5

شیخ کی بیٹی

 

 

 

میںہرگز ہرگز اس بات کے لیے تیار نہیں کہ بغیر دیکھے بھالے اپنی زندگی کا سودا کرلوں۔ اگر آپ میری شادی کرنا ہی چاہتی ہیں تو مجھے اپنی منسوبہ بیوی کو نہ صرف دیکھ لینے دیجیے بلکہ دو چار منٹ اس سے باتیں بھی کرلینے دیجیے۔
یہ الفاظ تھے جو توقیر نے اپنی بہن سے پرزور لہجہ میں کہے۔ ’’مگر یہ بتاؤ آخر اس سے فائدہ؟ کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ اگر لڑکی اچھی شکل و صورت کی نہ ہوئی تو تم انکار کردوگے؟ نہیں ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ جب سب معاملات طے پاچکے ہوں اور شادی کرنا ہی ہے تو پھر دیکھنے سے کیا فائدہ۔بعد میں اکٹھے ہی جی بھر کر دیکھ لینا۔‘‘
بہن کی یہ تقریر ختم ہی ہوئی تھی کہ ماں بھی آگئی اور اب توقیر کو بجائے ایک کے دو سے بحث کرنا پڑی ’’معلوم ہوتا ہے کہ تین سال فرانس میں رہ کر تم نے اپنی قومیت اور مذہب کو خیر باد کہہ دیا۔‘‘
یہ الفاظ ماں نے اسی سلسلہ گفتگو میں کہے۔
’’جی نہیں۔ یہ ناممکن ہے۔ میں پکا مسلمان اور مصر کا باشندہ ہوں۔ نہ میں نے مذہب کو ترک کیا ہے اور نہ قومیت کو، میں تو اپنا حق طلب کررہا ہوں کہ جس سے میری شادی ہونے والی ہے اور جس کو زندگی بھر کے لیے میرا ساتھی منتخب کیا جارہا ہے اس کو میں دیکھ تو لوں۔‘‘ ’’اور اگر لڑکی ناپسند ہوئی تو شادی نہ کروں۔‘‘ ماں نے گویا جملہ پورا کیا۔
’’بالکل‘‘
ماں نے ذرا تیز ہوکر کہا ’’تم کو معلوم ہے کہ تمہاری منسوبہ بیوی کس کی بیٹی ہے؟ وہ جامع ازہر کے شیخ کی لڑکی ہے۔ شرافت،امارت اور تمول میں وہ لوگ ہم سے کہیں بڑھے ہوئے ہیں اور تم ذرا اپنا جائزہ لو متحدہ عرب جمہوریہ حکومت کے روپیہ سے تعلیم حاصل کرآئے اور یورپ سے آکر انجینئر ہوگئے تو اب کسی کو شمار ہی میں نہیں لاتے۔‘‘
’’یہ سب کچھ آپ درست فرماتی ہیں اور اس کا ایک ایک لفظ حقیقت پر مبنی ہے مگر اس کے یہ معنی تو نہیں ہیں کہ ان وجوہ کی بنا پر اپناپیدائشی حق کھو بیٹھوں۔‘‘
’’مگر میں تو شادی کا پختہ ارادہ کرچکی ہوں اور شادی کے تمام ابتدائی مراحل طے ہوچکے ہیں اور اب میں یہ نسبت کسی طرح بھی نہیں توڑ سکتی۔‘‘ ماں نے توقیر سے یہ الفاظ ایک مجبوری کا لہجہ لیے ہوئے کہے۔ ’’لیکن میں کب اس نسبت کو توڑدینے کے لیے آپ سے کہہ رہا ہوں۔ مجھے تو یہ رشتہ خود بسروچشم منظور ہے۔‘‘ یہ الفاظ سنتے ہی بہن چمک کر بولی: ’’پھر آخر الٹی سیدھی باتیں کیوں کررہے ہو؟
