6

ہم گجرات نہیں بھولے!

۲۸؍ فروری کو گجرات سانحہ کی دوسری برسی منائی گئی۔ ایک سال قبل فروری کی اسی تاریخ کو ملک میں ایک بھیانک طوفان آیا جس نے انسانیت کو گویا نگل لیا۔ کہا جاتا ہے کہ سرزمین ہند میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا طوفان تھا۔ میرٹھ، ملیانہ، بھاگلپور، بھیونڈی اور کرنیل گنج کے طوفان سے بھلا اس کا مقابلہ کیا! یہ تو خالص ’’زعفرانی‘‘ نوعیت کا تھا، اس کی خاصیت یہ تھی کہ اس نے صرف اقلیت کو نشانہ بنایا۔ ریاست کے محافظوں کے ہمراہ اقلیتی طبقہ کی عفت و عصمت کو تار تار کیا، مال و اسباب کو آگ لگائی، خواتین کی آبروریزی کی اور پھر ثبوت مٹانے کے لیے انسانوں کو جلتی آگ میں پھینک دیا، بلکہ بعض وہ معصوم جنھوں نے ابھی اس عالم آب و گل میں قدم ہی نہیں رکھا تھا اور شکم مادر ہی میں پرورش پارہے تھے وہ بھی جبراً قتل کیے گئے اور انھیں بھی ترشول کی نوک پر اٹھایا گیا! آپ تعجب نہ کریں! یہ قدرتی طوفان نہیں تھا، اگر ہوتا تو قدرت تو رحمان اور رحیم ہے بھلا خود اپنی انسانیت کے خلاف ایسا کیسے کرتا۔ ثبوت کے طور پر اس سانحہ پر بنی ڈاکومنٹری ’’The Final Solution‘‘ ضرور دیکھیں۔
گجرات کا سانحہ نسل کشی کی تاریخ میں بلاشبہ ایک تاریک ترین اضافہ ہے۔ اس المیہ نے عالمی سطح پر نہ صرف سنجیدہ اور باضمیر طبقہ کو فکر مند کیا ہے بلکہ نانک اور چشتی کی امن پسند دھرتی کو بھی رسوا کردیا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ یہ سانحہ کوئی نیا نہیں بلکہ مدتوں پرانی اس روایت کا حصہ ہے جو نفرت پسند لوگوں نے قائم کی ہے۔ فسادات ہوتے رہے ہیں وجوہات مختلف تھیں۔ اور بھلا فسادات اور آگ و خون کے کھیل کے لیے بھی کسی وجہ یا بنیاد کی ضرورت ہوتی ہے؟
۱۹۳۱ء میں کانپور، ۱۹۴۶ء میں کلکتہ، ۱۹۶۷ء میں رانچی، ۱۹۶۹ء میں احمد آباد، ۱۹۷۰ء میں بھیونڈی اور جلگاؤں، ۱۹۷۷ میں بنارس، ۱۹۷۹ء میں جمشید پور (بہار)، ۱۹۹۰ء میں میرٹھ، ۱۹۸۹ء میں بھاگلپور، ۱۹۹۲ء میں ایودھیا کے واقعات کے بعد اور ۹۳-۱۹۹۲ء میں ممبئی میں فرقہ وارانہ فسادات رونموا ہوئے۔ ان فسادات میں بلاشبہ فریقین کا نقصان ہوتا آیا ہے مگرتعجب ہے کہ ہم جس طرز حکومت میں یقین رکھتے ہیں اس کی انتظامیہ جان و مال کے اس قدر حساس پہلو پر ہمیشہ سرد رویہ کیوں رکھتی ہے، بلکہ فسادات میں بسا اوقات اس کا رویہ فریق کا ہوجاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اقلیتوں میں ہمارا محافظ ’’دشمن‘‘ کی شبیہ اختیار کرلیتا ہے۔ تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ میں بارہا یہ حیرت ناک انکشاف سامنے آیا ہے کہ ہماری پولیس نے اقلیتوں کے خلاف مظالم اور کھلم کھلا بے عملی اختیار کرکے تشدد برپا کرنے میں اکثریتی فرقے کی حوصلہ افزائی کی ہے۔
