4

تم ہو تو حسین ہے دنیا

’’اف! کہاں چلے گئے تھے تم؟ پتہ ہے کتنا پریشان ہورہی تھی میں۔ کیا تمہیں معلوم ہے کہ جب تم نہیں ہوتے ہو تو میرے سر میں درد شروع ہوجاتا ہے۔ پلیز! پلیز!! تم ہمیشہ میرے ساتھ رہا کرو، ادھر ادھر نہ جایا کرو۔‘‘
جب تم نہیں ہوتے، مجھ سے دور ہوتے میری دنیا اندھیری اور ویران سی ہوجاتی ہے۔ اور کسی کام میں دل نہیں لگتا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے: تمہاری اور میری پہلی ملاقات پچھلے سال دیوالی کی چھٹیوں میں ہوئی تھی۔ جب میں بارہویں کے بورڈ کے ایگزامس کی تیاریوں میں بری طرح مصروف تھی۔ اسی دوران جب تم اچانک میری زندگی میں آئے تو میں سٹپٹا کر رہ گئی۔ مجھ رہ رہ کر بس یہی خیال ستائے جارہا تھا کہ جب میری سہیلیوں کو پتہ چلے گا تو وہ میرا ناک میں دم کردیں گی۔ ستائیں گی، چھیڑیں گی، مذاق بنائیں گی کہ مجھے ابھی سے…… ہائے! اس سے آگے تو میری سوچ جاتی ہی نہیں تھی۔ دیوالی کی چھٹیوں کے بعد جب کالج کھلا تو رمضان شروع ہوچکے تھے۔
کالج ہاف ڈے ہوگیا تو میں نے تمہارے بارے میں کسی کو بھی نہیں بتایا۔ پھر ایک دن یہ راز فاش ہو ہی گیا۔ جب پہلی بار مجھے تمہارے ساتھ ہمارے جونیئر کالج میں دیکھا گیا۔ سب سے پہلے ہمیں نرگس نے دیکھا اور بری طرح اچھل پڑی۔ اس کے لبوں سے حیرت و خوشی سے بھرپور ایک چیخ نکلی ’’ہائیں سلمی! یہ میں کیا دیکھ رہی ہوں؟‘‘ میں مسکرادی پھر اس نے تمہاری طرف دیکھ کر مجھ سے سرگوشی کی۔ ’’بہت خوبصورت ہے۔‘‘ میں مسکرا کر چپ ہوگئی۔
پھر کتنی ہی لڑکیاں مجھے تمہارے ساتھ دیکھ کر جل گئیں۔ کتنوں نے مجھے سیڑھیوں پر، لیب میں، نل پر، اسمبلی میں، کلاس میں جاتے ہوئے روک روک کر مجھ سے تمہارے بارے میں پوچھا ’’سلمیٰ نسرین! یہ کب ہوا؟‘‘ اور میں شرما کر مسکراتے ہوئے کہتی ’’دو مہینے ہوگئے ہیں۔‘‘
مجھ پر ریماکس بھی کئے گئے: ’’لگتا ہے بہت اسٹڈی کررہی ہو۔‘‘
’’اب تو میرٹ لسٹ میں نمبر آ ہی جائے گا۔‘‘
’’ہاں بھئی پوری فیکلٹی کی ٹاپر جو ٹھہری۔‘‘
’’بہت خوبصورت ہے۔‘‘
’’بہت جچ رہی ہو۔‘‘ اور مجھے ڈھیروں شرم آجاتی۔
جس دن کالج میں تم میرے ساتھ نہیں ہوتے ہو یا کہیں رہ جاتے ہو تو میں پاگلوں کی طرح تمہیں ڈھونڈتی ہوں۔ ایک ایک سے پوچھتی ہوں ’’میرے چش کو دیکھا ہے؟‘‘ لڑکیاں میرے لبوں سے تمہارا لاڈلا نام کو سن کر ہنس پڑتی ہیں۔ اس وقت انھیں میری تکلیف کا کوئی احساس نہیں ہوتا۔
پھر تو میں نے تمہیں اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیا۔ کھاؤنگی تو تمہارے ساتھ، پڑھوں گی تو تمہارے ساتھ، کہیں جاؤں گی تو تمہارے ساتھ۔ کتنی ہی تقریبات میں پست ذہن عورتوں نے مجھے تمہارے ساتھ دیکھ کر باتیں بنائیں۔
’’سلمیٰ کو دیکھا اتنی سی عمر میں ہی……‘‘
’’تو بہ! یہ نئی نسلی ……‘‘
مجھے ان کی باتیں سن کر بڑا رونا آتا ہے۔ یوں بھی تمہارا اور میرا ساتھ دائمی تو نہ تھا۔ صرف آٹھ مہینے، ان چند دنوں میں مجھے تم سے اتنی انسیت ہوگئی ہے کہ جدائی کا تصور ہی میرے لیے محال ہے۔ میں تمہیں ایک پل کے لیے آنکھوں سے جدا نہیں کرسکتی۔
ابھی تم مجھے دکھائی نہیں دئے تو میں نے ہر ایک سے پوچھ ڈالا۔
’’امی! میرا چش کہاں ہے؟‘‘
’’کچن میں دیکھو۔ بہت لا پرواہ ہورہی ہو اس کے سلسلے میں۔‘‘ کچن میں تم نہیں تھے۔
باجی سے پوچھا ’’میرا چش کہاں چلاگیا؟‘‘
’’اپنے کمرے میں دیکھو۔‘‘ میں نے پورا کمرہ چھان مارا مگر تم پتہ نہیں کہاں چلے گئے تھے۔ دادی بھی لا علم تھیں۔ روہانسی ہوکر بھیا سے پوچھا ’’بگ بی آپ نے چش کو دیکھا ہے؟‘‘
بھائی میرے چش کہنے سے مسکرا پڑے اور میری (لفظوں کو آدھا آدھا بولنے والی) عادت سے محظوظ ہوکر بولے ’’چش کو ’’ٹے‘‘ پر دیکھو۔‘‘ ٹیبل پر بھی تم نہیں تھے۔ میں سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔
’’یہ لیجیے باجی آپ کا چشمہ، باتھ روم اسٹینڈ پر پڑا تھا۔ آپ نے غالباً منہ دھوتے وقت اتار کر رکھا تھا۔‘‘ شعیب نے تمہیں میرے ہاتھوں میں تھماتے ہوئے کہا۔
’’یہ لڑکی تین مہینے کے مختصر عرصے میں ایک چشمہ تو گنوا ہی چکی ہے لگتا ہے اسے بھی گنوا کر چھوڑے گی۔‘‘
امی بڑبڑانے لگیں۔ میں نے تمہیں انتہائی پیار سے اپنے دوپٹے سے صاف کرکے اپنی آنکھوں سے لگالیا۔ اور میرا دردِ سر کہیں دور جانے لگا۔ اب مجھے صرف تم ہی تم نظر آرہے ہو۔ اور میری دنیا کا حسن واپس لوٹ آیا ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
سلمہ نسرین، آکولہ

تبصرہ کیجیے