بہت دیر تک اسی قسم کا بحث مباحثہ ہوتا رہا مگر نتیجہ کچھ برآمد نہ ہوا۔ ماں نے بہتیری کوشش کی کہ توقیر اپنی ضد سے باز آجائے مگر بے سود اور ادھرتوقیر نے بیحد کوشش کی کہ ماں اس کی منسوبہ بیوی کے گھر کہلا بھیجے کہ لڑکا لڑکی سے ملنا چاہتا ہے۔ مگر ناکام ماں کو اپنی بات کا پاس تھا اور وہ اپنی ہم چشموں میں نہ توذلیل ہونا گوارہ کرسکتی تھی اور نہ پرانی رسموں کی قیود کو توڑنے کی جرأت کرسکتی۔ اور یہ نا ممکن تھا کہ ایسا ناشائستہ پیغام لڑکی والوں کے یہاں کہلا بھیجے۔ وہ اسے اپنی کھلی توہین سمجھتی تھی۔ نتیجہ ماں بیٹے کی ضد کا یہ ہوا کہ ماں خفا ہوئی اور گھنٹوں بیٹھ کر روئی۔ توقیر نے بے انتہا خوشامد کی مگر بے کار۔ اسے ماں کو رنجیدہ کرنے کا بہت افسوس تھا لیکن مجبور تھا۔ کھانے کا وقت آیا اور احتجاج کے طور پر ماں نے بھوک ہڑتال کردی مگر مصالحت کی صورت نہ بن سکی۔ بحث کا سلسلہ پھر چھڑگیا اور نتیجہ اس کا یہ نکلا کہ ماں خوب روئی پیٹی مگر سنگدل بیٹے نے اپنے اصول سے جنبش نہ کی۔ اب گھر گویا غم کدہ بنا ہوا تھا۔ ماں کے کھانا نہ کھانے کی وجہ سے بیٹی اور بیٹے نے بھی کھانا نہ کھایا۔ یہی حالت دوسری شام تک رہی اور چوبیس گھنٹے سے زیادہ اسی حالت میں گذر گئے۔
توقیر اپنے کمرے میں بیٹھا تھا اور اسے ماں کی تکلیف کا خیال ستارہا تھا۔ آخر ماں کی ستیہ گرہ کامیاب ہوگئی اور توقیر نے ماں کی شرائط منظور کرلیں تاکہ وہ کھانا تو کھا ہی لے۔
حقیقتاً یہ بھی توقیر کی ایک چال تھی کہ کسی طریقے سے ماں کو راضی کرکے کھانا کھلادیا جائے چنانچہ ماں کو اس نے راضی کرلیا۔ لیکن اب وہ اس سوچ میں تھا کہ زندگی کے اہم مسئلے کو کس طرح حل کرنا چاہیے۔ صبح کا وقت تھا اور اس واقعہ کو دو روزگزرچکے تھے۔ وہ اپنے کمرے میں بیٹھا اخبار کا مطالعہ کررہا تھا کہ اچانک ایک خیال اس کے ذہن میں آیا۔ اخبار رکھ کر الماری سے احادیث مقدسہ کی چند کتابیں اٹھالایا۔ اس سے پیشتر بھی وہ ان کا مطالعہ بارہا کرچکا تھا اور اکثر کرتا رہتا تھا۔
اپنی اس تدبیر کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اپنے ہونے والے خسر شیخ الازہر کی خدمت میں حاضری کا قصد کیا اور کپڑے تبدیل کرنے لگا اور ملازم کے گاڑی لانے تک وہ کپڑے بدل کر جانے کے لیے تیار ہوچکا تھا۔ گاڑی ایک عالیشان عمارت کے سامنے جاکر رکی۔ مکان کا ظاہری ٹھاٹھ ہی مکین کی امارت پردلالت کررہا تھا۔ ایک ملازم گاڑی کے قریب آیا۔ توقیر نے اس کے ذریعہ اپنا کارڈ شیخ الازہر کو بھیج کر اپنی آمد کی اطلاع دی۔ شیخ اپنے منسوبہ داماد کی آمد کی خبر سن کر باہر استقبال کو نکل آئے۔ توقیر نے بڑھ کر مصافحہ کیا اور قابل احترام شیخ کے ہاتھوں کو بوسہ دیا اور شیخ نے اپنے داماد کی پیشانی کو چوما اور ہاتھ پکڑکر کمرے میں لا بٹھایا۔ کمرہ مغربی وضع قطع کے ساز وسامان سے آراستہ و پیراستہ تھا جگہ جگہ خوبصورت کام ہورہا تھا اور تمام فرنیچر اور دوسرا سامان نہایت اعلیٰ قسم کا تھا۔ اس ہال کے اس حصہ میں بہترین رومی غالیچوں اور ایرانی قالینوں کا فر ش تھا اور مشرقی طرز کا سامانِ آرائش بھی زینت کمرہ کے لیے موجود تھا اور اس طرح مشرق و مغرب کا سامانِ آرائش ایک حسین امتزاج پیش کررہا تھا۔ فرش پر خوبصورت صوفے بچھے ہوئے تھے۔ جن پر بہت سے لوگ آرام اور اطمینان سے تکیہ لگائے بیٹھے تھے۔
شیخ نے توقیر کا تعارف اپنے ملنے والوں سے کرایا اور ملاقاتیوں نے شیخ کو داماد کے انتخاب پر مبارکباد دی۔ تھوڑی دیر بعد قہوے کا دور چلنے لگا اور شیخ توقیر سے فرانس کی باتیں پوچھتے رہے۔ قہوہ کا دور ختم ہوا اور تھوڑی دیر بعد شیخ کے دوست اٹھ کر چلے گئے۔
بڑی مشکل اور بڑی دیر سوچنے کے بعد توقیر شیخ سے نہایت مؤدب طریقے سے گویا ہوا:
’’میں جناب کی خدمت میں ایک خاص مقصد لے کر حاضر ہوا ہوں۔‘‘
شیخ نے دریافت کیا وہ کیا
’’اگر جناب اجازت دیں تو کچھ عرض کرنے کی جرأت کروں۔‘‘
’’بسروچشم۔ بسم اللہ، کہو کیا کہنا چاہتے ہو۔‘‘
توقیر نے کچھ تامل کیا شائد وہ الفاظ ڈھونڈ ھ رہا تھا جس سے وہ اپنا مدعا بہتر طریقہ سے ادا کرسکے۔
شیخ نے پھر کہا ’’تم اپنے دل کی بات ضرور کہو کوئی وجہ نہیںکہ اسے پورا نہ کیا جائے۔‘‘
توقیر نے ہمت کرکے نیچی نظریں کیے ہوئے دبی زبان میں کہا ’’میں جناب سے اپنا حق مانگتا ہوں۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ میں اپنی منسوبہ سے پانچ دس منٹ کے لیے گفتگو کرسکوں؟‘‘
توقیر نے نظریں اٹھا کر جو دیکھا تو شیخ کو ہکا بکا پایا۔ وہ اس کے لیے قطعی تیار نہ تھے ان کی خودداری کو اس سے بہت ٹھیس پہنچی۔ شیخ نے اپنے آپ کو عجیب شش و پنچ میں پایا۔ وہ توقیر کو بہت پسند کرتے تھے۔ مگر اس کی اس بات سے وہ اس وقت بہت حواس باختہ تھے۔ شیخ نے اپنے آپ کو سنبھال کر کہا:
’’میں اس حق کی اہمیت سمجھنے سے قاصر ہو۔‘‘
’’کیا جناب کو اس بات میں کوئی خاص اعتراض ہے۔‘‘
’’بے شک مجھے اعتراض ہے۔‘‘
’’مذہبی نقطہ نظر سے یا دنیاوی نقطہ نگاہ سے۔‘‘
’’مجھ کو دنیاوی نقطہ نگاہ سے اعتراض ہے۔ کیونکہ ہمارا دین اور دنیا الگ الگ نہیں۔‘‘
