2

اپنی قوتِ کارکردگی بڑھائیے

اس دنیا میں کون ایسا ہے جو زندگی کی دوڑ میں دوسروں سے سبقت لے جانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ ہر شخص فطری طور پر اس امر کا خواہاں ہے کہ کامیابی و کامرانی کی مسرتیں اس کے حصہ میں آئیں۔ وہ جس کام میں ہاتھ ڈالے، ناکام نہ ہو، مگر کامیابی کے ساتھ ناکامی ناگزیر ہے کیونکہ ناکامی نہ ہو تو کامیابی کے حصول کی خواہش بھی فنا ہوجائے۔ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ استقلال اور مسلسل جدوجہد کامیابی کی ضمانت ہے۔ یہ بات بلاشبہ صحیح ہے۔ تاریخ میں سیکڑوں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ استقلال اور محنت کی بدولت بہت سے لوگ نہایت پست حیثیت سے بلند ترین مقامات تک پہنچے۔ کہا جاتا ہے کہ بعض افراد پیدائشی طور پر ہی مستقل مزاج اور محنتی ہوتے ہیں۔ اس لیے کامیابی ان کے قدم چومتی ہے لیکن یہ خیال غلط ہے۔ قدرت ہر فرد کو دنیا میں بعض اعلیٰ صلاحیتیں دے کر بھیجتی ہے۔ وہ خود ہی ان سے کام نہیں لیتا۔ حال ہی میں یہ دلچسپ انکشاف ہوا ہے کہ ستر فی صد افراد ایسے ہیں کہ وہ جس کام میں ہاتھ ڈالتے ہیں صرف ¼حصہ کامیاب ہوتے ہیں۔ قدرت نے ہمیں ہر کام سے عہدہ برآ ہونے کے لیے جو دماغی اور جسمانی قوت بخشی ہے، ایک ماہر علمِ نفسیات کی تحقیق کے مطابق ہم اس قوت کا صرف دسواں حصہ استعمال میں لاتے ہیں۔ اگر پوری صلاحیت عمل میں لائی جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ کامیابی ہم سے گریز کرے۔
ذیل میں مختصر طور پر میں چند اصول پیش کیے جاتے ہیں۔ اگر آپ نے ان پر عمل کرنے کاتہیہ کرلیا تو یقین کیجیے کہ آپ بہت کم ناکامی کا منہ دیکھیں گے۔
کام سے جی نہ چرائیے
میرا ذاتی تجربہ یہ ہے کہ بہت سے افراد محض اس وجہ سے کام سے نہیں گھبراتے کہ وہ کمزور ہیں یا کام مشکل ہے یا کوئی خارجی رکاوٹ درپیش ہے بلکہ منفی ذہن کی بدولت ان میں کام سے خواہ مخواہ جی چرانے کی عادت پختہ ہوجاتی ہے۔ ایسے لوگ دراصل مسلسل ناکامیوں کا شکار ہونے کے باعث ہمت ہار بیٹھتے ہیں اور کسی بھی ہنگامی حالت کا سامنا کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ یہ صورت حال زندگی میں کامیابی کے لیے خطرناک ہے۔ جتنی جلد ہوسکے اس عادت کو ترک کیجیے۔ اس کا سہل طریقہ یہ ہے کہ کوئی بھی فرض آپ کے سامنے آئے، سر پکڑ کر مت بیٹھ جائیے بلکہ فوراً عملی میدان میں اترنے کا فیصلہ کرلیجیے۔ محض سوچ بچار اور غوروفکر سے کوئی کام پورا نہیں ہوتا۔ اس بات کی پرواہ کیے بغیر کہ آیا اس کام کو پورا کرنے میں آپ کامیاب بھی ہوں گے یا نہیں، بہادرانہ جرأت کے ساتھ آغاز کردیجیے، آپ دیکھیں گے کہ وہی کام جسے ابتدا میں آپ مشکل سمجھ رہے تھے، کس طرح سہل ہوتا جارہا ہے۔ خود میرا تجربہ ہے کہ ایک مرتبہ ایسا کام میرے سر آن پڑا جس کو بادی النظر میں سر انجام دینا ناممکن تھا۔ وقت بھی تھوڑا تھا۔ اگر میں اس کام کے تصور ہی سے کانپتا رہتا تو شاید اسے کبھی ختم نہ کرپاتا۔ لیکن میں نے فوراً دل میں تہیہ کرلیا کہ ’’جو کچھ میں کرسکتا ہوں وہ تو کروں۔‘‘ یہ ارادہ کرنا تھا کہ میری چھپی ہوئی قوتِ ارادی کام آئی اور وہی کام جسے تھوڑی دیر پہلے میں ناممکن سمجھتا تھا، تکمیل پذیر ہوگیا۔ آپ اس وقت میری بے پناہ خوشی اور مسرت کا اندازہ نہیں کرسکتے۔ مجھے یوس محسوس ہوتا تھا جیسے میں نے مونٹ ایورسٹ کو سر کر لیا ہے۔
یاد رکھئے کہ حسنِ کارکردگی اور حسنِ عمل کی راہ میں مایوسی اور ذہنی شکست سب سے بڑی رکاوٹیں ہیں۔ ان کو قدم جمانے کی ہرگز مہلت نہ دیجیے۔ اگر ہم کسی اہم کام کو نمٹانا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے ہمیں ایک مضبوط اور مستقل ارادے کی ضرورت ہے۔ اور ارادہ بھی وہ ہو جسے مثبت کہا جاتا ہے یعنی کامیابی کا تہیہ کرلینا۔ ایسے مواقع پر ہمیں یہ ہرگز نہیں کہنا چاہیے ’’اف خدایا! یہ کام تو میرے لیے حد درجہ مشکل ہے۔‘‘
’’بھلا میں یہ کیسے کرسکو ںگا؟‘‘
اس کے برعکس ہمیں اپنے آپ کو مستعد بنانا چاہیے اور کہنا چاہیے کہ:
’’کوشش کرتا ہوں، شاید میں یہ کام کرسکوں۔‘‘
’’خدا کا نام لے کر شروع کردینا چاہیے، کچھ نہ کچھ تو کرہی لوں گا۔‘‘
اس قسم کے فقرے آپ کی ہمت بندھانے میں بڑے ممد ثابت ہوں گے۔ جوں جوں آپ کا کام ختم ہوتا جائے گا، آپ زیادہ مستعد ہوتے جائیں گے اور دل میں ایک عجیب قسم کی فرحت محسوس کریں گے۔‘‘
ذہنی و جسمانی سکون
کسی بھی فرض یا اہم کام سے عہدہ برآ ہونے کے لیے قوتِ عمل کے ساتھ ساتھ ذہنی و جسمانی سکون و اطمینان ناگزیر ہے۔ اس کے بغیر آپ خوش اسلوبی اور مہارت سے کام نہیں کرسکیں گے۔ اور بجائے اس کہ کام پر آپ حاوی ہوں، کام آپ پر حاوی رہے گا۔ آپ جانتے ہیں کہ جب ہمارے سامنے کوئی مسئلہ آتا ہے، جسے ہم اہم سمجھتے ہیں اور حل کرنا چاہتے ہیں تو ہمارے جسمانی اور ذہنی نظام میں یک لخت ایک انقلاب آجاتا ہے۔ دورانِ خون تیز ہوجاتا ہے جس سے ہمارے اعصاب اور پٹھے بے حد متاثر ہوتے ہیں۔ ان میں ایک قسم کی کشیدگی اور تناؤ پیدا ہونے لگتا ہے۔ یہی وہ انقلاب ہے جسے ہم گھبراہٹ یا پریشانی کے لفظوں سے پکارتے ہیں۔ بعض افراد اس کیفیت کو چھپا نہیں سکتے۔ وہ بار بار دانت بھینچتے ہیں، ہاتھوں کی مٹھیاں بند کرتے ہیں اور سر پکڑ لیتے ہیں۔ ظاہر ہے اس حالت میں کام نہیں ہوسکتا۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے ذہن کو قابو میں رکھیں، ہمارے اعصاب کام کا بوجھ محسوس کرکے برانگیختہ نہ ہوں، ذہن پر قابو پانا آسان نہیں ہے۔ اس کے لیے مسلسل مشق کی ضرورت ہے۔ ایک بار آپ نے ذہنی سکون کی دولت پالی تو کوئی کام مشکل نہیں رہے گا۔ بعض لوگ مسلسل کام میں جٹے رہتے ہیں اور جب تک اسے ختم نہ کرلیں انھیں چین نہیں آتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ طریقہ کچھ درست نہیں۔ اپنے آپ کو مشین نہ بنائیے۔ کام کو کئی حصوں میں تقسیم کرلیجیے۔ درمیان میں چند منٹ کے لیے لمبے لمبے سانس لینے اور ٹھنڈے پانی کا ایک گلاس پانی پینے سے آپ کی قوتِ کارکردگی میں اضافہ ہوسکتا ہے اور اس طرح آپ تھکن کا شکار ہونے سے بھی محفوظ رہیں گے۔ ہمیشہ یاد رکھئے کہ کام کی اعلیٰ ترین استعداد کا راز سکون اور فطری خوشی کے ساتھ کام کرنے میں مضمر ہے۔ دل پر جبر کرکے جو کام بھی کیا جائے گا، وہ ناقص رہے گا۔
