5

بیٹی کے نام (ایک انڈونیشی ماں کی ایمان افروز نصیحت)

 

اے میری بچی!
آؤ اور میرے پاس بیٹھ جاؤ۔ ذرا قریب ہوکر بیٹھو۔ اتنے قریب جتنے قریب تم بیٹھ سکو اور مجھ سے سیکھ سکو کہ لو گوں سے کس طرح پیش آنا چاہیے تاکہ تمہاری بات چیت لوگوں کے دلوں میں اترسکے۔
آؤ! تاکہ ہم دونوں تنہائی میں باتیں کریں۔ اور ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کریں۔
اب میں تمہیں شادی کی حکمت عملیوں کی تعلیم دینا چاہتی ہوں۔ شادی ہوجانے کے بعد تمہیں اپنے رکھ رکھاؤ اور طور طریق کو بہتر کرنے کی کوشش کرنی ہوگی۔ تمہیں ہر کام بہتر سے بہتر طریقہ پر کرنا ہوگا۔ اگر تمہارا شوہر باہر سے گھر میں آئے تو تمہیں میٹھی مسکراہٹ سے اس کو سلام کرنا چاہیے۔ اس کے سامنے کھانا لاکر رکھنا چاہیے اور اس پر اپنی وفاداری کا عکس ڈالنا چاہیے۔
اگر تم اپنی سہیلیوں سے بات کررہی ہو تو ان کے عیبوں پر نگاہ مت رکھو۔ جہاں تک تم سے ہوسکے ان کو پوشیدہ رکھو۔ ان کی بھنک بھی کسی کے کانوں میں نہ پڑنے دو ان کے درمیان باڑھ اور کھائی حائل کردو۔
کوئی کام اس طرح نہ کیا جائے کہ بھانڈا پھوٹ جائے اور تمہاری پردہ پوشی محسوس کرلی جائے کہ تم نے کوئی چیز گودام میں چھپا کر رکھی ہے۔ ان باتوں کو یاد رکھو، میری پیاری بچی!
اگر تمہارا شوہر باقاعدگی کے ساتھ گھر نہیں لوٹتا یا بالکل گھر آتا ہی نہیں، تو ان باتوں کی بالکل شکایت مت کرو، بہت سی مجبوریاں اس کا سبب ہوسکتی ہیں، تمہیں چاہیے کہ ایسے مواقع پر صبر اور ضبط سے کام لو۔ کیونکہ صبر کرنے والے اللہ کے پیارے ہوتے ہیں۔ اگر اس پر بھی تمہیں چین نہ آئے، اور تم اپنے دل میں غمگین رہنے لگو تو اپنے دکھ کو ایسے وقت میں بیان کرو جبکہ وہ مسرور ہو۔
جب وہ ہشاش بشاش ہو، تو مذاق کے پیرایہ میں حرف مطلب زبان پر لاؤ، لیکن اس کے ذکر کو براہِ راست مت چھیڑو بلکہ پردے میں بیان کرو۔ اگر وہ اچھا آدمی ہے تو وہ بہت محظوظ ہوگا۔ اور اس طرح تمہیں اس کی سرشت کا پتہ چل جائے گا۔ اس کے ساتھ ہوشیاری اور ہنر مندی کے ساتھ پیش آؤ۔ ترشی سے پیش نہ آؤ۔ ایک بات اور ہے، اے میری پیاری بچی! ہر وقت اس کے کھانے پینے کی چیزوں کا خیال رکھو اور انھیں ہر وقت مہیا رکھو، میری بچی! انھیں ٹرے میں رکھ کر سلیقہ سے پیش کرو۔
اگر کوئی اسے پوچھنے آئے اور تمہیں فتنہ کا اندیشہ ہو تو اس میں کچھ مضائقہ نہیں کہ تم تھوڑے سے دروغ مصلحت آمیزی سے کام لے لو۔ تاکہ کوئی فتنہ برپا نہ ہوسکے۔ اس سے کہو کہ وہ ابھی ابھی باہر گیا ہے۔ ابھی بہت دور نہیں گیا ہوگا، آنے والے ملاقاتی کے ساتھ نرمی سے بات کرو، اس سے تین تین مرتبہ خلوص کی گرمی اور تواضع کے ساتھ کہو کہ وہ تھوڑی دیر بیٹھے اور چائے کے چند گھونٹ پئے۔یہ اس بات کی علامت ہے کہ ہماری تربیت اچھی طرح ہوئی ہے۔ اور لوگ اس کے متعلق آپس میں چرچا کریں گے۔
