2

سمندر کی بیٹی

 

 

بچہ ہونے سے پہلے ہسپتال میں جس کسی نے بھی گنگا کی باتیں سنی تھیں وہ کبھی یہ نہیں مان سکتا تھا کہ اس کے دماغ میں کوئی خرابی ہے لیکن نوجوان ڈاکٹر جو گنگا سے بہت پہلے سے واقف تھا، جانتا تھا کہ بچہ جننے کے بعد اس لڑکی کے حواس بجا نہیں ہیں۔ گنگا نے آخری دنوں میں اپنی بے سروپا آپ بیتی تقریباً ہر ایک کو سنائی تھی۔ اگرچہ اس کا لہجہ بالکل طفلانہ اور اس کی داستان بالکل بے معنی تھی، لیکن اس میں ایک شاعرانہ تخیل تھا، اور ہر ایک کا سننے کو جی چاہتا تھا۔ جس کسی نے اس کی کہانی سنی ہے، اس کا یہی خیال ہے کہ لڑکی آسیب زدہ تھی۔ میں آپ کو حرف بہ حرف وہی کہانی اسی کے لفظوں میں سناتا ہوں جو گنگا نے مجھے ہسپتال میں سنائی تھی۔ آپ خود ہی فیصلہ کرلیجیے کہ وہ واقعی آسیب زدہ تھی یا نہیں۔
اس وقت تک میں نے کبھی گھر سے باہر قدم نہیں رکھا تھا۔ سمندر کے ساحل پر ہمارا ایک بوسیدہ سا مختصر سا مکان تھا اور یہی میری کل دنیا تھی۔ اکثر کمرے کی کھڑکی کھول کر سمندر کی طرف دیکھا کرتی۔ پانی کی اس بلوریں دیوار کو عبور کرکے دنیا کے دوسرے سرے پر کون جاسکتا تھا میں سوچتے سوچتے تھک جاتی۔ اس پار برہما کی بسائی ہوئی دنیا تھی۔ میں نے برہما کی دنیا نہیں دیکھی تھی۔ میںتصور بھی نہیں کرسکتی تھی کہ اس پار کیا ہوگا۔ ماں کہتی تھی برہما کے پاس ساری چیزیں ہیں اور اس نے یہ تمام چیزیں لوگوں کے لیے بنائی ہیں۔ لیکن میں تو اتنا جانتی تھی کہ دنیا کے اس کنارے- اس عظیم بلوریں دیوار کے اس پار- ایک پرانا بوسیدہ سا مکان تھا جہاں زندگی مجھ پر حکومت کرتی تھی۔ میں کس طرح اپنے آپ کو اُس پار کے لوگوں کے برابر سمجھ سکتی تھی۔ ماں بھی کتنی بھولی تھی۔ اس تنہائی میں جو اژدہے کی طرح ہماری زندگی کو ڈسے لیتی تھی کیا کیا سوچتی تھی۔ برہما، برہما کی دنیا، مجھے تو اپنے باپ کا بھی علم نہیں تھا۔ جب بھی اس کا ذکر آتا ماں چپ ہو جاتی۔ اور آنسو بہانے لگتی۔ میرا باپ کون تھا؟ ماں نے کبھی نہیں بتایا۔ بھلا اس کے سوا مجھے کون باپ کا پتا دے سکتا تھا۔ یہ ننھے منے پھول جو سامنے کی پہاڑیوں پر اُگے ہوئے تھے۔ اور ہر روز نئے نئے کھلتے رہتے تھے، شاید ان کا بھی کوئی باپ نہیں تھا۔ یہ جگمگاتے ستارے جو ساری رات سمندر کے ساتھ شرارتیں کرتے تھے، شاید انھوں نے بھی اپنے باپ کو نہیں دیکھا ہوگا۔ کہیں یہ سمندر ہی تو میرا باپ نہیں۔ یہی تو سارا دن اور ساری رات میرے اور ماں کے سامنے لیٹا رہتا ہے۔ کبھی غصے میں آتا ہے تو جھاگ اڑانے لگتا ہے اور شور مچاتا ہے۔ ادھر ادھر سرپٹختا ہے۔ خوش ہوتا ہے تو ہمارے ساتھ چھیڑ خانیاں کرتا ہے اور خوب خوب ستاتا ہے۔ ایک دن تو میرا جی چاہا کہ اس عجیب و غریب باپ سے، جو خواہ مخواہ شور مچاتا رہتا تھا، دور بھاگ جاؤں اور برہما کی دنیا میں چلی جاؤں۔ لیکن برہما کی دنیا کا بھی کچھ پتا نہ تھا۔ برہما کو میں نے کب دیکھا تھا۔ نہ جانے وہ کیسا ہو، میں ڈر کے مارے کانپ جاتی۔ ہوسکتا ہے وہ میرے اس باپ سے جو ہر وقت میرے سامنے لیٹا رہتا ہے، زیادہ شفیق اور مہربان ہو۔ اسی طرح تنہائی اور خاموشی میں۔ میں سمندر کے بارے میں سوچ سوچ کر پاگل ہوجاتی۔
