6

مختلف غذائیں اور ان کے فوائد

غذا میں عام طور پر کیا کیا اجزا پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے کن اجزا کی زیادتی یا کمی سے کیا نفع یا کیا نقصان ہوتا ہے۔ یہ جاننا بہت اہم ہے اسی طرح یہ بھی جاننا اہم ہے کہ کن غذائی اشیاء کی کیا خصوصیات، فوائد اور مضر اثرات ہیں نیز اس غذا کا صحت پر کیا اثر پڑتا ہے۔
دودھ
تمام ملکوں میں دودھ کو قدرتی غذا تسلیم کیا گیا ہے۔ دودھ نہ صرف بچوں کے لیے مفید ہے بلکہ جوانوں اور بوڑھوں کے لیے بھی۔ آدھ سیر دودھ اپنی غذائی توانائی کے اعتبار سے ایک پاؤ گوشت اور تین انڈوں سے زیادہ بہتر ہے۔ چکنائی، مٹھاس، معدنیات اور وٹامن سب مناسب مقدار میں اس میں موجود ہیں۔ یہ تناسب نہ تو اناج میں، نہ گوشت میں نہ ہی دالوں اور سبزیوں میں پایا جاتا ہے۔ اس لیے نوجوان اور بوڑھے اگر زیادہ نہیں تو ایک پاؤ دودھ روزانہ پیا کریں۔
گائے کا کچا دودھ پیا جائے تو کوئی ہرج نہیں لیکن ادھر دوہا جائے ادھر پی لیا جائے یہ درست نہیں۔ جو دودھ ایک جوش آنے پر آگ سے اتار لیا جائے وہ اچھا ہے، جو دودھ صبح سے رات تک آگ پر دھرا رہتا ہے اور کڑھتے کڑھتے لال ہوجاتا ہے اس کی غذائی توانائی¾ ضائع ہوچکی ہوتی ہے۔
دودھ میں زیادہ مٹھاس نہ ڈالنی چاہیے، زیادہ میٹھا ڈالنے سے ہاضمہ میں نقص آجاتا ہے اور جوانی ڈھلنے پر بار بار پیشاب آنے اور اس میں شکر آنے کا مرض ہوجاتا ہے۔ رات کو کھانا کھانے کے بعد دودھ پی کر سونا صحت کے لحاظ سے اچھا نہیں۔ جو یہ کہتے ہیں کہ رات کو دودھ نہ پئیں تو قبض ہوجاتی ہے وہ بدہضمی کے مریض ہیں۔ ان کا رات کو پیا دودھ ان کی بدہضمی میں اضافہ کرتا ہے اور غیر بستہ یعنی پتلا پاخانہ لاتا ہے۔ دودھ میں ایک بڑا وصف یہ ہے کہ ہضم ہونے پر اس کا بہت ہی کم حصہ ضائع ہوتا ہے جبکہ اناجوں اور سبزیوں کا زیادہ حصہ ضائع چلا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیماری کی حالت میں ڈاکٹر مریض کو دودھ پینے کی ہدایت کرتا ہے۔
امریکہ کے مشہور سائنس داں پروفیسر میکالم نے یہ مشاہدہ کیا ہے کہ گوشت خور قومیں اگر دودھ کا استعمال نہ کریں تو ان کی طاقت اور عمر میں کمی آجائے۔ دودھ یا دودھ کی مصنوعات مثلاً دہی، پنیر، مکھن وغیرہ میں سے کسی کااستعمال بہت ضروری ہے جو لوگ گوشت زیادہ استعمال کرتے ہیں اور دودھ، دہی اور لسی کی نسبت چائے زیادہ پی جاتے ہے، ان کی صحت، ان کی عمر اور بیماریوں کا مقابلہ کرنے کی ان کی قوت مدافعت پشت در پشت کم ہوجاتی ہے۔
دودھ- گائے کا دودھ- تازہ دودھ- ایک جوش دیا ہوا دودھ- بالکل تھوڑا میٹھا پڑا ہوا دودھ- صبح یا کھانا ہضم ہونے کے بعد پیا جائے تو امرت ہے، آبِ حیات ہے طاقت اور توانائی کا جادو اثر کرشمہ ہے۔
عادت نہ ہونے سے بعض اوقات دودھ دست آور ہوجاتا ہے۔ ایسی حالت میں بہت کم مقدار سے شروع کرکے آہستہ آہستہ بڑھانا چاہیے۔ سوائے کسی خاص بیماری کے دودھ موافق نہ آنا غلط بات ہے، جن کو میسر ہو روزانہ دودھ پینے کی ہر ممکن کوششیں کرے۔
دہی اور لسیّ
دہی کو آدھا ہضم شدہ دودھ سمجھیں۔ بعض حالتوں میں دہی دودھ سے بھی زیادہ مفید ثابت ہوتا ہے۔ انتڑیوں کی صفائی اور ان کی توانائی میں دہی اپنا ثانی نہیں رکھتا، جن کا ہاضمہ زیادہ کمزور ہوگیا ہو وہ دہی کو بلوکر مکھن نکال کر دہی کا کل تہائی یا چوتھائی پانی ڈال کر پئیں تو بڑا فائدہ ہوتا ہے۔ دودھ نہ پینے کی کسر لسّی یا چھاچھ پینے سے پوری ہوجاتی ہے۔ ہمارے دیہاتوں میں کوئی گھر ایسا نہ ہو گا جس میں روزانہ لسی استعمال نہ ہوتی ہو۔ دیہاتیوں اور کسانوں کی قابل رشک صحت کا راز بہت حد تک لسّی ہے۔
