BOOST

بچوں کی ذہانت بڑھائیے!

ایک فرد، بلکہ یوں کہیے کہ پورے معاشرے کی سب سے قیمتی متاع اس کے بچے ہیں۔ انسانیت کی بقا اور نشوونما کا تمام تر انحصار ان بچوں کی صحیح تعلیم و تربیت پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علمائے نفسیات نے بچے کی تعلیم و تربیت کو سب سے نازک اور سب سے زیادہ اہم مسئلہ قرار دیا ہے۔ اور اسلام نے تو عورت کو اسی لیے گھر میں زیادہ سے زیادہ دلچسپی لینے کی تاکید کی ہے تاکہ وہ بچوں کی صحیح خطوط پر نگہداشت کرسکے۔
بچے کی تربیت میں احتیاط کو بہت زیادہ دخل حاصل ہے۔ معصوم بچوں کی دیکھ بھال اور ان کی تربیت ’’شیشہ گری‘‘ کے کام سے کہیں زیادہ نازک ہے۔ آپ سے ذرا بھول چوک ہوئی اور بچے کے ذہن پر نامٹنے والا ایک نقش پڑگیا۔ ایسا نقش جو پوری زندگی بچے میں اضطراب کی لہریں پیدا کرتا رہے گا۔
بچوں کی ذہنی اور جسمانی صلاحیتیں بلاشبہ یکساں نہیں ہوتیں۔ کسی بچے کی ذہنی صلاحیتیں زیادہ قوی اور نکھری ہوئی ہوتی ہیں اور کسی بچے میں یہ صلاحیتیں اعلیٰ معیار کی نہیں ہوتیں۔ لیکن یہ کبھی نہیں ہوتا کہ کسی بچے میں ذہنی صلاحیتیں سرے سے موجود ہی نہ ہوں۔ البتہ آپ کی غیر محتاط باتیں بچے کو واقعی کند ذہن بنادیتی ہیں۔
اگر آپ ایک بچے کو بار بار کند ذہن اور بیوقوف کہیں گے تو بچے میں آہستہ آہستہ یہ احساس ابھرنے لگے گا کہ میں بہت ہی نالائق ہوں اور اتنا نالائق ہوں کہ میںکوئی عقل کی بات کر ہی نہیں سکتا۔ اور جب میں کوئی عقل کی بات کر ہی نہیں سکتا تو پھر مجھے دل کھول کر حماقت اور پاگل پن کے کام کرنے چاہئیں۔
بچہ بہت زیادہ سریع الحس ہوتا ہے۔ وہ ہر بات سمجھتا اور محسوس کرتا ہے۔ اگر دو چار بچوں کی موجودگی میں اسے برا بھلا کہا جائے تو اس کے جذبہ ٔ خود اعتمادی کو سخت ٹھیس پہنچتی ہے۔ اور اگر یہ حرکت آپ بار بار کریں گے تو اس میں سے خود اعتمادی کا احساس بالکل ہی ختم ہوجائے گا۔ اور شاید یہ آپ کو معلوم نہ ہو کہ خود اعتمادی کا فقدان ناکامیوں کا سب سے بڑا سرچشمہ ہے۔
ہر بچہ اپنی ہمت اور استعداد کے مطابق اپنی ذات کو ترقی دینا چاہتا ہے۔ لیکن اگر آپ اس بچے سے اس کی استعداد سے زیادہ کام لینا چاہیںتو پھر اس کی انفرادیت سکڑ کر رہ جائے گی۔ وہ جب اس بوجھ کو اٹھا نہیں سکے گا تو اسے اپنی خامی اور کمزوری کا شدید احسا ہوگا اور دوسری طرف آپ کی زہر میں بجھی ہوئی باتیں اس کی کمر ہمت کو بالکل توڑ کر رکھ دیں گی اور یہ عمل اسے ایک پھسڈی بچے کی سطح پر لے آئے گا۔
ان تمام باتوں سے یہ بات عیاں ہے کہ کوئی بچہ طبعاً پھسڈی نہیں ہوتا، یہ آپ، آپ کی باتیں اور آپ کا پیدا کردہ ماحول ہے، جو بچے کو پھسڈی بناتا ہے۔ آپ کی غیر محتاط روش اور آپ کے غیر دانش مندانہ اقدامات بچے کی زندگی پرفیصلہ کن اثرات ڈالتے ہیں۔
آئیے اب ہم ان چند اصولی باتوں کو ذہن نشین کرلیں جن کی مدد سے بچوں میں ذہانت کی صلاحیتوں کو ابھارا جاسکتا ہے۔