رات کو خواب دیکھتے ہوئے اور دن میں سوچتے وقت ہر لمحہ سمندر میرے دماغ پر سوار رہتا اور جتنا بھی سوچتی مجھے سمندر ہی باپ معلوم ہوتا۔ ماں بھی وقت بے وقت ساگر کی گود میں کود جاتی۔ اس کے گرم گرم پانی میں اسے بہت ہی آرام محسوس ہوتا تھا۔ اور وہ کہا کرتی تھی کہ جن گناہوں کا بوجھ وہ جوانی کے زمانے سے اٹھائے پھر رہی ہے اب دھلتے محسوس ہورہے ہیں۔ مجھے بھی اپنے سمندر باپ سے، خواہ وہ کتنا ہی غصیلا اور تند مزاج تھا، محبت سی ہوگئی تھی۔ اگر کسی دن سمندر کی گیلی گیلی ریت میں کھیلنے نہ جاسکتی تو کمرے کی کھڑکی کھول کر اسے تکا کرتی۔ رات کو ماں سوجاتی تو میں کھڑکی میں کھڑی ہوکر سمندر کی آواز سنا کرتی۔ لیکن نہ جانے کیوں اتنی محبت کے باوجود مجھے اس سے ہیبت آتی تھی۔ ماں تو مجھے بھول ہی چکی تھی۔ بعض اوقات وہ اپنی عبادت میں اتنی مگن ہوجاتی تھی، کہ کئی کئی دن مجھے نظر بھی نہیں آتی تھی۔ مجھے تنہائی سے وحشت سی ہونے لگی تھی۔
کافی رات گئے، چاند کمرے کے روشندان سے گزر کر اندر آجاتا۔ اور مجھے دیر تک گھورا کرتا۔ پھر وہ میرے بستر پر آکر لیٹ جاتا، میرے پاؤں چومتا اور صبح ہونے تک اسی طرح میرے پاس لیٹا رہتا۔ کبھی راتوں کو نسیم راستہ بھول کر پاگلوں کی طرح کمرے میں آگھستی، اور کھڑکی کے پردوں کے پیچھے چھپ جاتی۔ پردے کسی عورت کے پیٹ کی طرح پھول جاتے۔ پھر وہ میری طرف بڑھتی اور اپنے ٹھنڈے ٹھنڈے ہونٹ میرے گالوں سے لگا دیتی۔ میرے پاؤں میں کھجلی کرتی۔ میری گردن کے نیچے اور میرے سینے کو ہولے ہولے سہلاتی۔ پھر میری گود میں آکر لیٹ جاتی اور بے سدھ ہوکر سوجاتی۔ کبھی کسی رات سمندر سے بھٹکی ہوئی موج گھر کی دیوار کے نیچے آکر شور مچانے لگتی۔ میری آنکھ کھل جاتی۔ اس کے شور میں، سمندر کے مسافروں اور ملاحوں کی گالیوں اور چیخ پکار کا شور بھی سنائی دیتا ہے۔ میں دہل جاتی۔
ماں کو اب میں بالکل بھول چکی تھی۔ ماں بیچاری ثواب کمانے کے پیچھے پڑی ہوئی تھی۔ کسی طرح اپنی زندگی کو نیک و پاک بنالے اور اپنے گناہوں کی معافی کرالے تاکہ اسے بھی ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی مل جائے۔ سمجھتی تھی کہ اگر اس نے دنیاوی خواہشوں کی پیاس کو اندر ہی اندر ختم کرلیا تو وہ امر ہوجائے گی اور شانتی مل جائے گی۔ تناسخ کے چکر سے نکل جائے گی۔ بار بار پیدا ہونے سے نجات پا جائے گی۔ ہونہہ، بھولی ماں، بیچاری سوچا کرتی کہ اس کے بنا وہ موت سے نہیں چھوٹ سکتی۔ وہ پرماتما سے نہیں مل سکتی۔ چنانچہ اس قسم کے دھندوں میں اسے میری پروا کہاں تھی۔ تنہائی میرے وجود کو کھائے جارہی تھی۔ اگر موج، ہوا اور چاند میرے ساتھ محبت نہ کررہے ہوتے تو تنہائی میری ہڈیاں تک چبا گئی ہوتی۔ اس تنہائی میں ساگرپتا کا سلوک بھی تو بدل رہا تھا۔ جب بھی اس پر نگاہ پڑتی میں اور اداس ہوجاتی۔ کرتی بھی کیا، بس یہی نا کہ ساگرپتا کو اس طرح ڈرتے ڈرتے دیکھا کروں اور ادب سے خاموش رہا کروں۔
آخر ایک دن چاند کھڑکی میں سے اندر آیا۔تنہائی اور خاموشی کے اندرونی غموں سے میرا انگ انگ دکھ رہا تھا۔ چاند کو دیکھ کر مجھے سکون سا ملا۔ وہ میری گود میں آکر بیٹھ گیا۔ بنسری اٹھا کر اس نے جادو بکھیرنا شروع کردیا۔ ایسا محسوس ہوا جیسے کوئی دنیا ابھی تک مجھ سے پوشیدہ تھی۔ اس نے کھڑکی کھول کر مجھے اس دنیا کو دیکھنے کی دعوت دے دی تھی۔ پھر اس نے بنسری کو ایک طرف رکھ دیا۔ اور مجھے گود میں لے لیا۔ اپنے ٹھنڈے ٹھنڈے ہونٹ میرے ہونٹوں میں پیوست کردئیے۔ ہم دونوں بے خود ہوگئے۔ آدھی رات تک چاند میرے پاس لیٹا رہا۔ وہ اٹھ کر جانا چاہتا تھا، لیکن میں اس کا دامن پکڑلیتی تھی۔ اپنی تنہائی کا واسطہ دیتی۔ آخر اس کا دل پسیجا اور مجھے بھی ساتھ لے کر چل دیا۔ میں اب زرد اور لطیف سا سایہ تھی۔ اس کے ساتھ کھڑکی سے باہر کود گئی اور باہر چلی گئی۔ رات ابھی باقی تھی۔ آسمان بالکل صاف اور اودے رنگ کا دکھائی دے رہا تھا۔ میں نے نیچے زمین کو دیکھا۔ زمین گناہوں سے پر دکھائی دے رہی تھی اور سمندر رات کی گود میں لیٹا ہوا تاریک تھا۔مجھے محسوس ہوا جیسے باپ نے خشمگین نگاہوں سے دیکھا ہے۔ میں شرمندہ سی ہوگئی۔ بھلا باپ کو غصے میں دیکھنے کی تاب مجھ میں کہاں تھی۔ میں نے چاند کو خدا حافظ کہا اور کمرے میں لوٹ آئی۔ صبح ہوئی تو پھر وہی تنہائی، بوسیدہ مکان، شور مچاتا ہوا سمندر۔
دوسری رات نسیم آئی، تھکی تھکی انگلیوں سے کھڑکی پر دستک دی۔ لیکن اجازت کا انتظار کیے بغیر اندر گھس آئی۔ وہ بہت افسردہ تھی۔ اس کا رنگ اڑا ہوا تھا۔ ہونٹ کانپ رہے تھے جیسے دھیرے دھیرے کوئی گیت گا رہی ہو، وہ آتے ہی بستر پر گر گئی۔ اپنے ٹھنڈے ہاتھوں سے میرا بازو سہلانے لگی اور کانپتے ہوئے ہونٹ میرے گالوں پر رکھ دئیے۔ صبح تک وہ یونہی میرے ساتھ سوتی رہی۔ ابھی اندھیرا ہی تھا کہ اس نے اجازت چاہی تنہائی کے خیال سے میں لرز گئی اور رونے لگی۔ اس نے دلاسا دیا اور ساتھ لے کر چل پڑی۔ باہر آکر ہم کھلی فضا میں چلنے لگے۔ اب میں بالکل ہلکی پھلکی تھی اور نسیم کے پروں پر بیٹھی تھی۔ آسمان تیز چمکتی ہوئی آنکھوں سے سوئی ہوئی زمین کو دیکھ رہا تھا۔ مجھے خیال آیا کہ باپ ناراض ہورہا ہے۔ اور میرے فعل پر سخت طیش میں ہے، میں ڈرتے ڈرتے پھر واپس آگئی۔ اور گھر میں ایک مرتبہ پھر اکیلی رہ گئی۔