توقیر نے خوش ہوکر کہا ’’مگر دین کو دنیا پر سبقت اور اولیت حاصل ہے۔ سب سے پہلے ہمارا دین ہے۔ اور پھر ثانوی درجے میں دنیا ہے۔‘‘
شیخ نے بھی خوش ہوکر کہا بے شک تم صحیح کہتے ہو۔ پھر جب خداوند ذوالجلال نے مسلمان کو مخاطب کرکے فرمایا کہ تم ان عورتوں سے نکاح کرو جو تمہیں بھلی معلوم ہوتی ہوں۔ تو پھر کس طرح اعتراض کا موقعہ رہ گیا۔‘‘ یہ کہتے ہوئے توقیر نے قرآن مجید کی آیت پڑھ کر سنائی ۔ شیخ صاحب اس رنگ میں بحث کرنے کے لیے خصوصاً توقیر جیسے نئی روشنی کے نوجوان سے قطعی تیار نہ تھے اور نہ ان کو اس سے اس بات کی امید تھی۔ وہ یہ سمجھنے سے قاصرتھے کہ اسے کیا جواب دیں مگر ٹالنے کے لیے کہا:
’’گویا یہ جائز تو ہوسکتا ہے مگر میں اس کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔ اور خصوصاً آج کل کے زمانے میں۔‘‘
توقیر نے شیخ کی کمزوری کو فوراً محسوس کرلیا اور کہا آپ کا خیال ہے کہ ہم لوگوں کے لیے سنت رسول اللہ ﷺ کی پیروی ایک امرِ دشورا ہے۔ کیا اس انداز فکر کو مستحسن قرار دیا جاسکتا ہے؟‘‘
شیخ نے بات کا رخ پلٹتے دیکھ کر فوراً کہا:
’’خدائے رحمن و رحیم ہم سب کو رسول اللہ ﷺ کی پیروی کی توفیق عنایت فرمائے۔‘‘
توقیر نے فوراً ہی جیب سے ایک پرچہ نکال کر شیخ کے ہاتھوں میں دیا جس پر اس سلسلہ میں احادیث نبوی لکھی ہوئی تھیں۔
شیخ نے ان احادیث کو بار بار پڑھا تھا وہ ان احادیث کو ہزاروں بار پڑھ اور پڑھا بھی چکے تھے مگر اس وقت وہ ان کے لیے بالکل نئی معلوم ہوتی تھیں۔ وہ گم سم بیٹھے سوچ رہے تھے۔ کہ توقیر نے ان سے کہا:
’’کیا آپ مجھے ان احادیث پر عمل کرنے نہ دیں گے؟ کیا اس زمانے میں رسول کی نصیحتوں اور احکامات سے ہم لوگ بے نیاز ہیں اور ہمارے لیے بے کار ہیں؟‘‘
شیخ نے فوراً کہا ’’ نہیں ،نہیں‘ ایسا تو نہیں ہے۔‘ فرمان رسولؐ سر آنکھوں پر۔ مگر میں یہ دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ آخر تمہارا اس درخواست سے مطلب کیا ہے۔ بالفرض اگر تمہاری منسوبہ بیوی تم کو ناپسند ہوئی تو کیا تم اس نسبت سے دست بردار ہوجاؤ گے اور نکاح نہ کرو گے؟‘‘
توقیر نے جواب میں کہا ’’اس سے تو شاید آپ بھی اتفاق کریں گے کہ اس صورت میں میں ایسا کرنے پر مجبور ہوں گا؟‘‘
اس شرط پر تمہاری شادی پھر یورپ میں ہی ہو سکتی ہے۔ شیخ نے کچھ ترش رو ہوکر جواب دیا۔ مجھ کو ہرگز یہ گوارہ نہیں کہ میری لڑکی سے نسبت کرنے کے لیے لوگ گاہک بن کر آئیں اور ناپسند کرکے چلے جائیں۔ تم میری عزت و آبرو کا اندازہ غلط طور پر لگا پائے ہو۔ کیا تم نہیں سمجھتے کہ اس سے شیخ الازہر کس کس قدر سبکی ہوگی۔ معاف کیجیے میں ایسی گفتگو پسند نہیں کرتا جس سے سے میری عزت و آبرو کا سوال وابستہ ہو۔‘‘
