2

اسلام کی شہید اول حضرت سمیہؓ

رحمت عالم ﷺ نے بعثت کے بعد دعوتِ حق کا آغاز فرمایا تو وہی قریشِ مکہ جن کی زبانیں آپؐ کو ’’امین امین‘‘ کہتے نہیں تھکتی تھیں نہ صرف آپؐ کے خون کے پیاسے بن گئے بلکہ جو شخص بھی دعوتِ حق پر لبیک کہتا اس پر بے تحاشا ظلم و ستم ڈھانا شروع کردیتے تھے۔ اس میں مرد یا عورت کی کوئی تخصیص نہ تھی۔ اسی زمانے میں سرورِ عالم ﷺ ایک دن بنو مخزوم کے محلے سے گزرے تو آپؐ نے دیکھاکہ کفار قریش نے ایک ضعیف العمر خاتون کو لوہے کی زرہ پہناکر دھوپ میں زمین پر لٹا رکھا ہے اور پاس کھڑے ہوکر قہقہے لگارہے ہیں۔ ساتھ ہی اس خاتون سے مخاطب ہوکر کہہ رہے ہیں ’’محمدؐ کا دین قبول کرنے کا مزہ چکھ۔‘‘
مظلوم خاتون کی بے بسی دیکھ کر حضورؐ آبدیدہ ہوگئے اور ان سے مخاطب ہوکر فرمایا: ’’صبر کرو تمہارا ٹھکانا جنت میں ہے۔‘‘
راہ حق میں ظلم سہنے والی یہ خاتون جن کو سید المرسلین ﷺ نے صبر کی تلقین فرمائی اور جنت کی بشارت دی۔ حضرت سمیہؓ بنت خباط تھیں۔
حضرت سمیہؓ بنت خباط کا شمار نہایت بلند پایہ صحابیات میں ہوتا ہے۔ انھوں نے راہ حق میں اپنے ضعف اور کبرسنی کے باوجود شدید ترین مظالم جھیلے یہاں تک کہ اپنی جان بھی اسی راہ میں قربان کردی اور اسلام کی سب سے پہلی شہید ہونے کا مہتم بالشان شرف حاصل کیا۔
حضرت سمیہؓ کے آباء و اجداد میں صرف ان کے باپ ’’خباط‘‘ کا نام معلوم ہے ان کا وطن اور خاندان کون سا تھا اور وہ کب اور کیسے مکہ پہنچیں؟ کتبِ سیر ان سوالوں کاکوئی جواب نہیں دیتیں صرف اتنا پتہ چلتا ہے کہ وہ ایام جاہلیت میں مکہ کے ایک رئیس ابوحذیفہ المغیرہ مخزومی کی کنیز تھیں۔ یہ بعثت نبوی سے تقریباً پینتالیس سال پہلے کاذکر ہے۔ اسی زمانے میں یمن سے ایک قحطانی النسل شخص یاسر بن عامر اپنے ایک مفقود الخبر بھائی کی تلاش کرتے ہوئے مکہ میں وارد ہوئے اور یہیں مستقل اقامت اختیار کرکے ابوحذیفہ بن المغیرہ کے حلیف بن گئے۔ اس نے حضرت سمیہؓ کی شادی یاسر بن عامر سے کردی ان کے صلب سے حضرت سمیہؓ کے دو بیٹے پیدا ہوئے عبداللہؓ اور عمارؓ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب رحمت عالم ﷺ بچپن اور جوانی کی منزلیں طے کررہے تھے۔ قیاس یہ ہے کہ حضورؐ کی حیاتِ اقدس کا یہ سارا دور یاسرؓ، سمیہؓ ، عبداللہؓ اور عمارؓ کے سامنے گزار اور انھوں نے حضورؐ کی عظیم ترین شخصیت اور اعلیٰ سیرت و کردار کا نہایت گہرا اثر قبول کیا۔ کیونکہ بعثت کے بعدجب حضورؐ نے دعوتِ حق کا آغاز فرمایا تو اس سارے خاندان نے کسی تامل کے بغیر اس پر لبیک کہا۔ اس وقت ابوحذیفہ مخزومی کا انتقال ہوچکا تھا اور حضرت سمیہؓ اس کے ورثاء کی غلامی میں تھیں۔ یہ اہل حق کے لیے بڑا پرآشوب زمانہ تھا۔ مکہ کا جو شخص بھی اسلام قبول کرتا، مشرکین قریش کے غیظ و غضب اور لرزہ خیز جور و تشدد کا نشانہ بن جاتا۔ مشرکین اس معاملہ میں اپنے قریب ترین عزیزوں کا بھی لحاظ نہیں کرتے تھے۔ حضرت یاسرؓ اور ان کے لڑکے غریب الوطن تھے اور حضرت سمیہؓ کو بھی ابھی بنو مخزوم نے آزاد نہیں کیا تھا۔ ان بے چاروں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے میں مشرکین کو کوئی چیز مانع نہیں تھی۔ انھوں نے اس بے کس خاندان پر ایسے ایسے مظالم ڈھائے کہ انسانیت سر پیٹ کر رہ گئی۔ حضرت یاسرؓ اور حضرت سمیہؓ دونوں بہت ضعیف اور کبیر السن تھے مگر ان کی قوتِ ایمان اور استقامت کا یہ عالم تھا کہ مشرکین ان کو طرح طرح کی دردناک تکلیفیں دیتے اور شرک پر مجبور کرتے لیکن ان کے قدم جادئہ حق سے ایک لمحہ کے لیے بھی نہ ڈگمگاتے تھے۔ یہی حال ان کے بیٹوں کا تھا۔ ان مظلوموں کو لوہے کی زرہیں پہناکر مکہ کی جلتی تپتی ریت پر لٹانا، ان کی پشت کو آگ کے انگاروں سے داغنا اور پانی میں غوطے دینا کفار کا روز کا معمول بن گیا تھا۔ ایک مرتبہ سرورِ عالم ﷺ اس مقام سے گزرے جہاں ان مظلوموں کو عذاب دیا جارہا تھا۔ آپ کو اس پرسخت دکھ ہوا اور آپؐ نے فرمایا: ’’صبر کرو اے آلِ یاسرؓ تمہارے لیے جنت کا وعدہ ہے۔‘‘ ایک اور روایت میں ہے کہ حضورؐ نے ایک مرتبہ حضرت یاسرؓ ، حضرت سمیہؓ اور ان کے بچوں کو مبتلائے مصیبت دیکھا تو آپؐ نے فرمایا: ’’صبر کرو، الٰہی آلِ یاسرؓ کی مغفرت فرمادے اور تو نے ان کی مغفرت کر ہی دی۔‘‘ بوڑھے یاسرؓ یہ ظلم سہتے سہتے ایک دن جان بحق ہوگئے لیکن مشرکین کو پھر بھی اس خاندان پر رحم نہ آیا اور انھوں نے حضرت سمیہؓ اور ان کے بچوں پر ظلم کا سلسلہ برابر جاری رکھا۔

