BOOST

ہلاکت کی راہیں

زندگی کتنی لمبی ہے! اور کتنی مختصر ہے!
میری مختصر زندگی کا ایک لمبا حصہ ایک ایسے رفیق کی تلاش میں گزرگیا جو دوست کو اس نگاہ سے نہ دیکھتا ہو جس نگاہ سے ایک سودا گر اپنے سامانِ تجارت کو دیکھتا ہے۔ یہ تلاش بڑی صبر آزما ثابت ہوئی قریب تھا کہ مایوسیاں اور اداسیاں میرے دل میں گھر کرلیں کہ ناگاہ میں نے ’’اُسے ‘‘ پالیا۔
شریفانہ خصائل میں سے کوئی خصلت ایسی نہ تھی جو اس میں نہ پائی جاتی ہو اور دلکش عادات میں سے کوئی ایسی عادت نہ تھی جس کا وہ مالک نہ ہو۔ وہ ایک دل پسند دوست، مہربان شوہر اور شفیق باپ تھا۔ اسے پاکر میں نے سب کچھ پالیا۔ فرصت کا جو وقت اس رفیق سعید کی صحبت میں گزرتا تھا اس کی یاد میری غمناک زندگی کا ایک قیمتی سرمایہ ہے۔
دن اسی طرح گزررہے تھے کہ ناگہاں مجھے کسی ناگزیر ضرورت کے باعث قاہرہ چھوڑ کر اپنے وطن جانا پڑا۔ قاہرہ چھوڑتے وقت مجھے کسی بات کا رنج نہ تھا سوائے اس رفیق کی جدائی کے۔ وطن میں میری الجھنیں بڑھتی گئیں اور میں ایک عرصہ دراز تک قاہرہ واپس نہ آسکا۔ کئی برس گزرنے کے بعد جب میرے حالات اس قابل ہوئے کہ میں قاہرہ آسکوں تو پہلا کام جو مجھے کرنا تھا وہ یہی تھا کہ اُسی محبوب رفیق کو تلاش کروں۔
میرے قاہرہ سے جانے کے بعد کچھ عرصہ تو اس کے خط آتے رہے۔ پھر ان میں کمی شروع ہوگئی اور اب ایک عرصے سے وہ بالکل بند تھے۔ اس لیے بھی مجھے بے چینی تھی کہ اسے جلد تلاش کرکے معلوم کروں کہ آخر اس پر کیا بیتی جو وہ اپنے دلی دوست کو بھی بھول گیا۔
رات کا اندھیرا چھا رہا تھا جب میں اس کے گھر کے سامنے پہنچا۔ معلوم نہیں کیوں میرا دل بیٹھنے لگا۔ گھر یقینا اسی کا تھا مگر میرے دل میں کچھ ایسا احساس ہورہا تھا گویا میں کسی وحشت ناک مقبرے کے سامنے کھڑا ہوں۔
کئی دفعہ دروازہ کھٹکھٹانے کے بعد کواڑ کی درزوں سے ایک مدھم سی روشنی دروازے کی طرف آتی دکھائی دی اور چند منٹوں کے بعد ایک کمزور سا بچہ میرے سامنے کھڑا تھا۔ میرا نام پتہ پوچھنے کے بعد وہ اندر چلا گیا اور تھوڑی دیر بعد آکر کہنے لگا کہ میرے والد گھر نہیں ہیں اور میری والدہ آپ سے کچھ کہنا چاہتی ہیں۔
میں دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ اس کے پیچھے پیچھے چلا۔ اس نے مجھے ایک غبار آلود کمرے میں بٹھادیا۔ تھوڑی دیر بعد ایک عفیفہ چادر میں لپٹی کمرے میں داخل ہوئی اور ایک طرف بیٹھ کر کہنے لگیں۔
اے بھائی کیا تمہیں معلوم ہے کہ زمانے کے ہاتھوں نے تمہارے دوست کے ساتھ کیا کیا۔
میں نے عرض کیا کہ میں اس کے متعلق کچھ نہیں جانتا۔ جب سے میں نے اسے چھوڑا ہے یہ پہلا دن ہے کہ میں قاہرہ آیا ہوں۔
