6

جوڑوں کا درد

 

جوڑوں کا درد ایسا مسئلہ ہے جس کا سامنا بڑھاپے میں تو ہر شخص کو کرنا پڑتا ہے لیکن بہت سے لوگ لاپروائی اور ناسمجھی کی بنا پر کم عمر میں ہی ہمیشہ کی آفت مول لے لیتے ہیں۔ آئیے جانتے ہیں ڈاکٹر کی بتائی ہوئی کچھ ضروری باتیں۔
ساٹھ سالہ آر۔کے۔آہوجا کے لیے ملازمت سے سبک دوشی ہی مسئلہ بن گئی ہے۔ چار سال پہلے تک وہ بالکل صحت مند تھے، چستی پھرتی میں اپنے جواب بیٹوں کو بھی مات دیتے تھے۔ مارکیٹنگ سے جڑے ہونے کی وجہ سے پورا پورا دن فیلڈ میں رہتے تھے لیکن آج چلنے پھرنے سے مجبور ہیں۔ سبب گھٹنوں میں درد۔ ۵۵ سالہ سنیتا اروڑا گھریلو خاتون ہیں۔ کافی عرصے سے کمر کے درد سے پریشان ہیں۔ یہاں تک کہ روز مرہ کے کام کسی سہارے کے بغیر نہیں کرپاتی ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق ان دونوں کو ہڈی سے متعلق پریشانی ہے۔ پہلے معاملے میں ملازمت سے سبکدوشی کے بعد پریشانی اس لیے بڑھ گئی کیونکہ پہلے ان کا پورا دن بھاگ دوڑ میں گزرتا تھا لیکن اب بھاگ دوڑ بند ہوگئی جو پریشانی کا سبب بن گئی ہے۔ دوسرے معاملے میں ہڈیوں کی ورزش کا نہ ہونا اور متوازن غذا استعمال نہ کرنے کی وجہ سے بے وقت یہ پریشانی پیدا ہوگئی۔ بڑھاپے میں ہونے والی خاص بیماریوں میں کمر اور گردن کا درد شامل ہے۔ اس ضمن میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ جس طرح عمر کے ساتھ جسم کے مختلف اعضا میں تبدیلی آتی ہے اسی طرح ہڈیاں بڑھنے سے ان کی بناوٹ اور ساخت میں تبدیلی آتی ہے۔ ہڈیوں میں یہ تبدیلی ۲۰، ۲۵ سال کی عمر کے بعد شروع ہوجاتی ہے لیکن اس کے برے اثرات ۴۰-۴۵ سال کی عمر کے بعد واضح طور پر دیکھے جاسکتے ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اگر لوگ قبل از وقت ہوشیار ہوجائیں اور ڈاکٹروں کے مشورے پر عمل کریں تو بڑھاپے میں آنے والی پریشانیوں کو کم کیا جاسکتا ہے۔
گھٹنوں میں درد
جسم کا پورا وزن گھٹنوں پر پڑتا ہے اور گھٹنے سب سے زیادہ کام کرتے ہیں جس سے ہڈیاں گھس جاتی ہیں اور ان کے اندر کا لعاب کم ہوجاتا ہے۔ کبھی کبھی جوڑ کی جھلی میں ورم آجاتا ہے جس سے جوڑوں میں درد کی تکلیف سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ اس کے ابتدائی آثار میں سیڑھیاں اترنے میں (چڑھنے میں نہیں) پریشانی ہوتی ہے، رات میں سوتے وقت گھٹنوں میں درد ہوتا ہے، بیٹھ کر کھڑے ہونے میں درد اور جسم کو ایک حالت سے دوسری حالت میں لے جانے سے درد ہوتا ہے۔ اگر وقت کے اندر علاج نہ کرایا جائے تو ہڈیاں ٹیڑھی ہونے لگتی ہیں اور پھر آہستہ آہستہ گھٹنوں پر جسم کا وزن بار ہونے لگتا ہے۔
علاج
— گرم پانی میں نمک ڈالنے کے بعد اس میں تولیہ بھگاکر اس سے گھٹنے کی سکائی کرنی چاہیے۔
— درد کی دوا زیادہ استعمال نہیں کرنی چاہیے۔ اس سے وقتی راحت ملتی ہے لیکن پوری طرح سے آرام کسرت ہی دے سکتی ہے۔
— لوگوں میں یہ خیال عام ہے کہ بھاگ دوڑ زیادہ کرتے ہیں اس لیے کسرت اور ایکسرسائز کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ خیال غلط ہے۔ ہر شخص کو جوڑوں کی مخصوص کسرت لازماً کرنی چاہیے۔