گجرات کے حالیہ فسادات میں ایک بار پھر پولیس کی جانبداریوں کی بے شمار داستانیں سامنے آئی ہیں۔ یہ واقعہ کس قدر کربناک ہے کہ گجرات کے نروڈہ پاٹیہ علاقے میں فساد کا شکار ہونے والی عورت اپنے تین ماہ کے بچے کے ساتھ جان بچانے کے لیے در در بھٹک رہی تھی، جب اس نے ایک پولیس کانسٹبل سے بھاگنے کے لیے محفوظ راستہ معلوم کیا تو اسے ایک ایسا راستہ بتادیا گیا جہاں پہلے ہی فسادیوں کی بھیڑ موجود تھی، اس جنونی بھیڑ نے اس عورت کو اس کے تین ماہ شیر خوار بچے سمیت مٹی کا تیل چھڑک کر زندہ جلادیا (ٹائمز آف انڈیا، نئی دہلی، ۲۰؍مارچ ۲۰۰۲ء)
بلقیس یعقوب رسول کے حوالے سے جو پولیس کی کارکردگی سامنے آرہی ہے اور سپریم کورٹ کو سی بی آئی نے جو حالیہ رپورٹ پیش کی ہے اس سے پوری انسانیت شرمندہ ہے اس پورے قضیے میں پولیس نہ صرف جانبدار رہی بلکہ ۵ ماہ کی حاملہ بے بس اور لاچار ابلا کی اجتماعی عصمت دری کا گھناؤنا کردار بھی نبھایا اور اس کے بعد اس غم میں کہ کہیں وہ اور اس کی ہمنوا اکثریت ماخود نہ ہوجائیں ۱۴ افراد کا قتل کیا اور اسے درگور کرکے ۶۰کلو نمک ڈال دیا۔ انتظامیہ کے انتظامی نظم و نسق کو بحال کرنے والے یہ محافظ بھلا اس قدر ذلیل، بدمعاش، ڈھیٹ، نیچ، زانی، قاتل اور غیر ذمہ دار کیوں ہیں؟ سوچنے کی بات ہے! کیا اسے صرف محققین کی تفتیش کردہ علت ذہنیتِ ’’ہم‘‘ اور ’’وہ‘‘ ہی مان لیا جائے اور صرف اسی ذہنی رویہ کی دہائی دیتے رہا جائے کہ ہماری پولیس میں اسی سماج سے لوگ بھرتی ہوتے ہیں جہاں فرقہ وارانہ بغض و عناد کا وائرس پرورش پاتا ہے اس لیے وہ اپنے ساتھ دوسرے فرقہ کے تئیں وہی تعصب، شکوک و شبہات اور نفرت بھی لے جاتے ہیں اور پولیس میں شامل ہونے کے بعد بھی اپنے ہم مذہبوں (ہندوؤں) کو’’ہم‘‘ اور دوسرے فرقے (اقلیت) کو ’’وہ‘‘ کہتے رہتے ہیں۔ نہیں! وجہ صرف یہ ہوتی تو رفع ہوچکی ہوتی، پولیس کا خاکی لباس اسی ذہنی امتیاز کو پاٹنے کا سیکولر طریقہ ہے، کہ ہندو ، مسلم اور عیسائی ہونے اور نظر آنے سے قبل پولیس والا ایک سیکولر انتظامیہ کا فرد نظر آئے اور پھر اس کا عمل بھی سیکولر فکر کا حامل ہو۔ مگر اسے حالات کی ستم ظریفی کہیے کہ یہعظیم سیکولر سلطنت زعفران زدہ ہوتی جارہی ہے تو بھلا بے چاری پولیس ہی کیوں پیچھے رہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نفرت کا وہ بیج جو ۱۹۲۵ء؁ میں ساورکر نے بویا تھا تناور درخت ہوگیا ہے جس کا ایک ایک پتہ اسی رنگوں میں رنگا ہوا ہے۔
