہاں اس غرض سے نہیں آیا ہوں کہ چند سکوں کے عوض تمہاری عزت پر ڈاکہ ڈالوں‘‘ اس نے پھر کہنا شروع کیا۔ ’’میں اس لیے آیا ہوں کہ تمہارے اندر سوئی ہوئی اس نسوانیت کو جگادوں جس میں اولاد کی مامتا، شوہر کی محبت اور بھائی کا پیار سویا ہوا ہے جو جاگ جانے کے بعد کبھی نہیں سوتی۔ میں خریدار نہیں بلکہ وہ انسان ہوں جو فروخت کرنے والے کو اس کے سودے کی قدروقیمت بتادینا اپنا فرض سمجھتا ہے۔ تم عورت ہو اور میں تمہیں عورت کا صحیح مقام دلانا چاہتا ہوں۔‘‘
’’آپ پاگل تو نہیں، میں کہتی ہوں خاموش ہوجائیے‘‘۔ سلطانہ بیتاب ہوکر بولی۔
’’نہیں مجھے کہنے دو، مجھے اپنا فرض پکار رہا ہے‘‘۔ نوجوان نے کہا۔ سلطانہ اسے منع کرتی رہی لیکن وہ بکتا ہی رہا۔ یکایک غصے سے اس کی آنکھیں سرخ ہوگئیں اور اس نے پاس ہی پڑے ہوئے لوہے کو اس کے سر پر زور سے دے مارا۔ اس کے سر سے خون کے فوّارے چھوٹ پڑے، اس کے قدم لڑکھڑائے اور وہ بے ہوش ہوکر گرپڑا، نہ جانے وہ کب تک یونہی پڑا رہا اور جب اس نے آنکھیں کھولیں تو سر پر پٹی بندھی تھی، سلطانہ قریب ہی بیٹھی آہستہ آہستہ اس کا سردبا رہی تھی، چند لمحے وہ آنکھیں پھاڑے اسے دیکھتا رہا پھر یکایک اٹھ بیٹھا۔ سلطانہ سر جھکائے بیٹھی رہی، آنسوؤں کے دو موٹے موٹے قطرے اس کی آنکھوں سے بہ نکلے۔ اس کی آنکھیں حیرت سے اور پھیل گئیں اور چند منٹوں تک وہ نہ جانے کیا سوچتا رہا۔
’’مجھے بہت افسوس ہے‘‘۔ وہ رک رک کر بولی۔ وہ خاموشی سے اٹھا اور جانے لگا۔ ’’رکئے‘‘ ایک میٹھی سی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی اور وہ رک گیا۔
آہستہ آہستہ قدموں سے وہ اس کے پاس پہنچی، ابھی اس کی آنکھیں آنسوؤں سے لبریز تھیں، چند لمحے خاموشی چھائی رہی پھر وہ کہنے لگی ’’میں اپنی کرتوت پر سخت نادم ہوں، مجھے معاف کردیجیے، نہ جانے مجھے کیا ہوگیا تھا۔میں، میں…‘‘۔ رقت سے اس کی آواز رندھ گئی اور بہت دنوں سے آنسوؤں کا تھما ہوا دریا امڈ پڑا، آواز گلے میں گھٹ کر رہ گئی۔ وہ خاموش کھڑا سلطانہ کی آنکھوں میں جھانکنے لگا، ان آنسوؤں میں نہ جانے کتنی معصومیت اور بھولاپن تھا۔ ہمدردی سے اس کا دل بھر آیا، اس کا جی چاہا کہ اپنی پوری قوت سے اس بوڑھی کا منھ نوچ لے۔ نہ جانے کتنی معصوم کلیوں کی قسمت پر دولت سمیٹ رہی تھی۔ غصے سے اس کی مٹھیاں بھنچ گئیں، وہ اٹھا اور جانے لگا۔ دروازے پر پہنچ کر وہ پلٹا اور ہمدردی کے لہجے میں بولا ’’جاؤ سلطانہ میں پھر آؤں گا۔‘‘ سلطانہ کی آنکھوں میں اب بھی آنسو ڈبڈبائے ہوئے تھے۔ وہ چلا گیا۔ سیڑھیوں پر بڑی بی اسے مسکرا کر دیکھنے لگی۔ لیکن پٹی پر نظر پڑتے ہی اس کا چہرہ فق ہوگیا۔ اس کی طرف دھیان دئے بغیر وہ تیزی سے سیڑھیاں طے کرتا ہوا نیچے چلا گیا اور بڑی بی نہ جانے کیا سوچتی رہی۔
حسب وعدہ وہ پھر اس جگہ پہنچا، چند روپیوں کے نوٹ اس نے بڑی بی کی ہتھیلی پر رکھ دئیے اور خاموشی سے سلطانہ کے کمرے کی طرف چل دیا۔
سلطانہ کمرے میں بیٹھی کوئی اچھی سی کتاب پڑھ رہی تھی۔ اس نے اسے غور سے دیکھا اور اسے سیتا و مریم کی پاکیزگی یاد آگئی، وہ اس کے حسین چہرے کو دیکھتا رہا۔ ’’آپ آگئے‘‘ سلطانہ نے مسکراتے ہوئے کہا ’’بیٹھئے‘‘۔
’’سرکی تکلیف کا کیا حال ہے؟‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘ ایک بات پوچھوں سلطانہ!
