جہیز کی بیماری کے خلاف جدوجہد

احمد آباد کی عائشہ کی خود کشی کو دو ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر گیا۔ مسلم سماج کے ذہنوں سے شاید اب اس کی آواز کے پیکر بھی ’’ڈلیٹ‘‘ ہوگئے ہوں، لیکن اس کی موت سے اٹھے سوالات کو ہرگز ’’ڈلیٹ‘‘ نہیں ہونا چاہیے۔ اگر ایسا ہوا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم کوئی بے حس اور بے فکر سماج ہیں جو اپنے معاشرتی، ذہنی اور فکری رویوں کی اصلاح کے سلسلے میں بالکل بے فکر اور لاپرواہ ہے۔

اس حادثے نے مسلم سماج کو جس طرح جھنجھوڑا تھا اس کا اثر اگر ہمارے ذہن پر کچھ بھی باقی ہے تو ہمیں انفرادی اور اجتماعی سطح پر جہیز کے خاتمے کے ساتھ ساتھ معاشرتی زندگی میں اچھی ازدواجی زندگی گزارنے کے گُر سیکھنے اور سکھانے کی ضرورت کو سمجھتے ہوئے اپنی نئی نسل کو رہنمائی فراہم کرنی ہوگی۔ نئی نسل کی رہنمائی کے ساتھ ساتھ اپنے گھر اور خاندان کے افراد کے ذہن و فکر ہی کو نہیں بلکہ ان کے رویوں کی اصلاح کی کوشش بھی کرنی ہوگی۔ ایسا اس وجہ سے ہے کہ ہمارے گھر اور خاندان کے افراد کے دل میں کہیں نہ کہیں مفت میں جہیز حاصل کرکے ’’ناک اونچی‘‘ کرنے کی سوچ پختہ ہے اور یہی سوچ ہے جو گھر میں آنے والی نئی دلہن کی زندگی کو اجیرن بناتی اور معاشرتی زندگی کی بنیادوں کو کمزور کرتی ہے۔ ذہن وفکر کے سانچوں اور عملی رویوں کو تبدیل کرنے کے لیے ہمیں سیرت رسولؐ اور قرآن کریم سے رہنمائی لینے کی ضرورت ہے اور یہ جاننا ہے کہ ہمارے رب نے ہمیں ازدواجی اور معاشرتی وخاندانی زندگی کے لیے کیا ہدایات دی ہیں اور ان ہدایات کو اللہ کے رسولؐ نے کیسے عملی زندگی میں نافذ کرکے دکھایا ہے۔

جہیز کو ہم ایک معاشرتی بیماری تصور کرتے ہیں۔ معاشرتی بیماری جسمانی بیماری سے کہیں زیادہ مہلک اور خطرناک ہوتی ہے۔ جسمانی بیماری کا اثر ایک فرد پر پڑتا ہے لیکن معاشرتی بیماری پورے معاشرے اور سماج کی ہلاکت و تباہی کا ذریعہ بن جاتی ہے اور جہیز کی بیماری نے آج پورے معاشرے اور سماج کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے جس سے افراد ہی نہیں گھر کے گھر اور خاندان کے خاندان تباہ و برباد ہورہے ہیں۔

اس بیماری کا مقابلہ کرنے کے لیے علاج اورپر ہیزدونوں کی ضرورت ہے اور اس کے لیے ہمیں کم از کم دو سطحوں پر سنجیدہ کوششوں کی بنیاد رکھی ہے۔ ایک سطح تو گھر اور خاندان کے افراد کی ذہنی و فکری اصلاح کی ہے، جس کے تحت ہمیں اپنے خاندان کے افراد دل و دماغ سے جہیز کا لالچ کھرچ کر نکالنا ہے کیونکہ اکثر صورتوں میں اگر کچھ نوجوان جہیز کی مخالفت میں سادگی سے شادی کے خواہش مند ہوں بھی تو انہیں اپنے اہلِ خانہ سے طویل لڑائی لڑنی پڑتی ہے۔ اہلِ خانہ ہی نہیں سماج سے بھی لڑنا پڑتا ہے۔ اکثر حالات میں خود لڑکی والے بھی اپنی ’’ناک‘‘ کی خاطر جہیز دینے پر اصرار کرتے ہیں جبکہ اہلِ خانہ کا لالچ شادی کے بعد بھی لڑکی کو جہیز نہ ملنے یا کم ملنے پر طعنے دیتا اور کچوکے لگاتا ہے حالانکہ لڑکے کو اس پر کچھ بھی اعتراض نہیں ہوتا۔

اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم خاندان کی سطح پر ذہن سازی اور بیداری کی منصوبہ بندی کریں اور گھر کے افراد کو بتائیں کہ یہ غلط ہے۔ ہم جب لڑکی والے ہوتے ہیں تو جہیز کو برائی تصور کرتے ہیں اور پریشانی میں اس برائی کو خوب کوستے ہیں مگر جیسے ہی ہم لڑکے والے ہوجاتے ہیں تو ہمارے رویوں اور سوچ میں تبدیلی آجاتی ہے۔ ہم سوچنے لگتے ہیں کہ ’’دیا ہے تو لیں گے بھی‘‘ اور اکثر دیے ہوئے سے زیادہ لینے کی خواہش بھی رکھتے ہیں اور کوشش بھی کرتے ہیں لہٰذا برائی کو برائی ہی تصور کیا جائے۔ اگر جہیز دنیا اب کو تکلیف اور پریشانی میں ڈالتا ہے تو جہیز لینا کیوں بے چین نہیں کرتا اور خود کو ہم لڑکی والے کی جگہ رکھ کر کیوں نہیں سوچ پاتے۔

گھر اور خاندان کی سطح پر اہلِ دل اور سماج و معاشرے کی اصلاح کے خواہشمند افراد کو چاہیے کہ وہ جہیز کے مسئلہ کو اپنے گھر اور خاندان کے افراد کے درمیان بحث کا موضوع بنائیں، اس کے خاندان، افراد اور بچوں کی ازدواجی زندگی پر پڑنے والے اثرات کو اہلِ خانہ پر واضح کریں اور گھر کے تمام افراد مل کر اجتماعی حلف لیں کہ اب ان کے گھر میں کسی دلہن کے ساتھ جہیز نہیں آئے گا اور بغیر جہیز کے آنے والی دلہن کا وہ خوش دلی سے نہ صرف استقبال کریں گے بلکہ اپنے بچوں کی ذہن سازی بھی اس طرح کریں گے کہ وہ اپنے آپ کے ذہن سے جہیز کے لالچ کو نکال کر خود اعتماد اور پرمسرت ازدواجی زندگی گزارنے کی راہ پر لگائیں۔یہ سطح ہے خاندان کے افراد کی ذہن سازی اور فکر کی اصلاح کرنے کی۔

دوسری سطح ہے اپنی نئی نسل کی ذہن سازی اوررویوں کو درست کرنے کی۔ اس میں والدین، اساتذہ اور تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ سماجی خدمت اور سماجی بیداری کے لیے کام کرنے والے افراد اور اداروں کا اہم اور کلیدی رول ہونا چاہیے۔ ہمارے تعلیمی ادارےاب صرف نصابی تعلیم کا مرکز بن کر رہ گئے ہیں اور اساتذہ محض اس سلسلے کے رہنما۔ اسکولوں میں اب اساتذہ زندگی جینے کا فن نہیں سکھاتےاور نہ ہی عملی زندگی کے مسائل اور رویوں کی اصلاح کی کوئی فکر رکھتے ہیں۔ اسی طرح والدین بھی اس معاملے میں کوتاہ ہیں اور پوری نئی نسل کو بالکل تربیت سے آزاد چھوڑ دیا گیا ہے۔ یہ آج کے تعلیمی نظام اور طرزِ معاشرت کا افسوسناک پہلو ہے۔ اس کی بھرپائی ضروری ہے اور اس طرف توجہ بھی لازمی ہے۔ سماجی و معاشرتی ہی نہیں دیگر مسائل کے بارے میں بھی بیداری کا ذریعہ والدین، اساتذہ اور تعلیمی ادارے ہی ہوتے ہیں جہاں نسل تیار ہوتی ہے۔ اگر ہم ایک بیدار، باشعور اور برائی مخالف نسل تیار کرنا چاہتے ہیں تو ان مقامات کو اصلاح کی فکر کا مرکز بنانا ہوگا۔

