3

ہم نفس(۶)

فشار جاں میں طلب کا عذاب کس سے کہوں
دیارِ ہجر، ترے دکھ کا باب کس سے کہوں
اماوس کی کالی رات تھی ہر طرف گھٹا ٹوپ اندھیرا تھا۔ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دے رہا تھا۔جھینگروں کی جھائیں جھائیں کے علاوہ اور کوئی آواز نہ تھی۔ ماہ گل کی کھڑکی پر ہلکی سی دستک ہوئی۔ ماہ گل چونک اٹھی۔ اس کا رواں رواں کان بن گیا۔ پھر کسی نے آہستہ سے اس کی کھڑکی کے پٹ پر اپنی انگلیاں بجائیں۔ وہ چند لمحوں کے لیے بے حس و حرکت ہوگئی۔ سانس جیسے رک سا گیا۔
پھر بڑی آہستگی سے اٹھی۔ دبے پاؤں کھڑکی تک آئی۔اپنے کان اس نے پٹ سے لگائے اور سرگوشی کی ’’کون‘‘؟
’’موسم بہت اچھا ہے۔‘‘ یہ اس کے ساتھیوں کا کوڈ ورڈ تھا۔ ماہ گل نے لرزتے ہاتھوں سے پٹ تھوڑا سا کھولا۔ تازہ ہوا کا جھونکا اس کے چہرے کو چومتا ہوا بالوں میں سرسرانے لگا۔ ’’ہاں فصل اچھی ہوگی۔‘‘ ماہ گل نے جواب دیا۔
’’کماندار کہاں ہے۔‘‘
’’اسے کہیں گئے ہوئے کئی دن ہوگئے ہیں۔‘‘
’’ہم تمہیں چھڑانے آئے ہیں۔بڑی مشکل سے پہنچے ہیں۔ چاروں طرف سخت پہرہ ہے۔‘‘
ماہ گل نے کوئی جواب نہ دیا۔ ’’بہن تم خاموش کیوں ہو، وقت بہت کم ہے۔‘‘
’’دراصل میں نے قول دیا ہے کہ میں بھاگوں گی نہیں۔ اسی لیے انھوں نے مجھ پر اتنی پابندی بھی نہیں لگائی ہے۔ میرے جانے سے ساشا اور کماندار کا کورٹ مارشل ہوسکتا ہے۔ وہ دونوں مجھ پر مہربان ہیں انھوں نے مجھے کوئی تکلیف نہیں پہنچائی۔ میری عزت اور وقار کا خیال رکھا ہے۔‘‘
’’اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ یہ بڑے چال باز لوگ ہیں۔ تمہیں اپنی طرف کرنے کے لیے کوئی چال چل رہے ہیں۔ دشمن پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے۔‘‘
’’مسلمان قول کا پکا ہوتا ہے۔ میں اپنا عہد نہیں توڑسکتی۔ اس طرح اسلام کی توہین ہوتی ہے۔تم مجھے چپکے سے لینے آئے ہو اگر لڑ کر مجھے چھڑانے آتے تو میں تمہارے ساتھ خوشی خوشی چل دیتی۔‘‘
’’یہ افواہ درست تو نہیں کہ کماندار، تم پر بے حد مہربان ہوگیا ہے اور اس نے تمہیں اپنا بنالیا ہے۔‘‘
ماہ گل کا چہرہ شرم اور غصے سے لال ہوگیا۔ ’’تم میرے ساتھی ، میرے بھائی ہو۔ تمہیں ایسی بات کہنا زیب نہیں دیتا۔ مجھے اپنے اللہ کی بنائی ہوئی حدود کا پورا علم ہے۔ کیا ولیوں کے گھر شیطان اور شیطانوں کے گھر ولی پیدا نہیں ہوتے؟‘‘