منصوبہ بندی
کوئی بھی کام خواہ اہم ہو یا غیر اہم۔ اپنا ایک خاص انداز چاہتا ہے۔ اگر ہمیں پہلے سے علم ہو کہ مستقبل قریب میں ہمیں کسی اہم کام سے دوچار ہونا پڑے گا تو اس وقت ہمارا کیا فرض ہونا چاہیے؟ بجائے اس کے ہم پریشان ہوں کیا بہتر نہیں کہ پہلے سے کوئی منصوبہ تیار کرلیا جائے۔ معاملہ کے ہر پہلو پر اچھی طرح غور کرنے کے بعد ایک خاص قاعدہ اور اصول وضع کرلیا جائے۔ جو افراد اصولوں کے تحت اپنے فرائض سر انجام دیتے ہیں وہ کبھی مضطرب ہوتے نہیں دیکھے گئے۔
زندگی میں قرینہ و سلیقہ
آپ کی روز مرہ زندگی میں بعض ایسے مرحلے بھی آتے ہیں جہاں کئی چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ مثلاً قلم، پینسل، کاغذ، روشنائی، چاقو، بلیڈ، دواکی شیشی، برش، پالش کی ڈبیا،کتابیں وغیرہ۔ بہت سے لوگوں کی یہ عادت ہے کہ وہ چیز استعمال کرنے کے بعد بے پروائی سے ادھر ادھر رکھ دیتے ہیں اور جب دوبارہ ضرورت پڑتی ہے تو ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔ اس طرح انھیں اذیت ناک ذہنی کوفت ہوتی ہے۔ ہمیشہ یاد رکھئے کہ اس مستعد اور چاق و چوبند زندگی کے مالک آپ اس وقت تک نہیں بن سکیں گے جب تک کہ آپ روز مرہ کے معاملات میں کام آنے والی چیزوں کو استعمال کرنا نہ سیکھیں۔ بعض لوگوں کے کمرے دیکھئے، یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے کسی کباڑیے کی دکان ہے۔ کوئی شے قرینے سے نہیں ہوگی۔ کتابیں، چائے کے برتن، میلے کپڑے، لکھنے پڑھنے کا سامان اور جوتے تک ایک ہی الماری میں ٹھسے ہوئے ہوں گے۔ یہ انداز صحیح نہیں۔ مستعد زندگی کا تقاضا ہے کہ آپ کی ہر شے درست حالت میں اور اپنے مناسب مقام پر موجود ہو۔ گھپ اندھیرے میں بھی آپ ہاتھ بڑھائیں اور جو شے اٹھانا چاہیں آسانی سے اٹھالیں۔
سائنس کے اس ارتقا پذیر دور میں، جب کہ دنیا کی ہر قوم دوسری قوموں کو زندگی کی دوڑ میں پیچھے چھوڑ جانے کی جدوجہد کررہی ہے ہر فرد کے لیے ضروری ہے کہ اس کی زندگی مستعد ہو، نااہل، کاہل، سست اور غیر منظم فرد کو یہاں زندہ رہنے کا اب حق نہیں رہا۔ آئیے اب ہم خیالی پلاؤ پکانا چھوڑ کر عملی زندگی میں داخل ہوں۔ جو کام اور جو سخت مرحلہ ہماے سامنے آئے اسے خوش آمدید کہیں۔ اپنے فرائض کو منظم اصولوں کے تحت پورا کریں۔ تاکہ ہماری تمام صلاحیتیں، تمام دماغی اور جسمانی قوتیں بروئے کار آئیں اور ہم ایک مثبت اور تعمیری نقطۂ نگاہ رکھتے ہوئے کامیابی سے ہم کنار ہوں۔

شیئر کیجیے
Default image
ظفر اللہ خاں ایم اے