5

حجاب کے نام!

 

لمحۂ فکریہ
میں اس وقت سے حجاب کا قاری ہوں جب سے مائل خیر آبادی مرحوم نے اسے جاری کیا تھا۔ اس کے بعد ابن فرید صاحب کے حجاب کا بھی مطالعہ کیا۔ ابھی اپریل ۲۰۰۴ء کا شمارہ پڑھا جو پہلے کی طرح پسند آیا۔ مگر میرا مزاج اصلاح پسند ہے۔ میں ایک ۸۵ سالہ ضعیف و مریض ہوں۔ لہٰذا میری آخری تمنا اور آپ سے آخری طلب اصلاحی مقالات شائع کرنا ہے۔ اگر آپ اسے پورا کریں گے تو ہر حال میں آپ کے لیے دعاگو رہوں گا۔
مسلم معاشرہ کے جو بھی لوگ خواہ مرد ہوںیا عورت یا بچیاں نماز کے پابند ہیں، کیا وہ قرآنی آیات کو جو نماز میں پڑھی جاتی ہیں معنی و مطلب کے ساتھ سمجھتے ہیں، نہیں- ایسا نہیں ہے۔ یہ صحیح تعلیم و تربیت کی کمی ہے۔ اسی طرح کیا وہ جمعہ کا خطبہ اور عیدین کا خطبہ جو عربی میں دئے جاتے ہیں سمجھتے ہیں۔ میری فہم سے وہ سمجھتے نہیں ہیں۔ یہ صحیح تعلیم و تربیت کے فقدان کے سبب ہے۔ مگر ہائے ہمارے علماء کرام جو مدارس دینیہ کا نصاب تعلیم مرتب کرکے دینی تعلیم دیتے ہیں انھیں اس بات کی قطعاً فکر نہیں ہے۔ ان کا حال تو یہ ہے کہ عا لمیت کے پہلے اتنی بھی صلاحیت پیدا نہیں کرسکے جو ان کے طلبہ قرآنی الفاظ کا معنی و مفہوم سمجھ اور سمجھا سکیں۔ میں نے متعدد بار مشورہ دیا تھا کہ جامع مساجد کے ائمہ عظام بعد نماز عصر یا مغرب غیر طلبا کو آسان لغات القرآن، یا دیگرکتب کے ذریعہ اس کام کے لیے کلاسز چلائیں اور طلبہ کو دینی تعلیمات دیا کریں جنھیں علاحدہ سے اجرت دی جائے گی۔ اور سرکاری ہائی اسکولز میں سہ لسانی تعلیمی پالیسی کے تحت طلبہ و طالبات اردو، عربی، ہندی کی تعلیم حاصل کریں۔ مگر ایسا نہ ہوسکا۔ یہ کام عام تحریک کے کارکنان اپنی سطح پر انجام دے سکتے ہیں۔ آپ اپنے قارئین کو اس طرف متوجہ کریں۔ یہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے جسے فی الفور پورا کیا جانا چاہیے۔ میں حجاب پڑھنے والے مرد و خواتین کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ وہ اس کی ضرورت کو سمجھتے ہوئے اس کام کی انجام دہی میں جٹ جائیں۔ تبھی کوئی تبدیلی پیدا ہوسکتی ہے ورنہ یہ امت مسلمہ ہند اسی طرح گمرہی میں گرفتار رہے گی۔
محمد علاء الدین
چترپور، ہزاری باغ، جھارکھنڈ
]آپ کے مشورے ہمیں بہت پسند آئے اپنے خط میں آپ نے جو دیگر نکات اٹھائے ہیں وہ اس لائق ہیں کہ امت ان پر سنجیدگی سے توجہ دے۔ حجاب کی خوش قسمتی ہے کہ وہ اصلاحی مقصد ہی کو لے کر شروع ہوا تھا اور ہم آج بھی اسی پر کاربند ہیں۔ ہماری کوشش یہی ہے کہ اس میں اصلاحی مضامین شائع ہوں۔ ہمارے افسانے اور کہانیاں بھی یہی رنگ لیے ہوئے ہیں۔ مستقبل میں اور زیادہ توجہ کی کوشش کی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ آپ کو صحت مند رکھے اور نیک اعمال کی توفیق دے۔ آمین (مدیر)[
