3

شہید فلسطین: شیخ احمد یٰسین

گزشتہ ۲۲ مارچ کو اسرائیل اور فلسطین کشمکش نے اس وقت ایک نازک موڑ لے لیا جب اسرائیلی فوجوں نے ہیلی کاپٹروں اور میزائلوں کی مدد سے مشہور فلسطینی لیڈر شیخ احمد یٰسین کو شہید کردیا۔ اس وقت وہ ۶۷ برس کے تھے۔ وہ فلسطین کی تحریک آزادی، مسجد اقصیٰ کی بازیابی کے لیے میں تاعمر پیش پیش رہے۔وہ حریت پسند گروپ حماس کے بانی و رہنما تھے۔ اس کے علاوہ آپ کو فلسطین میں سرگرم تمام اسلامی تحریکات کا روحانی پیشوا بھی سمجھا جاتا تھا۔
شیخ احمد یٰسین کی پیدائش ۱۹۳۸ء میں غزہ شہر سے ۲۰ کلومیٹر جنوب کے ضلع مجدل کے ایک گاؤں جورہ میں ہوئی۔ ابھی تین سال کے بھی نہ ہوئے تھے کہ والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ ابتدا میں اپنے خاندان کے ساتھ ’’جورہ‘‘ ہی میں رہے لیکن ۱۹۴۸ء کے المیۂ فلسطین کے بعد ان کا خاندان غزہ شہر منتقل ہوگیا جہاں انھوں نے اپنی عمر کے پچیس برس گزارے۔ ابتدائی تعلیم آبائی گاؤں ’’جورہ‘‘ اور مدرسہ الامام الشافعی میں حاصل کی۔ اس کے بعد آپ نے مدرسہ الرمال الاعدادیۃ میں داخلہ لیا اور پھر مدرسہ فلسطین الثانویہ سے ۱۹۵۸ء میں سکنڈری تعلیم مکمل کی اور تعلیمی زندگی یہیں پر تمام ہوگئی۔ گرچہ اس کے بعد قاہرہ یونیورسٹی میں بھی داخلہ لیا لیکن خرابیٔ صحت اور معاشی پریشانیوں کے سبب تعلیم جاری نہ رکھ سکے۔
ان کی زندگی کا ایک اہم مرحلہ وہ ہے کہ جب وہ مشہور اسلامی تحریک ’’اخوان المسلمون‘‘ میں شامل ہوئے۔ مصر میں اس وقت اسلامی تحریکات کافی سرگرم تھیں اور اب ان کی سرگرمیاں صرف مصر ہی نہیں بلکہ باہر کی دنیا میں بھی اپنے قدم جمارہی تھیں۔ نوجوانوں کو تیار کرنا، ان کی تربیت ، ان کے دین، اعمال و اخلاق کی اصلاح اور انھیں غلبۂ اسلام کے لیے کھڑا کرنا ان کا مطمع نظر تھا۔ فلسطین کا یہ علاقہ اس وقت مصری انتظامیہ کے ماتحت تھا۔ آمدورفت بھی آسان تھی، لہٰذا اخوان المسلمون نے فلسطین کی طرف خاص توجہ دی۔ شیخ احمد یٰسین بھی اسی وقت اخوان سے وابستہ ہوگئے۔ اخوان نے جہاں ان کی دینی، اخلاقی اور علمی رہنمائی کی وہیں جسمانی صحت کے لیے ورزش کا اہتمام ضروری قرار دیا۔ ایک دن لڑکے سمندر کے کنارے اونچی چٹانوں سے ریت میں کود رہے تھے۔ شیخ بھی ان کے ساتھ شریک تھے کہ وہ سر کے بل گرے اور گردن کی ہڈیاں اپنی جگہ سے ہٹ کر دوسری جگہ پیوست ہوگئیں۔ چوٹ کی شدت سے ریڑھ کی ہڈی بھی متاثر ہوئی۔ آپ کو ابتدائی مرہم پٹی کے بعد شہر کے اسپتال میں داخل کرایا گیا اور دوران علاج ہی پورے جسم پرفالج کا اثر ہوگیا۔ یہ حادثہ ۱۹۵۹ء کے موسم گرما میں پیش آیا۔ اب وہ دونوں پیروں سے معذور تھے۔ اس حادثہ کے کچھ ہی دنوں بعد باوجود معذوری شیخ نے ایک سرکاری اسکول میں ملازمت اختیار کی اور کئی سالوں تک اس سے منسلک رہے۔