گجرات سانحہ کی دوسری برسی پر میں جس کرب سے گزرا وہ ضبط قلم سے باہر ہے۔ متعدد سماجی اور سیاسی این جی اوز نے اس موقع پر اپنے غم و غصہ کا اظہار کیا، اجتماعات کیے، جلسے کیے، اور سیکولر فورسز کو فسطائیت کے خلاف اٹھ کھڑا ہونے کے عزم و یقین کا ارادہ کیا۔ جی این یو سٹی سینٹر (دہلی) میں مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ بھگوا ذہنیت کے خلاف خود ہندو سنجیدہ طبقہ کس قدر فکر مند ہے اور فعال ہے۔ گجرات مقدمات کی پیروی کرنے والی سپریم کرٹ کی وکیل اندرا جے سنگھ کا وہ یقین کامل اور مجرموں کو نہ بخشنے کا ان کا عزم! آفریں- اس موقع سے میرے علم میں یہ بات آئی کہ اس پورے سانحے میں پولیس ،انتظامیہ اور بلوائیوں کے خلاف کل ۴ ہزار مقدمات درج کرائے گئے۔ جن میں ۲ ہزار مقدمات عدم ثبوت کی بنا پر بند کرنے پڑے اور ۲ ہزار مقدمے ہنورز جاری ہیں۔ معروف سماجی کارکن نفیسہ علی اور امن کمیٹی کے ریٹائرڈ آئی اے ایس آفیسر محترم ہرش مندرا اور پھر معروف فلم ہدایت کار مہیش بھٹ کے خیالات سننے کو ملے۔ لوگ کچھ بھی کہیں میں مہیش بھٹ کی انسان دوستی کا قائل ہوگیا۔ وہ غیر معمولی شخص ہے صرف پیشہ ور فلم ساز ہی نہیں!
اس شام امن کمیٹی کے قافلہ کے ہمراہ دو ایسی شخصیتوں سے ملنے، گفتگو کرنے اور داستان جبرو الم سننے کا موقع ملا جن کا سب کچھ تباہ ہوگیا، افراد خانہ کی ۲۶ جانیں تشدد کی بھینٹ چڑھ گئیں، گھر بار جلادیا گیا، یہ سب کچھ جب ہورہا تھا تووہ ہاسپٹل میں تھیں اور کسی طرح بچ نکلی، ۱۲ سال کا ایک بیٹا ہے اور یہی اس کی کل کائنات ہے! وہ امن کمیٹی کی ایک فعال رکن ہیں۔ دیکھنے میں بالکل عام سادھارن ہندوستانی عورت، سانولی، پستہ قدر اور خالص گجراتی لب و لہجہ میں گفتگو کرسکنے والی -نسیم بہن! صبرو استقلال کا زندہ پیکر، ظلم و عدوان کے خلاف تا حیات لڑنے کا عزم لیے وہ نفرت، بغض و عداوت کا خاتمہ چاہتی ہیں۔ پچھلے ایک سال سے اکیلے اپنے اہل خانہ کا مقدمہ لڑرہی ہیں اور ثابت قدم ہیں۔ انھیں بھگوائیوں کی ۲۵ لاکھ کی لالچ نہ خرید سکی اور نہ ہی بلدیہ کے صدر کے عہدہ کی پیشکش ان کا عزم روک سکی ہے۔ میں حیران کن مسرت سے دوچار رہا کہ ایک عورت اس قدر بھی عظیم ہوسکتی ہے۔ ظلم و تشدد کے پہاڑ جس پر توڑے گئے، اور سب کچھ چھین لیا گیا وہ عورت اس قدر مسیحا کیوں ہے؟ وہ پھولن دیوی کیوں نہ ہوگئی۔ مگر کیا پھولن اور کالی صفت دیویاں ہماری سرزمین سے نفرت کا خاتمہ کرسکتی ہیں؟ نہیں، انھیں تو بس نسیم بہن چاہیے!

 

شیئر کیجیے
Default image
امتیاز عالم فلاحی

تبصرہ کیجیے