6

اخلاص عمل

اخلاص کے معنی ہیں کسی چیز کو دوسری ایسی تمام چیزوں سے جو اس کو مکدر اور خراب کرنے والی ہوں پاک صاف کرنا اور شرعی اصطلاح میں اخلاص، تمام عقائد اور عبادات کو شرک و کفر، نفاق اور ہر طرح کی دنیوی اغراض کی ملاوٹوں اور کھوٹ سے پاک صاف کرنے کا نام ہے۔
اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ جو کام بھی کیا جائے اس سے صرف اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی خوشنودی مقصود ہو، اس کا اپنا کوئی مفاد اس سے وابستہ نہ ہو، ریا و نمائش اور شہرت و ناموری بھی اس کا محرک نہ ہو۔ حضرت معاذ بن جبلؓ فرماتے ہیں کہ آپؐ جس وقت مجھے یمن کے علاقے میں بھیج رہے تھے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسولؐ مجھے کچھ نصیحت فرمائیے۔ آپؐ نے فرمایا: ’’اپنی نیت کو ہر کھوٹ سے پاک رکھو، جو عمل کرو صرف خدا کی خوشنودی کے لیے کرو تو تھوڑا عمل بھی تمہاری نجات کے لیے کافی ہوگا۔‘‘
آدمی جو کام بھی کرتا ہے اس کی دو شکلیں ہوسکتی ہیں، پہلی شکل یہ ہے کہ وہ کام اپنے کسی مادی غرض سے کررہا ہو اور اس سے اپنا کوئی فائدہ مقصود ہو، اور اس کی دوسری شکل روحانی ہوسکتی ہے اس کا دل اس کو کسی ایسے کام پر ابھارے جس سے اس کا اپنا کوئی مفاد وابستہ نہ ہو۔ اس طرح دیکھنے میں دو آدمی ایک ہی کام کرتے ہیں اور دونوں میں ظاہری طور پر کوئی فرق نہیں پایا جاتا حالانکہ ان کی نیت اور ارادے میں فرق ہوسکتا ہے۔ پہلا اس کے ذریعہ کوئی مادی فائدہ اٹھانا چارہا ہو اور دوسرے کی نیت محض اللہ کو راضی کرنا ہو، اخلاص کی ضرورت ایسی جگہ پڑتی ہے۔ اور اسی وجہ سے دنیا و آخرت میں کامیابی کی اصل بنیاد اخلاص پر رکھی گئی ہے کیونکہ خلوص دل سے کیا ہوا تھوڑا سا عمل بھی اپنے نتائج کے اعتبار سے بہت ہوتا ہے اور جس طرح صحت عمل کا دارومدار نیت پر ہوتا ہے اسی طرح نیت کی قبولیت کا انحصار بھی اخلاص پر ہوتا ہے۔ تمام اعمال کی مقبولیت کا دارومدار اخلاص ہی پر ہے۔ اخلاص کی ضد شرک اور منافقت ہے۔ حدیث قدسی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس نے میرے لیے کوئی عمل کیااور اس میں میرے ساتھ دوسرے کو شریک کیا تو میں اس کو اس کے شرک کے ساتھ چھوڑ دوں گا۔اور ایک روایت میں یہ ہے کہ میں اس سے بری ہوں وہ عمل اسی کے لیے ہے جس کے لیے وہ کیا گیا ہے۔ (مشکوٰۃ)
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اخلاص کا حکم دیا ہے: ’’تم اللہ کی عبادت کرو اس کے لیے دین (اطاعت) کو خالص کرتے ہوئے، سنو! اللہ ہی کے لیے ہے دین خالص۔‘‘ (الزمر: ۳)، دوسری جگہ فرماتا ہے: ’’اور ان کو اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا تھا کہ اللہ کی بندگی کریں، اپنے دین کو اس کے لیے خالص کرکے بالکل یکسو ہوکر۔ اور نماز قائم کریں، زکوٰۃ دیں، یہی نہایت صحیح و درست دین ہے۔‘‘ (البینہ: ۵)۔