عرب اسرائیل جنگ کے بعد عربوں کی پسپائی سے ایک قسم کی مایوسی فضا پر طاری ہوگئی تھی لیکن آپ نے حوصلے کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا بلکہ قوم اور ملت کو اسرائیلی قبضہ کے سیاسی، سماجی اور تہذیبی خطرات سے آگاہ کیا اور کہا ’’ہمیں ہر حال میں اللہ ہی کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ اس کے علاوہ ہمارا کوئی حامی اور ناصر نہیں، قوموں کی زندگی میں شکست و ریخت کے مراحل بھی آتے ہیں، اس لیے نہیں کہ ہمت ہار دی جائے، ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جایا جائے بلکہ اپنا احتساب کیا جائے۔ اپنی صلاحیتوں اور قوتوں کا ازسر نو جائزہ لیا جائے کیوں کہ حملہ آور غاصب دشمن کے پنجہ سے ارض مقدس کو آزاد کرانا فرض ہے۔‘‘
آپ کی جدوجہد کا مرکز شروع ہی سے مساجد رہیں۔ آپ نے ان میں نوجوانوں کو اصلاح و تربیت ، بزرگوں، بچوں حتیٰ کہ عورتوں تک کو خطاب کرنے کا کام کیا، درس قرآن کے حلقے قائم کیے۔ آپ کا خطاب انتہائی مؤثر ہوتا۔ آپ نوجوانوں کی ٹولیوں سے ملتے اور انھیں باؤنڈری کے پاس لے جاکر خاردار تاروں سے گھری وطن کی مٹی دکھاتے اور اسے آزاد کرانے کے جذبے کو مہمیز دیتے۔ یتیموں، ناداروں، مسکینوں اور بے سہارا لوگوں کے لیے انھوں نے فنڈ قائم کیے،ایسے طلباء جو معاشی طور سے خود کفیل نہ تھے، اس فنڈ سے مستفید ہوتے۔
آپ کا ایک قابل رشک کارنامہ المجمع الاسلامی (اسلامک اکیڈمی) کا قیام بھی ہے جو بعد میں غزہ اسلامی یونیورسٹی کے قیام کا سبب بنا۔ طلباء کی علمی تربیت کے لیے آپ نے مختلف اسلام پسندوں سے رابطہ کیا اور ان کے تعاروں سے المجمع الاسلامی کی بنیاد رکھی اور بعد میں اس کی کئی شاخیں اور ذیلی سنٹرز کھولے۔
آپ نے نوجوانوں کے سامنے فلسطین کے اسلامی، عربی، قومی اور وطنی پہلوؤں کی وضاحت کی۔ اس طرح رفتہ رفتہ آپ نے ایک ایسی انقلابی جماعت تیار کردی جو عقیدے کے لحاظ سے نہایت مضبوط، علم وعمل کے اعتبار سے پختہ و فعال اور جذبے و حوصلے کے اعتبار سے انتہائی بلند تھی۔ اس ضمن میں ان کی شہادتیں اس بات کا قوی مظہر ہیں۔
۱۹۸۷ء میں حماس جس کا پورا نام حرکۃ المقاومۃ الاسلامیہ (Islamic Resistance Movement) ہے، کے نام سے ایک منظم جدوجہد کا آغاز ہوا۔ اس کی شروعات مظاہروں، جلوسوں اور بینروں سے ہوئی۔ اس کو مساجد کا انقلاب بھی کہتے ہیں۔ بعد میں اس کو انتفاضہ کے نام سے موسوم کیا گیا۔ ۸؍دسمبر ۱۹۸۷ء کو غزہ میں انتفاضہ کا پہلا شرارہ پھوٹا اور پھر یہ آگ بڑھتی چلی گئی۔ ۱۵؍اپریل کو حماس کا پہلا بیان جو فلسطینی قوم کی عظمت کو سلام کے ساتھ مسجد اقصیٰ کی بازیابی اور فلسطین کی آزادی کے عزم پر مشتمل تھا، شائع ہوا۔ شیخ احمد یٰسین کو کئی بار گرفتار کیا گیا۔ آپ کو شہید کرنے کے لیے کئی بار حملے کئے گئے۔ گزشتہ سال ۱۳؍جون کو آپ کو معمولی چوٹیں آئیں۔ ۶؍دسمبر کو آپ کا گھر مسمار کردیا گیا اور ۲۲؍مارچ کو صبح اس وقت شہید کردئے گئے جب فجر کی نماز سے لوٹ رہے تھے۔

شیئر کیجیے
Default image
ابو ظفر عادل اعظمی

تبصرہ کیجیے