سب سے پہلے ہمیں بچے کی ذہنی صلاحیتوں کا جائزہ لینا چاہیے تاکہ اس جائزہ کے مطابق بچے سے کام لیا جائے۔ شروع شروع میں یہ کام اتنا ہلکا پھلا ہو کہ بچہ اسے بآسانی کرسکے۔ جب بچہ اس طرح دئے ہوئے کام کو کرنے میں کامیاب ہوجائے گا، تو اس میں خوداعتمادی پیدا ہوگی۔ آپ بتدریج بچے کی ذہنی سطح کو دیکھتے چلے جائیے۔ آپ محسوس کریں گے کہ اس میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے۔ پھر آہستہ آہستہ اسے زیادہ بوجھل کاموں کا عادی بنائیے۔ اس طرح ایک پھسڈی سے پھسڈی بچہ ترقی کے مراحل طے کرتا چلا جائے گا۔ لیکن اگر آپ نے بچوں کو پہلے دن ہی نالائق اور کند ذہن کے القاب سے نوازا تو اس کے نتائج نہایت ہی مہلک ہوں گے۔
دوسری بات یہ ہے کہ بچے کو کبھی دوسروں کے سامنے برا بھلا نہ کہیے۔ اگر اسے کچھ سمجھانا مقصود ہو تو علیحدگی میں سمجھائیے۔ اس سے اس کی عزتِ نفس کو ٹھیس نہیں لگے گی۔ جو والدین اپنے بچوں کو دوسروں کی موجودگی میں جھاڑ کر رکھ دیتے ہیں وہ دراصل اپنے بچوں کو بے غیرت، ضدی اور چڑچڑابنانا چاہتے ہیں۔ بچہ اپنی بے عزتی پر پیچ و تاب کھاتا رہتا ہے اور اس کے ذہن میں انتقام کا ایک رد عمل پیدا ہوتا ہے۔ پھر وہ ہر کام کو بگاڑنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ اس شخص کو اذیت پہنچے جس نے اسے اذیت پہنچائی ہے۔
بچوں کی تربیت میں اس نکتہ کو بنیادی اہمیت حاصل ہے کہ والدین اس پر یہ ظاہر نہ ہونے دیں کہ وہ اپنے بچوں پر اعتماد نہیں کرتے۔ بچے پر اس کی ناتجربہ کاری کی وجہ سے زیادہ اعتماد تو نہیں کیاجاسکتا لیکن کچھ امور میں ان پر اعتماد کرنا چاہیے۔ ہم اپنے بچوں پر کڑی نگاہ رکھتے ہیں اور اس سے اس کے ہر فعل کے متعلق غیر ضروری سوالات کرتے رہتے ہیں اور جب وہ جواب میں کچھ کہتا ہے تو ہم اس کے جواب کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور تحقیق کرتے ہیں، اس طرز عمل سے بچہ یہ تاثر لیتا ہے کہ اس کے والدین کو اس پر اعتماد نہیں۔ یہ احساس اسے غلط راستوں پر لے نکلتا ہے۔ پھر اس کا ذہن صحیح بات کو چھپانے کے لیے عجیب سے عجیب بہانے تراشتا ہے۔ اس طرح اس کا ذہن تخریبی کاموں میں لگ جاتا ہے۔
بچے کی انفرادی نشوونما اور ترقی کے لیے یہ بات بے حد ضروری ہے کہ اسے خود کچھ سیکھنے، جاننے اور تجربے کرنے کا موقع دیا جائے۔ بہت زیادہ رکھوالی اور بات بات پر گرفت بچے کے ذہن کو کند بنادیتی ہے۔ جب آپ بچے کو سوچنے کا موقع ہی نہیں دیں گے تو اس کی ذہنی صلاحیتیں نشو ونما کیونکر پائیں گی۔ کچھ والدین اپنے بچوں بلکہ جوان اولادپر حکم چلاکر فخر محسوس کرتے ہیں کہ ہمارے بچے اب بھی ہمارے حکم سے باہر نہیں جاسکتے۔ لیکن یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ بچوں کو کچھ نہ کچھ آزادی ہونی چاہیے۔ ورنہ ان کی انفرادیت ختم ہوکر رہ جائے گی۔ اور یہ اتنا عظیم نقصان ہوگا کہ اس کی زندگی بھر تلافی نہ ہوسکے گی۔

شیئر کیجیے
Default image
ابنِ حسن

تبصرہ کیجیے