2

موسم گرما کے عوارض اور تدابیر

گرمی سے الائیاں
جب ماحول گرم و مرطوب ہو اورپسینہ کوخشک ہونے کا موقع نہ ملے تو الائیاں یا پتی اُچھل سکتی ہے۔ جس میں پسینہ لانے والے غدود کے منھ بند، سوزش زدہ اور پیپ والے ہوجاتے ہیں، جن کا علاج غسل، جسم پر سفوف چھڑکنا یا کیلامائن لوشن لگانا ہے۔ اس زمانے میں جلد خشک رکھی جائے، کپڑے سوتی ہوں اور مسلسل کام کے بجائے آرام کا وقفہ دیتے رہنا چاہیے۔
گرمی سے غش
طویل گرمی سے کام کرنے والے جو اس کے عادی نہ ہوں، غش کھاسکتے ہیں، جس کی وجہ جلد کے دورانِ خون میں اضافہ اور دماغ کے خون میں کمی ہے۔ ٹھنڈی جگہ لیٹنے اور بہ کثرت پانی پینے سے طبیعت بحال ہوجاتی ہے۔
گرمی سے بدحالی
پسینے میں شرابور ہونے سے جسم کا نمک اور پانی ضائع، دماغ اور دیگر اعضائے رئیسہ کا دورانِ خون کم اور اندرونی درجۂ حرارت بڑھ جاتا ہے، جس سے جسم میں درد، سخت تھکن، نقاہت، متلی اور چکر آسکتے ہیں۔ مخبوط الحواسی، قے اور بے ہوشی طاری ہوسکتی ہے۔ یہ صورت حال خطرناک ہے۔ مریض کو ٹھنڈی جگہ منتقل کیا جائے، کپڑے ڈھیلے کردیے یا اتار دئے جائیں۔ پانی ٹھنڈا (مگر برف کا نہیں) پلایا جائے، سر نیچے اور پاؤں اونچے کردئے جائیں اور ہوسکے تو بے ہوش مریض کو شفا خانہ لے جایا جائے۔
لو لگ جانا
اس مرض میں جسم کے درجۂ حرارت کو معتدل رکھنے والا نظام معطل، پسینہ آنا بند، جلد سرخ نیلگوں، دھبے دار، گرم جلتی ہوئی خشک، درجۂ حرارت بلند، نبض تیز رفتار، دردِ سر شدید، لرزہ، بدحواسی، دماغی ضرر، متلی، چکر، کمزوری، بے ہوشی اور موت واقع ہوسکتی ہے۔ اگر فوری علاج سے درجۂ حرارت کم نہ کیا جائے تو یہ سنگین ہوجاتا ہے۔ مریض کے کپڑے اتار دئے جائیں۔ جسم کو نلکے کے پانی میں بھیگے ہوئے تولیوں سے ٹھنڈا کیا جائے۔ سر پر ٹھنڈی پٹی بار بار رکھی جائے۔ پنکھے کھول دئے جائیں، ہوش مند مریض کو ہلکا ٹھنڈا پانی پلایا جائے اور بار بار حرارت ناپی جائے۔
علاج سے احتیاط بہترہے،لہٰذا سخت کام ٹھنڈے اور قابلِ برداشت موسم میں کیے جائیں۔ لباس سوتی، ہلکے رنگ کے یا سفید اور ڈھیلے ہوں(جو سورج کی شعاعوں کو روک کر واپس کردیتے ہیں یا یوں کہیے سانس لیتے ہیں) جبکہ گہرے سیاہ کپڑے شعاعیں جذب کرتے ہیں۔ اس لیے ایسے لباس نامناسب ہیں، اس کے علاوہ ٹوپی کا نکلا ہوا چھجا شعاعیں اچھی طرح روکتاہے۔ گرم ماحول میں کام کرنے والے تھوڑے تھوڑے عرصے کے بعد ٹھنڈی جگہ جاکر آرام کریں۔ مشقت کے دوران اور بعد میں مشروبات پئیں لیکن چائے، کافی نہیں، کیوں کہ یہ پیشاب لاکر کم آبی کا باعث بن سکتے ہیں۔ غسل کرنا، بہ کثرت پانی پینا اور خوب سونا مفید ہے۔ کھانا ہلکا، کم چکنائی والا ہو، جس میں سبزیاں زیادہ، گوشت کم ہو۔ گاڑی میں بچوں اور پالتوں جانوروں کو نہ چھوڑیں۔ ہر چند کہ کھڑکیاں کھلی ہوں۔ دھوپ میں درجۂ حرارت نہایت بلند ہوسکتا ہے اور چھوٹے اور نوزائیدہ بچوں میں حرارت معتدل رکھنے والا نظام درست نہیں ہوتا۔ اس لیے ان بچوں کی حفاظت لازم ہے۔ گرم مقام پر پہنچ کر ہم آہنگ ہونے میں چند دن لگتے ہیں۔ اس دوران بے حد احتیاط برتی جائے۔
موسم گرما میں احتیاطی تدابیر
— باہر کا پانی بچوں اور بڑوں کے لیے یکساں طور پر نقصان دہ ہے۔
— سخت دھوپ میں گھر سے باہر نہ نکلیں۔بزرگ زیادہ تر کسی کے ساتھ ہی باہر جائیں۔
— الکوحل سے پاک مشروبات کا خوب استعمال کریں۔
— زیادہ چست کپڑے نہ پہنیں۔
— گھر سے باہر نکلنے پر ٹوپی اور دھوپ کا چشمہ ضرور پہنیں۔چہرہ کو دھوپ سے بچائیں۔
— باسی پانی اور کھانے سے گریز کریں۔
— گوشت اور دیگر نان ویج احتیاط کے ساتھ کم مقدار میں کھائیں۔
— گرمی میں مچھروں سے بچنے کی احتیاطی تدابیر بھی ضرور کریں کیوں کہ یہ آپ کو کئی طرح کی بیماریوں کا شکار بناسکتے ہیں۔

شیئر کیجیے
Default image
ماخوذ

تبصرہ کیجیے