’’معلوم نہیں بہن تم کیا کہنا چاہ رہی ہو۔ بہر حال اگر تم سچی ہو تو پھر کماندار سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ ان کا اسلحہ بارودکا ایک بہت بڑا کنوائے آنے والا ہے۔ وہ کب آئے گا اور اس کا روٹ کیا ہوگا۔ ہم چار پانچ دن بعد آکر معلومات لیں گے اور انشاء اللہ ایک دن تمہیں لڑکر چھڑائیں گے۔‘‘
’’رحمان گل جلدی کرو۔ آہٹ سی سنائی دی ہے۔‘‘ سائے تاریکی میں کہیں مدغم ہوگئے۔
صبح منہ اندھیرے ماہ گل نے فجر کی نماز پڑھ کر سلام پھیرا تو کیا دیکھتی ہے کہ کرنل ڈریسنگ گاؤن میں ملبوس برآمدے میں کھڑا ہے۔ وہ چونک سی پڑی۔ ’’آپ کب آئے؟‘‘
’’رات کو‘‘
’’مجھے تو پتہ ہی نہیں چلا۔‘‘
’’نصف شب تھی۔ سب سوئے ہوئے تھے۔ ویسے بھی سپاہی شور مچاکر تو نہیں آتے نا۔ دشمن چوکنا ہوجاتا ہے۔‘‘
ماہ گل کے چہرے پر زردی سی آگئی۔ وہ زبردستی لبوں پر مسکراہٹ سجا کر بولی۔
’’یہاں تو کوئی دشمن نہیں ہے۔‘‘
’’دشمن آستینوں میں بھی ہوتے ہیں اور ویسے بھی دوست دشمن کے درمیان ایسی حد فاصل کہاں ہوتی ہے۔ آج جو دوست ہے وہ کل دشمن بھی بن سکتا ہے۔‘‘ اس نے سگار سلگایا۔
’’میں ساشا کو جگاتی ہوں۔ آپ کے لیے ناشتہ لے آئے۔‘‘
وہ کچن کا دروازہ کھٹکھٹانے لگی۔ تھوڑی دیر میں ساشا کافی، بند، جیم، مکھن اور پنیر لے آیا۔ وہ خاموشی سے ناشتہ کررہا تھا۔ ماہ گل نے ذرا جھجکتے ہوئے پوچھا۔
’’آج بڑے خاموش اور اداس لگ رہے ہیں۔ خیریت تو ہے۔‘‘
’’ہماری ایک چوکی کا صفایا ہوگیا ہے۔ ہیلی کاپٹر گرائے گئے، پل اڑادئے گئے۔ کئی آفیسر اور جرنیل بھی مارے گئے ہیں۔ اچھا خاصا نقصان ہوا ہے۔ ‘‘ اس نے غور سے ماہ گل کو دیکھا ’’بہت خوشی ہوئی ہوگی یہ سن کر تمہیں۔‘‘
’’ظاہر ہے کسی کی شجاعت اور دلیری پر خوشی ہوتی ہے۔ ایسے لوگ جن کے پاس کوئی مادی وسائل نہ ہوں۔ ڈھنگ کے ہتھیار نہ ہوںوہ ایک سپر طاقت سے ٹکرا جائیں اور کامیاب بھی ہوں۔ یہ تاریخ انسانی کا عجیب اور انوکھکا باب ہے۔ اس ان ہونی پر آپ حیران نہیں ہوتے۔‘‘
وہ مسکرایا ’’افغانستان کا نام حیرانستان ہونا چاہیے، کیوں؟‘‘
’’کیا اس ریمارک کو دشمن کی طرف سے داد سمجھوں؟‘‘
’’تم مجھے اپنا دشمن سمجھتی ہو۔ کیا دشمنی کی ہے میں نے تمہارے ساتھ۔‘‘
’’یہاں اجتماعی دشمنی کی بات ہورہی ہے۔‘‘
کرنل نے ایک طویل سانس کھینچا۔ ’’نہ جانے کیوں مجھے جنگ سے نفرت ہوتی جارہی ہے۔ امن قائم کرنا ہو تو بھی جنگ کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ عجب تضاد اور کنفیوژن ہے ہر طرف۔‘‘
’’جنگ سے حاصل کیا ہوتا ہے۔ بھوک، افلاس، دکھ، محرومی، بربادی اور معذور نسلیں آخر جیو اور جینے دو کی پالیسی پر عمل کیوں نہیں کرتے۔‘‘
