3

آنکھوں دیکھی

 

 

 

بچے کی عمر بمشکل گیارہ بارہ سال ہوگی۔ اس کے ایک ہاتھ میں غلیل تھی جسے وہ دلیرانہ انداز سے ہوا میں لہرا رہا تھا۔ دوسرا ہاتھ نیکر کی جیب میں تھا جو کافی پھولی ہوئی تھی۔ شاید اس میںغلے بھرے ہوئے تھے۔
بچے نے باغ میں داخل ہوکر درختوں پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالی۔ ایک درخت پر اس کی نظر ٹھہر گئی۔ اس نے جیب سے غلے نکالے۔ چھانٹ کر ایک غلہ منتخب کیا۔ باقی پھر جیب میں ڈال لئے۔ غلیل سنبھالی اور تاک کر جو نشانہ مارا تو کائیں کائیں کرتا ہوا ایک کوّا درخت سے نیچے آگرا۔ بچہ اس کی طرف دوڑا۔ کوّے کے دائیں بازو پر چوٹ لگی تھی۔ اس نے بہتیرا اڑنے کی کوشش کی لیکن نہ اڑسکا۔ البتہ زمین پر گھسٹتا ہوا دور تک چلا گیا اس دوران اس کی کائیں ائیں بند نہ ہوئی…شاید چوٹ سخت لگی تھی۔ کیونکہ اس نے کائیں کائیں سے آسمان سر پر اٹھا رکھا تھا۔
بچے کو اپنے نزدیک آتے دیکھ کر کوئے نے اور زیادہ زور سے کائیں کائیں شروع کردی… بچے نے چیختے چلاتے کوے کو گھیر گھار کر پکڑ لیا۔ کوئے کی کائیں کائیں ابھی تک بند نہ ہوئی تھی۔ بچے نے کوئے کو بڑے غور سے دیکھنا شروع کیا۔ کبھی اس کی چونچ دیکھتا، کبھی اس کے سیاہ پروں پر ہاتھ پھیرتا شاید آج سے پہلے بچے نے کوے کو اتنے قریب سے نہ دیکھا تھا ۔ اس کے معصوم ہونٹوں پر مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔ کوے کی کائیں کائیں جاری تھی ۔ بچے نے غلیل بغل میں دبائی اور کوے کو ہاتھوں میں دبوچے فاتحانہ انداز میں واپسی کے لئے پلٹا۔ چند قدم ہی چلا تھا کہ کائیں کائیں کی آوازوں سے پورا باغ گونچ اٹھا۔ مشرق کی طرف سے کائیں کائیں کرتی ہوئی کوّوں کی فوج ظفرموج آپہنچی اور بچے کے سر پر منڈلانا شروع کردیا۔
کائیں کائیں کے شور سے کان پڑی آواز بھی ، سنائی نہ دیتی تھی۔ کوّوں کی فوج نے بچے کو چاروں طرف سے گھیر لیا اور نیچی پرواز شروع کردی۔ بچہ جس طرف قدم اٹھاتا کووں کی فوج اسی طرف پہنچ جاتی اور اس کی راہ میں حائل ہوجاتی۔ ایک دو کووں نے ’’جرأت انداز‘‘ سے کام لیااور بچے کے سر پر ایک دوٹھونگے ماردیئے۔ بچہ بلبلا اٹھا۔ اس نے دوڑناشروع کردیا لیکن جتنی تیزی سے وہ دوڑ ا اتنی ہی تیزی سے کائیں کائیں ہونے لگی اور اب کوّوں نے باقاعدہ حملہ شروع کردیا۔ بچے کے سر پر دو تین ٹھونگے اور لگے۔ بچہ بلبلا گیا۔ بے اختیار اس کے دونوں ہاتھ سر پر پہنچ گئے۔ زخمی کوا چھوٹ کر دور جاگرا۔ اردگرد منڈلاتے ہوئے کوّوں نے بچے کو چھوڑ کر زخمی کوے کا رخ کیا۔ ایک کوے نے اپنے منھ میں زخمی کوے کی دم پکڑی دوسرے نے پردبوچا اور اسے لے اڑے۔ چند لمحوں بعد اس باغ میں کووں کا نام ونشان تک نہ تھا۔ بچہ مایوسی کے عالم میں اپنا سر سہلاتا ہوا باغ سے نکل گیا… میں نے یہ سب کچھ دیکھا۔ باغ سے باہر نکلا تو ایک اور منظر میری نگاہوں کے سامنے تھا۔
نہر سے قریباً پچاس قدم ادھر ایک مجمع سا نظر آیا۔ قدم خود بخود اسی طرف اٹھنے لگے۔ قریب پہنچا تو دیکھا کہ مجمع کے بیچوں بیچ ایک چار سالہ معصوم بچی کھڑی بلبلا کر رو رہی تھی۔ اس کے دائیں کان کی لو سے خون بہہ رہا تھا۔ ایک بڑے میاں اس کے کان پر باندھنے کے لئے اپنے صافے سے ایک دھجی پھاڑ چکے تھے ۔ ایک اور صاحب اس بچی سے اس کے گھر کا پتہ پوچھ رہے تھے۔ لیکن بچی بھلا کیا بتاتی۔ ؟ وہ تو بے تحاشہ روئے جارہی تھی۔
میں نے قریب ہی کھڑے ہوئے ایک صاحب سے صورت حال پوچھی تو پتہ چلا کہ ایک بدبخت اس معصوم بچی کے کان سے سونے کی بالی اس بری طرح کھینچ کر بھاگ گیا کہ غریب کے کان کی لو نیچے تک چرگئی۔