ایک اور بات ہے میری بچی! اگر تمہیں بازار جانا پڑے، یا اور کہیں تو تمہیں پہلے شوہر سے اجازت لینی چاہیے۔ یہی کتاب اللہ کی تعلیم ہے۔ اگر تمہیںسواری میں سوار ہونے کا اتفاق ہو تو کسی دوسرے آدمی کے ساتھ مت بیٹھو جو تمہارا شوہر نہیں ہے۔ اور نہ تمہارا قریبی عزیز ہے۔ کیونکہ اگر تم نے ایسا کیا اور تمہارا لباس اس سے چھو گیا تو تم نے پرانی تعلیم کی خلاف ورزی کی اس سے آنکھیں شیطان کی طرف گھوم جاتی ہیں اور دل خدا کی طرف سے مڑجاتا ہے، مسلسل گدگدانا ہنسی کو بے معنی بنادیتا ہے اس عادت سے حیا جاتی رہتی ہے اور جب عورت سے حیا چھن جاتی ہے تو وہ عمر بھر کے لیے آبرو باختہ ہوجاتی ہے۔ وہ ایک ایسا دروازہ ہوتی ہے جس میں چٹخنی نہیں ہوتی۔ جس میں ہر چور بے کھٹکے داخل ہوسکتا ہے۔ یا وہ ایسی کشتی ہوتی ہے جس میں پتوار نہ ہوں۔ جو آسانی سے اپنے راستہ سے ہٹ جاتی ہے۔ ایسا چال چلن ناشائستہ ہے۔ قرآن میں اس کو صاف طور پر مذموم کہا گیا ہے۔ پیغمبر اسلام ﷺ نے اس کی مذمت کی ہے۔ یہ بات تمہارے شوہر کی ذلت و رسوائی کا بھی باعث ہوگی۔ ہتک عزت محبت کو تباہ کردیتی ہے اور پرخاش نفرت میں بدل جاتی ہے۔ آخری نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کوئلہ ختم ہوجاتا ہے۔ فولاد ضائع ہوجاتا ہے۔ اور والدین بھی ایسی اولاد سے دست بردار ہوجاتے ہیں۔
اے میری پیاری بچی! میرا خون اور جگر! جو کچھ میں کہہ رہی ہوں، اس کو مضبوطی سے گرہ میں باندھ لو۔ اس کو اپنے دل پر کندہ کرلو، میں تم سے اس لیے کہہ رہی ہوں کہ برائی چہرے پر لکھی ہوئی نہیں ہوتی، بلکہ چال چلن میں ہوتی ہے۔
اے میری بچی! غور سے سنو اگر تم دوسروں سے ملو، خواہ مجمع میں یا دعوت میں تو تمہیں اپنی نگاہ اوپر نہیں رکھنی چاہیے۔ یا آنکھوں کو ہر وقت چاروں طرف گردش نہیں دینا چاہیے۔ بس ایک نظر کافی ہے۔ بہت زیادہ ہنسنے سے بچنا چاہیے۔ کیونکہ نوجوانوں کے لیے اس میں نقصان ہے۔ اس زمانے کے نوجوانوں کی طرف تمہیں متوجہ نہیں ہونا چاہیے وہ چاہے اپنے دوستوں کے ساتھ ہوں، چاہے کسی تقریب میں کیونکہ ان کی نگاہیں بے لگام ہوتی ہیں۔ جیسے وہ کسی حریف کی طرف دیکھ رہی ہوں اور انھیں اپنی جسارت کی نمائش کا موقع آگیا ہو۔ بلند قہقہہ کا بھی کچھ مطلب ہوتا ہے، اس کے معنی ہیں اعتماد کا فقدان۔ چاہے وہ تمہارا شوہر ہی کیوں نہ ہو۔ تمہیں اخلاق و آداب کے تقاضوں کو نہیں بھولنا چاہیے۔ تمہیں اس سے ہمیشہ شیریں کلامی سے پیش آنا چاہیے اور دوسروں کے سامنے اس کی عزت کرنی چاہیے۔ اور مجلس میں اس کا اعزاز کرنا چاہیے۔ تمہیں ظاہر اور باطن میں اس کا مخلص ہونا چاہیے، تمہیں اس سے کسی حالت میں منافقت اور دو رخاپن نہیں برتنا چاہیے۔ تم پورے طور پر اس کے تصرف میں ہو۔
