6

ضبط نفس

شب عروسی میں ہی ریشماں کی ہوشمند آنکھوں میں رشید ڈوب گیا۔ اس کی ادائیں اس کے دل پر نقش ہوگئی تھیں جنھیں وہ بار بار یاد کرکے لذت لیتا رہتا۔ تنہائی میں وہ کبھی مسکرا بھی دیتا۔ اسے اس رات کی ایک بات اور یاد آتی ہے۔ اجنبیت کے پردے اٹھتے ہی ریشماں اس سے ایسی بے تکلف ہوئی کہ باقی رات گفتگو میں ہی کٹ گئی۔ اسی دن سے وہ اس کی شیریں کلامی کا مرید ہوگیا۔
اسی دن وہ اس بات کا بھی قائل ہوا کہ دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں۔ خاندان کی عورتوں میں یہ چرچا عام ہوگیا کہ ریشماں بہت باتونی ہے۔ وہ رات بھی اپنے شوہر کو باتوںمیں پھنسائے رہی۔
گھر میں اس کے تعارف کے لیے اتنا ہی کافی تھا کہ دلہن خوبصورت ہے۔ رشتہ دار عورتوں نے بھی منھ دکھائی کے بعد اس کی گواہی دی۔ پھریہ چرچا پھیلتے ہی محلہ کی بن بیاہی لڑکیاں جوق درجوق دلہن کو دیکھنے آنے لگیں۔
بوڑھی ماں کو گھر کے کام کاج کے لیے سہارے کی ضرورت تھی، اس لیے جلد ہی اسے باورچی خانہ میں داخل کردیا گیا۔ بھائی کئی ایک تھے مگر ماں کے اوپر ہی گھر کی ساری ذمہ داری تھی۔ ریشماں کے پکائے ہوئے نفیس کھانوں کو پسند کیا گیا۔ جب بھی اس نے دسترخوان بچھایا اس پر کچھ نہ کچھ ضرور نیا ہوتا۔ کھانوں کو خوش سلیقگی سے سجایا جاتا۔ گوشت کی مہک میں اشتہا تھی اور گرم پھلکوں میں کھانے کی آمادگی۔ اس کی بنائی چٹنیوں میں چٹخارہ تھا۔ رشید نے ان باتوں کا دوستوں میں ذکر کیا۔ انھوں نے فوراً دعوت کی مانگ شروع کردی۔ یہ دعوت رشید کے لیے بڑی طول طویل ثابت ہوئی۔ یہ لاؤ… وہ لاؤ… اتنے جھمیلوں میں وہ کیسے پھنس گیا۔ یہ اس نے کھلانے کے بعد سوچا… دوستوں نے خوب چٹخارے لے لے کر کھایا… بار بار فرمائش کی۔ اور منگاؤ یار… بھابھی نے کیا بنایا ہے! اس کھانے کی گونج پورے خاندان میں گونجی۔ اسی دن زردہ بھی بناتھا۔ وہ پورے خاندان میںتقسیم ہوا۔
رشید کی ماں نے پکنے والی اشیاء کا جائزہ لیا۔ انہیں کھٹک گئی، مہینہ کا خرچہ ایک ہی دعوت میں!! وہ اس وقت نہ بولیں مگر بعد میں انھوں نے ریشماں کو خالی گھی کا وہ ڈبہ دکھادیا جس میں مہینہ بھر کا گھی رکھا جاتا تھا۔
بہو اگر اس طرح خرچہ بڑھے گا تو پھر گھر گرہستی کیسے چلے گی؟
ریشماں اس تنبیہ پر بری طرح چونکی۔ مگر معذرت خواہانہ انداز میں اس نے کہا ’’امی زردہ میں تو پڑنا ہی پڑنا تھا۔ پلاؤ میں بھی تھوڑا ہی ڈالا۔‘‘
’’پلاؤ زردہ کھلاؤ… مگر گھر گرہستی دیکھ کر… ورنہ میاں کا دیوالہ نکل جائے گا۔‘‘
اچانک بہو کے آنے پر دیوالہ نکلنے کے بہت سے سامان پیدا ہوگئے تھے۔ نئی شادی نے رشتہ داری کے بڑے دروازے کھول دئے تھے۔ نئی رشتہ داری میں شمولیت کی حاضری کثیر تھی۔ نئے مہمانوں کی آمد ناشتہ پانی کے بوجھ لارہی تھی۔ اس میں ریشماں کا کچھ قصور نہ تھا۔ خوشیوں میں پلی بڑھی ریشماں ایک بڑے کنبے سے آئی تھی۔ خاندانی رشتوں کا بوجھ بھاری تھا۔ اس کو کیسے ہلکا کیا جائے۔ ابھی یہ سبق ریشماں نے نہ سیکھا تھا۔
