2

موجودہ حالات اور مسلم خواتین

دنیا جس تیز رفتاری سے ترقی کررہی ہے اسی تیزی سے معاشرے میں برائیاں پھیل رہی ہیں۔ لوٹ مار، چوری، رشوت،خون خرابہ، بے حیائی و عریانیت اور خود غرضی و مفاد پرستی عام ہورہی ہے۔ مقابلہ کے نام پر حلال، حرام اور جائز و ناجائز کا فرق مٹ گیا ہے۔ عورتیں مردوں کی برابری کررہی ہیں اور مغربی تہذیب نے مساوات کے نام پر عورت کو بھی مرد بناکراور آزادی نسواں کے نام پر اسے گھر سے نکال کر بازار میں لا کھڑا کیا۔
آج مارکیٹ کا کوئی بھی کام عورت کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ ہر اشتہار میں عورت کا ہونا ضروری ہے، صابن اور ماچس جیسی چھوٹی اور بنیادی چیزوں سے لے کر ٹی وی، فریج، واشنگ مشین اور موبائل فون کے اشتہارات میں عورت نئے انداز اور نئی اداؤں کے ساتھ لوگوں کو لبھاتی نظر آتی ہے۔ مس انڈیا اور مس یونیورس جیسے القاب نے عورت کے اندر شہرت اور دولت کا زبردست لالچ پیدا کردیا۔ حسن کے مقابلوں اور فیشن کی عریاں نمائشوں نے عورت کو کھلونا بنادیا اور فلموں اور ٹیلی ویژن کی دنیا نے اسے فیشن پرستی اور عریانیت کے سیلاب میں بہادیا۔
مسلم خواتین جنھیں اسلام کی تعلیمات لوگوں کو بتانا تھا اور ایک عملی نمونہ بن کر دنیا کے سامنے آنا تھا وہ بھی آج دنیا کے دیگر مذاہب کی عورتوں سے مختلف نہیں رہیں، نئی زندگی کی چمک دمک نے انہیں بھی چکا چوند کردیا اور وہ بھی خود کو اس سیلاب بلاخیز سے محفوظ نہ رکھ سکیں۔ اور نتیجہ یہ ہے کہ آج مسلم خواتین کے اندر بھی یہ فیشن پرستی کی بیماری جڑ پکڑتی جارہی ہے۔ فلم ایکٹرس کے رنگ ڈھنگ اختیار کرنے اور اپنے آپ کو انھیں کے جیسا بنانے میں وہ بھی دوسروس سے پیچھے نہیں رہ گئیں۔ لباسوں کی عریانیت اور اس کی تراش خراش میں وہ بھی دوسروں کے ساتھ کھڑی ہوکر خود کو، مسلم معاشرہ کو اور اسلام کو رسوا کرنے کا سامان کررہی ہیںجو نہ صرف اس کے لیے بلکہ پورے معاشرہ اور سماج کے لیے وجہ تباہی و ہلاکت ہے۔
وہ خواتین جو چست، جھلکتے باریک اور نیم عریاں لباس کو اپنا کر اپنے جسم کی عام نمائش کرتی پھر رہی ہیں، اپنے حسن و خوبصورتی کو عام مردوں کے لیے سامان لذت بناتی اور اس سے خوشی حاصل کرتی ہیں وہ معاشرہ کی پست ترین عورتیں ہیں خواہ بزعم خود وہ کتنی ہی مہذب اور تعلیم یافتہ کیوںنہ ہوں۔ اس لیے اس قبیل کی عورتیں زندگی میں بھی سخت اذیت اور عذاب سے دوچار ہوتی ہیں اس وقت جب ان کا حسن زائل ہوجاتا ہے اور وہ سرِ راہ استعمال کیے گئے نپکین کی طرح پھینک دی جاتی ہیں۔ جبکہ اس دنیا کے بعد والی زندگی میں ان کے لیے عیش و آرام کا کوئی حصہ نہیں سوائے اس دہکتی ہوئی آگ کے جو ان کی غلط کاریوں کے سبب ان کا انتظار کررہی ہے۔