اس کے بعد کئی راتیں گزر گئیں۔ میں طرح طرح کے خواب دیکھا کرتی۔ لیکن نہ کبھی چندا روشندان سے اندر آیا۔ نہ نسیم کھڑکی کھول کر کمرے میں آئی۔ ایک انجانی سی خواہش میرے سینے میں کروٹیں لیا کرتی۔ ماں ابھی روح کی پاکیزگی میں مصروف تھی اور مجھے قطعاً فراموش کرچکی تھی۔ جب بھی مجھے خیال آتا کہ ساگر پتا حقارت کی نظروں سے دیکھ رہا ہے، میں کانپ اٹھتی۔
ایک رات صبح کے قریب ایک موج ادھر آنکلی، ہمارے گھر کی پچھلی دیوار سے سر پٹخنے لگی۔ میں نے شور سے گھبرا کر آنکھیں کھول دیں اور کھڑکی کھول کر باہر دیکھنے لگی۔ نیچے ایک سایہ حرکت کررہا تھا۔ مجھے پہچانتے دیر نہ لگی۔ یہ وہی نوجوان تھا جو دن میں کئی بار کھڑکی کے نیچے سے گزرا کرتا اور مجھے دیکھ کر مسکرادیا کرتا تھا۔ میں نے کھڑکی سے باہر سر نکالا۔ سمندر سورہاتھا۔
’’کیا چاہتے ہو؟‘‘ میں نے سر گوشی کے انداز میں نوجوان سے پوچھا۔
اس نے اوپر دیکھا اور اپنا ہاتھ چوم کر بوسے اوپر کی طرف اچھال دیا۔
’’آخر تم چاہتے کیا ہو؟‘‘ میں نے پھر پوچھا۔
اس نے آہستہ سے کہا ’’نیچے آؤ، بھاگ چلیں، میں تمہارا انتظار کررہا ہوں۔‘‘
ایک مرتبہ تو میرا دل کانپ گیا۔ لیکن میں بے اختیار بھاگ نکلی اور سیڑھیاں پھلانگتی اس کے پاس پہنچ گئی۔ میں نے کچھ بھی تو نہیں پوچھا کہ وہ مجھے کہاں لے جائے گا۔ میں نے خیال ہی خیال میں ماں کو خدا حافظ کہا۔
’’الوداع ماں! تو اپنی آتما کے ساتھ خوش رہ اور پرماتما کے پاس پہنچ، میں تو سمندر کی دنیا سے جارہی ہوں، دور بہت دور، جہاں یہ تند مزاج باپ مجھے دیکھ بھی نہیں سکے گا، الوداع، ماں!‘‘
اسی قسم کی بے سروپا باتیں کرتے گنگانے جان دے دی، نرسوں نے بار بار یہ داستان سنی تھی جو باطل اور بے معنی تھی۔ لیکن اس کی موت پر ان کی آنکھوں میں بھی آنسو تھے۔ بڑی نرس کا خیال تھا کہ اس کی روح پرشیطان کا قبضہ تھا۔ اسی لیے وہ سمندر سے اتنا ڈرتی تھی۔ لیکن نوجوان ڈاکٹر جو کافی عرصہ ہندوستان میں رہ چکا تھا۔ اس معصوم برہمن لڑکی کو جانتا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ نوجوان گنگا کو بھگالایا تھا۔ اور آخر میں اسے ہسپتال میں داخل کراکے کہیں بھاگ گیا۔ تین روز کی بچی جو گنگا کی لاش کے ساتھ پڑی ہنس رہی تھی، اسی نوجوانوں کی لڑکی تھی۔ لیکن گنگا تو جتنے دن زندہ رہی، یہی کہتی رہی کہ یہ چندا کی بیٹی ہے یا پھر نسیم کی۔ گنگا کو بھی تو اپنے باپ کا ٹھیک سے علم نے تھا۔ نرسوں نے اس ننھی کا نام جمنا رکھ دیا۔ یہ ننھی بھی ماں کی طرح ’’ساگر جائی‘‘ ہی تو تھی۔

شیئر کیجیے
Default image
کوکب زریں

تبصرہ کیجیے