ایک اور بات میری بچی! اگر تم اکیلی ہی اس کی بیوی ہو یا اس کا دوسرا نکاح کیا جارہا ہو تو تمہیں اپنی سوت کے ساتھ رواداری کے ساتھ پیش آنا چاہیے۔ تمہیں اس کے ساتھ مل جل کر ہنسی خوشی رہنا چاہیے۔ عادت ڈالنے سے سب کچھ ممکن ہے۔ یہ وہ باتیں ہیں جن کا ہمارے مذہب نے حکم دیا ہے۔ سوت سے رشک یا حسد نہیں کرنا چاہیے۔ اس سے خندہ پیشانی سے پیش آنا چاہیے۔ اور اس کی طرف سے برا خیال دل میں نہیں آنے دینا چاہیے۔ لڑنا جھگڑنا فضول بات ہے۔ بدکلامی اور کینہ بری باتیں ہیں۔ قرآن مجید میں ان سے منع فرمایا گیا ہے۔
آج کل کے لوگوں کے طور طریق مت سیکھو، جب وہ اپنی سوت کو دیکھتی ہیں تو ان کا رنگ بدل جاتا ہے۔ اور خیر سگالی کے جذبات مردہ ہوجاتے ہیں اور وہ ایک دوسرے پر جھلاتی، بدگمانی کرتی اور گلہ شکوہ کرتی ہیں۔ اور ایک ودسرے کو غرور کے ساتھ کنکھیوں سے دیکھتی ہیں یہاں تک کہ لڑنا جھگڑنا اور ہاتھا پائی شروع کردیتی ہیں۔ کپڑے چیتھڑے ہوجاتے ہیں۔ جیسے کتے ہڈی کے لیے لڑتے ہیں۔ اگر تم سوچو تو تمہیں صاف نظر آئے گا کہ یہ کتنی شرم کی بات ہے اور جب لوگ دیکھیں گے کہ کیا ہورہا ہے تو خوب خوب چہ می گوئیاں ہوں گی۔ غور سے سن رکھو، میری پیاری بچی!
اگر تمہارے شوہر کی دوسری بیوی بھی ساتھ ہو تو تمہیں اپنے مذہب کی تعلیمات کا خیال رکھنا چاہیے۔ تم مجلس میں ہو، یا کہیں کسی عورت کے ساتھ بیٹھی ہوئی ہو یا کسی دعوت میں ایک دسترخوان پر ہو تو تمہیں زیادہ باتیں بگھارنے سے پرہیز کرنا چاہیے، تیز کلامی اچھی چیز نہیں ہے۔ بہت بولنا بڑے خطرات کا سبب ہوتا ہے ، بہت سی گپ شپ بڑی آفتوں کا موجب ہوجاتی ہے۔
یہ بھی غور سے سن رکھو، میری بچی! کہ ایک شادی شدہ عورت کو جب اس کا شوہر باہر گیا ہو تنہا باہر نہیں نکلنا چاہیے۔ جھٹپٹے کے وقت گھر نہیں چھوڑنا چاہیے، سڑک پر کبھی نہیں کھڑا ہونا چاہیے۔ یہ بڑی بدنما باتیں ہیں جو کچھ عورتوں کے لیے زیبا ہے ایک عورت کو صرف اسی پر عمل کرنا چاہیے۔
میری پیاری بچی!
اگر تمہیں کسی دعوت میں جانا ہو، یا بازار جانا ہو، یا کسی اور جگہ تو پہلے شوہر سے پوچھ لینا ضروری ہے۔
البتہ گھر سے باورچی خانہ تک بلا پوچھے جاسکتی ہو۔
کام تمہارے لیے زندگی کا قانون ہے۔
تمہیں زردوزی ، کروشیا، کاتنے اور بننے کا کام آنا چاہیے۔
تمہیں اشیاء کی گرانی اور ارزانی کا اندازہ ہونا چاہیے۔
اپنا دماغ استعمال کرو اور عقل مند رہو۔
اگر تم اس اس طرح نہیں رہو گی تو تم سچی عورت نہیں ہوگی۔

شیئر کیجیے
Default image
ماخوذ

تبصرہ کیجیے