’’یہی تو میں سوچتا ہوں کہ بیسویں صدی میں جنگوں سے کیا حاصل ہوتا ہے۔ کم از کم پہلے انسان ملک فتح کرتا تھا۔ سرحدیں سکڑتی اور سمٹتی تھیں۔ اب اتنا خون بھی بہتا ہے، تباہی الگ ہوتی ہے اور آخر میں سب اپنی اپنی سرحدوں کی طرف لوٹ جاتے ہیں، پہلے لوگ مرغوں اور مینڈھوں کو لڑاتے تھے اب انسانوں کو لڑاتے ہیں۔ بے مقصد، بے فائدہ، بے حاصل، اب صرف نظریاتی فتوحات کرنی چاہئیں۔‘‘
’’مگر پھر سپر پاورز کا اسلحہ کیسے بکے گا۔ اسلحہ فیکٹریاں جو دھڑا دھڑ اسلحہ بنارہی ہیں ان کو بھی تو ٹھکانے لگانا ہوتاہے۔‘‘
کرنل کسی گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ ساشا ناشتے کے برتن اٹھا کر لے گیا۔ ’’کیا سوچ رہے ہیں۔‘‘ ماہ گل نے پوچھا۔ کرنل نے اس کی طرف دیکھا۔ مگر یوں جیسے ماہ گل کا وجود شفاف شیشے کا ہو۔ اور کرنل کی نگاہیں اس کے پار کہیں اور دیکھ رہی ہوں۔ ’’زندگی عجیب سی چیز ہے، آرام سے چلتے چلتے ایسے موڑ پر آجاتی ہے کہ انسان یکلخت چونک اٹھتا ہے اور جیسے وہ ہر چیز کو پہلی بار دیکھنے لگتا ہے۔ اس کے گردو پیش ہونے والے واقعات گزرے ہوئے لمحات، ہر چیز کے معنی بدل جاتے ہیں۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ پہلے جو کچھ تھا وہ کسی طلسم کے زیر اثر تھا یا اب وہ کسی جادونگری میں آگیا ہے۔ نہ جانے کیوں ہر چیز دھندلاتی جارہی ہے۔ اثر کھوتی جارہی ہے۔ بس میری ماں کا چہرہ جگمگا رہا ہے۔ اس کی سنائی ہوئی بھولی بسری داستانیں میرے کانوں میں سرگوشیاں کررہی ہیں۔ اس کے سینے کی گرمی میری رگوں میں اتر رہی ہے۔ بخدا میں بہت پریشان ہوں، میرے اندر ایک ایسی تشنگی جاگ اٹھی ہے جو صحراؤں میں کڑی دھوپ کے اندر سفر کرنے والوں کے اندر اس وقت جاگ اٹھتی ہے، جب ان کے مشکیزے خالی ہوجاتے ہیں اور لبوں پر پپڑیاں جم جاتی ہیں۔ میری یہ پیاس کیسے اور کیونکر بجھے گی۔ یہ کیسی طلب ہے، یہ کس کی طلب ہے۔
کرنل نے دونوں ہاتھوں سے اپنی کنپٹیاں دبائیں۔
ماہ گل خود نہیں جانتی تھی کہ اس لمبے چوڑے وجود کے اندر کون سا آشوب برپا ہوگیا ہے۔ اس کو تسکین دینے کا کیا طریقہ ہے وہ صرف یہی کہہ سکی۔
’’جس نے آپ کے اندر یہ اضطراب پیدا کیاہے۔ وہ ہی دور بھی کرے گا۔ آپ اپنی جستجو جاری رکھیں۔‘‘
’’میں چٹخ رہا ہوں۔ ٹوٹ رہا ہوں۔ شاید یوں ہی ریزہ ریزہ ہوکر افغانستان کی مٹی میں مل جاؤں گا۔‘‘