اخلاص کو خراب کرنے والی پہلی اور سب سے تباہ کن چیز دکھاوا ہے۔ اللہ کے نزدیک اس عبادت کی کوئی حیثیت نہیں ہے جو دکھاوے کے لیے کی جائے۔’’تباہی ہے ان نمازیوں کے لیے جو اپنی نماز سے غفلت برتتے ہیں اور جو ریاکاری کرتے ہیں۔‘‘ (الماعون:۴-۶)۔ جندب بن عبداللہ الجلی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص نیکی میں شہرت چاہے گا تو اللہ اس کو رسوا کن تشہیر سے دوچار کرے گا اور جو دکھاوے کے لیے نیکی کرے گا اللہ اس کی نیت لوگوں کے سامنے کھول دے گا۔‘‘ (متفق علیہ)
اخلاص کو تباہ کرنے والی دوسری چیز احسان جتانا اور دکھ دینا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا ذکر ایک ساتھ کیا ہے اور پھر اس کو تمثیلوں سے سمجھا بھی دیا ہے۔ ’’اپنے صدقات کو احسان جتاکراور دکھ دے کر اس شخص کی طرح خاک میں نہ ملادو جو اپنا مال محض لوگوں کو دکھانے کے لیے خرچ کرتا ہے اور نہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے، نہ آخرت پر۔ اس خرچ کی مثال ایسی ہے جیسے ایک چٹان تھی جس پر مٹی کی ایک تہ جمی ہوئی تھی اس پر جب زور کا مینہ برسا تو ساری مٹی بہہ گئی اور صاف چٹان رہ گئی۔ ایسے لوگ اپنے نزدیک خیرات کرکے جو نیکی کماتے ہیں اس سے کچھ بھی ان کے ہاتھ نہیں آتا۔‘‘ (البقرہ: ۲۶۴)
اخلاص کو تباہ کرنے والی تیسری چیز یہ ہے کہ آدمی اچھا اور عمدہ مال موجود ہونے کے باوجود اللہ کی راہ میں بالقصد ردّی اور خراب مال خرچ کرے۔ اللہ کا ارشاد ہے ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جو مال تم نے کمائے ہیں اور جو کچھ ہم نے زمین سے تمہارے لیے نکالا ہے، اس میں سے بہتر حصہ راہ خدا میں خرچ کرو۔ ایسا نہ ہو کہ اس کی راہ میں دینے کے لیے بری سے بری چیز چھانٹنے کی کوشش کرنے لگو۔‘‘ (البقرہ: ۲۶۷)
دنیا میں کوئی شخص محض خدا کی خوشنودی اور اس کی رضا کے لیے کوئی کام کرتا ہے تو دنیا والے بھی اس کی تعریف کرتے ہیں اور خدا بھی اس کی قدر کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا ’’آپؐ کاکیا خیال ہے کہ کوئی آدمی عمل خیر کرتا ہے تو پھر لوگ اس پر اس کی تعریف کرتے ہیں، آپؐ نے فرمایا مومن کے لیے وہ بشارت ہے جو دنیا میں اسے ملتی ہے۔‘‘ (مسلم)
اللہ تعالیٰ کی عبادت اور تنہا اسی کو خالق ومالک جاننا اور اپنے دین کے تعلق سے مخلص ہونا ہی وہ بنیاد ہے جس پر دنیا و آخرت کی کامیابی کا دارومدار ہے۔ اس لیے ہم بہنوں کو چاہیے کہ ہم جو کام بھی کریں صرف خدا کو راضی کرنے کے لیے کریں۔ ہمارا مطمح نظر دنیا میں نام و نمود اور شہرت و ناموری نہ ہو اور اس کے لیے یہ بات ضروری ہے کہ آدمی کا عمل صرف اللہ کے لیے ہو، اس کا عمل خدا کے حکم اور اس کے رسولؐ کی سنت کے مطابق ہو، عمل چاہے تھوڑا ہو مگر وہ خلوص نیت سے کیا گیا ہو۔

شیئر کیجیے
Default image
قدسیہ فرحت

تبصرہ کیجیے