4

خواتین کے فعال رول کی ضرورت

سماج اور معاشرہ میں ہمہ جہت اور دیرپا انقلاب کی بنیادیں ماؤں کی گود میں استوار ہوتی ہیں۔ یہاں ذہن مستقبل کے سانچوں میں ڈھلتے ہیں اور جس مستقبل کا خواب دیکھا جائے اس خواب کی تعبیر کا سامان مہیا ہوتا ہے۔ اس کی اہمیت کو صحیح طور پر سمجھتے ہوئے امت کے ایک فلسفی، مفسر اور حکیم امام رازیؒ نے کہا تھا:
’’جب تم لڑکے کو تعلیم دلاتے ہو تو صرف ایک لڑکا تعلیم یافتہ ہوتا ہے لیکن جب کسی لڑکی کو تعلیم دلاتے ہو تو پوری ایک نسل تعلیم یافتہ ہوجاتی ہے۔‘‘
جی ہاں! ایک لڑکی کی تعلیم سے نہ صرف وہ لڑکی خود تعلیم یافتہ ہوجاتی ہے بلکہ اس کی گود میں پلنے والی پوری ایک نسل علم کے زیور سے آراستہ ہوجاتی ہے۔ بلکہ اس سے آگے بڑھ کر ہم تو یہ کہتے ہیں کہ محض اس ایک لڑکی کے تعلیم یافتہ ہوجانے سے علم کا چراغ نسل در نسل کے لیے روشن ہوجاتا ہے اور یہ سلسلہ ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتا رہتا ہے۔
امت مسلمہ جس کی ابتداء ہی اقرأ باسم ربک الذی خلق سے ہوتی ہے، آج تعلیمی پسماندگی کی عجیب و غریب صورتحال سے دوچار ہے اور اس میں بھی وہ گروہ خاص طور پر قابل ذکر ہے جس کے ذمہ نسلوں کی تیاری اور انقلاب زمانہ سے لڑنے اور نئے چیلنجز کو قبول کرنے کا اہم کام ہے۔ اس کا تذکرہ ہمارے قائدین اور دانشوران بھی خوب کرتے ہیں لیکن کیا محض تذکروں، سیمیناروں ، گفتگوؤں اور تقریروں سے یہ چیز ختم ہوجائے گی۔ نہیں ہرگز نہیں! اس کے لیے ہر سطح پر ایک منصوبہ بند، تیز رفتار اور انتھک جدوجہد کی ضرورت ہے۔ اس منصوبہ بند اور ان تھک جدوجہد کے ذریعہ ہی ہم امت مسلمہ کی اَن پڑھ او رجہالت کی تاریکیوں میں پڑی نسل کو علم کی روشنی سے ہمکنار کرسکتے ہیں۔
صالح انقلاب، سماج اور معاشرے کو جہالت کے اندھیروں سے علم کے نور کی طرف لانا، جاہلی رسوم ورواج اور توہمات میںپڑی سوسائٹی کو دین کے علم سے آراستہ کرنا اور ایسے سماج کی تیاری جہاں نئی نسل کے اندر زندگی کا شعور، مقصد حیات کا علم اور کامیاب طریق ِ زندگی کی معرفت حاصل ہو ایک بنیادی، اہم اور انتہائی ضروری کام ہے جس میں دانشوران، قائدین اور علماء سے زیادہ اہم اور فعال کردار خود ہمارے مسلم معاشرہ کی تعلیم یافتہ اور باشعور خواتین اور وہ لوگ ادا کرسکتے ہیں جو صالح، انقلابی اور بلند فکر کے حامل اور اس کے داعی ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہی اس کام کی اہمیت و ضرورت کو کما حقہ سمجھ سکتے ہیں اور وہی اس کام کے لیے خود کو اور اپنی خواتین کو تیار کرسکتے ہیں۔
موجودہ دور میں امت مسلمہ ہند کو جو اہم اور نمایاں چیلنجز درپیش ہیں ان میں ایک بڑا چیلنج یہ ہے کہ اس کی خواتین، طالبات اور نئی نسل زندگی کے شعور اور مقصد حیات سے آشنا ہو، ان کے اندر قوت عمل، جذبۂ حرکی اور مجاہدانہ اسپرٹ پیدا ہو اور وہ ایک ہمہ جہت معاشرتی اور سماجی تبدیلی کے لیے تیار ہوجائیں۔ اس کے لیے ضرورت ہے ایسے جذبۂ عمل کی جو انھیں گھر میں ایک کامیاب مربی و منتظم اور باہر ایک فعال داعی انقلاب اور تبدیلی کا نقیب بنادے۔ جب تک یہ جذبہ، یہ اسپرٹ اور یہ لگن ہماری خواتین و طالبات کے اندر پیدا نہ ہو گی ہم کسی سدھار، کسی تبدیلی، اور کسی معاشرتی انقلاب کی توقع نہیں کرسکتے۔ جب تک ہماری خواتین اور ہماری نئی نسل اس تبدیلی کے لیے تیار نہ ہو ہم لاکھ کوشش اور ہزار خواہش کے باوجود وہ تبدیلی لانے میں کامیاب نہیں ہوسکتے جس کے خواب اپنی آنکھوں میں لے کر ہم زندہ ہیں۔
