6

ہمارا گھر

گھر، انسان کی اہم ضرورت ہے اور اس گھر کو بنانے کے لیے انسان کیا کچھ نہیں کرتا۔ اندھا دھند کماتا ہے، حلال حرام کی تمیز نہیں کرتا ، دوسروں کا حق مارنے سے بھی نہیں چوکتا۔ حالانکہ گھر تو ’’سرچھپانے کا آسرا ہونا چاہیے‘‘۔ لیکن آج ذوق بدل گیا ہے اور اس نے ایک مقابلہ کی شکل اختیار کرلی ہے اور ’’تیری دیوار سے اونچی میری دیوار بنے‘‘ کی ہوڑ نے انسان کو مشینی زندگی گزارنے پر مجبور کردیا ہے۔ خوبصورت، عالیشان، وسیع اور محل نما مکان جو دور ہی سے لوگوں کو متوجہ کرے اور جس میں کشادہ بیڈرومس، وسیع ہال، کھیل کے میدان، رنگ برنگ کے پھولوں سے مہکتے ہوئے گارڈن والا گھر ہی آدمی کا خواب ہے اور اسی کی فکر میں وہ سر دھن رہا ہے۔ اس فکر سے آزاد کہ اس کے باسیوں کے ذہن و فکر اور سوچ و خیال میں بھی بلندی ہو اور زندگی کی مادی تعبیر سے آگے بڑھ کر روحانی ارتقا بھی انسانی ضرورت ہے۔
اور پھر اس گھر کے اندرونی کمروں کو آراستہ بنانے کے لیے کیا کیا سامان کیے جاتے ہیں۔ پیروں کے نیچے دبیز قالین، قیمتی صوفہ سیٹ، بیش قیمت شو پیس اور مشہور فنکاروں کی پینٹنگ فراہم کی جاتی ہیں۔د یواروں پر ایک طرف آباء و اجداد کی تصاویر تو دوسری طرف مشہور فلمی ستاروں کے بڑے بڑے فوٹو اپنا رنگ دکھاتے ہیں۔ ان خوبصورت گھروں کے اندرجھانک کر دیکھئے تو ڈیک کی دھن پر ناچ اور ٹی وی کے پروگراموں میں لوگ مست رہتے ہیں۔ نوکروں پر پڑتی ڈانٹ پھٹکار، چھوٹے بڑوں کے ادب و احترام سے خالی ماحول اور گھراور گزرے ہوئے کل کے اخبار کی طرح بے وقعت پڑے اور زندگی کے دن گنتے ماں باپ اور دادا دادی، ٹوٹتے بکھرتے ٹینشن کا شکار رشتے، یہ سب ان خوبصورت گھروں کے داخلی مناظر ہیں۔
یہ منظر تو دراصل ان گھروں کا ہے جہاں دنیا اور اس کی زندگی ہی سب کچھ ہے۔ وہ نفع نقصان اور کامیابی و ناکامی محض اسی دولت اور معیار زندگی کے پیمانوں سے ناپتے ہیں۔ قرآن میں ان لوگوں کو بڑے نقصان میں رہنے والا قرار دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
قُلْ ہَلْ اُنَبِّئُکُمْ بِالاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالاً اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُہُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَہُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّہُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعاً۔
(کیا میں تمہیں ان لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں جو بڑے نقصان اور گھاٹے میں رہنے والے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی تمام تگ و دو صرف دنیا کے حصول میں ہی گم ہوکر رہ گئی اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ بڑا کارنامہ انجام دے رہے ہیں)