کسرت
— زمین پر لیٹ کر گھٹنوں کے نیچے تکیہ رکھ کر زور سے دبائیں اور دس سیکنڈ تک دبائے رکھیں۔ درد کم ہوجانے کی حالت میں وقت بڑھالیں۔
— کرسی یا چارپائی پر بیٹھ کر پاؤںسیدھے رکھیں۔ پہلے دس سیکنڈ تک، پھر آہستہ آہستہ وقت میں اضافہ کریں۔
کمر درد
کمر درد کا اصل سبب ریڑھ کی ہڈی کا کمزور ہونا ہے۔ جس کی وجہ سے کمر پر جسم کا وزن متوازن نہیں رہتا اور چلنے پھرنے، اٹھنے بیٹھنے اور جھکنے پر درد ہوتا ہے۔ وزن اٹھانے سے بھی درد ہوسکتا ہے۔ درد عمر کے ساتھ بڑھتا ہے اور آہستہ آہستہ کروٹ بدلنے تک میں درد ہونے لگتا ہے۔ ایسا درد ۴۰-۴۵ سال کی عمر کے بعد ہی شروع ہوتا ہے۔ کبھی جوڑ یا کولہے پر چوٹ لگی ہو تو اس کا اثر جلد ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ کمر سے متعلق بیماری جاننے کے لیے چوکی پر لیٹ جائیں اور کمر کے نیچے ہاتھ ڈالیں اگر ہاتھ نہ جائے تو یہ کسی بیماری کا اشارہ بھی ہوسکتا ہے۔
بچاؤ
— سخت بستر یا زمین پر سونا چاہیے۔
— روئی کے گدے کا استعمال کرنا چاہیے۔
— لیٹتے وقت سیدھے نہ لیٹیں۔ پہلے کروٹ سے لیٹیں پھر سیدھے ہوجائیں۔
— اٹھتے وقت بھی ایسا ہی کریں۔
— زیادہ دیر تک ٹیک لگائے بغیر نہ بیٹھیں۔
— اگر لکھنے پڑھنے کا کام ہو یا کسی ایسے پیشے سے وابستہ ہوں جس میں زیادہ بیٹھنا پڑتا ہو تو سیدھے بیٹھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
— آگے جھکنے والی کسرت نہیں کرنی چاہیے۔
— آگے جھک کر کوئی بھی کام کرنے سے بچنا چاہیے۔
— بھاری وزن نہیں اٹھانا چاہیے۔
— اگر چلنے میں درد ہو تو بیٹھ جانا چاہیے۔
گردن میں درد
گردن گھمانے پر درد اور کبھی کبھی چکر بھی آسکتے ہیں
— سوتے وقت تکیہ کا استعمال نہ کرنا چاہیے۔ اگر تکیے کی عادت ہو تو نیچے تولیہ رکھنا چاہیے۔
— گرم پانی سے سکائی کرنی چاہیے۔ مالش نہیں کرنی چاہیے۔
— ٹریکشن ڈاکٹر کے مشورے اور اس کی نگرانی میں لینا چاہیے۔
کسرت
— کندھوں کو روک کر نظریں سامنے رکھتے ہوئے سر کو آہستہ آہستہ پیچھے کی طرف لے جائیں اور دس سکینڈ کے لیے روک لیں۔ اس کے بعد دوبارہ سر سیدھا کریں۔
— سر کو آہستہ آہستہ دائیں اور پھر بائیں جانب گھمائیں۔ دس سکینڈ کے لیے روکیں۔
— سر کو کندھے کی جانب جھکائیں۔ پانچ سیکنڈ کے لیے روک کر دوبارہ سیدھا کریں۔
ریٹائرمنٹ کے بعد
گھر میں رہنے والے بزرگوں کو گردن اور کمر کی بیماریوں سے بچنے کے لیے صبح و شام کھانے سے پہلے دس دس منٹ کسرت کرنی چاہیے۔ اگر بلڈ پریشر یا شکر یا کسی اور بیماری سے دوچار ہیں تو اس کا علاج کرنا چاہیے۔ بزرگوں میں موسم بدلنے یا اچانک گرم سے ٹھنڈ یا ٹھنڈ سے گرم ماحول میں جانے سے بھی کمر، گھٹنوں اور گردن میں درد ہوسکتا ہے اس لیے بدلتے موسم میں احتیاط برتنی چاہیے۔ ہڈیوں سے متعلق بیماریوں سے محفوظ رہنے کے لیے مطلوبہ کیلشیم اور متوازن غذا کا استعمال کرنا چاہیے۔
— لال بہادر شاستری ہاسپٹل کے ماہر ہڈی
ڈاکٹر مہابیر ورما سے گفتگو پر مبنی

شیئر کیجیے
Default image
ترتیب و پیشکش: تنویر عالم فلاحی

تبصرہ کیجیے