اُف! میرے خدا! تیری تمام مخلوقات سے افضل و اشرف مخلوق میں بھی درندگی کی یہ انتہا! ‘‘ بے ساختہ میرے منھ سے نکلا برابر ہی کھڑے ہوئے ایک بڑے میاں پان کی پیک تھوکتے ہوئے بولے۔‘‘ میاں صاحب! ہوگا کوئی زمانہ جب انسان اشرف المخلوقات ہوتا ہوگا آج تو اس کے کرتو ت دیکھ کر درندے بھی شرماتے ہیں۔ کل ہی ہمارے محلے میں ایک شخص پکڑا گیا۔ بڈھا پھونس۔ منھ میں دانت نہ پیٹ میں آنت۔ قبر میں پیر لٹکائے ہوئے لیکن حرکت اتنی ذلیل کہ خدا کی پناہ! یعنی ایک چھ سالہ بچے کو بیہوش کرکے بوری میں اس بے دردی سے لپیٹ رکھا تھا کہ جیسے بستر بندھا ہوا ہو۔ ‘‘
ایک اور صاحب بولے ’’بابوجی! کیا پوچھتے ہو۔ چار روز قبل ہی کی بات کہ میں لوٹ لیاگیا… ایک صاحب میرے بڑے بھائی کا پرچہ لے کر آئے میں نے ان کی بڑی خاطر تواضع کی۔ رات کو باہر کی بیٹھک میں ان کے سونے کا انتظام کیا۔ لیکن دوسرے دن صبح جو بیٹھک میں جاتا ہوں تو وہ حضرت غائب۔ نہ صرف وہ غائب بلکہ بیٹھک میں لٹکا ہوا کلاک، پلنگ پوش میز پوش اور الماری سے چائے کا جاپانی سیٹ بھی غائب۔ وہ تو یہ شکر کرو کہ بیٹھک میں اور کچھ نہ تھا ورنہ سب پر جھاڑو پھر جاتی۔ بھائی صاحب کوفون کرکے معلوم کرایا تو پتہ چلا کہ انھو ںنے کسی کو رقعہ نہیں دیا تھا۔ کمبخت نے دستخط ہو بہو بڑے بھائی صاحب کے کئے تھے۔‘‘
اتنے میں بچی کے والی وارث بھی آگئے۔ نہ معلوم انہیں کیسے علم ہوا۔ معصوم بچی دوڑ کر اپنے باپ کی ٹانگوں سے لپٹ گئی۔ اور پہلے سے زیادہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ مجمع میں کھڑے ہوئے بزرگ نے لڑکی کے والد کو سمجھایا۔ ’’میاں صاحبزادے! اول تو بچی کو چھوڑ بے فکر ہو بیٹھنا دوسرے سونے کا زیور پہنانا کہاں کی دانشمندی ہے۔‘‘
لڑکی کا باپ نہایت شریف آدمی تھا۔ بڑے ادب سے بولا’’چچا! یہ عورتوں کی بے جا محبت اور لاپروائی کا نتیجہ ہے۔ لیکن مجھے امید ہے کہ آج ضرور نصیحت ہوجائے گی۔‘‘
میں نے سب کو مخاطب کرتے پوچھا’’بھئی! اس بدبخت کو کسی نے پکڑا بھی۔؟‘‘
بیک وقت کئی ’’آوازیں آئیں‘‘۔ ہم میں سے تو یہاں کوئی نہ تھا پکڑتا کون؟ البتہ خدا نے پکڑلیا‘‘۔
’’کیا مطلب؟‘‘ میں نے حیرت سے پوچھا۔
ایک صاحب پل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولے :
’’وہ پڑی ہے اس کی لاش‘‘۔
’’لاش؟‘‘ بیک وقت کئی لوگوں کی زبان سے نکلا اور سب کی نگاہیں پل کی طرف اٹھ گئیں۔
ایک صاحب بولے ’’جس وقت یہ واقعہ پیش آیا ہے۔ میں نہر کے دوسرے کنارے جارہا تھا ۔ میرے دیکھتے ہی دیکھتے بدبخت نے معصوم بچی کے کان کو نوچا اور تیزی سے بھاگا پل پر پہنچا تو عین اسی وقت ایک تیز رفتار ٹرک نمودار ہوا اور وہ اس کی لپیٹ میں آکر ڈھیر ہوگیا۔ ٹرک والے نے ٹرک نہ روکا۔ تیزی سے اڑائے لئے چلا گیا۔ میں پل کی طرف دوڑا۔ ابھی میں پل سے چالیس گز کے فاصلے پر تھا کہ ایک موٹرسائیکل سوار لاش کے قریب رکا ۔ ادھر ادھر نظردوڑائی اور پھر نہایت پھرتی سے مردہ شخص کی کلائی سے گھڑی اتاری، جیبیں ٹٹولیں جو کچھ ملا لے کر چمپت ہوگیا۔ اس دوران میں کافی قریب پہنچ چکا تھا۔ اس وقت میری چیخ پکار صدابصحراث ابت ہوئیں۔‘‘
’’اُف میرے خدا!‘‘ میرے منھ سے بے اختیار ایک بار پھر یہ الفاظ نکلے۔ باوجود کوشش کے اس لاش تک جانے کی ہمت نہ ہوئی۔ پل پر سے گزرنے کی بجائے گھٹنوںگھٹنوں پانی میں چل کر نہر پار کی اور گھر کی طرف چلاآیا۔ اس دن بھی سوچتا رہا ۔ آج بھی سوچ رہا ہوں ۔ اور نہ معلوم کب تک سوچتا رہوں گا کہ آخر ہم اشرف المخلوقات کہلانے کے حقدار کس طرح ہیں؟ اورہم میں اور درندوں میں کتنا فرق ہے؟؟

شیئر کیجیے
Default image
عارف دہلوی

تبصرہ کیجیے