بڑا قدم
آپ کے ارسال کیے ہوئے فروری، مارچ کے ’’حجاب اسلامی‘‘ دیکھ کر آنکھیں مارے خوشی ڈبڈبا گئیں۔ بہت بڑا قدم اٹھایا ہے آپ نے۔ اللہ آپ کو اس کا اجر دے اور اس راہ میں استقامت عطا کرے۔ محترم ابن فرید صاحب اور ام صہیب صاحبہ نے بہت محنتوں، مشقتوں سے اسے پروان چڑھایا تھا۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور جنت میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔ (آمین)
آج کے اس مصروف دور میں طلبا ہوں کہ طالبات اسکول، کالجس سے فراغت کے بعد انٹرٹینمنٹ کا بڑا ذریعہ ان کے لیے گھر میں موجود ہے۔ اس ماحول میں اردو رسالوں خاص کر (اسلامی) کو خریدنے اور پڑھنے والوں کا فقدان نظر آتا ہے۔ ایسے میں ’’حجاب اسلامی‘‘ خواتین و طالبات کے لیے امید کا ایک دیا اور روشنی کی ایک کرن ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کے خریدار زیادہ سے زیادہ ہوں۔
ساجدہ فرزانہ باجی نے مجھے متوجہ کیا کہ حجاب کے لیے بھی کچھ لکھوں چنانچہ دو مضامین لکھے اور اب آپ کی خدمت میں پیش ہیں۔ حجاب کے معیار اور صفحات کو سامنے رکھ کر مختصر لکھا ہے۔ اگر کچھ مناسب نہ لگے تو برائے مہربانی واپس دیجیے گا۔ میرے افسانے و مضامین اکثر بتول میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ پہلے حجاب میں بھی شائع ہوئے تھے۔ اجتماعات، گھریلو ذمہ داریاں، چھوٹے بچے ان سب میں لکھنا ذرا مشکل معلوم ہوتا ہے۔ مگر لکھوں گی ضرور۔ انشاء اللہ۔
آئندہ خط میں ’’حجاب اسلامی‘‘ پر مکمل و بھرپور تبصرہ کروں گی انشاء اللہ۔
نواز حسین
جگتیال
چند مشورے
مئی کا شمارہ اپریل کے اواخر میں ہم دست ہوا۔ خواتین و طالبات کی دلچسپی کا سامان لیے یہ شمارہ پچھلے شمارے کی بہ نسبت زیادہ اچھا لگا۔ تمام ہی مضامین و افسانے قابلِ ستائش ہیں۔ خصوصی تحریر بے حد اچھی لگی ’’خود ستائش کی لذت‘‘ کا اختتام اگر چند مثبت و اصلاحی جملوں پر ہوتا تو بہتر تھا۔ بہرحال کہانی اچھی ہے۔ گوشہ نوبہار میں ’’کاغذی رپیہ‘‘ متاثر کن ہے۔ چند مشورے حاضر خدمت ہیں:
— دینی و طبی مشوروں کا کالم شروع کریں۔
— قسط وار ناول کا قسط نمبر بھی لکھیں۔
— خطوط کے جوابات بھی دیں آپ نے چند جواب طلب باتوں کے جوابات نہیں دئے، ادھورا پن محسوس ہورہا ہے۔
— آیتوں میں چند جگہ اعراب نہیں ہے۔
’’ماں کا فرض‘‘ اور ’’ہمارا گھر‘‘ خوب ہے۔ محترمہ ساجدہ فرزانہ کا مضمون بھی اچھا ہے۔ محترمہ اپنے قلم کا بہترین استعمال کررہی ہیں۔ میری کلاس فلیوز کو بھی حجاب بہت پسند ہے۔ آپ کے اداریے پڑھ کر ہم سبھی کو ایک جوش آتا ہے۔ حجاب اب انشاء اللہ کبھی بند نہ ہوگا۔ سبھی اس کی ترقی کے لیے دعا گو ہیں۔ انشاء اللہ ہمارا مالی و قلمی تعاون اسے ملتا رہے گا۔ ہماری دعائیں بھی اس کے ساتھ ہیں۔ مریم بھابھی کو سلام کہیے۔