یہ خرچہ جو عام خرچوں سے ہٹ کر تھا، اس کا انتظام ریشماں سے زیادہ اس کے گھر والوں کو کرنا پڑرہا تھا۔ رشتے میں نئے لوگوں کا تعارف ہورہا تھا۔مگر نئے آنے والے فرد کی اشیاء تعارف اس کے وزن کو بتاتیں جس پر رشید کی ماں بہت خوش ہوتی۔ اسے اپنے اعزہ و اقربا میں تقسیم کرتیں اور اپنا مرتبہ بڑھاتیں۔ اس کی خوشی دوگنی چوگنی ہوجاتی۔
رشید نے سسرا کا وزن محسوس کیا۔ وہ شادی سے بہت خوش تھا، سسرال کی خاطرداری سے وہ ازحدمتاثرتھا۔ آئے دن سسرال سے اس کا بلاوا آتا۔ وہ ہنستے ہوئے جاتا! اور خوش خوش لوٹتا۔ ماں اکثر اسے دیکھ کر اسی گمان میں گھلتی کہ وہ ضرور سسرال گیا ہے۔ اسی لیے گھر پر نہ کھانے کے لیے بہانے بنا رہا ہے۔
وہ صبح ہی صبح بہو کو ہدایت کرتی، یہ رات کا بچا کھانا … رشید کو کھلاؤ۔
لیکن بیوی دفتر کے وقت پراسے تازہ کھانا پیش کرتی۔ وہ کھاکر دفتر کا راستہ لیتا۔ اس کی ساس بیتابانہ باورچی خانہ میں داخل ہوتی۔ وہ رات کا بچا کھانا دیکھ کر بیتاب ہوجاتی اوربڑبڑاتی … یہ گھر کیسے چلے گا۔ یہ بہو سُگھڑ نہیں! خرچہ کیسے چلے گا!
یہ جملے اکثر رشید کے کانوں میں ڈالنے کے لیے ہوتے تاکہ وہ آگاہ ہوجائے۔ کہ بوجھ کہاں پڑ رہا ہے۔ کبھی سنتے سنتے … جواب دے ہی دیتا۔
ماں کیو ںالجھتی ہو؟ یہ سب کچھ تو میں نے تم پر چھوڑ دیا ہے…
اسی سے کہتی ہوں … کہ تو جان لے… بہو کا ہاتھ بہت کھلا ہوا ہے۔ دوسرے تمہارے دوست یار چلے آرہے ہیں۔
کیا کوئی آیا تھا؟
ارے اکیلے …… جتھا بناکر آتے ہیں۔
اچھا! …… انھیں ٹرخا بھی دیا کرو…!
کل تمہاری بیوی نے کھری کھری سنادی…
کیا … کیا… امی … وہ بیوی کی بات سننے کے لیے بیتاب ہوگیا۔
بیوی سے پوچھ لو … وہی بتائے گی۔
آپ بتائیے … امی…؟
یہی کہ … اب شام کو نہیں … اتوار کو ملاقات ہوگی۔ ملاقات ضروری ہے تو دفتر جائیے۔ اس نے لگی لپٹی ذرا بھی نہیں رکھی… میں نے دیکھا دونوں منھ لٹکائے چلے گئے۔
وہ کون تھے؟
ایک جانا پہچانا چہرہ تھا… دوسرے کو پہلی بار دیکھا تھا۔
وہ ایسا ٹکا سے جواب پاکر مڑگئے۔ اور آپس میں باتیں کرنے لگے کہ کیسی کرخت آواز تھی۔ پتہ چلا رشید نے بہت خوبصورت بیوی پائی ہے۔ خوبصورت عورت کی ایسی کھردری آواز جیسے دروازے سے بھگارہی ہو۔
کیا کچھ اور سننا چاہتے ہو؟
عورت کی آواز میں بہت کچھ ہوتا ہے… مگر…
رشید سے شکایت کریں گے۔
وہ تمہیں اور سنادے گا۔ وہ ناشتہ پانی بھی بند کرادے گا۔
سخت پابند گھرانے کی ہے… غیروں سے کوئی رو رعایت نہیں… بس وہ صرف شوہر کو جانتی ہے۔
پتہ چلا… یہاں بھابھی وابی کا چکر نہیں چلے گا۔