توقیر بھی پختہ ارادہ کرکے اور تیار ہوکر آیا تھا، اس نے بھی کچھ تیز ہو کر کہا ’’بلاشبہ آپ مصر میں وہ عزت رکھتے ہیں جس کا عشرِ عشیر بھی دوسروں کو حاصل نہیں۔ مگر اتنا مجھ کو عرض کرنے کی اجازت دیجیے کہ پھر بھی آپ کو وہ عزت حاصل نہیں ہے جو امیرالمؤمنین خلیفۃ الثانی حضرت عمر بن خطاب ؓ کو مدینہ منورہ میں اور آج ساری دنیا میں حاصل ہے۔ کیا واقعہ تاریخ و سیر کی کتابوں اور خود حدیث نبوی کے مقدس مجموعوں میں مذکور نہیں کہ جناب عمر نے اپنی بیٹی ام المومنین حضرت حفصہ ؓ کو حضرت عثمانؓ کے سامنے پیش کیا اور نکاح کی خواہش ظاہر کی اور جب حسب خواہش جواب نہ ملا تو حضرت ابوبکر صدیق خلیفہ اول کی خدمت میں اسی مقصد سے حاضر ہوئے لیکن وہاں بھی ناکامی ہوئی۔ کیا خدانخواستہ اس سے ان کی عزت میں بٹہ لگ گیا۔‘‘
شیخ کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا اور وہ لاجواب ہوکر بولے : ’’وہ دونوں حضرات تو ان کے دوست تھے۔‘‘
’’مگر میں بھی تو آپ کے عزیز ترین مرحوم دوست کی نشانی ہوں۔‘‘
شیخ نے نظریں جھکا لیں اور کچھ دیر تامل کے بعد بولے مجھ کو کوئی انکار نہیں ہے یہ کہتے ہوئے شیخ گھر کے اندر چلے گئے۔
توقیر کا دل بہت تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ اس نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے ریشمی سیاہ پردہ اٹھایا اور اندر داخل ہوگیا۔ دن ہونے کے باوجود بھی کمرے میں اندھیرا ہونے کی وجہ سے بجلی کا بلب روشن تھا۔ اور سامنے کرسی پر سیاہ گاؤن پہنے ایک بیس سالہ نہایت حسین و جمیل اور خوبرو لڑکی بیٹھی تھی۔ توقیر کو دیکھ کر وہ تعظیم کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی۔
توقیر نے سلام کیا لیکن جواب سے محروم رہا۔ اس نے دوبارہ سلام کیا تو لڑکی نے آہستہ سے جواب دیا۔ لڑکی نظریں نیچی کیے ہوئے تھی۔ صرف توقیر کے داخل ہوتے وقت اس نے ایک لمحہ کے لیے نظریں اٹھاکر اپنے ہونے والے خاوند کو ضروردیکھا تھا۔ وہ خاموش کھڑی تھی توقیر سے بیٹھنے تک کو کہنے کی جرأت نہ کرسکی۔ توقیر اجازت طلب کرتے ہوئے بیٹھ گیا مگر لڑکی خاموش کھڑی رہی پھر وہ خود بھی اٹھ کر کھڑا ہوگیا اور اس سے بیٹھنے کے لیے درخواست کی اور اپنی کرسی اس کے قریب کھسکا کر بولا: ’’مجھے انتہائی مسرت ہے کہ مجھے اپنی منسوبہ بیوی شائستہ خانم سے گفتگو کرنے کا موقعہ ملا اور اس وقت اس سے گفتگو کررہا ہوں۔ کیا مجھے کچھ عرض کرنے کی اجازت ہے؟‘‘