جہیز مخالف بیداری میں اس سطح کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ اسی نسل کو آگے چل کر شادی کا فرض ادا کرنا ہے اور ان ہی کی سوچ اور روے مستقبل کا ’عملی ٹرینڈ‘ بنائیں گے اس لیے ان کی فکرکی اصلاح ضروری ہے۔ بیداری اور اصلاح کی فکر اگر مہم کی صورت اختیار کرلے تو مؤثر اور کارآمد ہوتی ہے اور حقیقت میں معاشرتی برائیوں کا خاتمہ اسی مہماتی جدوجہد کے ذریعہ کیا جاتا ہے اور اسی طرح ممکن بھی ہے۔ طلبہ و نوجوانوں کے درمیان اس مہم کو لے جایا جائے اور اس کے مفاسد اور برے اثرات کو ان کے سامنے پیش کیا جائے اور انہیں اس بات کے لیے آمادہ کیا جائے کہ وہی اس برائی کا خاتمہ کرسکتے ہیں اور انہیں کرنا چاہیے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ تعلیمی اداروں کی سطح پر طلبہ کے درمیان ڈسکشن کرائے جائیں، اساتذہ اس موضوع پر گفتگو کریں، سماجی خدمت کے ادارے تعلیمی اداروں میں جائیں اور طلبہ کے درمیان اس برائی کے خاتمے کے عزم کو پیش کرتے ہوئے اجتماعی حلف کے پروگرام منعقد کرائیں اور طلبہ سے عہد لیں کہ وہ اس برائی کے خاتمہ کے لیے جدوجہد کریں گے۔اس طرح ہم نئی نسل کے ذہنوں میں اس برائی کی شناعت و شدت کو بتاکر انھیں آگے بڑھنے کا عزم و حوصلہ اور فکر دے سکیں گے۔ اگر ان دو سطحوں پر کام کرنے کی فکر ہمارے سماج میں پیدا ہوگئی تو جہیز بھی ’ستی‘ کی ظالمانہ رسم کی طرح محض ایک تاریخ بن کر رہ جائے گا۔

یہ کام ’’کرسی نشین، اسٹیج پسند اور فیسبکی لیڈران‘‘ محض اردو اخبارات میں ایک صفحے کا اشتہار شائع کراکر انجام دینا چاہتے ہیں ۔ آسان اور مسنون نکاح کی دس روزہ اشتہاری مہم کے بجائے راجہ رام موہن رائے جیسی زمینی جدوجہد کی ضرورت ہے اور یہ وہی افراد انجام دے سکتے ہیں جو مخلص ہوں، بے لوث ہوں اور جن کے دل میں قوم و ملت کا حقیقی درد ہو اور اللہ کی رضا و خوشنودی کے لیے کام کرنے کا جذبہ بھی۔

اس مہم کو مذہبی فریم سے الگ رکھا جانا بھی ضروری ہے کیونکہ یہ صرف کسی خاص مذہبی معاشرے کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے ہندوستانی سماج کا مسئلہ ہے۔ اس لیے اس کے خلاف مہم بھی ہمہ گیر اور ہمہ جہت ہونی چاہیے ورنہ مطلوبہ نتائج کا حصول دشوارہوگا۔

کچھ حجاب اسلامی کے بارے میں!

