4

امت کی قوت کا سرچشمہ

 

جس قوم میں منافقت اور ضعفِ اعتقاد کا مرض عام ہوجائے، فرض کا احساس باقی نہ رہے، اور سمع و طاعت کی پابندی اٹھ جائے، اس کا جو کچھ انجام ہونا چاہیے ٹھیک وہی انجام مسلمانوں کا ہوا ہے اور ہورہا ہے۔ آج مسلمان تمام دنیا میں محکوم و مغلوب ہیں۔ جہاں ان کی اپنی حکومت موجود ہے، وہاں بھی وہ غیروں کے اخلاقی، ذہنی اور مادی تسلط سے آزاد نہیں۔ جہالت، مفلسی اور خستہ حالی میں وہ ضرب المثل ہیں۔ اخلاقی پستی نے ان کو حد درجہ ذلیل کردیا ہے۔ امانت، صداقت اور وفائے عہد کی صفات، جن کے لیے وہ کبھی دنیا میں ممتاز تھے، اب ان سے دوسروں کی طرف منتقل ہوچکی ہیں، اور ان کی جگہ خیانت، جھوٹ، دغا اور بدمعاملگی نے لے لی ہے۔ تقویٰ، پرہیزگاری اور پاکیزگی اخلاق سے وہ عاری اور جماعتی غیرت و حمیت روز بروز ان سے مفقود ہوتی جاتی ہے۔ کسی قسم کا نظم ان میں باقی نہیں رہا۔ آپس میں ان کے دل پھٹے ہیں اور کسی مشترک مقصد کے لیے مل کر کام کرنے کی صلاحیت ان میں باقی نہیں رہی۔ وہ غیروں کی نگاہوں میں ذلیل ہوگئے ہیں۔ ان کی قومی اور اجتماعی قوت کمزور اور ان کی قومی تہذیب و شائستگی فنا ہوتی چلی جارہی ہے۔ باوجودیکہ تعلیم ان میں بڑھ رہی ہے، گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ اور یورپ کے تعلیم یافتہ حضرات کا اضافہ ہورہا ہے، بنگلوں میں رہنے والے، کاروں میں چلنے والے، سوٹ پہننے والے، سرکاری دفتروں کے بڑے عہدیدار ان میں روز بروز بڑھتے جارہے ہیں۔ لیکن جن اعلیٰ اخلاقی اوصاف سے وہ پہلے متصف تھے اب ان سے عاری ہیں۔ اپنی ہمسایہ قوموں پر ان کی جوساکھ اور دھاک پہلے تھی وہ اب نہیں ہے جو عزت وہ پہلے رکھتے تھے وہ اب نہیں رکھتے، جو اجتماعی قوت و طاقت ان میں پہلے تھی وہ اب نہیں ہے اور آئندہ اس سے بھی زیادہ خراب آثار نظر آرہے ہیں۔
کوئی مذہب ہو یا تہذیب یا کسی قسم کا نظام جماعت، اس کے متعلق دو ہی طرز عمل انسان کے لیے معقول ہوسکتے ہیں۔ اگر وہ اس میں داخل ہو تو اس کے اساسی اصول پر پورا پورا اعتقاد رکھے اور اس کے قانون و ضابطہ کی پوری پوری پابندی کرے، اور اگر ایسا نہیں کرسکتا تو اس میں داخل نہ ہو یا ہوچکا ہے تو علانیہ اس میں سے نکل جائے۔ ان دونوں کے درمیان کوئی تیسری صورت معقول نہیں ہے۔ اس سے زیادہ نامعقول کوئی طرز عمل نہیں ہوسکتا کہ تم ایک نظام میں شریک بھی ہو، اس کے ایک جزو بن کر بھی رہو، اور اپنے آپ کو اس کے آداب اور اس کے ضوابط کی پابندی سے مستثنیٰ بھی کرلو اور اس کے قانون کی خلاف ورزی بھی کرو۔ اس طرز عمل کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ تم میں منافقانہ خصائل پیدا ہوں گے، خلوص نیت سے تمہارے دل خالی ہوجائیں گے تمہارے قلوب میں کسی مقصد کے لیے گرم جوشی اور رسوخ عزم نہ پیدا ہوسکے گا، فرض شناسی، اتباع قانون اور باضابطگی کے اوصاف سے تم عاری ہوجاؤ گے، اور تم میں یہ صلاحیت باقی نہ رہے گی کہ کسی نظام جماعت کے کارآمد رکن بن سکو۔ ان کمزوریوں اور بدترین عیوب کے ساتھ تم جس جماعت میں بھی شریک ہوگے اس کے لیے لعنت بن جاؤگے۔ جس نظام میںبھی داخل ہوگے اسے درہم برہم کردو گے۔ جس تہذیب کے جسم میں داخل ہوگے اس کے لیے جذام کے جراثیم ثابت ہوگے۔ جس مذہب کے پیرو بنوگے اس کو مسخ کرکے چھوڑوگے۔ ان اوصاف کے ساتھ تمہارے مسلمان ہونے سے بدرجہا بہتر یہ ہے کہ جس گروہ کے اصولوں پر تمہارا دل ٹھکے اور جس گروہ کے طریقوں کی تم پوری طرح پیروی کرسکو اسی میں جاشامل ہو۔ منافق مسلمان سے تو وہ کافر بہتر ہیں جو اپنے مذہب اور اپنی تہذیب کے دل سے معتقد ہوں اور اس کے ضوابط کی پابندی کریں۔
جو لوگ مسلمانوں کے مرض کا علاج تعلیم، مغربی اور تہذیب جدید اور اقتصادی حالات کی اصلاح اور سیاسی حقوق کے حصول کو سمجھتے تھے وہ غلطی پر تھے، اور اب بھی جو ایسا سمجھ رہے ہیں وہ غلطی کررہے ہیں۔ بخدا اگر مسلمانوں کا ہر فرد ایم اے اور پی ایچ ڈی اور بیرسٹر ہوجائے، دولت و ثروت سے مالا مال ہو، مغربی فیشن سے از سرتا قدم آراستہ ہو، اور حکومت کے تمام عہدے اور مجالس قانون ساز کی تمام نشستیں مسلمانوں ہی کو مل جائیں، مگر ان کے دل میں نفاق کا مرض ہو، وہ فرض کو فرض نہ سمجھیں، وہ نافرمانی سرکشی اور بے ضابطگی کے خوگر ہوں، تو اسی پستی اور ذلت اور کمزوری میں اس وقت بھی مبتلا رہیں گے جس میں آج مبتلا ہیں۔ تعلیم، فیشن، دولت اور حکومت، کوئی چیز ان کو اس گڑھے سے نہی نکال سکتی جس میں وہ اپنی سیرت اور اپنے اخلاق کی وجہ سے گرگئے ہیں۔ اگر ترقی کرنی ہے اور ایک طاقتور با عزت جماعت بننا ہے تو سب سے پہلے مسلمانوں میں ایمان اور اطاعت امر کے اوصاف پیدا کرو کہ اس کہ بغیر نہ تمہارے افراد میں کس بل پیدا ہوسکتا ہے، نہ تمہاری جماعت میں نظم پیدا ہوسکتا ہے، اور نہ تمہاری اجتماعی قوت اتنی زبردست ہوسکتی ہے کہ تم دنیا میں سربلند ہوسکو۔ ایک منتشر جماعت جس کے افراد کی اخلاقی اور معنوی حالت خراب ہو، کبھی اس قابل نہیں ہوسکتی کہ دنیا کی منظم اور مضبوط قوموں کے مقابلے میں سر اٹھا سکے۔ پھوس کے پھولوں کا انبار خواہ کتنا ہی بڑا ہو، کبھی قلعہ نہیں بن سکتا۔

شیئر کیجیے
Default image
سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ

تبصرہ کیجیے