سلمیٰ نسرین
آکولہ، مہاراشٹر
]سلمیٰ پیاری! تمہارے مشورے اچھے ہیں۔ آئندہ خیال رکھا جائے گا۔ دینی و طبی مشوروں کے کالم شروع کرنے کا ارادہ ہے۔ مگر ابھی کوئی ایسا مناسب فرد نہیں ملا جو طبی سوالوں کے جوابات دے۔ انشاء اللہ جلد شروع ہوجائے گا۔ ہمارا ارادہ تو نفسیاتی مسائل اور الجھنوں کے جوابات دینے کا بھی ہے۔ اور نفسیات کی ایک پروفیسر خاتون سے بات جاری ہے۔ دعا کرو۔ مدیر[
حجاب تحفتاً دیں
آپ کا حجاب فروری ۲۰۰۴ء اس وقت میرے ہاتھوں میں ہے۔ میں نے اس کو مقامی کتب فروش کی دکان سے خریدا ہے۔ حجاب اقامتِ دین کا داعی، خواتین و طالبات کا ترجمان اور ہر اعتبار اور ہر حیثیت سے معیاری، مفید، کارآمد، معلوماتی، صاف ستھرا اور پاکیزہ پرچہ ہے۔ اس میں شائع ہونے والی تحریریں خواتین اور طالبات کی ضرورتوں کو بہترین انداز میں پورا کرتی اور ان کے کردار اور کیرئر کو سنوارتی اور روشن بناتی ہیں۔ حجاب اس قابل ہے کہ اس کو نہ صرف اپنے گھروں کے لیے بلکہ اپنے دوستوں،عزیزوں، رشتہ داروں اور احباب کے نام تحفتاً بھی جاری کروایا جاسکتا ہے۔
میں ملک کے طول و عرض میں بسنے والے حجاب کے تمام قارئین کرام سے پُر خلوص گذارش کرتا ہوں کہ حجاب نہ صرف وہ خود خریدیں اور اس کا مطالعہ کریں بلکہ دوسروں کو بھی خریدکر اس کے مطالعہ کی ترغیب دیں۔ حجاب کے قارئین کا حجاب کے لیے یہ تعاون ایک اسلامی اور دینی رسالے کی اشاعت میں توسیع کا باعث ہوگا اور ایک ایسے مفید، کارآمد، معیاری اور معلوماتی پرچہ کی بقا اور اس کے استحکام کا موجب بنے گا جس کی آج ہماری خواتین اور طالبات اور ہمارے اسلامی معاشرے کو ضرورت ہے۔
شاخ انور
عادل آباد، اے پی
چند مشورے
حجاب کا نیا رنگ اور اس کے مضامین پسند آئے۔ اس کی نئی زندگی امت کی خواتین وطالبات کے لیے اللہ کا بہترین تحفہ ہے۔ ماہ اپریل اور مئی کے شمارے دیکھ کر آپ کو درج ذیل تجاویز ارسال کررہا ہوں:
— مختلف میدانوں میں کام کرنے والی نمایاں شخصیات کے انٹرویوز شائع کیے جائیں۔
— سوال و جواب اور مختلف نفسیاتی الجھنوں کے حل بتائے جائیں۔
— سلائی، کڑھائی، ہینڈی کرافٹ اور دیگر گھریلو کاموں کی انجام دہی کے لیے رہنمائی کی جائے۔
— گھر کا ماحول خوشگوار کیسے بنے، آپسی تعلقات کا استحکام اور خواتین کا دعوتی سرگرمیوں میں فعال کردار جیسے موضوعات پر تحریریں شائع کریں تو زیادہ مفید ہوگا۔
— خواتین اور بچوں کی صحت کا کالم مستقل جاری رکھیں اور ماہرین صحت سے مسائل پر گفتگو کرائیں۔
نیاز کوثر
چھپرا مئو، بلیا
]آپ کے مشورے مفید ہیں۔ انشاء اللہ جو چیزیں ابھی شامل اشاعت نہیں ہیں دھیرے دھیرے ان سب کو لانے کی کوشش کی جائے گی۔ اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔[

 

شیئر کیجیے
Default image
شرکاء

تبصرہ کیجیے