اس نے ایک ٹھنڈی سانس بھری اور کہا:’’اے کاش تم اسے کبھی نہ چھوڑتے۔ تمہاری پُرخلوص دوستی اس کے لیے ایک پناہ گاہ تھی جس میں وہ زمانے کے شیطانوں سے بچ کر سعادت کی زندگی بسر کررہا تھا۔ تمہارے جانے سے وہ پناہ گاہ جاتی رہی۔ شیطانوں نے اس کا پیچھا کیا اور آخر اسے جہنم میں لے گرے۔‘‘
میں نے بے تاب ہوکر کہا : ’’آپ کیا بات کررہی ہیں۔ میرا محبوب دوست! کن شیطانوں نے اس کا پیچھا کیا اور وہ کس جہنم میں گرا؟‘‘
اس نے کہا: ’’تم میری کہانی سنو۔ تمہارے جانے کے بعد اس کے دفتر کا افسرِ اعلیٰ تبدیل ہوگیا اور ایک نیا افسر آیا۔ اس نئے افسر نے اس سے غیر معمولی مہربانی کا سلوک کرنا شروع کیا اور ان کے تعلقات دن بدن مضبوط سے مضبوط تر ہوتے گئے۔ فرصت کا بہت سا وقت وہ اسی کی مجلس میں کاٹنے لگایہاں تک کہ رات کو بھی بہت دیر سے گھر آتا۔ تنہائی میرے لیے پریشان کن ضرور تھی مگر میں اس خیال سے خوش تھی کہ میرا خاوند افسرِ اعلیٰ کا اتنا منظورِ نظر ہوگیا ہے کہ اس کی کوئی مجلس اس سے خالی نہیںہوتی۔ لیکن ایک رات جب وہ واپس آیا تو اس کے حواس بجا نہ تھے اور اس کے منہ سے شراب کی بو آرہی تھی معاً سارا معاملہ مجھ پر روشن ہوگیا اور میں سمجھ گئی کہ اس افسر کی مہربانی کا کیا مطلب تھا۔ اس نے میرے شریف النفس بھولے بھالے خاوند کو دوست نہیں بنایا تھا بلکہ اپنی شراب نوشی کے لمحات کا ساتھی بنایا تھا۔
جتنی کوششیں میرے امکان میں تھیں میں نے سب کر ڈالیں کہ کسی طرح اسے دوبارہ اس نیکی اور خوش بختی کی زندگی کی طرف لوٹا لاؤں جو وہ پہلے گزارا کرتا تھا مگر سب بے سود۔ وہ اتنی دور جا چکا تھا کہ اب اسے واپس لانا میرے امکان میں نہ رہا۔ دن گزرتے گئے اور وہ زیادہ سے زیادہ آوارہ ہوتا گیا۔ جو ہاتھ اسے شراب خوری کی طرف لے گیا تھا اس نے اسے قمار بازی بھی سکھادی۔ پہلے تو اس نے اپنا جمع کیا ہوا روپیہ جوئے بازوں کے ہاتھوں ہارا اور پھر گھر کے سامان اور میرے زیورات کی باری آگئی۔ وہ بھی زیادہ دیر نہ چل سکے تو پھر قرض کی نوبت پہنچی اور اب یہ صورت ہے کہ دن کے وقت گھرآنا بھی اس کے بس کی بات نہیں رہی کیوںکہ قرض خواہ اور حکومت کے سپاہی ہر وقت اس کی تاک میں رہتے ہیں۔‘‘
اتنی بات کرکے اس نیک بخت خاتون نے سرجھکالیا اور مجھے محسوس ہوا کہ وہ چپکے چپکے رورہی ہے۔ پھر اس نے آواز صاف کی اور کہا : ’’اے بھائی یہ داستان بیان کرنے سے مقصود صرف یہ ہے کہ تم اُس کے نزدیک وہ مرتبہ رکھتے تھے جو کوئی اور نہیں رکھتا۔ شاید تمہارے سمجھانے ہی کا کچھ اثر ہو اور میرا بھٹکا ہوا شوہر دوبارہ راہ پر آجائے۔‘‘
میں نے اس سے وہ وقت پوچھا جب میں اسے گھر پر مل سکتا تھا اور پھر منوں غم کا بوجھ دل پر لیے واپس چلا آیا۔
