3

میں پردہ کیوں کرتی ہوں؟

 

 

 

جب تک میں تحریک سے وابستہ نہیں تھی، تب تک تو میں پردہ والدین کے لیے کرتی تھی اور فائدہ تب بھی تھا وہ یہ کہ راستے میں لوگوں کی عجیب عجیب نظروں سے خود کو چھپا کر سکون ملتا تھا۔ لیکن جب تحریک سے وابستہ ہوئی تب قرآن سے تعلق زیادہ ہوا اور پھر اپنے اللہ کے لیے پردہ کیا۔ اپنے رب کی رضا کے لیے، اس کے حکم کی تعمیل کے لیے اور اپنے دل کی بھرپور خوشی سے کیا اور اب کیا احساسات ہیں، یہ کیابتاؤں۔ اپنے مالک کو خوش کرکے ایک غلام کے، ایک بندے کے جو احساس ہوتے ہیں، وہی ہیں۔ پردہ کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ چاہے ہمارے چہرے کے تاثرات کچھ بھی ہوں، نقاب میں اندر چھپا ہونے کی وجہ سے مردوں کے سامنے گزرنے سے شرمندگی نہیں ہوتی۔ راستے میں مرد بھی پردہ دار خاتون کو دیکھ کر جگہ بنادیتے ہیں، ہٹ جاتے ہیں۔ پھر بھی یہ سچی بات ہے خوف بھی نہیں ہوتا اوباش لوگوں سے۔ آپ برقعہ میں حسین ہیں یا جوان یا بوڑھی، کسی کو کیا پتہ؟ نظر چھپا کر گزر جائیے، اور قرآن پاک میں بھی پردہ کا حکم دے کر کہا گیا:
’’اے نبی! اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور اہل ایمان کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر اپنے چادروں کے پلو لٹکا لیا کریں۔ یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور نہ ستائی جائیں۔‘‘ (الاحزاب)
اس کے علاوہ طبی نقطہ نگاہ سے بھی باہر نکلتے ہوئے چہرہ ڈھانپنے سے جلد مہاسوں وغیرہ سے پاک رہتی ہے۔ میرے پاس خود ایک ایسی لڑکی آئی جس کی بہنیں بے پردہ تھیں، وہ خود نقاب میں۔ وجہ پوچھی توبتایا کہ ڈاکٹر نے تاکید کی ہے کہ چہرہ ڈھانپ کر نکلیں تو چہرے کے دانے نکلنا ختم ہوجائیں گے اور چہرے ڈھانپنے سے واقعی اسے فرق ہوا تھا۔ میں نے کہا کاش! تم اللہ کے لیے پردہ کرتیں تو دوہرا فائدہ ہوتا۔ خدا بھی خوش ہتا اور چہرہ بھی محفوظ اور پردہ کرنے سے حیا بھی پیدا ہوتی ہے اور حیا ایمان ہے۔ اللہ پاک خود بھی حیا کو پسند کرتے ہیں اور حیا کرنے والوں کے چہرے ایمان سے منور رہتے ہیں۔
فرزانہ عباس، جھنگ
شیطانی نگاہوں سے بچنے کے لیے پردے میں رہنا نہایت ضروری ہے، اس سے نہ صرف انسان بری نگاہوں سے بچ سکتا ہے بلکہ اللہ کی خوشنودی بھی حاصل ہوتی ہے۔ ایک باعزت عورت پردے میں اپنے آپ کو محفوظ سمجھی ہے۔ پردہ بری نگاہوں میں قدرتی حیا پیدا کردیتا ہے اور بے پردگی کسی وقت بھی ڈگمگاسکتی ہے جبکہ پردہ میں عورت کو عزت و حیا کا احساس ہوتاہے۔ مسلم عورت کی پہچان پردہ ہونا چاہیے تاکہ مغربی طرز حیات، جسم کے پردے کے ساتھ ساتھ آنکھ اور دل کا پردہ بھی ضروری ہے۔ جب سے میں نے پردہ شروع کیا، سفر میں خود کو پرسکون سا سمجھتی ہوں۔ ایک خاص دینی آزادی ملتی ہے، پردہ ایک زیور سے ہرگز کم نہیں لیکن اگر یہ زیور خدانخواستہ اترجائے تو جو بھیانک اسباب سامنے آتے ہیں، روز مردہ کے اخبارات اور حالات دیکھ لیجیے۔ پردہ ہماری شرم و حیا کو برقرار رکھتا ہے اور جب یہ چیزیں برقرار رہیں تو برائی سے بچا جاسکتا ہے۔ یہ ایک ایسا زیور ہے جسے پہننے کی خدا ہر عورت کو توفیق دے۔
اسلام نے زندگی کا کوئی گوشہ تشنہ نہیں چھوڑا۔ عورت کو تنگ باریک، عریاں، بھڑکیلا لباس پہننے سے منع کیا ہے۔ خوشبو لگانے سے روکا۔ نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا۔ ان تمام احکامات میں ہماری نہ صرف دنیاوی بلکہ آخرت میں بھی بھلائی ہے۔ اس ضمن میں مرشد سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی کتاب ’’پردہ‘‘ اور خواتین میگزین کا ’’حجاب نمبر‘‘ ہر بہن کو پڑھنا چاہیے۔
میں جب پردہ نہیں کرتی تھی تو گھر سے اسکول کا فاصلہ صدیوں پر محیط ہوجاتا تھا، ایک عذاب تھا، کبھی تعلیم ختم کرنے کا فیصلہ کرتی، روزانہ ایک دلدل سے گزرنا پڑتا۔ ماشاء اللہ جب پردہ کرنا شروع کیا تو ایک عجیب روحانی خوشی ہوئی۔ آج عورت پردہ کرکے نہ صرف اپنے والدین بھائیوں خاوندوں کی عزت محفوظ رکھ سکتی ہے بلکہ اپنی آخرت بھی سنوار سکتی ہے، اس ضمن میں اسلامی تعلیمات سے روشناسی نہایت ضروری ہے۔ یہاں ایک بات میں ضرور کہوں گی کہ پردہ بطور فیشن نہ ہو جو بھی ایک برائی ہے۔ پردہ باوقار اور اس کے تقاضے پورے کرتا ہو۔ میری جو بہنیں تاحال اس نعمت سے فیض یاب نہیں ہوئیں ان سے میری اپیل ہے کہ خدارا مغربی تہذیب چھوڑ کر مدنی و مکی تہذیب اپنا کر اسلام کی شان میں اضافہ کریں۔
اگر غیر مسلم ہماری تہذیب نہیں اپناسکتے تو ہم کیوں ان کی تہذیب اپنائیں؟ ہماری تہذیب میں کیا برائی ہے؟ صرف ایک سازش کے تحت ہمیں اپنی تہذیب اور دین سے دور کیا جارہا ہے اور بازاروں اور محفلوں کی زینت بنایا جارہا ہے۔ آئیں عہد کریں۔ حجاب کو اپنے ارد گرد ایک تحریک حجاب بنادیں۔

شیئر کیجیے
Default image
وقار فاطمہ کنول

تبصرہ کیجیے