عورتوں کو اعتدال کے ساتھ بناؤ سنگھار کرنے کی آپؐ نے نہ صرف اجازت دی ہے بلکہ بسا اوقات خود اس کی ہدایت فرمائی ہے۔ لیکن غیر مردوں پر اسے ظاہر کرنے اور سرِ عام نمائش کو انتہائی قابل گرفت اور ذریعہ ملامت قرار دیا ہے۔ جاہلیت کے زمانے میں جس قسم کا بناؤ سنگھار عرب کی عورتوں میں رائج تھا آپؐ نے اسے قابلِ لعنت اور سببِ ہلاکتِ اقوام قرار دیا۔ اسی طرح آپ نے مصنوعی حسن اختیار کرنے کو سخت ناپسند فرمایا اور اس پر وعید سنائیں۔ بالوں میں دوسرے بال ملاکر ان کو زیادہ لمبا اور گھنا دکھانے کی کوشش کرنا، جسم کے مختلف حصوں کو گودنا، مصنوعی تل بنانا، بال اکھاڑ کر بھویں خاص وضع کی بنانا اور روئیں نوچ نوچ کر منہ صاف کرنا، دانتوں کو گھس گھس کر باریک یا دانتوں کے درمیان چھنیاں پیدا کرنا، زعفران یاورس وغیرہ کے مصنوعی ابٹنے مل کر چہرے پر مصنوعی رنگ پیدا کرنے کو آپ نے ناپسند فرمایا ہے۔
یہ احکام حضرت عائشہؓ ، حضرت اسما بنت ابی بکرؓ ، عبداللہ بن مسعودؓ ، حضرت عبداللہ بن عمرؓ، حضرت عبداللہ بن عباسؓ اور حضرت معاویہؓ سے معتبر سندوں کے ساتھ مروی ہیں۔
مگر افسوس مسلم خواتین اسلامی تعلیمات کو بھلا بیٹھی ہیں اور اللہ کے عائد کردہ حدود کو توڑ رہی ہیں۔ شرم و حیا جو ایمان کا اہم شعبہ ہے اس کو اپنانے کے بجائے بے شرمی اور بے حیائی کو اپنا رہی ہیں اور اپنے حسن کی نمائش کرکے نہ صرف خود کو رسوا کررہی ہیں بلکہ اسلام کی رسوائی کا بھی سامان کررہی ہیں۔
نبیؐ نے فرمایا تھا : ’’میں اپنے بعد مردوں کے لیے عورتوں سے زیادہ ضرر رساں کوئی اور فتنہ چھوڑ کر نہیں جارہا ہوں۔‘‘ (بخاری و مسلم)
آج ہم دیکھتے ہیں کہ اس مغربی طرز زندگی نے اس فتنہ کو کس قدر بڑھاوا دیا ہے۔ اور اسی کے سبب پورے معاشرے کو بے حیائی اور عریانیت نے اپنی زرد میں لے لیا ہے اور اس فتنہ نے عالمی فتنہ کی شکل اختیار کرلی۔
یہ صورت حال کسی کے لیے قابل غور ہو یا نہ ہو مسلم خواتین و طالبات کو ضرور غوروفکر کی دعوت دیتی ہے۔ انھیں اس بات پر لازماً غور کرنا چاہیے کہ وہ معاشرہ کی عام رو میں بہہ کر کیا اپنی دنیا و آخرت تباہ کرلیں یا خود کو ان فتنوں سے بچا کر عام معاشرتی و سماجی گندگیوں سے خود کو محفوظ کرلیں اور دنیا و آخرت کی کامیابی کا حصول ممکن بنائیں اگر وہ بھی اسی رو میں بہہ گئیں جو عام سماج کو بہائے لے جارہا ہو تو ان کا انجام بھی دوسروں سے مختلف نہ ہوگا۔

شیئر کیجیے
Default image
ساجدہ انجم (بھٹکل)

تبصرہ کیجیے