اعضاء کی گواہی

ثُمَّ إِنَّكُمْ مَدْعُوُّونَ ، مُفَدَّمَةً أَفْوَاهُكُمْ بِالْفِدَامِ ، ثُمَّ إِنَّ أَوَّلَ مَا يُبِينُ عَنْ أَحَدِكُمْ لَفَخِذُهُ وَكَفُّهُ۔ (مسند احمد 20043)

’’ پھر تمہیں بلایا جائے گا ، تمھارے منھ کس کر باندھ دیے جائیں گے ، پھر ( اعضاء سے پوچھا جائے گا کہ دنیا میں ان سے کیا کام لیے گئے؟) سب سے پہلے ران اور ہاتھ گواہی دیں گے۔‘‘

ایک صاحب ایک وفد کے ہم راہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اسلام قبول کیا ، آپ کے ہاتھ پر بیعت کی ، پھر اسلام کے بارے میں دریافت کیا _ آپ نے ان کے سامنے اسلام کا تعارف کرایا _ عقائد ، عبادات ، معاشرتی امور کا تذکرہ فرمایا اور _ آخرمیں یہ الفاظ کہے۔اس حدیث میں آخرت کا بیان ہے اور میدانِ حشر کی منظر نگاری کی گئی ہے۔ ’’ جس نے دنیا میں ایک رائی کے دانے کے برابر کوئی اچھا کام کیا ہوگا وہ روزِ قیامت اسے دیکھ لے گا اور جس نے دنیا میں ایک رائی کے دانے کے برابر کوئی بُرا کام کیا ہوگا وہ وہاں اسے دیکھ لے گا۔‘‘( الزلزال :7_8) روزِ قیامت ہر بندے سے حساب کتاب کا ایک بے مثال طریقہ اختیار کیا جائے گا _ اس کی زبان پر ، جو اظہارِ خیال کا ذریعہ ہوتی ہے ، ٹیپ لگا دیا جائے گا ، اس کی گویائی سلب کرلی جائے گی اور اس کے اعضاء سے پوچھا جائے گا کہ اُس بندے نے ان سے کیا کیا کام لیے ؟ کون کون سے اچھے کام کیے اور کون کون سے بُرے کام؟ اس چیز کا تذکرہ قرآن میں بھی ہے ۔ترجمہ: ’’آج ہم ان کے منہ پر مہر لگادیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے بات کریں گے اور ان کے پیر گواہی دیں گے اس سب کی جو وہ کماتے رہے ہیں۔‘‘ (یٰسین:36)

اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ سب سے پہلے گواہی دینے والے انسان کی ران اور ہاتھ ہوں گے _ اس بیان میں بڑی معنویت پائی جاتی ہے _انسان اپنی آزادی اور اختیار کا سب سے زیادہ استعمال اپنے انہی دو اعضاء سے کرتا ہے۔ وہ ان کے ذریعے جائز اور اچھے کام بھی کرتا ہے اور ناجائز اور بُرے کام بھی، _ چنانچہ اس کی رانیں گواہی دیں گی کہ اس شخص نے اپنی جنسی خواہش پوری کرنے کا جائز طریقہ اختیار کیا تھا یا حرام کاری اور آزاد شہوت رانی کی تھی، اور ہاتھ گواہی دیں گے کہ اس شخص نے ان سے اچھے کام کیے تھے یا برے کام۔ اسی طرح کی گواہی دوسرے اعضاء سے بھی لی جائے گی اور وہ بالکل صحیح صحیح گواہی دیں گے۔ ذرا سوچیے ! ہمارا جسم اور تمام اعضاء ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہیں۔ _ ہم ان سے جو بھی کام لے رہے ہیں وہ ریکارڈ ہو رہا ہے _ میدانِ حشر میں جب گواہی لی جائے گی تو وہاں بات کو گھمانے اور چرب زبانی دکھانے کا موقع نہ ہوگا۔ _ ہمارے تمام کاموں کا منظر ہمارے سامنے ہوگا _ ہماری زبان خاموش ہوگی اور ہر عضو کو زبان دے دی جائے گی۔ اس وقت وہ لوگ کتنے خوش قسمت ہوں گے جن کے اعضاء ان کے حق میں گواہی دیں گے اور ان کی گواہی پر انہیں جنت سے نوازا جائے گا !!اور وہ لوگ کتنے بد قسمت ہوں گے اور ان کی حسرت و یاس کا کیا عالم ہوگا جن کے اعضاء ان ہی کے خلاف گواہی دیں گے اور ان کی گواہی پر انہیں جہنم میں جھونک دیا جائے گا۔

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

One comment

Comments are closed.