جبکہ بندہ مومن کی سوچ بالکل مختلف ہوتی ہے اس کا نظریہ ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ وہ خدا کی عبادت کے ساتھ اس کی مخلوق کی کیا خدمت کرسکتا ہے۔ اس کی طرف سے کسی کو اذیت تو نہیں پہنچ رہی ہے اور اس کے رزق اور کھانے پینے میں کہیں کوئی ناجائز پیسہ تو داخل نہیں ہورہا ہے۔ وہ اپنی اسی اعلیٰ سوچ و فکر کے سبب زندگی کی ان فانی اور مادی تعبیرات سے بہت اوپر اٹھ کر گھر اور اہل خانہ کی ذہنی و فکری بلندی پر توجہ دیتا ہے۔ اور اس کے نتیجہ میں ایسا ماحول پیدا ہوتا ہے جہاں گھر کی عمارت اس کے لیے قیمتی سازو سامان، سماجی تقاریب، دیواروں ، ڈیکوریشن اور تفریحات پر دولت صرف کرنے کے بجائے اہل خانہ کے ذہن و فکر کی بلند تعمیر پر توجہ دی جاتی ہے۔ اور جہاں بلند اخلاق و کردار،ایک دوسرے کا ادب و احترام، بزرگوں کی دیکھ ریکھ اور ان کی عزت اور ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی کا ماحول ہوتا ہے۔
چنانچہ ایک مسلمان کا گھر وہ ہے جس میں داخل ہوتے ہی آنے والے کو احسا س ہو کہ وہ ایک نئی دنیا میں داخل ہوگیا ہے جس کے طور طریق بڑے شائستہ، مہذب اور پاکیزہ و سنجیدہ ہیں۔ ہر شئے قرینے سے رکھی ہوئی ہے اور سب میں اعتدال پسندی کا رنگ جھلک رہا ہے یہاں تک کہ گفتگو کے موضوعات بھی عام گھروں سے مختلف ہوتے ہیں۔ یہاں درودیوار کی آرائش کے لیے دیواروں پر اچھی اچھی مختصر تعلیمات کتاب سنت آویزاں ہوتی ہیں، فلمی گانوں کی دھن کے بجائے نعتوں، قرآنی سورتوں، افسانوں اور ڈراموں اور شعرو شاعری کے ریکارڈ استعمال ہوتے ہیں۔ یہاں انٹرٹینمنٹ کے لیے فلمی اور اخلاق باختہ رسالوں کے بجائے صحت مند لٹریچر فراہم ہوتا ہے جہاں گھر کے تمام افراد ، مرد عورتیں بچے اور بڑے اپنے ذوق کی تسکین پاتے ہیں۔ وسیع جنرل نالج، عالمی احوال، فلسفہ و تاریخ اور دیگر فنون کے علاوہ شعرو سخن، افسانوں اور ناولوں کے مجموعے، مکاتیب اور سفرنامے اور بڑی تعداد میں دینی کتب موجود ہوتی ہیں۔ یہاں کے ماحول میں اٹھتے بیٹھے اللہ کا نام سنائی دیتا ہے۔ استغفراللہ، الحمدللہ وغیرہ۔ اذانیں ہوتی ہیں تو نمازوں کی تیاری شروع ہوجاتی ہے، سارا گھر نماز پڑھتا ہے ننھی سی بچی بھی ماں کے ساتھ کھڑی ہوجاتی ہے۔ ۵، ۶ سال کا بچہ! ابو سے تقاضا کرتا ہے کہ مجھے بھی مسجد لے چلئے۔ پھر دعائیں مانگی جاتی ہیں اور چھوٹے بچے ماں کے ساتھ آمین کہتے ہیں۔
گھر اور اس کے ماحول کی تعمیر و تشکیل ہماری خواتین ہی کے ہاتھوں انجام پاتی ہے۔ وہ اگر زندگی کی اونچی فکر سے آراستہ ہوں تو ایک صحت مند ماحول اور پرسکون زندگی فراہم ہوسکتی ہے اور وہ بھی اگر معیار زندگی کی ہوڑ میں شامل ہوجائیں تو وہی ماحول تیار ہوتا ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ نقصان اور گھاٹے کا ہے۔ اب ہمیں سوچنا ہے کہ ہم گھاٹا اور خسارہ پسند کرتے ہیں یا کامیابی اور نفع۔

شیئر کیجیے
Default image
نواز تحسین ،جگتیال

تبصرہ کیجیے