شائستہ نے دبی زبان سے کہا: ’’فرمائیے۔‘‘
’’آپ میرے نام اور میری حیثیت سے تو واقف ہی ہوں گی کیا میں یہ دریافت کرسکتا ہوں کہ آپ کو یہ مجوزہ رشتہ پسند ہے۔؟‘‘
اس کا شائستہ نے کوئی جواب نہ دیا، اس کے چہرے پر ایک خفیف سا رنگ آیا اور چلا گیا۔ وہ زمین کی طرف دیکھ رہی تھی اور اپنی انگلی میں پہنی ہوئی انگوٹھی کو حرکت دے رہی تھی۔ دوبارہ پوچھنے پر اس نے سر اثبات میں ہلادیا۔
توقیر نے کہا ’’میں اس پسندیدگی کے لیے آپ کا نہایت مشکور ہوں مگر کیا آپ کو میری یہ ملاقات ناپسند ہوئی۔‘‘
’’جی نہیں‘‘۔ اس نے مرمریں لبوں سے دل میں اتر جانے والے مسحور کن آواز میں کہا۔
’’تو پھر آپ نے اپنے والد صاحب سے اس بارے میں ملاقات کرنے پر آمادگی کا اظہار کرنے سے گریز کیوں کیا تھا؟‘‘
شائستہ نے کچھ تامل سے کہا ’’میں تونے یوں ہی کہہ دیا تھا۔‘‘
توقیر نے برجستہ کہا: ’’تو اس سے یہ مطلب اخد کرنے میں حق بجانب ہوں کہ آپ خود بھی مجھ سے ملاقات کی خواہش مند تھیں۔‘‘ توقیر نے یہ کہتے ہوئے شائستہ کی طرف تجسس کی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا ’’سچ سچ بتائیے کیا آپ واقعی مجھ سے ملاقات کی خواہشمند تھیں۔ میں آپ کی دلی کیفیت معلوم کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ شائستہ کی نظریں نیچی تھیں اس کا سرخ اونی شال بجلی کی روشنی میں چمک رہا تھا جس کا عکس اس کے چہرے پر پڑکر سیاہ گاؤن کے ساتھ ایک عجیب کیفیت پیدا کررہا تھا۔
اس نے ذرا تامل سے کہا:
’’میں آپ کو دیکھنا ضرور چاہتی تھی، ملنے کا تو مجھے خیال بھی نہیں آسکتا تھا۔‘‘
’’کیا آپ مجھے بتاسکتی ہیں کہ آپ مجھے کیوں دیکھنا چاہتی تھیں؟‘‘
یہ سوال کرتے وقت خود توقیر کو بھی ہنسی آگئی۔
شائستہ نے بھی ہمت سے کام لے کر کہا ’’پہلے آپ بتائیے کہ آخر آپ مجھ سے کیوں ملنا چاہتے تھے بس جس مقصد کے لیے آپ مجھ سے ملنے کے خواہش مند تھے اسی مقصد کے تحت میں آپ کو دیکھنا چاہتی تھی۔‘‘
توقیر نے کہا کہ میں تو آپ کو اس لیے دیکھنا چاہتا تھا کہ جو کچھ میں نے اپنی بہن اور والدہ سے آپ کے بارے میں سنا ہے۔ وہ واقعی حقیقت پر مبنی ہے؟
یہ بتائیے کہ آپ کیوں مجھے دیکھنے کی خواہشمند تھیں؟
شائستہ نے اب نظریں اٹھالیں تھیں اب وہ روبرو ہوکر باتیں سن رہی تھیں اسے ان سوالوں سے کافی دلچسپی محسوس ہونے لگی اور اس سوال پر اسے ہنسی بھی آئی اور جواب میں کہا :