’’ایسے نہ کہیں‘‘ ماہ گل بے چین ہوکر بے ساختگی سے کہہ گئی۔ اس نے ماہ گل کی طرف دیکھا جس کے صبیح رخساروں پر شفق کی لالی بکھر گئی تھی اور پلکیں حیا سے جھک گئی تھیں۔ وہ چند لمحہ اس کی طرف دیکھتا رہا۔
’’میری مایوسی یا شکستگی کا تم پر بھلا کیا اثر ہوسکتا ہے۔‘‘
’’مایوسی اچھی چیز نہیں۔ بہت ممکن ہے کہ آپ کی ماں کا امیج ہی آپ کی انگلی پکڑ کر آپ کو بیم و رجاء کی اس گھاٹی سے نکال لائے۔‘‘
’’اچھا میں چلتا ہوں۔‘‘ وہ تھکے تھکے انداز سے اٹھا۔ ’’مجھے سڑک اور پل کی مرمت کرانی ہے تاکہ امونیشن پہنچ سکے۔‘‘
’’مزید کمک آرہی ہے؟‘‘
’’ہاںبہت بھاری کنوائے ہے۔میرا خیال ہے ان کو بھنک مل گئی تھی تب ہی پل اڑادیا ہے۔‘‘
’’اتنی جلدی مرمت کا کام ہوجائے گا۔‘‘ ماہ گل نے بظاہر لاپروائی سے پوچھا۔ وہ تھوڑی دیر چپ رہا۔ پھر بولا۔
’’کنوائے تو اگلے ہفتے آرہا ہے۔ پل مرمت کرنے میں کیا دیر لگتی ہے۔ فوجی جن ہوتے ہیں۔ جن۔‘‘
’’مجاہدین کو بھنک لگ گئی تو پھر وہ پورے کنوائے کو تباہ کردیں گے۔‘‘ ماہ گل نے معصومیت سے کہا۔ وہ برآمدے سے باہر کسی درخت کو تک رہی تھی۔ کرنل ماہ گل کی طرف دیکھ کر مسکرایا اور بڑے جچے تلے انداز میں بولا۔
’’ہم نے کچی گولیاں نہیں کھیلی ہیں۔ محترمہ! ہم اپنا کنوائے اس راستے سے نہیں لارہے۔ بظاہر پُل کی مرمت کررہے ہیں مگر اصل راستہ سے ہٹ کر متبادل راستہ بنارہے ہیں۔ آج پہاڑ کو ڈائنامیٹ لگائیں گے تاکہ وہ لوگ پل کی نگرانی کرتے رہیں اور ہم اپنا کنوائے دوسرے راستے سے نکال لائیں۔‘‘
وہ اندر چلا گیا۔ ساشا اسے وردی پہننے میں مدد کررہا تھا۔ وہ باہر آیا۔ نئی سلی ہوئی وردی میں وہ بہت شاندار لگ رہا تھا۔ اس نے اپنی کیپ بغل میں دبا رکھی تھی۔ ماہ گل کی آنکھوں میں پسندیدگی کی ایک لہر اٹھی۔ اس نے ان سبز آنکھوں کی تحریر پڑھ لی اور مسکرا کر پوچھا۔
’’کیسی ہے یہ وردی نئی سل کر آئی ہے۔‘‘
’’اچھی ہے۔‘‘
’’وردی یا اس کو پہننے والا۔‘‘
ماہ گل نے بات ٹال دی ’’کب تک لوٹیں گے۔‘‘
’’کچھ نہیں کہ سکتا۔‘‘ باہر جیپ تیار کھڑی تھی۔ وہ اس میں بیٹھا اور چلا گیا۔ ساشا بھی اسے جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔
’’ساشا کرنل یا کوف کے ساتھ تم کب سے ہو؟‘‘
’’بہت دن ہوگئے ہیں۔ مسی جب یہ کیپٹن تھے تب سے۔ اس لڑائی نے ان کو بہت بدل دیا ہے۔ اب تو انھوں نے جانا ہی چھوڑ دیا ہے، ورنہ ذرا فرصت ملتی تو کابل کے نائٹ کلبوں میں پہنچ جاتے تھے۔ وہاں کی محفلوں کی جان تھے۔ وہاں تھوڑی ایسے خشک اور ریزرو ہوتے تھے۔ جیسے یہاں اپنے ماتحتوں کے ساتھ ہوتے ہیں۔ کابل کی حسینائیں ان کے ساتھ رقص کرنے کی متمنی رہتی تھیں۔ غضب کا رقاص ہے یہ کرنل۔ کیسا خوش باش اور عیش کا دلدادہ تھا۔ اب تو لگتا ہے کوئی بوڑھی روح اس میں سمائی جارہی ہے۔‘‘
