5

جہیز ایک سماجی لعنت

ہمارے سماج میں ایک بہت بڑی لعنت ہے اور وہ ہے جہیز۔ یہاں بہت سے برے رسم و رواج تو وقت کے ساتھ ختم ہوگئے اور جو ہیں وہ دھیرے دھیرے ختم ہورہے ہیں۔ مگر یہ جہیز کی رسم وقت کے ساتھ کچھ اور زیادہ ہی پروان چڑھ رہی ہے۔ پہلے زمانے میں یہ رسم کچھ اس طرح تھی کہ لوگ اپنی حیثیت کے لحاظ سے اپنی لڑکیوں کو کچھ سامان ضرور دیتے تھے جو ان کی گھریلو زندگی میں روزہ مرہ کے استعمال کا ہو اور جس سے کہ وہ اپنا نیا گھر بناسکیں مگر رفتہ رفتہ یہ سامان دینا ضروری ہوگیا اور اب صورت حال یہ ہے کہ لڑکا اور اس کے ماں باپ باقاعدہ اپنے مطالبات پیش کرتے ہیں۔ ایسا بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ شادی طے ہونے سے پہلے لڑکے والے مطلوبہ سامان کی فہرست لڑکی والوں کو پیش کرتے ہیں۔ اگر انھیں وہ فہرست منظور ہو تو شادی طے ہوجاتی ہے۔
ویسے تو جہیز کی رسم پرانی ہے پہلے زمانے میں بادشاہ اپنی بیٹی کو جہیز میں جائیدادیں اور زیورات و تحائف وغیرہ دیتے تھے۔ اس کے بعد یہ باقاعدہ رسم بنی اور سماج کے قدموں میں مضبوط زنجیر بنی تو اس کے کچھ سماجی و ذہنی اسباب ہیں۔ ان میں سے ایک وجہ یہ ہے کہ یہاں عورتوں کو مردوں کے مقابلہ میں کمتر سمجھا جاتا ہے۔ اور لڑکے کا باپ اگر کسی کی لڑکی کو اپنے لڑکے کے لیے پسند کرتاہے تو وہ سمجھتا ہے کہ وہ لڑکی والے پر احسان کررہا ہے جس کا بدلہ جہیز کی شکل میں اسے ملنا چاہیے۔ اس بات کا لوگوں کو احساس ہی نہیں ہے کہ خدا کی نظروں میں مرد اور عورت کی حیثیت ایک ہے اور عورت کو مرد کے مقابلہ میں کم سمجھنا انسانیت کی تذلیل ہے۔
جہیز کا رواج نہ ختم ہونے کی دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ مالی اعتبار سے عورتوں کی کفالت مروں کے ذمے ہے۔ اس کو خیال ہوتا ہے کہ وہ کسی دوسرے کی بیٹی کے لیے روٹی کا انتظام کرتا ہے، اور اسی وجہ سے وہ جہیز مانگتا ہے اور اس بات کو سمجھتے ہوئے لڑکی کا باپ جہیز دینے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ آج کل جب اخبار اٹھائیے کوئی نہ کوئی جہیز سے متعلق موت کی خبر ضرور ہوگی۔ سسرال والوں کے سلوک سے تنگ آکر بہو نے خود کشی کرلی، سسرال والوں نے بہو کو جلا کر مارڈالا، ایک ہی گھر کی کئی بہنوں نے اجتماعی خود کشی کی۔ اور ان سب کے پیچھے جو سبب ہے وہ ہوتا ہے یہی جہیز کی لعنت۔ آج کتنی جوان لڑکیاں محض اس وجہ سے محروم بیٹھی ہیں کہ ان کے والدین سماج میں جہیز دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں اور کتنے والدین ایسے ہیں جو اپنی بچیوں کی شادی میں اپنی ساری جائداد اور اپنے بچوں کا مستقبل تک جہیز کی بھینٹ چڑھادیتے ہیں اور ان کے بچے ہمیشہ کے لیے جاہل رہ جاتے ہیں۔ یہ ہے وہ لعنت جس نے ہمارے سماج کے ہر طبقہ کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔ اور اس کا سب سے زیادہ شکار درمیانی اور غریب طبقہ ہے۔ یہاں لڑکیوں کی پیدائش باعث غم ہوتی ہے اور اس کا سبب یہی ہے کہ باپ کے سامنے جہیز کا پہاڑ آکھڑا ہوتا ہے۔
ویسے اب وقت آگیا ہے کہ اس بری رسم سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو جدوجہد کرنی ہے۔ ہر چند کہ اس میں کلیدی رول لڑکوں ہی کو ادا کرنا ہے مگر لڑکیاں بھی اپنی خود اعتمادی کے ذریعہ حالات کو بدل سکتی ہیں اور وہ اس طرح کہ کسی بھی ایسے رشتہ کو قبول کرنے سے انکار کردیں جس کی بنیاد جہیز پر رکھی جانے والی ہو اور ایسے دیندار، نیک سیرت اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کو ترجیح دیں جو اگرچہ دولت و ڈگری میں کم ہوں مگر جہیز کو ختم کرنے کا عزم رکھتے ہوں۔ یہاں لڑکیوں کو احساس مجبوری اور احساس کمتری سے نکل کر خود اعتمادی میں آنے کی ضرورت ہے۔ اگر آج سماج کی تعلیم یافتہ لڑکیاں جہیز کے سامنے نہ جھکنے کی قسم کھالیں تو صورتحال میں یقینا تبدیلی واقع ہوجائے گی۔
دوسری طرف ہمارے نوجوانوں کے لیے یہ چیز باعث شرم ہے کہ وہ خود جہیز کا مطالبہ کریں یا اپنے والدین کے مطالبہ کے سامنے جھک جائیں۔ انھیں چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کی خود تعمیر اور اپنا گھر خود بنانے کا عزم لے کر اٹھیں اور طے کرلیں کہ وہ ہرگز جہیز نہ لیں گے خواہ انھیں زمین پر سونا پڑے اور مٹی کے برتنوں میں کھانا پڑے۔ یہ کیفیت والدین کے لیے بھی عبرت آموز ہے۔ اگر وہ چاہتے ہیں کہ ان کی بیٹیاں اور ان کی آنے والی نسلیں جہیز کی بھینٹ نہ چڑھیں تو وہ اپنے بیٹوں کی شادیوں میں جہیز کا لینا بند کریں اس لعنت سے سماج کو نجات دلانے کے لیے اسے اپنے اوپر حرام کرلیں۔

شیئر کیجیے
Default image
شہزادی پروین، کھام گاؤں

تبصرہ کیجیے