BOOST

شیخ احمد یٰسین کا ایک خط

اے اہلِ عرب! کیا تمھیں اپنی حالت کا علم ہے؟
میں تو بوڑھا عاجز اور درماندہ ہوچکا ہوں…
میں اپنے ان مردہ ہاتھوں سے نہ قلم پکڑسکتا ہوں نہ اسلحہ اٹھا سکتا ہوں…
میں کوئی بلند بانگ خطیب بھی نہیں ہوں کہ میری آواز سے مکانات لرز جائیں…
مجھے تو جب تک دوسرے حرکت نہ دیں میں اپنی خاص وعام ضروریات کے لیے حرکت بھی نہیں کرسکتا…
میرے بال سفید ہوچکے ہیں… اور عمر کا آخری پڑاؤ ہے…
میں وہ ہوں جسے امراض نے کمزور کردیا ہے اور زمانے کی آزمائشوں نے جسے تباہ کردیا ہے…
کیا یہ درست ہے کہ تمہاری حالت بھی ایسی ہی ہے کہ خاموش رہو، کیا تم عاجز و مردہ ہوچکے ہو؟ جس دردناک حادثے سے ہم دوچار ہیں کیا اس پر تمہارے دل لرزتے نہیں؟ کیا تم ایسی قوم نہیں ہو جو اللہ کے غضب سے بچنے اور امت کی شان کی حفاظت کے لیے ایک دوسرے کی مدد کرسکو؟
کیا تم ایسی قوم نہیں ہو جو اپنے اوپر بین الاقوامی جنگ تھوپنے والوں پر حملہ آور ہوسکے؟ نہیں، تم ایسی قوم ہو جس نے ہمیں مظلوموں کا حامی بننے کے بجالئے مجرم اور دہشت گرد بنادیا ہے……
کیا اس امت کو اپنے آپ پر شرم نہیں آتی جس نے خود اپنی ہی عزت پر حملہ کیا ہے؟
کیا اس امت کی حکومتوں کو شرم نہیں آتی کہ وہ صہیونی مجرموں اور ان کے حلیفوں سے نظریں چرا رہے ہیں، بجائے اس کے کہ ہمیں ہم دردی کی نظر سے دیکھتے، ہمارے آنسو پونچھتے اور ہمارے کندھے پر ہاتھ رکھتے؟
کیا اللہ کی رضا کے لیے اس امت کی جماعتیں اور تنظیمیں، ادارے اور شخصیات اس بات پر سچ مچ غضبناک نہیں ہوتے؟ اور انھیں یہ نہیں سوجھتا کہ وہ زبردست جمعیت کے ساتھ نکل کھڑے ہوں اور پکاریں کہ اے اللہ… ہمارے بازوؤں میں طاقت دے… ہمارے بوڑھوں پر رحم فرما اور اپنے مومن بندوں کی مدد فرما۔ کیا تمہارے بس میں یہ بھی نہیں کہ ہمارے لیے دعا کرسکو؟… جلد ہی تمہیں پتہ چلے گا کہ یہاں زبردست جنگ چھڑ گئی ہے۔ … کیونکہ ہم میدان میں کھڑے ہیں اور ہماری پیشانیوں پر لکھا ہوا ہے کہ ہم میدان میں کھڑے رہیں گے، جمے رہیں گے، پیچھے نہیں ہٹیں گے… ہمارے ساتھ ہمارے بچوں، ماؤں، بوڑھوں اور جوانوں نے بھی اپنی جانیں قربان کی ہیں… ہم نے ان سب کو اس ساکت و بلید امت کی بقا کا ایندھن بنایا ہے…
ہماری جانب سے تم صلح کے منتظر مت رہنا اور یہ مت سمجھنا کہ ہم اپنے ہاتھوں میں سفید جھنڈیاں اٹھالیں گے۔ کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ ہمیں اس حالت میں بھی مرنا ہے لہٰذا ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دو ہم مجاہد کی شان سے مرنا چاہتے ہیں۔ اگر تم بھی چاہو تو ہمارے ساتھ آجاؤ…
ہمارا خون بہا تم سب کی گردن پر ہوگا… تم ہماری موت کے گواہ رہو اور ہم پر رحم کھاؤ… ہماری تسلی کے لیے یہی کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے بدلہ لے گا جس نے اس امانت میں خیانت کی جو اسے دی گئی تھی۔
اے امت اور قائدین امت! ہمیں تم سے یہی امید ہے کہ تم ہماری کوئی ذمہ داری نہیں لوگے خدا کی قسم تم پر ہماری کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔
اے اللہ ہم تو تجھ سے اپنے حالات کا شکوہ کرتے ہیں، تجھ سے ہی شکوہ کرتے ہیں… صرف تجھ ہی سے شکوہ کرتے ہیں… صرف تجھ سے اپنی کمزور قوت کا شکوہ کرتے ہیں… اپنی بے بضاعتی کا ، اپنی بے وزنی کا شکوہ کرتے ہیں… اے اللہ تو کمزوروں کا رب ہے، تو ہمارا رب ہے… ہم کس پر بھروسہ کریں…… کیا اس پر بھروسہ کریں جو ہم سے ترش روئی کے ساتھ پیش آتا ہے یا اس دشمن پر جس کے حوالے تو نے ہمارا معاملہ کررکھا ہے؟
اے اللہ ہمارے جو آنسو بہے ہیں، جو عزتیں پامال ہوئی ہیں، جن محرمات کی عزت و عفت پر حملہ ہوا ہے، جو بچے یتیم کردئے گئے ہیں، جو عورتیں بیوہ بنادی گئی ہیں اور جو مائیں اپنے جگر کے ٹکڑوں سے محروم ہوگئی ہیں، ہم ان کا شکوہ تجھ سے کرتے ہیں… جو گھر تباہ ہوئے ہیں، جو کھیتیاں تباہ و برباد کردی گئی ہیں ہم ان کا شکوہ تجھ سے کرتے ہیں۔ ہم تجھ سے اپنی جمعیت کے انتشار، باہمی تفریق اور اپنی بے راہ روی کا شکوہ کرتے ہیں۔ اپنی قوم کی کمزوری، امت کی عاجزی و بے بسی اور اس پر دشمن کے غلبے کا شکوہ کرتے ہیں۔

شیئر کیجیے
Default image
ماخوذ