’’تم اپنی سناؤ ساشا۔ تم خالص روسی ہو یا روس کے کسی اور علاقے کے ہو۔‘‘
’’مسی میں لینن گراڈ کے قریب ایک گاؤں کا رہنے والا ہوں۔ میرے آباء و اجداد ایک بہت بڑے ارسٹو کریٹک خاندان کے سرف تھے۔ سرف سمجھتی ہو؟‘‘
’’نہیں‘‘
’’مطلب یہ کہ ہم ان کے پشتینی ملازم یا کسان تھے۔ جو نسل در نسل اسی خاندان کی خدمت کرتے رہے۔ ایک قسم کی غلامی سمجھ لو۔ کیونکہ ہم اپنے مالک کو چھوڑ نہیں سکتے تھے۔ میں نے سنا ہے کہ ہمارا آقا پرنس آندرے ایک نیک دل اور شفیق مالک تھا بہرحال جب انقلاب آیا تو لینن گراڈ کے ایک لاکھ امراء کو سائبریا بھیج دیا گیا۔ ان کی جاگیریں ضبط ہوئیں۔ سارے ملازمین اور مزارع آزاد ہوگئے۔‘‘
’’کیا ان زمینوں کا مالک تمہیں بنادیا گیا؟‘‘
’’نہیں مسی وہ ریاست کی ملکیت میں چلی گئیں کلیکٹوفارم بنادئے گئے۔ میں بہت چھوٹا تھا۔ ایک دن اچانک ہمارے گھر بہت سے سپاہی آگئے اور انھوں نے میرے باپ کو انقلاب دشمن قرار دے کر ڈی پورٹ کردیا کیونکہ وہ اپنے سابق آقا کو یاد کرتا تھا۔ کسی نے مخبری کردی۔ سال میں دوبار ان کو خط لکھنے کی اجازت تھی۔ میری ماں ایک ہسپتال میں صفائی کا کام کرنے لگی اس نے میری پرورش کی۔ دوسری جنگ عظیم شروع ہوئی تو میں فوج میں بھرتی ہوگیا اور اب تو میرا ریٹائرمنٹ ہونے والا ہے۔ اگر زندہ بچ کر واپس جاسکا تو۔‘‘
’’تمہارے بچے تمہیں یاد کرتے ہوں گے۔‘‘
’’ظاہر ہے دونوں بچے کالج میں پڑھتے رہے۔ بیٹا زرعی یونیورسٹی میں ریسرچ کررہا ہے۔ بیٹی ایک کمیونل اسکول میں پڑھاتی ہے۔ ظاہر ہے اگر انقلاب نہ آتا تو ہمارے بچے کالج یونیورسٹی کیسے جاسکتے تھے۔‘‘
’’تم نے اس کے لیے کتنی بڑی قیمت ادا کی ساشا‘‘۔ ’’بے شمار لوگ سائیبریا بھیجے گئے ان سے جبری مشقت لی گئی۔ ہزاروں وطن سے بے وطن کردئے گئے۔ ہر قسم کی آزادی چھین لی گئی۔ لاکھوں موت کے گھاٹ اتر گئے۔ کیا تمہیں اپنا باپ یاد نہیں آتا تھا۔ جس کے ہوتے ہوئے بھی تم یتیم ہوگئے تھے۔ اور ماں بے چاری پہلے بھی مشقت کرتی تھی بعد میں بھی کرتی رہی۔ انقلاب نے اسے کیا دیا۔‘‘
’’مسی! تم ایسی باتیں نہ کرو۔ میں جیسا بھی ہوں بہت خوش ہوں، زیادہ سوچنا اچھی بات نہیں ہے۔ چار دن کی زندگی ہے ہنسی خوشی گزار لینی چاہیے۔‘‘
(جاری)

شیئر کیجیے
Default image
سلمیٰ یاسمین نجمی

تبصرہ کیجیے