گزشتہ ماہ (اپریل 2021) کے شمارے میں ہم نے کچھ نیاکرنے کی کوشش کی تھی۔ اس شمارے میں ہم نے آڈیو اور ویڈیو QRکوڈ کی شکل میں دے تھے۔اس جدت کو کافی لوگوں نے پسند کیا۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ ہم جدید ٹکنالوجی کی سہولت کو استعمال کرتے ہوئے حجاب اسلامی کو زیادہ مفید بناسکیں۔ اس تجربے کو ہم اور آگے بھی بڑھائیں گےاور زیادہ بہتر اور مفید بھی بنانے کی کوشش کریں گے۔ اس کے تحت ابھی تو ہم صرف دوسری جگہ سے مفید آڈیو و ڈیو لے کر اپنی ویب سائٹ اور فیس بک پیج پر ڈال رہے ہیں، آئندہ خود ماہرین کے آڈیو اور ویڈیو تیار کرکے قارئین تک پہنچانے کا منصوبہ ہے۔

اس کوشش کے پیچھے جو فکر تھی وہ یہ کہ حجاب عام لوگوں کے لیے بھی مفید ہو، ان میں وہ لوگ خاص طور پر سامنے ہیں جو یا تو کسی معذوری کی وجہ سے پڑھ نہیں سکتے یا وہ اردو زبان نہیں جانتے۔ اس QRکوڈ کے ساتھ موبائل کے ذریعہ ایسے لوگ بھی حجاب اسلامی کے مضامین سے مستفید ہوسکتے ہیں۔

اب ہر گھر میں جدید (اینڈرائڈ) موبائل فون تو موجود ہے ہی، اس میں ایک ’’ایپلی کیشن QRکوڈ ریڈر‘‘ ہوتی ہے۔ اس ایپلی کیشن کو ڈاؤن لوڈ کرکے QRکوڈ اسکین کیا جائے تو آڈیو یا ویڈیو خود بہ خود شروع ہوجائے گی۔ بس آپ اسے سن سکتے ہیں یا دیکھ سکتے ہیں۔

اس شمارے میں اپنے نئے تجربے کو آگے بڑھاتے ہوئے رسالہ کے خاص اور اہم مضامین کو اسی کے ساتھ آڈیو کی صورت میں بھی دیا جارہا ہے۔ جو لوگ کسی بھی وجہ سے پڑھنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں وہ ان مضامین کو موبائل کے ذریعہ سن کر فیض یاب ہوسکیں گے۔

اس دوران بعض احباب کی جانب سے یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ پڑھنے کے رجحان میں کمی کے اس دور میں آپ آڈیو /ویڈیو دے کر پڑھنے کے رجحان میں مزید کمی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ پڑھنے والے لوگ پڑھیں، ضرور پڑھیں اور خوب پڑھیں۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کچھ لوگ پڑھ کر زیادہ بہتر محفوظ رکھ پاتے ہیں اور کچھ لوگ سن کر اور دیکھ کر۔ دیکھ کر ذہن نشین کرنا تو سب سے مؤثر ہے۔ اب قارئین حجاب کو سننے اور دیکھنے کا بھی ایک موقع مل رہا ہے۔ جو جس طرح چاہے استفادہ کرے۔ دیکھنا اور سننا پڑھنے کا بدل نہیں ہے اور نہ ہی ہم اسے متبادل کے طور پر پیش کررہے ہیں، اسے تو بس کم خرچ میں زیادہ معلومات اور زیادہ مفید باتوں کو قارئین تک پہنچانے کی صورت میں دیکھا جانا چاہیے۔

آپ کو یہ نیا پن کیسا لگا؟ اپنی رائے سے آگاہ فرمائیں۔ ہم ماہنامہ حجاب اسلامی کو زیادہ مفید، بہتر اور ٹکنالوجی سے لیس کرنے اور فائدہ اٹھانے کی فکر رکھتے ہیں تاکہ ٹکنالوجی کا مفید، تعمیری اور بلند مقاصد کے لیے استعمال ممکن ہوسکے۔

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی

One comment

Comments are closed.