چند دنوں بعد میں اس سے ملا۔ مگر کاش کہ میں اس سے نہ ملا ہوتا۔ اے کاش میں نے اسے کبھی نہ دیکھا ہوتا! آہ کہاں تھا وہ حسین چہرہ جسے شرافت اور مسرت و انبساط کی روشنی منور کیے رہتی تھی اور کہاں تھیں وہ دلکش ذہین آنکھیں جن سے اطمینان قلب کی شعاعیں پھوٹ پھوٹ کر نکلتی رہتی تھیں۔ میرے سامنے ایک بوڑھا شخص کھڑا تھا جس کا رنگ بد رنگ ہوچکا تھا آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی تھیں، جبڑے لٹک گئے تھے اور کمر کسی حد تک خمیدہ ہوچکی تھی۔
’’آہ تمہارا سب کچھ بدل گیا میرے دوست۔‘‘ میں نے دلی کرب کو بہ مشکل دباتے ہوئے کہا۔ ’’یہاں تک کہ تمہاری شکل بھی۔‘‘
اس نے ندامت سے بھری ہوئی نگاہیں مجھ پر ڈالیں اور پھر سرجھکالیا۔ صاف معلوم ہوتا تھا کہ وہ میرے خیالات کو بھانپ گیا ہے۔
کچھ دیر میں اس کے کندھے پر ہاتھ رکھے خاموش بیٹھا رہا پھر بہ مشکل آواز نکال کر کہا:
’’سمجھ میں نہیں آتا کہ میں تمہیں کیا کہوں۔ کیا میں تمہیں تمہاری تنہا حرماں نصیب بیوی کی حالت زار پر توجہ دلاؤں حالانکہ تم سے زیادہ مہربان شوہر میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ کیا میں تمہیں تمہارے ستم رسیدہ بچوں کی طرف متوجہ کروں حالانکہ تم ایسے شفیق باپ تھے جس سے زیادہ مشفق باپ مجھے اس سرزمین میں اور کوئی معلوم نہیں۔ کیا میں تمہیں یہ تلقین کروں کہ ظلمتوں کو چھوڑ کر نور کی طرف آجاؤ حالانکہ تم وہ روشن چراغ تھے جو دوسرے بھٹکے ہوئے گمراہوں کو راہِ راست دکھایا کرتے تھے۔‘‘
وہ خاموش کھڑا رہا۔ ندامت بھری نگاہیں زمین پر جھکی تھیں۔ میں نے پھر کہا:
’’میں تمہاری اس غلط روی پر صبر کرلیتا اگر اس غلط روی نے تمہیں کم از کم کوئی مادی فائدہ ہی پہنچایا ہوتا۔ مگر تمہیں معلوم ہے کہ تم معزز تھے اب ذلیل ہوگئے ہو خوش حال تھے اب بدحال ہوگئے ہو، خوش بخت تھے اب بدبخت ہوگئے ہو ،اور تندرست تھے اب بیمار ہوگئے ہو۔‘‘
اے میرے دوست زندگی میں تقدیر جو رنج وغم ہمارے لیے لے آتی ہے وہی کافی ہوتے ہیں۔ تو پھر اس کی کیا ضرورت ہے کہ اپنے طرزِ عمل سے ہم مزید دکھ سمیٹیں۔ لو، آؤ اپنا ہاتھ میری طرف بڑھاؤ اور عہد کرو کہ آج سے تم پھر وہی پرانے خوش بخت انسان بننے کی کوشش کروگے۔ آہ! وہ کیا اچھے دن تھے جب ہم اکٹھے رہتے تھے۔ پھر ہم ایک دوسرے سے بچھڑ گئے اور سعادت نے ہمارا ساتھ چھوڑ دیا آؤ اب پھر اسی طرح خوش بختی کے سائے تلے زندگی گزارنے کی کوشش کریں۔‘‘
میں نے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا تاکہ وہ مجھ سے عہد کرے۔ مگر میں نے دیکھا کہ وہ اپنا ہاتھ میری طرف بڑھانے سے ہچکچارہا تھا۔ میں نے کہا:
’’تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنا ہاتھ نہیں بڑھاتے۔‘‘