لیکن یاد رکھو کہ لسّی کو ہر حالت میں مفید اور بے ضرر نہیں کہا جاسکتا۔ بعض مزاجوں اور طبیعتوں کو یہ راس نہیں آتی، ان کو نقصان دیتی ہے۔ ان کو لسّی کا استعمال نہ کرنا چاہیے۔
پنیر
کچا پنیر زیادہ مفید اور لذیذ ہوتا ہے۔ یورپ کے لوگ اس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ کیونکہ اس میں پروٹین، چکنائی، معدنیات اور حیاتین اے اور ڈی خاصی مقدار میں ہوتے ہیں۔ ہمارے ملک میں پنیر بنانے کا عام رواج نہیں اس لیے یہاں مہنگا پڑتا ہے۔
مکھن، گھی، تیل، بناسپتی، چربی
نہ صرف ہمارے ملک میں بلکہ دنیا کے ہر ملک میں یہ چکنائی زیادہ تر استعمال کی جاتی ہے۔ اس کی غذائی اہمیت کی وجہ سے ہر چکنائی کی اپنی قدرو قیمت ہے۔ مکھن سب سے افضل چکنائی ہے اس کے ساتھ کوئی چکنائی نہیں ملتی۔ اس کے دوسرے درجہ پر گھی ہے۔ لیکن آج کل ان دونوں میں حد سے زیادہ ملاوٹ ہونے لگی ہے۔
مکھن اور گھی کے بعد خالص سرسوں کے تیل، ناریل کے تیل، مونگ پھلی کے تیل یا بنولے کے تیل کی اپنی ایک اہمیت ہے۔ گھی، مکھن اور بناسپتی کے علاوہ ہمارے ملک میں لوگوں کی اکثریت سرسوں کے تیل یعنی کڑوے تیل کااستعمال کرتی ہے۔ جبکہ اس تیل اور ناریل اور مونگ پھلی کے تیل میں بھی یہاں ملاوٹ کی جانے لگی ہے۔ ناریل اور مونگ پھلی کا تیل یہاں کھانے میں بہت کم استعمال ہوتا ہے۔ بادام روغن اور زیتون کا تیل بہت مہنگا ہے۔ بادام روغن اور زیتون کا تیل یہاں دوائی کے طور پر استعمال ہوتا ہے اور اس کا خالص ملنا بھی امر محال ہے۔
عوام زیادہ تر بناسپتی گھی استعمال کرتے ہیں۔ غذائی اہمیت کے اعتبار سے بناسپتی گھی اگر خالص ملے تو سرسوں کے تیل سے بہتر نہیں، بہرحال اتنا ضرور ہے کہ بناسپتی گھی کے ہرٹین اور ہر ڈبے پر لکھا ہوتا ہے کہ حیاتین سے بھر پور ہے۔
ٹماٹر
سبزیوں میں پہلا درجہ ٹماٹر کا ہے۔ پھلوں کی طرح اس میں نمکین دھاتیں اور حیاتین الف ،ب اور ج پائے جاتے ہیں۔ ڈاکٹری طور پر ٹماٹر کی بڑی قدرومنزلت ہوتی ہے کیونکہ اس میں فسادِ خون کے علاج کے بہترین عناصر پائے جاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر ٹماٹر زیادہ مقدار میں استعمال کیے جائیں تو یہ فسادِ خون اور خارش کو نہ صرف روکیں گے بلکہ اس کا علاج بھی کریں گے۔
اسقربوط ایک بیماری ہے جو خوراک میں حیاتین ج کی کمی سے پیدا ہوجاتی ہے۔ اس کا بہترین علاج روزانہ چار سے چھ اونس ٹماٹر کا رس استعمال کرنا ہے۔ شیر خوار بچوں کے لیے حیاتین کے اس بہترین مآخذ کو پہلے مہینے کے بعد چھان کر رس کی شکل میں دینا چاہیے لیکن ٹماٹروں کا پکا کر نہیں دینا چاہیے۔ دو چھوٹے چمچے رس سے شروع کرکے تین مہینے تک پانچ سے چھ چھوٹے چمچے رس روزانہ دینا چاہیے۔ پہلی دفعہ رس دینے سے معمولی سا بخار ہوجائے گا لیکن اس سے گھبرانا نہیں چاہیے جیسا کہ اکثر ہوتا ہے کیونکہ اس کی خود بخود اصلاح ہوجائے گی۔
ٹماٹر نہ صرف فسادِ خون اور اسقربوط ہی کا علاج ہے بلکہ اس کے علاوہ اور قیمتی اجزا اس میں پائے جاتے ہیں۔ مثلاً پوٹاسیم، سوڈیم، کیلشیم اور لوہا۔ حیاتین الف اور ب مزید پائے جاتے ہیں۔ ترش اور میلس ایسڈ ۵ء فیصدی اور اکسامک ایسڈ صرف ۵ء۵ حصہ دس ہزار حصوں میں پایا جاتا ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
افضال احمد