’’بس یونہی دیکھنا چاہتی تھی۔‘‘
’’مگر میں آپ سے اس کی وجہ دریافت کیے بغیر نہیں مانوں گا۔‘‘
شائستہ نہ کہا ’’وجہ تو خود مجھے بھی معلوم نہیں پھر بھلا آپ کو کیا بتاسکوں گی۔‘‘
توقیر اس جواب سے مطمئن ہوگیا لیکن اب اس نے دوسرا سوال پیش کیا۔
’’میں جب پیرس میں بیمار پڑ گیا تھا تو آپ کو یاد ہوگا کہ آپ نے دو مرتبہ اپنے خطوط میں میری بہن سے میرا حال دریافت کیا تھا۔ آخر ایسا کرنے کی وجہ؟‘‘
شائستہ کو اس بات پر ہنسی آگئی اور وہ کہنے لگی ’’معاف کیجیے گا آپ عجیب قسم کے سوالات کررہے ہیں۔ کیا کسی کی خیریت دریافت کرنا بھی گناہ اور جرم ہے۔‘‘
توقیر نے پینترا بدل کر کہا ’’اچھا اتنا تو بتا ہی دیجیے کہ میری بیماری کا حال سن کر آپ کو میرا کچھ خیال بھی آیا تھا۔ اور اس سے آپ کی طبیعت پر کس قسم کا اثر پڑا تھا؟‘‘
شائستہ اس سوال کا مقصد سمجھ گئی تھی۔ دلچسپی لینے کی خاطر جواب دینے کے بجائے کہا:
’’پہلے آپ بتائیے کہ اگر میں بیمار پڑجاتی تو آپ میری خیریت دریافت کراتے یا اس سے کچھ پریشانی ہوتی تو آپ کو میرا بھی کچھ خیال آتا۔‘‘
توقیر نے کچھ لاجواب ہوکر کہا ’’میرا خیال ہے کہ مجھ کو ضرور اس کا خیال پیدا ہوتا۔ طبیعت پریشان رہتی اور خیریت بھی معلوم کراتا۔‘‘
شائستہ کامیابی کی خوشی کے لہجے سے بولی ’’آخر کیوں؟ نہ میں نے کبھی آپ کو دیکھا تھا اور نہ ہی آپ نے مجھے دیکھا تھا؟‘‘
توقیر اس مسئلہ پر غور کررہا تھا اور اس کوشش میں تھا کہ کس طرح شائستہ کی قلبی کیفیت اور اس سے اپنے متعلق معلوم کرسکے۔ اس نے عجیب پیرائے میں کہا ’’میری جو باتیں خود میری سمجھ میں نہیں آتی تھیں۔ میں ان کو حل کرنا چاہتا تھا۔ اور یہ معلوم کرنے کا خواہشمند تھا کہ آپ کی طرف سے جو خیالات میرے دل میں تھے کیا ویسے ہی خیالات میرے لیے آپ کے دل میں بھی ہیں۔‘‘
شائستہ نے خوشی کے لہجے میں اس سے پوچھا ’’پھر آپ کس نتیجہ پر پہنچے؟‘‘
آپ کی اور اپنی حالت کو یکساں پایا۔ یہ ایک عجیب بات ہے۔ کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم دونوں میں محبت کی بنیاد دراصل اسی وقت سے استوار ہو گئی جب ہم دونوں کو اس رشتے کا علم ہوا۔‘‘
اس کاجواب شائستہ نے خاموش رہ کر اور اپنے نرم و نازک ہاتھ کی ایک جنبش کے ذریعہ جو توقیر کے قریب ہی تھا اپنے دلی جذبات کی صحیح ترجمانی کرتے ہوئے دیا۔
توقیر نے متاثر ہو کرکہا ’’بس ایک آخری سوال اور کروں گا اور اس کے بعد رخصت کی اجازت چاہوں گا۔ لیکن خدا کے واسطے اس اس کا جواب ضروردیجیے گا وہ یہ کہ’’ آپ نے جو اپنے دست نازک سے ایک جنگل کے دلفریب منظر کی رنگ رنگیلی تصویر بناکر میری بہن کو بھیجی تھی۔ اس کا مقصد کیا تھا۔‘‘