آئندہ دھیان رکھنا پڑے گا… ساودھان ہوجاؤ… یہ بیتابی کیوں بڑھ رہی ہے۔ جلدی شادی کرڈالو…
شادی کا بوجھ بہت ہوتا ہے…
بنا شادی کے اتنا بوجھ محسوس کرتے ہو۔ پھر شادی کے بعد ڈوبنے اچھلنے لگو گے۔ معلوم ہے رشید چار ہی دن میں بہت کچھ سوچنے لگا ہے۔ اس کی امی گھر میں داخل ہوتے ہی… اسے کسی نہ کسی بہانے سنادیتی ہیں … کہ بہو سگھڑ نہیں۔ بہو کے رشتہ داروں میں کتنے لوگ آئے، کتنا ناشتہ لگانا پڑا۔ کیا کیا باہر سے منگوانا پڑا… دن رات خرچہ کی رٹ لگائے رہتی ہیں۔
بہو کہتی ہے … اللہ رازق ہے…ماں کہتی ہے … کہاں سے بم پھوٹے گا… ایک ملازمت ہی کا سہارا تو ہے۔
امی اللہ پر بھروسہ کیجیے۔
’’چپ رہ عورت زیادہ مت بول۔‘‘
اس مکالمہ کے بعد ریشماں گم سم رہنے لگی۔ وہ اپنے کو کام میں مصروف رکھتی۔ ماں کی کسی بات کا جواب نہ دیتی۔ وہ ڈرتی ہے کہ اس کی زبان پکڑی نہ جائے۔ اس لیے ضبط نفس سے کام لے کر کسی اور کام میں لگا لیتی ہے۔ کسی نے کنڈی کھٹکھٹائی …ماں کھولتے ہی چلائی … ریشماں……
وہ سمجھ گئی …… گھر کا کوئی فرد سواری سے آیا ہے… تب تک اس کے چھوٹے بھائی نے پردہ اٹھا کر کہا…
آپا! میں کچھ سامان لایا ہوں۔
کیا ہے؟
’’غلہ ہے‘‘
یہ لفظ سنتے ہی رشید کی ماں گلی میں اتر گئیں… لڑکے سے کہا دروازہ کا پردہ اٹھا دو… لڑکے نے رکشہ والے سے مل کر بوریاں اٹھوانی شروع کردیں۔ ریشماں نے پوچھا… اماں اسے کہاں رکھواؤں۔
بغل کے کمرے میں رکھوادو۔
ریشماں کا بھائی بورے اور بوریاں پکڑوا کر کمرہ میں رکھواتا رہا۔ اور فوراً بہن اور رشید کی ماں کو سلام کرکے رکشہ پر واپس چلا گیا۔ جانے کے بعد ماں نے پوچھا … بھائی کو ناشتہ کے لیے نہیں پوچھا۔
جلدی میں تھا۔ میں نے نہیں روکا… ریشماں نے جواب دیا۔
اپنے آنے والوں کو روز پوچھتی ہو۔ آج اس لڑکے کو نہیں پوچھا۔ اتنی ساری بوریاں اٹھاکر اکیلے گھر میں لایا۔ اس نے دیکھا … ماں باری باری ان بوریوں کو کھول کر دیکھ رہی تھیں اور ریشماں کو کنکھیوں سے دیکھے جارہی تھیں۔ جو بے نیازانہ ایک بار دیکھ کر اپنے کمرہ میں چلی گئی تھی۔
ساری بوریوں کو ٹھیک سے باندھنے کے بعد وہ ریشماں کے کمرہ میں مسکراتی داخل ہوئیں۔
’’بہو تم سچ کہتی تھیں! اللہ رازق ہے۔ یہ کہاں سے آیا۔‘‘
’’اپنے کھیت کی پیداوار ہے امی! یہ اسی کا کرم ہے۔‘‘
اللہ تیرا شکر ہے، چلو مہینوں کا بوجھ ٹل گیا۔ وہ لڑکا خالی چلا گیا بڑے افسوس کی بات ہے۔ تم نے اسے ایک کپ چائے کے لیے بھی نہ پوچھا۔ ہم لوگوں کو تمہارے گھر والے کیا کہیں گے؟
’’چھوٹا بھائی ہے کوئی بات نہیں۔‘‘
دھیان رکھنا… آئندہ وہ خالی نہ جائے۔ امی کے اس جملے میں اس نے وہ مٹھاس محسوس کی… کہ وہ من ہی من میں مسکرادی۔ اس نے ماں سے کہہ دیا۔’’اچھی بات ہے آئندہ غفلت نہ برتوں گی۔‘‘

شیئر کیجیے
Default image
مصطفی کمال

تبصرہ کیجیے