ہماری خواتین کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ وہ مردوں کا محض ضمیمہ یا ان کی اندھی پیروکار اور متبع نہیں ہیں بلکہ ان کے اوپر بھی ان کے پیدا کرنے والے نے الگ سے کچھ ذمہ داریاں عائد کی ہیں اور ان ذمہ داریوں کے سلسلہ میں ان سے سوال ضرور کیا جائے گا۔ وہ ذمہ داری محض یہ نہیں کہ وہ خود کو گھریلو کاموں کو بہ حسن و خوبی انجام دینے کے قابل بناکر مطمئن ہوجائیں بلکہ اس سے آگے بڑھ کر موجودہ دور میں ان کی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ اس انقلاب میں مردوں کی معاون بنیں جو پوری انسانیت کی فلاح وکامرانی کا ضامن ہے۔اور اس کی سب سے بہتر شکل یہ ہے کہ اپنی گودوں سے بلند فکر اور شعور حیات و مقصد زندگی سے آراستہ و مزین نسل اٹھانے کے ساتھ ساتھ اس چیز کی بھی فکر کریں، بلکہ اس کے لیے عملاً جدوجہد کریں کہ دیگر خواتین بھی اس کام میں ان کی معاون ہوں اور پھر سب مل کر ایک ایسی نسل تیار کریں جو موجودہ نسل سے مختلف، زیادہ بلند فکر رکھنے والی اور جذبۂ عمل سے سرشار ہو۔
اس کے لیے ضروری ہے کہ ہماری ہر خاتون اپنے آپ میں ایک مدرسہ اور ہر طالبہ اپنے آپ میں تعلیم بانٹنے کا ادارہ بن جائے۔ ان خواتین اور نو عمر لڑکیوں کو جو ابھی تک علم کی روشنی سے دور ہیں، نشانہ بناکر نہ صرف انھیں علم کے زیور سے مزین کریں بلکہ اپنی فکر کو ان کے ذہن و دماغ اور روح میں منتقل کرکے اسی طرح فعال اور بے چین کردیں جس طرح وہ خود ہیں۔ لیکن اس کے لیے اپنے سکون ، اپنے آرام اور اپنی دیگر محبوب سرگرمیوں سے کچھ وقت اس عظیم اور اہم کام کے لیے صرف کرنا ہوگا۔ اگر آج ہماری تعلیم یافتہ خواتین اور طالبات اس بات کو سمجھ لیں اور ان میں سے ہر ایک اپنی جگہ یہ طے کرلے کہ اپنی پوری زندگی میں وہ صرف چند ناخواندہ، جاہل اور توہمات کا شکار خواتین کو تعلیم یافتہ، صالح فکر کا حامل اور اس جذبۂ عمل سے آراستہ کردیں گی جس سے وہ خود آراستہ ہیں تو چند ہی سالوں میں ہم دیکھیں گے کہ ایک انقلابی لہر ہماری خواتین کے اندر چلنے لگی ہے اور یہ ہمارے مقصود انقلاب کے لیے مردان کار پیدا کرے گی۔
یہ کا م مشکل نہیں صرف آمادگی اور ایک جذبہ عمل درکار ہے۔ اور اس سے آگے بڑھ کر یہ فکر اور یہ احساس مطلوب ہے کہ ایک صالح، ہمہ جہت اور دیرپا انقلاب میں ہمارا رول اور کردار کیا ہو؟ اور حقیقت یہ ہے کہ اسی پر ہماری تمام جدوجہد اور کوششوں کی کامیابی کا انحصار ہے بہ صورت دیگر ہمارے خواب خواب ہی رہیں گے اور ان کی تعبیر کے سامان فراہم ہونا انتہائی دشوار ہوگا۔

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی

تبصرہ کیجیے