ایک دن حضرت سمیہؓ دن بھر سختیاں سہنے کے بعد شام کو گھر آئیں تو ابوجہل نے ان کو گالیاں دینی شروع کردیں اور پھر اس کا غصہ اس قدر تیز ہوا کہ اپنا برچھا حضرت سمیہؓ کو کھینچ مارا۔ وہ اسی وقت زمین پر گرگئیں اور اپنی جان، جان آفریں کے سپرد کردی۔ ایک روایت میں ہے کہ ابوجہل نے تیر مار کر حضرت سمیہؓ کے فرزند عبداللہؓ کو بھی شہید کردیا۔ اب صرف عمارؓ باقی رہ گئے تھے۔ ان کو اپنی والدہ کی مرگِ بیکسی پر سخت صدمہ ہوا۔ روتے ہوئے سرورِ عالم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے اور یہ واقعہ سناکر عرض کی:
’’یا رسول اللہ اب تو ظلم کی انتہا ہوگئی۔‘‘
حضور ﷺ نے ان کو صبر کی تلقین کی اور فرمایا:
’’اے اللہ آلِ یاسر کو دوزخ سے بچا۔‘‘
حضرت عمارؓ تو بیٹے تھے اس لیے ان کو والدہ کی مظلومانہ شہادت کبھی نہیں بھول سکتی تھی لیکن سرورِ کونین ﷺ کو بھی ابوجہل کی شقاوت اور حضرت سمیہؓ کی مرگِ بیکسی یاد رہی۔ چنانچہ غزوۂ بدر (رمضان المبارک ۲ ہجری) میں ابوجہل جہنم واصل ہوا تو حضورؐ نے حضرت عمارؓ بن یاسرؓ کو بلا کر فرمایا:
قد قتل اللہ قاتل امک (اللہ نے تمہاری ماں کے قاتل سے بدلہ لے لیا)
حضرت سمیہ ؓ کی شہادت ہجرت نبوی سے کئی سال قبل واقع ہوئی اس لیے تمام ایل سیر نے انھیں اسلام کی شہید اول قرار دیا ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
طالب الہاشمی

تبصرہ کیجیے