’’ہزاروں باتیں پوچھئے، آپ ہی تو ایک ہمدرد ملے ہیں۔‘‘
’’یہ بڑی بی تمہاری کون ہے؟‘‘
’’یہ‘‘ اس کے چہرے پر ایک ہلکی سی ہنسی پھیلی۔ ’’یہ ایک ڈائن ہے، صرف میری نہیں پوری انسانیت کی۔ یہ میرے یہاں مفلسی، اور بھیک کا لبادہ اوڑھ کر گئی۔ میرے والدین نے اس پر رحم کھاکر گھر کے کام کاج کے لیے رکھ لیا اور جب ایک دن میں اس کے ساتھ سینما دیکھنے گئی تو مجھ کو وہاں سے اغوا کرلائی اور اس دن سے آج تک مجھ پر جتنے مظالم ڈھائے گئے ہیں آپ اگر سنیں گے تو آپ کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں گے۔‘‘ یہ کہتے کہتے اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب امڈ پڑا۔
’’گھبراؤ نہیں سلطانہ‘‘ اس نے کہا ’’مجھ پر بھروسہ کرو۔ میں تمہارا ہمدم ہوں، میں تمہیں اس ماحول سے ضرور نکال لوں گا۔ رونے سے کیا ہوتا ہے، ہمت سے کام لو۔ اور سماج کا منھ نوچ لو، جو تم جیسی لڑکیوں کی زندگی کو سنوارنا تو درکنار ادھر مڑکر بھی نہیں دیکھتا۔ گھونٹ دو گلا اس نظام کا جو تم کو تباہ ہوتے دیکھ کر منھ میں تالے لگالیتا ہے۔ اس دنیا میں رونے سے کچھ نہیںہوتا، تم کمزور نہیں ہو اٹھو، اور سماج اور نظام سے لڑو، ایسے سماج کے منھ پر طمانچے مارو جو تم عورتوں کی آزادی کا دم بھرتا ہو، لیکن تمہیں آزادی اور تمہارا صحیح مقام نہ دیتا ہو، گلا پھاڑ پھاڑ کر آواز دو ان بہو بیٹیوں کو جو شرفا کہلاتی ہیں، تاکہ ان کی گنگ زبان پھر بند نہ رہے۔‘‘ وہ جذبات کی رو میں نہ جانے کب تک کیا کیا بکتا رہا۔ اور سلطانہ آنسوؤں کی ندی بہاتی رہی۔
’’سلطانہ‘‘ یکایک وہ رک کر بولا۔
’’ہوں‘‘
’’اٹھو ، مجھ پر اعتبار کرو اور چلو میں تمہیں تمہارے والدین کے پاس پہنچادوں۔‘‘ سلطانہ خاموش تھی بت کی طرح۔
’’بولو سلطانہ‘‘ لیکن وہ پھر بھی چپ تھی، وہ اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا۔ ’’دوچار روز کے اندر اچھی طرح سوچ سمجھ لینا۔‘‘ اور وہ چلا گیا۔ سلطانہ خاموش بیٹھی سوچتی رہی، کچھ دیر بعد دروازہ کھلا اور بڑی بی داخل ہوئی، وہ نہایت غصے سے بھری تھی، شاید اس نے سب کچھ سن لیا تھا۔ بڑی بی بغیر پوچھے گچھے اسے مارنے لگی، حرامزادی، نمک حرام، بھاگنا چاہتی ہے، حرام خور، احسان فراموش، ہمیں سے دغا، بڑھیا زور زور سے چیخ رہی تھی۔ سلطانہ نے چاہا کہ آج وہ اس کے خلاف بغاوت کردے۔ لیکن دلالوں کے کوڑوں کو یاد کرکے وہ سہم گئی۔ بڑی بی کے ہاتھ مارتے مارتے تھک گئے تو وہ خود ہی بڑبڑاتی ہوئی چلدی۔ دوسرے دن سے بڑھیا نے سلطانہ کے خلاف سخت احتیاطی تدابیر کردی تھیں۔ وہ کبھی آزادانہ گھوم پھر بھی نہیں سکتی تھی۔ پہلی بار اسے اپنی اس ذلیل زندگی کا بری طرح احساس ہورہا تھا۔ سلطانہ کو ایسا محسوس ہورہا ہے جیسے وہ ہوا میں معلق ہوگئی ہو۔ ایک طرف یہ گھناؤنی اور ذلیل زندگی تھی، دوسری طرف سماج کے طعنے۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اپنی اس زندگی کو کیا کرے ، کیا وہ خود کشی کرلے؟ اس نوجوان کے ساتھ کہیں بھاگ جائے؟ لیکن وہ بھاگ کر جائے گی کہاں، کون پناہ دے گا اسے، اس کے لیے کون سا ٹھکانا بنا رکھا ہے سماج نے۔ اس پر انگلیاں اٹھائی جائیں گی، اسے حقارت سے دیکھا جائے گا، وہ اب عورت نہیں بلکہ کچھ اور ہے۔ سلطانہ نہ جانے کب تک سوچتی رہی۔ آج پہلی بار اسے اپنی زندگی سے نفرت اور مایوسی ہوتی جارہی تھی۔ اس نے اپنے مستقبل پر ایک طائرانہ نظر دوڑائی اور اسے ہر طرف تاریکی ہی تاریکی نظر آئی۔ نہ جانے کتنے خیالات اس کے دماغ میں آئے اور چلے گئے۔ وہ سوچتی رہی، آنسو بہتے رہے، رات بھیگتی گئی، اس نے بہت سوچا، بہت غور کیا، لیکن تمام راستے اس کے لیے بند تھے۔ ’’موت‘‘ یہی اس کی زندگی کا فیصلہ تھا۔
………………
اور پھر جب وہ آیا تو بڑی بی معمول سے زیادہ قہقہے لگارہی تھی، اس نے چند نوٹ بڑی بی کی طرف پھینک دئیے اور سلطانہ کے کمرے کی طرف مڑا۔ دروازہ کھلا تھا، تمام سازندے اور دوسرے ملازم کھڑے تھے اور سب کے چہرے پر ایک سوالیہ نشان تھا، اس کے سامنے سلطانہ کے بجائے ایک دوسری لڑکی کھڑی تھی۔ اس نے چاروں طرف نگاہیں دوڑائیں لیکن اسے سلطانہ نظر نہ آئی۔ وہ گھبرا کر بولا ’’کہاں ہے سلطانہ؟ جلدی بتاؤ، کہاں ہے سلطانہ؟‘‘ اس نئی لڑکی کے چہرے پر ایک پھیکی سی مسکراہٹ دوڑ گئی، جس میں نہ جانے کتنے طنز، کتنی آرزوئیں اور کتنا درد پنہاں تھا، اس کے لب ہلے، ’’سلطانہ نے زہر کھالیا۔‘‘ اور اسے محسوس ہوا جیسے وہ زمین میں دھنستا جارہا ہوں، اس کے قدم لرزنے لگے، سرچکرانے لگا، وہ لڑکھڑاتے قدموں سے باہر چلا آیا، بڑی بی کی نظر جوں ہی اس پر پڑی قہقہے کی آواز تیز تر ہوگئی۔ ’’بیوقوف !…… ‘‘بڑی بی طنزیہ قہقہہ لگاتے ہوئے بولی۔ ’’تم سماج میں عورت کو اس کا صحیح مقام دلانا چاہتے ہو، …… کتنے نادان ہو تم، تم نے مجھ سے ایک سلطانہ کو چھیننا چاہا، لیکن میرے پاس دولت ہے اور میں ان سے سینکڑوں سلطانائیں خرید سکتی ہوں، جاؤ اگر تمہاری نظر میں کوئی اور سلطانہ ہو تو لے آؤ، منہ مانگے دام دوں گی۔ جاؤ، جلد جاؤ، سماج اور عورت، عورت اور عصمت، عورت اور دولت ہا ہا ہا۔‘‘
’’ذلیل ڈائن…… ‘‘وہ نفرت سے بولا،’’انسانیت اور نسوانیت کی جونک! یہ دنیا تمہاری نہیں، میں نے سلطانہ کو آواز دی۔ لیکن اس نے تمہارے مظالم سے تنگ آکر خود کشی کرلی۔ وہ کمزور تھی، میں دنیا کی تمام سنجیدہ ماں اور بہنوں کو آواز دوں گا اور ان انمول ہیروں کو ان کا صحیح مقام دلا کر رہوں گا اور وہ چلا گیا۔

شیئر کیجیے
Default image
سید ظفر عالم

تبصرہ کیجیے