’’وہ میں نے اس لیے بھیجی تھی کہ انھوں نے مجھ کو تصویروں کا ایک البم بھیجا تھا۔ تبادلۂ تحفہ جات تو ایک پرانی رسم چلی آرہی ہے۔‘‘
توقیر نے کچھ بے قرار ہوکر کہا ’’خدا کے واسطے ذرا اپنے دل کو اچھی ٹٹول کر کہیں۔ ہر معاملہ میں میرا اور آپ کا حال ایک سا ہی نکلتا ہے۔ بخدا مجھے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ تصاویر آپ نے میری بہن کے لیے نہیں بلکہ میرے لیے بھیجی تھیں۔ تاکہ میں انھیں دیکھ کر خوشی حاصل کروں۔ جس وقت وہ تصاویر نگاہوں کے سامنے آتیں تو میرے دل میں یہی خیال پیدا ہوتا۔ اب بھی یہی خیال ہے۔ سچ کہیے کہ آپ نے تصویر بھیجتے وقت میرا ارادہ کیا تھا یا میری بہن کا؟ یا میرا بھی اس وقت کچھ خیال آیا تھا۔‘‘
شائستہ کچھ حیران سی رہ گئی ،وہ سٹپٹا ئی اور اپنے حقیقی جذبات پوری طرح چھپا نہ سکی۔
توقیر نے اصل کیفیت کو پھانپ لیا اور اس کے قلبی رجحان اور دلی جذبات کا بھی پتہ لگالیا۔ اور پھر اصرار کے ساتھ اپنے اس سوال کا جواب مانگنے لگا۔ ’’میرا آخری سوال ہے۔ اور میں اس وقت آپ کے صحیح جواب کا بڑی بے تابی سے منتظر ہوں بتائیے کہ وہ تصاویر آپ نے کس لیے بھیجی تھیں؟‘‘
’’آپ کے لیے‘‘ شائستہ بمشکل کہہ سکی اور فوراً ہی نگاہیں جھکالیں۔
توقیر کی آنکھیں چمکنے لگیں۔ اس کا دل اس جواب کو سن کر زور زور سے دھڑکنے لگا۔ اس کی بے تابانہ نگاہیں شائستہ کی طرف اٹھیں اور خوشی کے عالم میں بیساختہ اس کے منہ سے نکلا:
’’واقعی؟‘‘
دونوں تھوڑی دیر خاموش رہے شائستہ نیچی نظریں کئے بیٹھی تھی۔
توقیر نے گھڑی دیکھی پندرہ منٹ سے زائد ہوچکے تھے اس نے اپنی جیب سے ہیرے کی ایک بیش قیمت اور خوبصورت انگوٹھی نکالی جس کی چمک دمک سے بجلی کی روشنی میں بھی آنکھیں خیرہ ہورہی تھیں۔ شائستہ نے آنکھ کے ایک گوشے سے دیکھا تو اس نے مسکرا کر کہا یہ میں پیرس سے آپ ہی کے لیے لایا تھا، آپ بھی اسے ناپسند نہ کریں گی۔‘‘ یہ کہتے ہوئے اس نے یہ قیمتی انگوٹھی شائستہ کو پیش کردی اور خداحافظ کہہ کر وہ کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا ۔
’’خدا حافظ‘‘ شائستہ نے آہستہ سے کہا۔
چلتے چلتے دروازہ سے مڑ کر اس نے شائستہ کی طرف دیکھا جو خود اس کو جاتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔

شیئر کیجیے
Default image
محمد حسام اللہ شریفی

تبصرہ کیجیے