وہ یہ سن کر روپڑا اور بولا:’’اس لیے کہ میں نہیں چاہتا کہ وہ عہد کروں جو پورا نہ ہوسکے۔‘‘
میں نے کہا: ’’مگر وہ کیا شے ہے جو تمہیں عہد پورا کرنے سے باز رکھ رہی ہے۔‘‘
اس نے کہا:’’وہ یہ شے ہے کہ میں ایک بدبخت انسان ہوں اور اب خوش بختی کی زندگی میں میرا کوئی حصہ نہیں رہا۔‘‘
میں نے کہا:’’تم میں اتنی طاقت تو موجود تھی کہ بدبخت بن جاؤ تو پھر اب خوش بخت بننے کی طاقت کیوں نہیں رہی۔‘‘
وہ ٹھنڈی سانس بھر کر بولا: ’’اس لیے کہ خوش بختی آسمان ہے اور بدبختی زمین۔ آسمان سے گرنا آسان ہوتا ہے مگر آسمان پر چڑھنا بے حد دشوار ہے۔‘‘
میں نے کہا:’’مگر تمہیں صرف ایک آہنی عزم کی ضرورت ہے۔ پھر سب کچھ درست ہوجائے گا۔‘‘
وہ بولا:’’ مگر عزم تو وہیں ہوسکتا ہے جہاں کوئی ارادہ ہو۔ میرا تو اب کوئی ارادہ ہی نہیں رہا تو عزم کہاں سے آئے۔ گناہ کی راہ میرے دوست پھسلواں راہ ہوتی ہے جس نے اس پر پاؤں رکھ دیا وہ تحت الثریٰ ہی میں جاکر دم لیتا ہے۔ میرے بچنے کی صرف ایک ہی صورت تھی وہ یہ کہ میں نے اس راہ پر قدم ہی نہ رکھا ہوتا۔ اب جب کہ میں قدم رکھ چکا ہوں میرے بچاؤ کی کوئی صورت نہیں رہی۔ بس میرے دوست مجھے چھوڑ دو کہ تقدیر جو چاہے میرے ساتھ کرتی چلی جائے۔‘‘
یہ کہہ کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا اور پھر مجھے وہیں چھوڑ کر باہر نکل گیا ……
دن گزرتے گئے اور شراب اس انسان کی عقل اور جسم کو کھاتی چلی گئی۔ وہ افسر اعلیٰ بھی جس نے اسے اس انجام تک پہنچایا تھا اسے زیادہ دیرکے لیے برداشت نہ کرسکا اور اسے اپنی مجلس سے اس طرح نکال پھینکا گویا وہ اسے کبھی جانتا ہی نہ تھا۔ شراب اب اس پر اس حد تک حاوی ہوچکی تھی کہ اب اسے اس بات سے بھی مطلق شرم نہ آتی تھی کہ اس کی بیوی محنت مزدوری کرکے بچوں کے گزر اوقات کے لیے جو تھوڑے بہت پیسے حاصل کرتی ہے وہ بھی اس سے لے لے اور شراب خانے جاکر دے آئے۔
ایک رات جب اس کا پیٹ شراب سے خالی تھی اور جیب اس سے بھی زیادہ خالی تھی، اس نے دیکھا کہ اس کی بیوی زمین پر چٹائی کے اوپر لیٹی ہوئی ہے اور چھوٹی بچی پاس پڑی رورہی ہے۔ اس نے بچی کو اٹھا کر پرے پھینک دیا اور بیوی کو ہلاکر جگانے لگا۔ اس کے جسم کو ہاتھ لگاتے ہی وہ کاپ کر پیچھے ہٹ گیا۔ بے جان جسم سردی سے اکڑا ہوا تھا آنکھیں باہر نکلی ہوئی تھیں اور ان میں سے موت گھور رہی تھی۔ دکھیا عورت چپ مصائب کو سہتے سہتے تلخ زندگی سے چھٹکارا حاصل کرچکی تھی۔ دوسرے دن میں نے اسے بازار میں دیکھا۔ حکومت کے سپاہی اسے زنجیروں میں باندھے پاگل خانہ کی طرف لے جارہے تھے۔ بیوی کی موت نے اس کی تباہی مکمل کردی تھی اور اب وہ ایک پاگل تھا۔ بالکل پاگل اور مجنون۔
(عربی سے ترجمہ)

شیئر کیجیے
Default image
نسیم احسن

تبصرہ کیجیے